سڑک سے ادارے تک: تحریک سیاسی طاقت کب بنتی ہے؟
کسی بھی نئی عوامی تحریک کے بارے میں اصل سوال یہ نہیں کہ وہ کتنے لوگوں کو سڑک پر لاسکتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں نے دکھایا ہے کہ نیٹ ورک سے جڑی تحریکیں بہت کم وقت میں لاکھوں لوگوں کو متحرک کرسکتی ہیں۔
اصل مشکل اس کے بعد شروع ہوتی ہے۔
لوگ جمع ہوگئے، حکومت دباؤ میں آگئی، میڈیا کی توجہ مل گئی، عوامی گفتگو بدل گئی، مگر اب آگے کیا؟ مطالبات کون طے کرے گا؟ مذاکرات کون کرے گا؟ فیصلے کیسے ہوں گے؟ اور اس وقتی اجتماعی قوت کو ایسی سیاسی طاقت میں کیسے بدلا جائے جو احتجاج ختم ہونے کے بعد بھی باقی رہے؟
یہی وہ مقام ہے جہاں نئی تحریکوں کی طاقت اور کمزوری دونوں سامنے آتی ہیں۔
پرانی سیاسی جماعت کو لاکھوں لوگوں کو متحرک کرنے میں برسوں لگتے تھے۔ مقامی شاخیں بنتی تھیں، کارکن تربیت پاتے تھے، چندہ جمع ہوتا تھا، اختلافات حل ہوتے تھے، قیادت بنتی تھی اور لوگوں کے درمیان اعتماد پیدا ہوتا تھا۔ یہ عمل سست تھا، مگر اسی دوران تنظیم فیصلہ سازی، مذاکرات، نظم و ضبط اور طویل مدتی حکمت عملی بھی سیکھتی تھی۔
ڈیجیٹل دور نے لوگوں کو جمع کرنے کا وقت بہت کم کردیا ہے۔ ایک ویڈیو، ایک واقعہ یا ایک نعرہ چند دنوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ لیکن کبھی تحریک کی لوگوں کو متحرک کرنے کی صلاحیت (mobilizing capacity) اس کی دیر پا تنظیمی صلاحیت (organizational capacity) سے آگے نکل جاتی ہے۔
یعنی لوگ جمع کرنے کی طاقت پہلے آجاتی ہے، انہیں منظم رکھنے کی صلاحیت بعد میں پیدا ہوتی ہے۔
صرف لوگوں کو جمع کرنا کافی نہیں
امریکا کی آکو پائی وال سٹریٹ اس فرق کی اہم مثال ہے۔ ’’ہم ننانوے فیصد ہیں‘‘ جیسے سادہ نعرے نے معاشی عدم مساوات کو امریکی عوامی گفتگو کے مرکز میں پہنچایا۔ ایک پیچیدہ معاشی مسئلے کو عام آدمی کے لیے قابلِ فہم سیاسی زبان مل گئی۔
لیکن احتجاجی مقامات ختم ہونے کے بعد اس اجتماعی قوت کو مستقل سیاسی فیصلہ سازی، طویل مدتی حکمت عملی اور ادارہ جاتی دباؤ میں تبدیل کرنا مشکل رہا۔
لیکن اس کے مقابلے میں رائٹ ونگ کی ٹی پارٹی (Tea Party) تحریک نے اپنی عوامی ناراضی کو انتخابی سیاست، امیدواروں، جماعتی ڈھانچے اور قانون سازی پر اثرانداز ہونے کے عمل سے زیادہ مضبوطی سے جوڑا۔.
یہ لوگ کامیاب رہے کیوں کہ یہ قانونی داؤ پیچ اور طاقت کے ایوانوں سے اچھی طرح واقف تھے۔۔ کب کہاں دباؤ ڈالنا ہے؟ کب کون سا سیاسی داؤ پیچ چلنا ہے وغیرہ
یہ تقابل ایک بنیادی بات واضح کرتا ہے:
لوگوں کو جمع کرنا سیاسی طاقت کا آغاز ہے، اختتام نہیں۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہر تحریک کو لازماً روایتی سیاسی جماعت بننا ہوگا۔
تحریک سے ادارے تک
اسپین کی Indignados تحریک میں عوامی اسمبلیوں اور براہِ راست شرکت کے تجربات ہوئے۔ بعد میں اسی وسیع سیاسی ماحول سے Podemos جیسی انتخابی قوت سامنے آئی۔
چلی کی 2011ء کی طلبہ تحریک میں بھی کئی نمایاں طلبہ رہنما بعد میں پارلیمانی سیاست میں آئے۔ کیمیلا ویائیخو، جیورجیو جیکسن اور گیبریئل بورک احتجاجی سیاست سے ادارہ جاتی سیاست تک پہنچے اور بورک بعد میں صدر بھی بنے۔
یعنی سڑک اور ادارہ لازماً ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ تحریک نئی سیاسی نسل اور نئی قیادت پیدا کرکے ریاستی اداروں میں بھی داخل ہوسکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے:
ادارہ بن جانے کے بعد کیا واقعی طاقت کے تعلقات بدلتے ہیں؟
اگر تحریک کے لوگ پارلیمنٹ میں پہنچ جائیں، جماعت بنا لیں یا حکومت کا حصہ بن جائیں تو ضروری نہیں کہ اقتدار استعمال کرنے کی پرانی منطق بھی بدل جائے۔
فریرے: صرف چہرے بدلنے سے کیا بدلے گا؟
پاؤلو فریرے کے نزدیک جبر صرف یہ نہیں کہ ایک گروہ دوسرے پر حکومت کرے۔۔ اکثر
جابرانہ نظام کی منطق خود مظلوموں کے شعور میں بھی داخل ہو چکی ہوتی ہے ۔
اگر لوگ برسوں یہ دیکھتے رہے ہوں کہ چند لوگ سوچتے ہیں، فیصلے کرتے ہیں اور باقی صرف عمل کرتے ہیں، تو اقتدار ملنے کے بعد وہ بھی وہی تعلق دوبارہ پیدا کرتے ہیں۔۔ عوام اسی طرح پاور لیس رہتے ہیں اور نیا اقتدار پرانی منطق سے ہی چلنے لگتا ہے ۔
پرانے حاکم کی جگہ نیا حاکم آجاتا ہے، مگر طاقت کا تعلق وہی رہتا ہے۔
اسی لیے سوال صرف یہ نہیں کہ نیا ادارہ بنا یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس کے اندر اختیار کس طرح تقسیم ہے؟ کون فیصلہ کرتا ہے؟ کون سوال کرسکتا ہے؟ نچلی سطح کی آواز اوپر کی پالیسی بدل سکتی ہے یا نہیں؟ قانون سازی اور وسائل کی تقسیم جیسے معاملات میں عوام کی راۓ یا رضامندی کو کس حد تک شامل کیا گیا ہے۔۔
اگر مرکزیت کے خلاف نکلی تحریک اقتدار میں آکر تمام فیصلے پھر چند افراد کے ہاتھ میں جمع کردے تو اس نے شاید صرف چہرے بدلے ہیں، نظام کی منطق نہیں۔
تنظیم قیادت کی نفی نہیں
یہاں ایک غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ غیر مرکزی تنظیم کا مطلب یہ نہیں کہ قیادت ختم کردی جائے یا ہر شخص اپنی مرضی کرے۔
رنجیت گوہا نے
Elementary Aspects of Peasant Insurgency in Colonial India
میں نوآبادیاتی ہندوستان کی کسان بغاوتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے اس تصور کو چیلنج کیا کہ کسان محض بے شعور ہجوم تھے کیوں کہ کوئی ایک مرکزی قیادت نہیں تھی ۔۔ انہوں نے ان بغاوتوں میں کسانوں کے اپنے سیاسی شعور، ارادے اور اجتماعی عمل کو سامنے رکھا کہ کیسے مختلف علاقوں اور جاتیوں کے کسان اتحاد کر لیتے تھے
اس سے ایک اہم بات سمجھ آتی ہے:
ایک مرکزی رہنما کا نہ ہونا، قیادت کے نہ ہونے کے برابر نہیں۔
مختلف مقامی رہنما، نیٹ ورک، مزدور اور کسان تنظیمیں، طلبہ، وکلا، سول سوسائٹی اور محلہ سطح کے گروہ ایک مشترک سیاسی سمت میں کام کرسکتے ہیں۔۔ ایک مشترکہ پلیٹ فارم بنا سکتے ہیں ۔
اس لیے سوال ’’ایک لیڈر یا کوئی لیڈر نہیں‘‘ کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ قیادت ایک شخص یا مرکز میں جمع ہوگی یا مختلف سطحوں پر پیدا ہوگی؟
پاکستان میں اصل مسئلہ
پاکستان میں بڑی روایتی جماعتوں کے پاس مرکزی، صوبائی، ضلعی اور مقامی تنظیمی ڈھانچے موجود ہیں۔ اس لیے صرف مقامی کمیٹیاں یا کونسلیں بنا لینا کوئی نئی بات نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ ان کے پاس حقیقی اختیار کتنا ہے؟
اگر مرکز پالیسی بنائے، صوبائی اور ضلعی تنظیمیں صرف اسے نیچے پہنچائیں اور کارکن کا کام صرف فیصلے پر عمل کرنا ہو تو نام چاہے کمیٹی ہو یا کونسل، منطق پھر بھی مرکزی رہے گی۔
ہم ریاست میں مرکزیت کے خلاف بات کرتے ہیں، مگر اپنی جماعت کے اندر مرکزیت برقرار رکھتے ہیں۔ اس کا اثر صرف تنظیم تک محدود نہیں رہتا۔ جب فیصلہ سازی بہت زیادہ مرکز میں جمع ہوجائے تو مختلف علاقوں اور طبقوں کے مخصوص مسائل بھی بڑے قومی بیانیے کے پیچھے چھپ سکتے ہیں۔
کسان کے لیے فصل کی قیمت، پانی اور زمین، مزدور کے لیے روزگار اور اجرت ، کسی شہر کے لیے بنیادی سہولیات ، اور مقامی لوگوں کے لیے اپنے وسائل پر اختیار۔۔۔۔یہ سب سیاسی سوال ہیں۔
اگر فیصلے بہت دور بیٹھ کر ہوں تو طاقتور معاشی گروہوں کی آواز نسبتاً زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے جیسے وڈیرے ، جاگیردار ، بڑے سرمایہ کار، بیوروکریٹ۔۔۔۔ جبکہ عام لوگوں کے روزمرہ مسائل پیچھے چلے جاتے ہیں۔ انکی آواز دبا دی جاتی ہے ۔
اس لیے نمائندگی کو صرف اسمبلی کی نشستوں سے نہیں ناپا جاسکتا۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فیصلہ سازی میں کس کی زندگی، تجربہ اور مفاد نظر آرہا ہے۔ اسکا فائدہ عوام کو ہو گا یا کسی خاص اشرافیائی گروہ کو۔۔
کسان تحریک: تیسرا راستہ
2020–21 کی بھارتی کسان تحریک اس بحث کی ایک دلچسپ مثال ہے۔
یہ نہ مکمل طور پر ’’لیڈر لیس‘‘ تھی اور نہ کسی ایک جماعت یا لیڈر کے مکمل کنٹرول میں۔ پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش اور دوسرے علاقوں کی متعدد کسان تنظیمیں اپنی الگ شناخت برقرار رکھتے ہوئے (Samyukt Kisan Morcha) کے مشترک پلیٹ فارم پر آئیں۔ یہ ایک بڑا اتحاد یا اشتراک تھا۔
ان کے پاس تنظیم بھی تھی، قیادت بھی، مرکزی رابطہ بھی اور مقامی سطح پر شرکت بھی۔
یعنی انتخاب صرف یہ نہیں:
یا ایک طاقتور مرکزی لیڈر، یا مکمل انتشار۔
درمیان میں ایک تیسرا امکان بھی ہے:
مشترک قیادت، مقامی تنظیم، کئی مراکز، مرکزی رابطہ اور عوامی شرکت۔
مرکزی قیادت کا کیا کیا جائے؟
مرکزی قیادت بذاتِ خود مسئلہ نہیں۔ ایک مقبول رہنما لاکھوں لوگوں کو تیزی سے متحرک کرسکتا ہے، سیاسی سمت دے سکتا ہے اور مشکل وقت میں فیصلہ کرسکتا ہے۔
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب پوری تنظیم کی سیاسی صلاحیت ایک شخص میں جمع ہوجائے: رابطہ، مذاکرات، فیصلے، سیاسی سمت اور عوامی شناخت سب اسی ایک مرکز سے وابستہ ہوجائیں۔
ایسی صورت میں ایک شخص پر دباؤ پوری تحریک پر دباؤ بن سکتا ہے۔
زینپ طفکچی کے مطابق networked movements کی طاقت ان کی تیز mobilization ہے، مگر یہی تیزی انہیں طویل مدتی تنظیمی صلاحیت کے معاملے میں کمزور بھی کرسکتی ہے۔
اس لیے مرکزی رہنما کو ختم کرنا ضروری نہیں۔۔۔ ضروری یہ ہے کہ وہ تنظیم کی طاقت کا واحد مرکز نہ ہو۔
مرکزی قیادت سمت اور رابطے کا کام کرسکتی ہے، جبکہ مقامی سطح پر بااختیار قیادتیں، کارکنوں کی سیاسی تربیت، اجتماعی مشاورت اور پالیسی سازی میں شرکت موجود ہو۔
تب مرکز ختم نہیں ہوتا، مگر اس کا کردار بدل جاتا ہے۔
غیر مرکزی کا مطلب غیر ذمہ داری نہیں
تحریک کو توڑنے کی کوشش بھی ہوگی
بڑی تحریک کو صرف باہر سے repression کا سامنا نہیں ہوتا۔ افواہیں، جعلی خبریں، اشتعال انگیزی، اندرونی اختلافات، قیادت کو توڑنے یا خریدنے کی کوشش، اور کسی ایک واقعے کو پوری تحریک کے خلاف استعمال کرنا بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
اسی لیے decentralization کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص تحریک کے نام پر جو چاہے کرے۔
ایک میچور موومنٹ میں واضح اصول، معلومات کی تصدیق، اختلافات کے حل، جواب دہی اور اجتمائی نظم (collective discipline) ضروری ہیں۔
زینپ طفکچی نے گیزی پارک احتجاج کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چار طلبہ نے مل کر ایک جریدہ شروع کیا جو تحریک کے اندر اور باہر ہونے والی معلومات کو عوام تک پہنچانے کا معتبر ذریعہ بن گیا۔
یعنی decentralization کا مطلب لوگوں کو بے سمت چھوڑ دینا نہیں۔۔ مختلف لوگوں کی صلاحیتوں کو ذمہ داری کے ساتھ جوڑنا ہے۔
کارکن اور عوام
جدید احتجاج میں تنظیمی ذمہ داری صرف روایتی کارکن کی نہیں رہتی۔۔۔ مستقل کارکنوں کے ساتھ عام شرکا، مقامی گروہ اور رضاکار بھی رابطہ کاری، معلومات اور فیصلوں میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔
فرق یہ ہے کہ پرانی تحریک میں کارکن اور عوام کا کردار نسبتاً الگ اور fixed تھا، جبکہ جدید نیٹ ورکڈ تحریک میں یہ حد زیادہ سیال (flexible)ہے…عام فرد بھی کسی مرحلے پر منظم کردار سنبھال سکتا ہے، اور کارکن کا کام عوام کی جگہ فیصلہ کرنا نہیں بلکہ انہیں منظم اور بااختیار بنانا ہے۔
’’لوگ اچھے ہیں‘‘ کہنا کافی نہیں
عوام ہمیشہ درست فیصلہ نہیں کرتے۔ افواہ پھیل سکتی ہے، جذبات حاوی ہوسکتے ہیں اور مختلف مفادات ٹکرا سکتے ہیں۔
اس لیے عوام پر اعتماد کا مطلب تنظیم ختم کرنا نہیں، بلکہ ایسی تنظیم بنانا ہے جو عوام کی سیاسی صلاحیت کو منظم کرے۔
اصل سوال یہ ہے:
تنظیم عوام کو قابو کرنے کے لیے ہے یا ان کی سیاسی صلاحیت بڑھانے کے لیے؟
پہلی صورت میں کارکن فالّور بنتا ہے۔
دوسری صورت میں وہ پولیٹیکل ایکٹر بنتا ہے۔
تو نئی سیاسی تنظیم کیسی ہوگی؟
شاید مستقبل کی سیاست میں ہمیں پرانی جماعت اور نئے نیٹ ورک میں سے صرف ایک کا انتخاب نہیں کرنا۔ کیوں کہ دونوں کی اپنی طاقت اور کمزوری ہے۔۔ بہترین راستہ شائد دونوں کے طاقتور پہلووں کو جوڑنا ہے ۔
تربیت یافتہ کارکن ضروری ہے، کیونکہ تحریک کو نظم، سیاسی تعلیم، مذاکرات اور طویل مدتی حکمت عملی چاہیے۔ لیکن ساتھ ساتھ
عام شہری بھی ضروری ہے، کیونکہ چند ہزار کارکن پورے معاشرے کی نمائندگی نہیں کرسکتے۔
مقامی تنظیم ضروری ہے، کیونکہ سیاسی اعتماد صرف مرکزی دفتر سے پیدا نہیں ہوتا۔
ڈیجیٹل نیٹ ورک ضروری ہے، کیونکہ آج رابطے اور اطلاعات کی رفتار بدل چکی ہے۔
مرکزی رابطہ بھی ضروری ہے، کیونکہ مکمل بکھراؤ تحریک کو مشترک سمت سے محروم کرسکتا ہے۔ اور سب سے بڑھکر شراکتی فیصلہ سازی ضروری ہے، تاکہ مرکز عوام سے کٹ کر اپنی الگ سیاسی حقیقت نہ بنا لے۔
یعنی مقصد مرکز ختم کرنا نہیں، مرکزیت کی نوعیت بدلنا ہے۔
مرکز موجود ہو، مگر واحد طاقت کا مالک نہ ہو۔
قیادت موجود ہو، مگر باقی سب صرف پیروکار نہ ہوں۔
کونسلیں موجود ہوں، مگر صرف نام کی نہ ہوں۔فیصلہ اختیار کی سمت صرف اوپر سے نیچے نہ ہو ، بلکہ نیچے سے اوپر بھی ہو ۔
اور عوام موجود ہوں، مگر صرف جلسے اور ووٹ کے دن نہیں۔
آخرکار سوال یہ نہیں کہ لیڈر چاہیے یا نہیں۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا لیڈر عوام کے اندر سیاسی صلاحیت پیدا کرتا ہے یا پوری سیاسی صلاحیت اپنی ذات میں جمع کرتا ہے؟
کیا تنظیم لوگوں کو خاموش حمایتی بناتی ہے یا انہیں فیصلہ کرنے کے قابل بناتی ہے؟
کیا ادارہ صرف اقتدار حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے یا اقتدار کے استعمال کی نئی ثقافت بھی پیدا کرتا ہے؟
کیونکہ صرف چہرے بدلنے سے نظام نہیں بدلتا۔
حقیقی تبدیلی شاید اس وقت شروع ہوتی ہے جب سوچنے، فیصلہ کرنے اور سیاسی طاقت پیدا کرنے کا عمل زیادہ لوگوں میں تقسیم ہوجائے۔
اور یہی وہ پل ہے جو سڑک کی وقتی طاقت کو دیرپا سیاسی طاقت میں تبدیل کرسکتا ہے۔


