تخلیق اور تخریب/احمر نعمان سید

لنڈسے کلینسی ایک پینتیس سالہ بظاہر صحت مند ماں جس نے اپنے تین معصوم بچوں کا قتل کیا جن میں سب سے بڑا بچہ پانچ سال کا اور چھوٹا محض ۸ ماہ کا تھا اور پھر اپنی جان لینے کی ناکام کوشش۔ اس وقت یہ میڈیا پر چھایا ہوا ہے اور اسے پوسٹ پارٹم سائکوسس کا کیس کہا جا رہا ہے، بچے کی پیدائش کے بعد لاحق ہونے والا ایسا ذہنی عارضہ جہاں شدید ڈپریشن کے ساتھ مریضہ کا حقیقت سے ناطہ مکمل منقطع ہو جاتا ہے۔ اس ہفتے جیوری کسی نتیجہ پر نہ پہنچ پائی اور یہ فی الحال معطل / مس ٹرائل قراد دے دیا گیا۔

یہ مقدمہ اہم اور پیچیدہ ہے، یہاں قانون، فلسفہ، نفسیات اور ادب، سب ایکدوسرے سے ٹکرا رہے ہیں۔ تین بچوں کی موت ایک ناقابل تلافی انسانی سانحہ ہے اور اس سانحے کے گرد اٹھتے سوالات جرم و سزا کی روایتی حدوں سے بڑھ کر۔ اگر کوئی شخص ایسی ذہنی کیفیت میں ہو جہاں حقیقت اور فریب ، شعور اور لاشعور کی سرحدیں دھندلا جاتی ہوں تو کیا اسے اسی معیار پر پرکھا جائے گا جہاں ایک ‘نارمل’ فرد کو پرکھا جاتا ہے؟ پھراگلا سوال یہ ہے کہ نارمل کی تعریف کیسے ہو گی؟
افلاطون نے انسانی نفس کو عقل، جذبے اور خواہش کے درمیان مسلسل کشمکش قرار دیا تھا۔ جدید نفسیات اس کشمکش میں ذہنی بیماری کا ایک ایسا عنصر شامل کرتی ہے جو انسانی کنٹرول سے باہر ہے۔ اگر کسی شخص کا ذہن ہی اس کے وجود کے خلاف بغاوت کر دے اور اسے حقیقت کے بجائے المیہ کا احساس فریب دینے لگے تو اصل مجرم کون ہے؟ وہ انسان یا اس کا بیمار ذہن؟ لیکن اسی لمحے ایک دوسرا سوال جنم لیتا ہے: اگر ہر عمل کو بیماری سے منسوب کر دیا جائے تو پھر اخلاقی اور قانونی ذمہ داری کا تصور کہاں باقی رہے گا؟

قانون اسی کشمکش کے درمیان اپنا راستہ بناتا ہے۔ عدالت کا کام فلسفیانہ اسرار کو حل کرنا نہیں بلکہ عملی انصاف فراہم کرنا ہے۔ اسی لیے قانونی نظام ذہنی بیماری کو تسلیم کرنے کے باوجود اخلاقی ذمہ داری کے سوال کو مکمل طور پر ترک بھی نہیں کرتا۔ insanity defense جیسے تصورات اسی توازن کی کوشش ہیں۔ قانون یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ کہ آیا وقوعے کے وقت ملزم کو اپنے فعل کی نوعیت، اس کے نتائج اور ‘صحیح و غلط’ کا ادراک تھا یا نہیں۔ لیکن یہ فیصلہ اکثر سیاہ و سفید نہیں ہوتا؛ یہاں حتمی یقین کے بجائے طبی اور قانونی تشریحات کا عمل دخل زیادہ ہوتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس واقعے کو کچھ لوگ ایک طبی المیہ سمجھتے ہیں اور کچھ ایک سنگین جرم، عدالت کو جبکہ عوامی جذبات سے ہٹ کر شواہد، طبی آرا اور قانونی معیارات کے تحت فیصلہ کرنا ہوتا ہے، چاہے عوامی رائے کسی بھی سمت میں جا رہی ہو۔

ادب کا میدان اس معاملے کو مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔ عظیم ادب اکثر ان تاریک مقامات پر کھڑا ہوتا ہے جہاں انسان نہ تو مکمل معصوم ہوتا ہے اور نہ ہی مکمل شیطان۔ یونانی المیے سوفوکلیز کے شاہکار اڈیپس میں ہیرو کوئی بدطینت شخص نہیں تھا، بلکہ ایک نیک اور درد مند انسان تھا جو تقدیر کی بچھائی ہوئی جال میں خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے المیے کا سبب بنا۔ لنڈسے کلینسی کیا ٹریجڈی کے قریب ہیں؟ یا شیکسپئر کی لیڈی میکبتھ ہیں؟شیکسپیئر کہتا ہے؛
Canst thou not minister to a mind diseased…?

ادب نے بارہا ایسے کردار پیش کیے ہیں جو اپنے اعمال کے ذمہ دار بھی ہیں اور کسی گہری داخلی شکست کے شکار بھی۔ المیہ وہ نہیں جہاں ایک واضح مجرم اور ایک مظلوم موجود ہو بلکہ وہ ہے جہاں انسانی کمزوری، تقدیر، حالات اورتقدیر اس طرح الجھ جائے کہ ہر جواب کے ساتھ ایک نیا دردناک سوال پیدا ہو جائے یہی وجہ ہے کہ کیس کی معطلی کے باوجود سبھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ پوسٹ پارٹم ڈپریشن اور پوسٹ پارٹم سائکوسس کا فرق انسانی ہمدردی بیدار کرتا ہے مگر ساتھ ہی قانون اور اخلاق کی حدود کو امتحان میں ڈال رہا ہے۔

شکیب جلالی یاد آئے، شاید اس لیے کہ وہ بھی اسی قسم کے ذہنی عارضے اور داخلی تاریکی سے نبرد آزما تھے ؛
مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں
جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے

اپنا تبصرہ لکھیں