حکومتی خزانہ، احسان تمہارا / وقار اسلم

چی گویرا کی تصویر دیوار پر آویزاں کرنا آسان ہے، اپنے عہد کے کسی احتجاج کے ساتھ کھڑا ہونا دشوار۔ دور کی بغاوت ہمیں رومان دیتی ہے؛ قریب کی مزاحمت ہماری سہولت، وابستگی اور مصلحت سے سوال کرتی ہے۔ ہم تاریخ کے باغیوں کو داد دیتے ہیں، مگر اپنے شہر میں عوام کی خاطر آواز اٹھانے والے سے پہلے اس کی جماعت پوچھتے ہیں۔ شاید ہمارے ہاں ضمیر بھی پسند کی شناخت دیکھ کر بیدار ہوتا ہے۔
سرِ دست معاملہ کسی انقلاب کی بشارت کا نہیں، اس گھر کی کفالت کا ہے جہاں مہینے کے آخری ہفتے میں ضروریات ایک دوسرے کی حریف بن جاتی ہیں۔ بچے کی فیس ادا ہو تو دوا مؤخر ہوتی ہے، دوا آ جائے تو راشن ادھورا رہتا ہے۔ ایسے گھر میں سیاست تقریر کے حسن سے نہیں، خرچ کے حساب سے سمجھی جاتی ہے۔ وہاں ہر نیا محصول زندگی سے ایک چھوٹی سی سہولت چھین لیتا ہے۔
اب اسی گھر کے سامنے ماہانہ 25 ارب روپے کی پٹرول امدادی سکیم کا اعلان رکھیے۔ حکومت اسے ریلیف کہتی ہے، شہری اسے اپنی ادائیگیوں کے مقابل رکھتا ہے۔ گزشتہ مالی سال میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی 1,567 ارب روپے رہی؛ ماہانہ اوسط تقریباً 130.6 ارب روپے۔ نئی سکیم کی رقم اس سابقہ اوسط کا پانچواں حصہ بھی نہیں۔ مدتیں مختلف ہیں، لیکن وصولی کی وسعت اور رعایت کی حد واضح ہو جاتی ہے۔
اردو محاورے نے ایسے مواقع کے لیے کیا خوب گرہ لگائی ہے: حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ! وسائل کسی کے، اہتمام کسی اور کی بزرگی کا۔ یہاں خزانہ عوام کی ادائیگیوں سے بھرتا ہے، لیکن تھوڑی سی واپسی پر حکمران اپنی فیاضی کا علم بلند کر دیتے ہیں۔ جن ہاتھوں نے خزانے میں رقم رکھی تھی، انہی ہاتھوں کو اب دعا کے لیے اٹھانے کی فرمائش ہے۔ یہ رعایت سے زیادہ نسبت کا مغالطہ ہے۔
مالی سال 2025 تا 2026 میں ایف بی آر کی عبوری خالص وصولیاں 13,010.4 ارب روپے رہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں 1,266.1 ارب روپے زیادہ جمع ہوئے۔ پیٹرولیم لیوی اس سے الگ غیر ٹیکس آمدن ہے۔ یہ محض سرکاری کارکردگی کے ہندسے نہیں، لوگوں کی محنت سے منتقل ہونے والے وسائل بھی ہیں۔ وصولی بڑھنے کی خبر کے ساتھ یہ خبر بھی آنی چاہیے کہ عوامی خدمت کا معیار کتنا بڑھا اور شہری کی پریشانی کتنی گھٹی۔
کبھی سرکاری بیان کی کھڑکی سے باہر بھی دیکھیے۔ وہاں ایک تنخواہ دار آدمی بل تہہ کرکے رکھ دیتا ہے، جیسے کاغذ چھوٹا کرنے سے رقم بھی کم ہو جائے گی۔ کوئی باپ بچے کی فرمائش پر خاموش ہو جاتا ہے، کیونکہ انکار کا لفظ اس کی محبت سے بڑا نہیں ہو پاتا۔ معاشیات کی کتاب میں یہ قوتِ خرید ہے؛ گھر کے اندر یہی وقار، آس اور رشتوں کی خاموش آزمائش بن جاتی ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق مالی سال 2025 تا 2026 میں یہ تقریباً 452.1 ارب ڈالر، یعنی 126.9 ٹریلین روپے یا 126,900 ارب روپے تھا۔ یہ مجموعی سالانہ معاشی پیداوار ہے، حکومتی تجوری نہیں۔ مگر اتنی معاشی سرگرمی رکھنے والے ملک میں بنیادی آسودگی کا سوال کیوں بے جواب رہے؟ پیداوار کی بڑائی تب معتبر ہوگی جب اس کے ثمرات کی تقسیم میں عام آدمی کی زندگی بھی کشادگی پائے۔
ہمارے ہاں بہتری اکثر اوسط میں نمودار ہوتی ہے اور تنگی فرد کے حصے میں رہ جاتی ہے۔ معیشت کا حجم بڑھتا ہے، مگر گھر کی گنجائش گھٹ سکتی ہے۔ شرحِ مہنگائی کم ہو تو قیمتیں لازماً کم نہیں ہوتیں؛ ان کے بڑھنے کی رفتار بدلتی ہے۔ جس کی اجرت قیمتوں سے پیچھے رہ گئی ہو، اسے محض رفتار کا مژدہ کیا تسلی دے گا؟ اس کے لیے بحالی کا مطلب ضروریات پوری ہونے کی صلاحیت ہے۔
توانائی کے حساب میں ایک اور گرہ گردشی قرضے کی ہے۔ اوائل 2026 کے اعداد میں بجلی کے شعبے کے 1,764 ارب اور گیس کے 3,442 ارب روپے مل کر 5,206 ارب روپے بنتے ہیں۔ یہ مخصوص مدت کے دونوں شعبوں کا مجموعہ ہے۔ واجبات کی یہ زنجیر سرکاری مالیات اور صارف دونوں کو متاثر کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اسے توڑنے کی تدبیر میں انتظامی اصلاح کا حصہ کتنا ہے اور مہنگے بل کا کتنا؟
گردش قرضے کی ہوتی ہے، چکر شہری کو آتے ہیں۔ جو شخص بروقت بل ادا کرتا ہے، اسے نظام کی ہر کمزوری کا مستقل ضامن نہیں بنایا جا سکتا۔ وصولیوں کی کمی، ترسیلی نقصان اور ادائیگیوں کے تعطل کا علاج صرف نرخوں میں تلاش کرنا سہل ضرور ہے، منصفانہ نہیں۔ حکومت بتائے کہ ذمہ داری کہاں متعین ہوئی اور وہ کون سی اصلاح ہے جس کے بعد یہی مطالبہ دوبارہ صارف کے دروازے پر دستک نہیں دے گا؟
بحیرۂ احمر کے باب میں حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے سعودی تیل کی متبادل ترسیل کے لیے ینبع کا راستہ طلب کیا تھا۔
راستہ بدلنے سے عالمی قیمت، بیمہ اور جنگی خطرات ختم نہیں ہوتے؛ بحیرۂ احمر بھی ان خطرات سے محفوظ نہیں۔
میرے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ حکومت بیرونی لاگت اور اپنی لیوی الگ دکھائے، تاکہ جنگ کا حوالہ داخلی وصولیوں کے حساب پر پردہ نہ بن سکے۔
ڈیزل کی مہنگائی ٹرک کے پہیے سے اتر کر منڈی کے ترازو تک پہنچتی ہے۔ پھر آٹے کی تھیلی اور سبزی کی ٹوکری اس کا بوجھ اٹھاتی ہیں۔ موٹر سائیکل نہ رکھنے والا مزدور بھی مہنگے کرائے اور راشن کے ذریعے ادائیگی کرتا ہے۔ اس لیے پٹرول کا سوال کسی مخصوص سواری کا مسئلہ نہیں؛ پوری معاشی زنجیر کا معاملہ ہے۔ حکومت کی وضاحت بھی اتنی ہی جامع ہونی چاہیے جتنا اس فیصلے کا اثر پھیلتا ہے۔
