براہ راست راستوں پہ راست چلیے/ محمد کوکب جمیل ہاشمی۔

زندگی کتنی بھی دشوار گزار، مشکل اورالجھنوں سے بھرپورہو۔ خرا بی صحت جیسے مسائل سے معمورہو۔ قدم قدم پرتلخیاں اور ٹھوکریں ہمت اوربرداشت کا امتحان لے رہی ہوں، یا مجازی عشق و محبتیں ناکام ہو جائیں تو انسان دل برداشتہ ہو کر ایک ایسے دوراہے پر پہنچ جاتا ہے جہاں ایک راستہ حیات سے ترک تعلق اور زندگی سے راہ فرار اختیارکرنے کا نظر آتا ہے جبکہ دوسرا راستہ یہ ہوتا ہے کہ ایسی تدبیر کی جاۓ جس سے تکلیفوں میں کمی واقع ہو اور جیون کی امنگ بھی برقرار رہے۔ اپنی جان سے چھٹکارا پانا آسان، مگر حرام ہوتا ہے۔ اس کے لئے زہر کی ایک پڑیا اور پستول کی نال سے نکلی ایک گولی ہی کافی ہوتی ہے اور آنا فانا کام تمام ہو جاتا ہے۔ لیکن دوسرا راستہ صبر، مستقل مزاجی اور ہمت کا ہے جسے اختیار کیا جاۓ تو زیست کا سفر جاری بھی رہتا ہے اور مشکلات کا کٹھن راستہ بھی آہستہ آہستہ کٹ جاتا ہے۔

راستے ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ راستے کتنے بھی دشوار ہوں، آخر کار منزل پر پہنچا دیتے ہیں۔ راستے نہ ہوا کرتے تو ہم ایک ہی جگہ جامد و ساکت پڑے رہا کرتے۔ شکر ہے کہ راستے ہمیں مسلسل حرکت میں رہنے، آنے جانے تعلق داری اور رشتوں ناتوں سے رابطوں کے وسیلوں کی راہ دکھا تے ہیں۔ ہمیں جہاں کہیں جانا ہو وہاں تک رسائی دیتے ہیں۔ زمینی، فضائی اور بحری راستے ہمیں اپنے اعزاء اور جان پہچان والوں سے میل جول استوار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ راستے سیدھے ہوں یا ناہموار، اسکول کالج ، یونیورسٹی اور دفتروں سمیت ہر مقام جانے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ راستے اپنی جگہ ساکت رہتے ہیں۔ مگر ہم ان پر رواں دواں اور متحرک رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی کسی سے سوال کرتا ہے کہ یہ سڑک کدھر جاتی ہے؟ تو جواب ملتا ہے کہ یہ سڑک تو کہیں نہیں جاتی, برسوں سے یہیں کی ہہینں ہے۔۔ آپ خشکی پر سفر کر رہے ہوں یا سمندری پانیوں پر، مسلسل جھٹکے کھاتی ریل گاڑی میں جا رہے ہوں، یا سمندر پار راستوں کو چند گھنٹوں میں عبور کر جانے والے ہوائی جہازوں میں ہلتے جلتے ادھر سے ادھر جا رہے ہوں، گہرے سمندروں کے مد و جزر پر ہچکولے کھاتے آبی جہازوں کے ذریعے سفر کر رہے ہوں، بغیر الٹی سیدھی حرکت کے مرتکب ہوۓ، حرکت میں رہتے ہیں۔ کیونکہ حرکت میں ہی برکت ہوتی ہے۔ ہماری گزرگاہیں ہماری رہنمائی بھی کرتی ہیں اور کبھی کبھی راہ سے بھٹکا بھی دیتی ہیں۔ اگر سفر غیر قانونی ہو یا راہیں پوشیدہ ہوں تو جھٹکا بھی دیتی ہیں۔ کبھی کشتیاں ڈوب جاتی ہیں اور کبھی بندر گاہوں کی جگہ قید و بند میں پہنچا دیتی ہیں۔ راستہ میں بھٹک جانا ایک ایسا تکلیف دہ مرحلہ ہوتا ہے، جس میں پیدل چلنے والا چلتے چلتے نا صرف تھکن اور الجھن کا شکار ہوجا تا ہے بلکہ اپنی منزل پہ بھی نہیں پہنچ پاتا۔ کوئی راہرو سواری پر ہو یا پر پیچ را ستے پر گامزن ہو، اگر راستہ بھول جاۓ تو وہ پیچ وتاب کھا کر لڑکھڑانے لگتا ہے یا کسی درخت تلے آرام کرنے کے لئے کمزور فرش کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ اسی طرح راستہ طویل ہو اور دور دور تک منزل کا نام و نشان نہ ہو تو مسافر ٹہر جانے میں عافیت سمجھتا ہے، پھر ہولے ہولے چل کرکہتا چلاجاتا ہے کہ ‘چلیں تو کٹ ہی جاۓ گا سفر آہستہ آہستہ’۔

کچھ راستے مسافروں کوطرح طرح کی دشواری اور مشکلات میں مبتلا کردیتے ہیں ، کسی کے گھر میں پیسے کی کتنی بھی ریل پیل ہو، اگر پٹڑی پر چلتی ریل گاڑی سے طے ہونے والے راستے پہ سفر کر رہا ہو تو اسے بھی اس وقت پریشانی لاحق ہوجاتی ہے جب اسکی نشستیں پہلے سے محفوظ ہونے کے باوجود مسافروں نے زبردستی قبضا لی ہوں اور قبضہ کرنے والے انہیں خالی کرنے پر ہرگز آمادہ نہ ہوں۔ ایسی صورت میں دیسی مسافروں کا سفر انگریزی کے suffer میں بدل جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں کو راستوں سے اتنی محبت ہوجاتی ہے کہ وہ دوسروں کو راستہ دینے کو تیار نہیں ہوتے۔ شائد وہ معمول کے راستوں کواپنی ذاتی جاگیر سمجھتے ہیں۔ وہ کسی اور کو وہاں سے گزرنےکی اجازت نہیں دیتے ۔ وہ را ستوں پر نا جائزقبضہ کرلیتے ہیں۔ عمومآ ہم جیسے پیدل چلنے والے پیادوں کے لئے فوٹ پاتھ مخصوص ہوتی ہیں مگر یہاں بھی کچھ دکاندار ان پر قابض ہو کر راہیں مسدود کر دیتے ہیں۔ اسی طرح آپ گاڑی میں سوار کسی پر ہجوم راستے سے گزررہے ہوں تو کوئی بھی آپ کو راستہ دینے کا روادار نہیں ہوتا، نہ ہی کسی کی عاجزانہ درخواست کو سننے پر تیار ہوتا ہے۔ جسے دیکھیں اپنی خود غرضی اور مفاد کی خاطر جلد گاڑی کو اس طرح دائیں بائیں موڑتا ہے کہ سارا ٹریفک جام ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ ایمبولینس میں موجود جاں بہ لب مریض کا کام بھی تمام ہو جاتا ہے۔

بعض دفعہ راستے پتھریلے اور نا ہموار اور دشوار گزار ہوتے ہیں جن پر چل کر پیر زخمی ہو جاتے ہیں۔ عمومآ پہاڑی علاقوں میں جا بجا پتھر پڑے ہوتے ہیں مگر وصال صنم کی خاطر ان ہی پتھروں پہ چل کر یار سے شرف ملاقات پانے کے شوق میں برہنہ پا جانا پڑ جاتا ہے۔ اس سے ملتی جلتی کیفیت مصطفے زیدی نے اپنے شعر میں یوں بیان کی ہے۔ ع

انہی پتھروں پہ چل کر اگر آ سکو تو آؤ میرے گھرکےراستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔

راستوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان میں سے کچھ خطرناک بھی ہوتے ہیں اور ان سے گزرنے والوں کی طرف سے ہونے والی زیادتی پر انتقامی کارروائی کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ آپ ذرا اوور اسپیڈ کر کے اترانے لگیں تو انکو سخت ناگوار گزرتا ہے پھر وہ ایسا سبق سکھاتے ہیں کہ گاڑی درخت سے ٹکرا کر گہری کھائی میں جا گرتی ہے۔ راستہ چلتے چلتے جگہ جگہ چوراہے آ جاتے ہیں یا کبھی گول چکر پہ پہنچ کر اہل کار چکرا جاتے ہیں اور سوچتے رہ جاتے ہیں کہ مڑنا کہاں ہے۔ یہ صورت حال اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتی ہے جب آپ ایسے دوراہے پہ پہنچ جاتے ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کہ جائیں تو جائیں کہاں۔ زندگی میں بھی بار بار ایسے موڑ آتے ہیں جب آپ جاۓ رفتن نہ پاۓ ماندن کی مصداق تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔
کچھ راستے سرنگوں میں سے گزرتے ہیں اور کچھ کے لئے فلائی اوورز اور انڈر پاس بناۓ جاتے ہیں۔ کچھ راستوں کے قلب میں انجینئرز ایسی سرجری کرتے ہیں کہ انہیں بائی پاس کہا جانے لگتا ہے۔ راستے ایک دوسرے کو ملانے جلانے، دور دور رہنے والوں اور روٹھوں کو منانے کے لئے پل کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ یہ پلوں کی دریا دلی ہے۔ کچھ راستے مال روڈ کہلاتے ہیں۔ مگر ان راستوں کا کیا کیا جاۓ جہاں ڈاکو اور قزاق آنے جانے والوں کا سب مال لوٹ لیتے ہیں۔ راستوں ، راستوں میں فرق ہوتا ہے۔ یہاں دنیاوی راستوں کا ذکر ہوا ہے جو کبھی پریشان کرتے ہیں اور کبھی رکاوٹوں میں راستہ بھی نکالتے ہیں۔ ایک مقدس اور مبارک راستہ بھی ہے جسے روحانی راستہ کہتے ہیں ۔ یہ ذکر اللہ کا، راست عمل کا، دین پہ قائم رہنے کا اور قیامت کو یاد رکھنے کا راستہ ہے۔۔ اس راستے کا ایک پل بھی ہے۔ جس کا نام پل صراط ہے۔ اگر دنیا میں صراط مستقیم پر چلتے رہے تو آخرت میں پل صراط سے کامیابی سے گزر جائیں گے۔ انشاء اللہ۔ ہم نے دیکھا ہے ہے کہ بعض قبضہ گروپ والے سرکاری زمین اور عام راستوں پر قبضہ کرلیتے ہیں۔ وہ بجلی ، گیس اور پانی کے کنکشن بھی لے لیتے ہیں۔ مگر زمینوں اور راستوں کے ذمے دار ادارے سالہا سال سوۓ رہتے ہیں۔ انہیں پتا بھی نہیں چلتا۔ انہیں ہوش تب آتا ہے جب کوئی شکائت لیکر عدالت میں چلا جاتا ہے تو ترقیاتی ادارے ایسی غیر قانونی عمارتوں کو گرانے کو پہنچ جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں راستوں نے کچھ لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کر رکھا ہے۔ وہ بار بار ٹھیک ٹھاک سڑکوں کو ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں اور پھر تعمیر نو کرکے حکومتوں سے بھاری رقوم وصول کرتے ہیں وصول کرتے ہیں۔ اسے کہتے ہیں کہ آم کے آم اور گٹھلیوں کے دام۔

اپنا تبصرہ لکھیں