خوشی اور غمی کے آنسو تو سنے، دیکھے، پڑھے اور خود محسوس بھی کیے ہیں۔
میری ہنسی کے دوران آنکھیں تھوڑی پرنم ہوئیں تو میں نے سوچا، یہ کون سی قسم کے آنسو آ رہے تھے بھئی؟
ادراک ہوا کہ حیرت و استعجاب کی نمی آنکھوں میں در آئی تھی۔
نشتر اسپتال ملتان میں دس بارہ میل اور فیمیل ہاؤس جاب ڈاکٹرز اور نرسز کو اکٹھا کیا۔ کتب بینی اور کتاب دوستی کی اہمیت و ضرورت پر مبنی مختصر بھاشن دیا۔ اور مشاہدات ایران کی ہر کاپی پر ان کے نام، دعائیں، ان کی مسیحائی کو خراجِ تحسین پر مشتمل چند سطریں اور نیچے اپنے دستخط گھسیٹ کر انہیں گفٹ کر دیں۔ ہاں، ہر کتاب پر ایک لفظ “بشرطِ مطالعہ” ضرور لکھا۔
ان میں سے چار بچیوں اور ایک بچے ڈاکٹر، نرسز نے مجھ سے مختصر وقفے اور مختلف اوقات میں صرف ایک ہی سوال کیا۔
انکل، کیا آپ پروفیسر ہیں؟
اچانک سوال پر میں پہلے گڑبڑایا اور گنگ ہو کر رہ گیا۔ حواس گویا مختل ہوئے۔ اپنے احساسِ کمتری کو حوصلے کی صورت مجتمع کرنے میں چند ثانیے ضرور لگے۔ اس دوران ان معصوم چہروں پر استفہامیہ تاثرات برقرار رہے۔
ایک دل نے کہا زبانی ہی بتا دوں۔ پھر میں نے انہیں جواب دیا کہ بیٹا، کتاب پڑھو۔ اس میں میرا مکمل تعارف ہے۔ مقصد پھر انہیں کتب بینی کی طرف مائل کرنا تھا۔ ہاں، میرا درست جواب شاید انہیں کتاب نہ پڑھنے کی طرف لے جاتا کہ ایک کم پڑھا لکھا، بلکہ ہم سے بھی کم پڑھا لکھا، کیا لکھ سکتا ہے؟ یا کیا لکھا ہوگا؟ میں نے ان سے کچھ چھپایا نہیں، جھوٹ نہیں بولا۔ کتاب میں اپنی بابت سب کچھ لکھ چکا ہوں۔ اگر ان بچوں نے کتاب پڑھی تو انہیں حیرت بھی ہوگی اور تاسف بھی۔ اور موٹیویشن بھی ملے گی کہ لازم نہیں کہ کوئی پروفیسر ہی کتاب لکھ سکتا ہے۔ ایک عام آدمی، مزدور اور کم پڑھا لکھا بھی کتاب لکھ سکتا ہے مگر اس کے لیے اسے بہت سی کتابیں پڑھنی پڑتی ہیں۔
دوسری حیرت اور تاسف مجھے ان کی اسی سادگی، معصومیت اور کم علمی پر ہوا کہ آخر وہ کیوں سمجھتے ہیں کہ کتاب صرف پروفیسر ہی لکھ سکتا ہے؟ انہوں نے یہ کیوں نہیں پوچھا کہ کیا آپ ایک ادیب، صحافی، شاعر، تجزیہ نگار، سیاح یا استاد ہیں؟
اس کی وجہ کتاب سے دوری ہے، سلیبس کی کتب، نمبروں اور گریڈز، سی جی پی کی دوڑ، سوشل میڈیا ایڈکشن، غیر صحت مندانہ مشاغل، اس کے بعد نوکری اور اسٹیٹس کے لیے روبوٹک دوڑ میں الجھا دیا گیا ہے نسلِ نو کو۔
بہرحال اب تک پچیس کے لگ بھگ طالب علم بچے بچیوں کو “بشرطِ مطالعہ” کتب دے کر ارتقائے شعور کے اس سفر میں اپنا حصہ ملا آیا ہوں، ملاتا رہوں گا کہ یہ ایک صدقہ جاریہ ہے۔ بہت سے دوستوں نے کتاب کی قیمت کم کرنے کا کہا ہے مگر ایسا کرنا میرے لیے ممکن نہیں ہے۔
کہ اگر ان پچیس نوجوانوں میں سے ایک آدھ کو بھی کتب بینی کی لت لگ گئی تو میں واقعی خود کو پروفیسر سمجھنے لگوں گا۔ کتاب کی قیمت قوتِ خرید رکھنے والوں کے لیے 2600 روپے ہی رہے گی۔
حیرت اور استعجاب کے آنسو اب بھی شاید امڈے چلے آ رہے ہیں۔
اور۔۔۔ انکل، کیا آپ پروفیسر ہیں؟
نہیں بیٹا، میں ایک ان پڑھ مزدور ہوں جو چاہتا ہے کہ آپ ایک اچھے باشعور انسان اور اچھے پروفیسر بنو۔
آپ کا، پروفیسر انکل سعد مکی شاہ