عالمی بحران اپنی جگہ، مگر مقامی اختیار بھی کوئی بے معنی چیز نہیں۔ درآمدی لاگت بڑھی ہے تو تفصیل دیجیے، ٹیکس گھٹانا ممکن نہیں تو متبادل راستے بتائیے۔ محض مجبوری کا ورد عوام کے معاشی استدلال کو ساقط نہیں کرتا۔ میرے نزدیک حکومت کے پاس اس سوال کا تسلی بخش جواب ابھی باقی ہے کہ شہری کی استطاعت بچانے کے لیے اس نے اپنے اخراجات، ترجیحات اور وصولیوں میں کون سی قابلِ پیمائش تبدیلی کی ہے۔
حافظ نعیم الرحمن اسی سوال کے ساتھ سینہ سپر ہیں۔ مجھے ان کی جدوجہد میں ایک ذمہ دار، دردِ دل رکھنے والے انسان کا احساس دکھائی دیتا ہے۔ وہ عوام کی مشکل کو اقتدار کی سماعت تک پہنچانے کے لیے احتجاج بھی کرتے ہیں اور مذاکرات بھی۔ انہیں محض سیاسی فائدے کا طعنہ دینا آسان ہے؛ مشکل یہ بتانا ہے کہ ان کے اٹھائے ہوئے معاشی سوال کا بہتر جواب ہمارے پاس کیا ہے۔
قاضی حسین احمد کی جدوجہد یاد کیجیے۔ 1996 میں انہوں نے اسلام آباد میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خلاف بڑا دھرنا دیا؛ مقامی بااثر افراد اور پولیس کی زیادتیوں کے خلاف بھی احتجاجی قیادت کی۔ یہ روایت موبائل کی سکرین سے پیدا نہیں ہوئی تھی۔ اس کے لیے میدان میں موجود ہونا پڑتا تھا۔ آج اسی احتجاجی روایت کو محض تشہیر کہہ کر رد کرنا تاریخ سے اپنی پسند کا صفحہ پھاڑنے کے مترادف ہے۔
رعایت کے لیے شہری کو درخواستوں اور تصدیق کے چکروں میں الجھانا بھی قابلِ قبول نہیں۔ امداد اگر دیہاڑی ضائع کروا دے تو خواری اس کا غیر اعلانیہ محصول بن جاتی ہے۔ حکومت سہولت تک رسائی آسان بنائے اور وصولی و واپسی کا حساب کھولے۔ حافظ نعیم سے اختلاف رہے، مگر عوام کے حق پر اتفاق ممکن ہے۔ سستا ایندھن ملے گا تو پمپ پر کسی سے اس کی جماعت کا نام نہیں پوچھا جائے گا۔
ہمیں تاریخ کے چی گویرا سے اپنے شہر کے پریشان آدمی تک کا فاصلہ طے کرنا ہے۔ مزاحمت کی تصویر سے محبت کافی نہیں، عوامی حق کی آواز سننا بھی ضروری ہے۔ حافظ نعیم اسی حق کے لیے کھڑے ہیں تو ان کی قدر کیجیے۔ حکومت سے حساب مانگنا ناشکری نہیں۔ خزانہ عوام سے بھرتا ہے؛ اس کی کنجی رکھنے والوں کو یاد رہنا چاہیے کہ امانت کی نگہبانی پر اختیار ملتا ہے، احسان جتانے کا حق نہیں اس لئے حکومت ہوش کے ناخن لے کیوں ان کونپلوں میں زہر افشانی کرتے ہیں کیا عوام سسک سسک کر موت کے منہ کو جا پہنچیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں