چہرہ گلاب اور لب ان کے پنکھڑی/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو خوبصورت، حسین و جمیل، پیکر زینت و رعنائی، دلکش، خوشنما، مالک رنگ و روپ، خوش شکل اور متوازن ساخت سے مزین پیدا کیا ہے۔ نظر آنے والے اعضاء مثلآ چہرہ بشرا، کان، ناک، انکھں، دانت لب و رخسار، گردن، ماتھے، تھوڑی اور سرکے بال انسان کے حسن و جمال میں اضاافہ کرتے ہیں۔ صرف یہی نہیں کچھ اضافی قدرتی چیزیں بھی مثلآ گال پہ تل اور رخساروں پہ چاہ زقن پسندیدہ اور نمایاں بن کر حسن کو تقویت دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں اور بہت سی چیزیں، جو خواتین اجاگر ہونے کی فطری خواہش کے تحت استعمال کرتی ہیں مثلاً کاجل سے مرصع پر کشش آنکھیں, پلکوں اوربھووں کی بناوٹ، اور آنکھوں میں ڈالے جانے والے دیدہ زیب رنگوں والے لینز، لبوں پہ لگی سرخی ( لپ اسٹک) ، بالوں کی مصنوئی چمک دمک، آرائش گیسو کے لئے تیل کے استعمال اور انداز تزئین انسان کو بالخصوص خواتین کو مہ پارہ و مہ جبیں بنانے میں مزید کردار ادا کرتی ہیں۔ چندۓ آفتاب چندۓ ماہتاب بننے کے لئے محنت تو کرنا پڑتی ہے۔ ظاہری خوبصورتی کے باوجود اگر ان کا باطن ناگوار و ناقص ہو تو چمکتا دمکتا وجود انکے ذاتی کردار اور عمل کی تنقیص کی وجہ سے گہنا جاتا ہے۔

مذ کوره بالا تمام تر خوشنما دکھنے والی رعنائیاں انسان کوہرطرح سے اپنے سحر میں مبتلا رکھتی ہیں، خوبصورتی کا احساس دلاتی ہیں، اور اس پہ بجا طورپر ناز بھی کیا جاتا ہے. گویا پھولوں جیسے نازو اندازاور مورنیوں جیسی جاذب نظر چال ڈھال سے مرصع آرائش و زیبائش کی اس دنیا میں صرف یہی عناصر نہیں ہیں جو انسان کو خوبصورتی سے ہم کنار کرتے ہیں۔ یہ خوبصورتیاں اپنی جگہ لائق ستائش ہیں۔ لیکن وہ خوبصورتیاں جو انسانی مستحسن مزاج کے خواص اور خصوصیات کی وجہ سے لائق توجہ ہوتی ہیں، وہ بھی انسان کو بلند مقام و مرتبہ دیتی ہیں وہ عارضی نہیں بلکہ مستقل اور دائمی بنیادوں پر قائم رہتی ہیں۔ اسکی مثال یہ ہے کہ کوئی بھی شخص اپنے رنگ و روپ کے اعتبار سے دیدہ زیب نظر نہ آتا ہو، اس کی ناک پھیلی ہوئی اور گال پچکے ہوے ہوں، اس کے لب موٹے موٹے ہوں تو بظاہر وہ حسن کے معیار سے قبول صورت نہیں ہوتا، لیکن اس کا باطن نیک ہو، وہ رحم دل اور خوش اخلاق ہو، سب کو دوست رکھتا ہو تو اس کی یہ صفات اس کو خوبصورتی کا ہالہ اور حسین ترین نہیں تو کم از کم حسن کا تشخص بنا کر پیش ضرور کرتی ہیں۔ اس کا قد کاٹھ بلند ہوتا ہے اور وہ بہت سے لوگوں سے بہتر اورخوش شکل افراد سے زیادہ پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔۔ اسی طرح نرم خو اشخاص جو دوسروں کے دکھ درد بانٹتے ہوں اور اخلاص و شرافت جیسی طبیعت کے مالک ہوں، چاہے وہ کتنے ہی بد صورت ہوں، ایسے لوگوں کو داد و تحسین کا مستحق خوبصورت اور مقبول لوگوں کے مقابلے میں زیادہ معزز اور بلند مرتبہ سمجھا جاتا ہے۔ انہیں بھی خوبصورت لوگوں کے مماثل تعبیر کیا جاتا ہے۔ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوبصورت و وجیہ نعمت کے ساتھ باطنی اوصاف کی خوبصورتی سے بھی مالا مال ھوں تو سونے پہ سہاگا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ انسانی حسن کے مظہر، انسانی چہرے ہوتے ہیں یا انسان کی وہ صفات ہوتی ہیں جو بذات خود خوبصورت ہوتی ہیں۔ انسانی شکل و صورت میں جن اعضاء پر سب سے پہلے نظر پڑتی ہے ان میں لب، آنکھ، ناک اورکان ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ ہم نے حسن و بد صورتی پر جو رائے قائم کی ہے وہ ہمارا ذاتی نقطہء نظر ہے، جو کہ قارئین کی نذر ہے۔ اس سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔

لب کی بات کی جائے تو جناب اس کی حیثیت انسانی چہرے کے گلدستےمیں ایک پھول کی سی ہوتی ہے۔ لب چہرے کی خوبصورتی کا استعارہ ہوتے ہیں۔ میر تقی میر نے تو یہاں تک کسی کے لب کی توصیف میں کہہ دیا ہے کہ:
نازکی اس کے لب کی کیا کہئے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
دوسری طرف ان لبوں کی تعریف کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ نیکو کاروں کے لئے اللہ کے ذکر خیر اور تسبیحات کے لئے حرکت کرتے رہتے ہیں۔۔ یہ امر انکے تقدس کی نشان دہی کرتا پے۔ لب پہ دعا تمنا بن کے بھی آتی ہے۔ اسی لئے اکثر تعلیمی اداروں میں دعا ان الفاظ میں کی جاتی ہے:
ع۔ لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

ا۔سکے برعکس لبوں سے ایک حرکت یہ بھی سر زد ہوتی ہے کہ اس پر بہت جلد شکوے شکائت آ جاتے ہیں۔ کسی سے شکوہ ہو تو یہ لب، لب کشائی کرنے میں دیر نہیں لگاتے اوریہ یوں شکوہ کناں ہوتے ہیں کہ ہمیں آپ نے اپنے بچے کی روزہ کشائی میں نہیں بلایا۔ ہماری زباں اس معاملے میں لبوں کا بھرپور ساتھ دیتی ہے۔ لبوں کی خوبصورتی کے بارے میں ہمارے شعراء حضرات اور گیت نگار اپنے کلام میں لب و رخسار اور ہونٹوں کی باتیں کثرت سے کرتے ہیں۔ نمونے کے طور پر یہ شعر ملاحظہ ہو :
ع ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام ہی آۓ
آئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے
لب سے متعلق ایک اور شعر دیکھئے:
ع بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشہ لب بام ابھی
لبوں کی اچھی بات یہ بھی ہے کہ یہ مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔ یہ لب بستہ بھی ہوں، ان کی خوشی، چھپاۓ نہیں چھپتی۔ لب محبت آمیزالفاظ سے لبریز ہوں تو دوسروں کو اس غلط فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں، جیسے کسی کو لب لعل کا پیغام ملا ہو۔ انسان کا اچھا لب و لہجہ دوسروں کو خوشی سے سر شار کرتا ہے، یہاں تک کہ لب دم بھی لبوں سے پھول جھڑتے ہیں۔ کوئی اپنے محبوب کے لئے کچھ تحفے کی تلاش میں لب سڑک چلا جا رہا ہو تو اسے کہیں نہ کہیں لب شیریں کی دکان کی مٹھائیاں ضرور نظر آجاتی ہیں اور اس کا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ لب لباب یہ ہے کہ کسی کے لبوں کی تعریف کا گلاس لبا لب بھرا ہو تو کیا ہوتا ہے،اس کے بارے میں لوگ کہہ سکتے ہیں کہ بول کہ لب آزا د ہیں تیرے، چہرے گلاب اور لب ان کی پنکھڑی ہوں تو سارا جہاں حسین بن جاتا ہے۔ مگر بہتر ہےکہ اب ہمارے لب خاموش رہیں، مبادا عمر کے اس حصے میں عاشق مزاجی کی تہمت نہ لگ جاۓ اور عزت سادات جاتی رہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں