ہمارا تعلیمی نظام کوئی نظام نہیں، بلکہ ایک پرانی الماری ہے۔ دادا نے اسے کھولا تو کلرکی نکلی، باپ نے کھولا تو بینک کی نوکری سامنے آگئی، اور آج بیٹا اسی الماری سے زنگ آلود ڈگری نکال کر دیوار پر سجا رہا ہے۔ ایک زمانے میں انگوٹھے کے نشان کی جگہ دستخط سیکھ لینا بھی ترقی سمجھا جاتا تھا، لیکن دنیا اب بائیومیٹرک اور ڈیجیٹل شناخت کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ ہم اب بھی کئی جگہ پرانی سوچ اور فرسودہ نظام سے چمٹے ہوئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ آج مارکیٹ صاف کہہ دیتی ہے: “معذرت! ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔”
وقت آگے، نصاب پیچھے
بچوں کے پڑھنے کا مسئلہ نہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں پڑھایا کیا جا رہا ہے؟
سائنس کے تجربے ہوں، میتھ کے سوال یا تاریخ کے وہ قصے، زیادہ تر وہی کچھ پڑھایا جا رہا ہے جو باپ دادا کے زمانے میں پڑھایا جاتا تھا۔ اور تو اور، کمپیوٹر کی کتاب میں ونڈوز ایکس پی کی تصویر بھی وہی پرانی لگی ہوئی ہے۔
دنیا کہاں سے کہاں نکل گئی ہے۔ فن لینڈ نے تو بچوں کی سوچ پر کام شروع کر دیا ہے۔ سنگاپور نے اپنی تعلیم کو فیکٹریوں اور کمپنیوں کے ساتھ جوڑ دیا۔ چین نے تو پرانی ڈگریاں بند کر کے سیدھا مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل کمائی والے کورس شروع کر دیے ہیں۔ ہم اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔ برسوں گزر گئے، لیکن ہمارا تعلیمی نظام بدلتی ہوئی عالمی مارکیٹ کی رفتار کے مطابق خود کو بروقت ڈھال نہیں سکا۔
ہم ڈگریوں کے نام ضرور بدلتے رہے، مگر یہ نہیں دیکھا کہ جس نظام سے یہ ڈگریاں نکل رہی ہیں، اس کی بنیاد کتنی پرانی ہے۔ جب تک اس ڈھانچے میں تبدیلی نہیں آئے گی، جدید معیشت اور عالمی مارکیٹ ان ڈگریوں کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھائے گی۔
ادھر پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق 15 سے 24 سال کے 28.4 فیصد نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ روزگار میں ہیں اور نہ کسی تربیت کا حصہ ہیں۔ اسی سروے میں بے روزگاری کی شرح 12.8 فیصد بتائی گئی ہے۔ یعنی ہمارے بہت سے نوجوان پڑھائی اور کام، دونوں سے دور ہیں۔ یہ بات خود بتاتی ہے کہ تعلیم اور روزگار کی مارکیٹ کے درمیان کتنا فاصلہ ہے۔
ڈگریوں کی تلخ حقیقت
نصاب ہی صرف مسئلہ نہیں، بڑی بڑی ڈگریاں بھی اسی پرانے طریقے سے تعلیم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔
ایم اے کی ڈگری لے کر بہت سے طلبہ آگے تو بڑھ جاتے ہیں، لیکن عملی کام کی باری آئے تو ڈگری کے ساتھ وہ مہارت نظر نہیں آتی جس کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایم ایڈ کرنے والوں کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ تعلیم کو بہتر بنانے کی تعلیم لینے کے بعد بھی بہت سے فارغ التحصیل افراد کے لیے مناسب مواقع تلاش کرنا آسان نہیں ہوتا۔
ایم بی اے کاروبار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے، مگر آج صرف یہ ڈگری کافی نہیں۔ نئی کاروباری سوچ اور عملی مہارت نہ ہو تو عملی میدان میں مشکلات رہتی ہیں۔
ایم فل میں طالب علم کئی سال تحقیق کرتا ہے، مقالے لکھتا ہے اور کتابوں میں وقت گزارتا ہے۔ لیکن روزگار کی طرف آئے تو مارکیٹ صرف تحقیق نہیں، کام کی مہارت بھی مانگتی ہے۔
پی ایچ ڈی کرنے والے بھی اسی مشکل سے گزرتے ہیں۔ برسوں کی تعلیم اور تحقیق کے بعد اگر مناسب جگہ نہ ملے تو بعض ماہرین کو اپنا شعبہ چھوڑ کر دوسرے کاموں کی طرف جانا پڑتا ہے۔
ایل ایل بی کی پانچ سالہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی اصل امتحان عملی میدان میں ہوتا ہے۔ وہاں کتابی علم کے ساتھ تجربہ اور کام کی سمجھ بھی چاہیے۔
ایم بی بی ایس کا سفر تو ویسے ہی طویل ہے۔ اتنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بھی بہت سے نوجوان ڈاکٹر محدود مواقع اور معاشی دباؤ کے ساتھ اپنے پیشے کا آغاز کرتے ہیں۔
ڈگریوں کے عنوان بدلتے رہے، مگر تعلیم کا اصل ڈھانچہ وہی پرانا ہے جو برسوں پہلے تھا۔
ٹوٹا ہوا ربط
گھر میں بچے سے کہا جاتا ہے کہ خوب پڑھو، اچھے نمبر لو اور آگے چل کر اچھی نوکری حاصل کرو۔ سکول میں بھی زیادہ زور نمبروں اور امتحان پر رہتا ہے۔ لیکن جب یہی بچہ ڈگری لے کر مارکیٹ میں جاتا ہے تو وہاں اس سے کچھ اور مانگا جا رہا ہوتا ہے۔
اسے صرف ڈگری نہیں، کام آنا چاہیے۔ مسئلہ حل کرنا، ٹیکنالوجی استعمال کرنا اور بدلتی ضرورت کے ساتھ خود کو ڈھالنا بھی آنا چاہیے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ بچہ دونوں طرف کی توقعات کے درمیان پستا رہتا ہے۔ ڈگری ہاتھ میں آ جاتی ہے، مگر مارکیٹ جس ہنر کی تلاش میں ہوتی ہے، وہ اکثر اس کے پاس نہیں ہوتا۔
تاریکی سے روشنی کی طرف: اب کیا کریں؟
اب وقت آ گیا ہے کہ ڈگری کو صرف سماجی حیثیت کی علامت نہ سمجھا جائے بلکہ اسے روزگار، تحقیق اور عملی کام سے جوڑا جائے۔ آٹھویں جماعت ہی سے بچوں کو عملی کام، ٹیکنالوجی اور ہنر سے متعارف کرانا ہوگا، ورنہ حالات بدلنا مشکل رہے گا۔
اب صرف ڈگری ہاتھ میں ہونا کافی نہیں۔ دیکھیں، اگر بی اے کیا ہے تو ساتھ ویڈیو ایڈیٹنگ کیوں نہیں آتی؟ بی ایس سی والا اگر کوڈنگ سے خالی ہے تو پھر کیا فائدہ؟ ایم بی بی ایس کرنے کے بعد بھی اگر ٹیلی میڈیسن کا نہیں پتا تو مریض تک کیسے پہنچے گا؟ اور ایم بی اے والا آج بھی ڈیجیٹل مارکیٹنگ سے دور ہے تو کاروبار کیسے چلے گا؟ ایل ایل بی کے طالب علم کو سائبر لا اور لیگل ڈرافٹنگ جیسی مہارتیں بھی سکھائی جا سکتی ہیں۔ پی ایچ ڈی کی تحقیق بھی صرف کتابوں اور مقالوں تک محدود نہ رہے بلکہ اسے عملی کام اور صنعت سے جوڑنا چاہیے۔
رٹہ ختم کرنے کے لیے صرف نئی پالیسی کافی نہیں؛ امتحان کا طریقہ بھی بدلنا ہوگا۔ بچے نے کتنا یاد کیا، اس کے ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ سوچ کیسے سکتا ہے، مسئلہ کیسے حل کرتا ہے اور جو کچھ پڑھا ہے اسے عملی زندگی میں کیسے استعمال کرتا ہے۔ یہ تبدیلی صرف دفاتر میں بیٹھ کر نہیں آئے گی۔ گھروں، سکولوں اور تعلیمی اداروں میں تعلیم کے بارے میں سوچ بھی بدلنا ہوگی۔
سلگتے اشارے
دادا نے مجبوری میں، باپ نے روایت میں یہی راستہ اپنایا۔ مگر اگر ہم بھی بغیر سوچے یہی کرتے رہے تو یہ صرف ایک غلطی نہیں رہے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ ناانصافی بن جائے گی۔
اگر تعلیم صرف ڈگری اور نوکری تک محدود ہو جائے تو اس کا بڑا مقصد پیچھے رہ جاتا ہے۔ تعلیم سے ہنر بھی ملنا چاہیے، شعور بھی اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کا حوصلہ بھی۔ جو تعلیم روزگار، تحقیق اور عملی مہارت سے کٹ جائے، وہ آہستہ آہستہ اپنا مقصد کھو دیتی ہے۔ دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور ہمارے سامنے بھی یہی سوال ہے کہ ہم علم کے ساتھ ہنر اور نئی ٹیکنالوجی کو کب اپنی تعلیم کا حصہ بنائیں گے؟
فیصلہ اب ہمیں کرنا ہے۔ پرانی الماری کو اسی طرح چلانا ہے یا پھر اسے نئے دور کی ضرورت کے مطابق بدلنا ہے؟


