کسی امر واقعہ کو سمجھنے کے لیے چند کلو میٹرز پیچھے جانا مناسب اور موزوں ہے۔ بہت سارے نکات ہوتے ہیں ملا لیے جائیں تو کم از کم نتیجہ بر آمد ہو جاتا ہے۔ نتیجہ غلط بھی ہو سکتا ہے، ٹھیک بھی ہو سکتا ہے، اور خلط ملط بھی ہو سکتا ہے لیکن بہرحال نتیجہ یا درست انجام کے قریب قریب انسان کو متفق ہونا پڑ جاتا ہے۔ ذیل میں دو مثالوں سے بات بہتر سمجھ آ سکتی ہے۔ بہتر نتائج برآمد کرنے کے لیے اولین کام کوئی بھی عمل کو حقائق کی روشنی میں دیکھنا ہوتا ہے۔ ایک محقق یا تجزیہ نگار ان بائسڈ ہوتا ہے مثلاً کسی پولیٹیکل فریم ورک میں صرف کارکنان اور ان کی ان گنت، لا زوال، بے مثل کاوشیں یا رولنگ ایلیٹ کے ششکے ہی نہیں ہوتے بلکہ حقیقی معنوں میں سیاسی کارکن وہی ہوتا ہے جو اپنی وابستگیوں اور وابستگان سے پرے رہ کر کوئی مناسب حوالہ دے پائے اور مشاورتی عمل میں حقیقی معنوں میں شراکت دار بن سکے اور اس مشاورتی میکینزم کی عدم موجودگی میں بری الذمہ داری منوائے اور مزاحمت کی راہ ہموار کرے اور اس سب کی عدم موجودگی کا مطلب غیر متوازن نظامِ حیات یا نظامِ انہدام کہلاتا ہے! ہمارے سامنے دو مثالیں ہیں۔ ایک ریاستی سطح پہ ہے جہاں اپوزیشن ‘عوام’ کی نمائندگی کرتے ہوئے سڑکوں پہ ہے اور یہ عشرے دھرنوں اور مارچز کے عشرے ہیں۔ حکومت کی طرف سے یہ دلیل ہے کہ عوامی ملکیت پہ دھاوے بولنا، چوکوں چوراہوں پہ فیصلے صادر کرنا یا عوام کو موٹیویٹ کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے اور فساد کی بنیاد ہے لیکن پیچھے چلتے ہیں: کیا حکومت مشاورت سے بنی ہے؟ کیا دھاندلی سے بننے والی حکومت اور بد انتظامی پیدا کرنے والی حکومت کہہ سکتی ہے کہ دار الخلافہ کے کام، کاروبار کو متاثر کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے؟ یہ بات بالکل درست ہے کہ ریاستی امور میں بے جا مداخلت اور سڑکوں کی بندش مناسب فعل نہیں ہے لیکن مہذب دنیا میں مزاحمت کیا ہوتا ہے؟ سرمایہ دارانہ جمہوریت، وڈیرہ شاہی، جاگیر داری کا جواب عوامی جمہوریت ہے سے کیا مراد ہے؟ کیا پوری دنیا میں عوام پر امن احتجاج نہیں کرتی؟ کیا خاندانی موروثیت جمہوریت ہوتی ہے؟ کیا اس ملک میں محض خاندانوں اور اسٹیبلشمنٹ کی حکومت نہیں ہے؟ کیا اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ بیرونی اسٹیبلشمنٹ کی نرسری نہیں ہے؟ ایک زنجیر ہے اور جِھنکار ہے اور ڈور ہے اور ڈوریں باگوں میں ہیں۔ خود ریاست نے کہا ہے کہ ریاستی نظام ‘کولیپس’ ہو رہا ہے۔ اس کا حل تمام لوگوں کا ایک میز پہ جمع ہونا ہے اور عوامی تائید کا بندوبست ہونا ہے۔ اضافی ٹیکسز کے ذریعے حکومت چلانے سے بہتر ہے نظام کو از سر نو تعمیر کیا جائے اور پچھلے نظام کے باقیات کی مدد سے کیا جائے اور ایک انکلیوسو اپروچ سے کیا جائے اور ہر طبقے کی نمایندگی کو قبول کیا جائے۔ حکومت کے قیام کے بعد عالمی صورتحال اور جنگ کی صورت میں ریاست کا کردار اور امن کی کوشش بہت مناسب رہی ہے اور پوری دنیا سراہتی بھی رہی ہے لیکن یہ بہت ناکافی ہے چونکہ ایک ہَٹی کٹی گائے سینگ تو گھما رہی ہے، دودھ نہیں دے رہی۔ حالانکہ وسائل کی بھرمار ہے۔ یہ خطہ سونے کی چڑیا ہے لیکن اونر شپ نہیں ہے۔ کلونیل، پوسٹ کلونیل نرغے میں ہے۔ مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ کا عملی نمونہ بننے کے لیے خطے کو ہر اول دستے کا کردار نبھانا ہے اور اس سمت کاروان چل پڑا ہے۔ صوبوں کا بننا اپنی جگہ اہم ہے لیکن ایک خود مختار سوچ ہی اس عمل کی جمع ہے۔ ایسے میں اپوزیشن جماعتیں سڑکوں پہ آنا چاہتی ہیں۔ حقیقی معنوں میں عوامی نمائندگی اپوزیشن ہی کر سکتی ہے کیونکہ یہ اپوزیشن کو ہی سوٹ کرتا ہے۔ حکومت کے اپنے آئینی پانچ سال پورے کرنے کی اہمیت تب بڑھ جاتی ہے جب یہ منتخب جائز آئینی حکومت ہوتی ہے۔ ناجائز حکومت عوام کے دل جیتنے کی بجائے لاٹھی چلاتے ہوئے مناسب نہیں لگتی۔ ابھی خطے کے حالات نارمل ہیں۔ ایسے میں اپوزیشن اور غریب کیتھارسس کے خواہاں ہیں اور اس گنجائش کی پیدائش ہی جمہوریت ہے۔ آئڈیل ازم ایک خیالی نظام ہے تاکہ طرفین (حزبِ اقتدار و مخالف و عوام) سے کوششیں جاری رہیں۔ مقدم صوبہ ہے، ملک ہے، ممالک ہیں، عالَم ہے، عِلم ہے، اور الف سے انسانیت ہے۔ پیچھے جانے کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ بظاہر جمہوری حکومت کی بنیاد میں غیر جمہوری کاسا لیسی ہے اور اپوزیشن اور عوام نے مشکلات کھائی ہیں لہذا انھیں پسینا بہانے کے لیے گراؤنڈ درکار ہے۔ عوام ناچنا چاہ رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے نَچ تڑنگے کو خوش آمدید کہے، ڈگڈگی کا بندوبست کرے اور اخلاقیات کے درس سے گریز کرے کیونکہ کل حکومت نے بھی بینچز تبدیل کرنے ہیں کیونکہ کوئی خاندان جمہوریت کے نام پہ طیارے تو خرید سکتا ہے ‘لیوی’ نہیں مٹا سکتا لہذا بیٹھک کی اہم ضرورت ہے چونکہ جمہوریت عوامی مشاورت کے بعد حکومتی سطح پہ اپوزیشن سے مشاورت کا نام ہے۔ واپس پیچھے چلتے ہیں: مری میں عوامی بہبود کے کام ہوئے ہیں۔ ایک جمہوریت پسندانہ سوچ یہی کہتی ہے کہ اچھے کام سے تعاون ضروری ہے اور اس تعاون میں ذاتی رنجش یا شدید اختلاف بھی آڑے نہیں آنا چاہیے۔ صفائی کا نظام ہو یا ٹرانسپورٹ, بہتری ہوئی ہے۔ ٹیوٹا سروس ایک گھٹیا سروس ہے جس میں عوام کی جیب اور عزت نفس دونوں پہ ڈاکا ہے۔ اب گرین بسز ہیں۔ طلباء، بزرگ، خواتین آسانی میں ہیں۔ بھوربن سے آگے دیول تک یہ جال پھیل رہا ہے۔ مزید بھی کام ہوئے ہیں۔ اسی طرح پچھلی حکومت میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا۔ ایک لمبا سفر درکار ہے لیکِن بہرحال یہ ایک انقلابی قدم ہے۔ صدقِہ جاریہ ہے۔ دیگر تعلیمی اداروں کی طرح مسائل اپنی جگہ لیکن یہ ایک عوامی جامعہ ہے جہاں عوامی حلقوں سے لوگ با آسانی، با عزت سفری سہولیات کی فیوض و برکات سمیٹ رہے ہیں! مزید پیچھے چلتے ہیں: ہمارے حلقے میں بہت اچھی سڑک تھی جو مین روڈ سے لنکڈ ہے۔ جب گیس پائپ لائن منصوبے کا آغاز ہوا تو یہ لنک روڈ توڑنے کی ضرورت پیش آئی لیکن بعد میں کچھ حصہ حکومت یا ذاتی تعاون سے پایہِ تکمیل ہوا لیکن کچھ حصہ بچ گیا تھا جو اپنی مدد آپ کے تحت تکمیل کی راہ پہ ہے۔ کچھ دن پہلے میں گزر رہا تھا تو خاصا مشکل تھا اور ہمارے علاقے میں موجود ایک انسان دوست شخص سے اپنے خدشے کا اظہار کرنے کا موقع میسر آیا۔ دیگر کئی لوگوں نے بھی ان خدشات کا اظہار کیا اور بالمشافہ یہ نتیجہ بر آمد ہوا کہ کچھ حصہ جو پہلے ہی تعمیر شدہ ہے کو بچے ہوئے حصے سے جوڑ کر مزید برآں شارع عام سے مُقفل کیا جا رہا ہے!! پیچھے جانے کا مقصد محض یہ ہے کہ مشاورت سے، خدشات کے اظہار سے، اور جمہوری تگ و دو سے آج یہ کام انجام تک پہنچ رہا ہے۔ اس میں یہ سبق بھی ہے کہ حکومتی انتظام اپنی جگہ, کبھی کبھی اپنی مدد آپ کے تحت اور جمہوری اقدار کے ذریعے بھی ترقی کی راہیں ہموار ہو سکتی ہیں۔


