نئے صوبوں کی بحث: ایک جائزہ/ مصور خان

پاکستان ایک کثیرالمسائل مگر مسائل سے لاپرواہ ملک بنتا جا رہا ہے۔ ہمارے سامنے معیشت، بے روزگاری، تعلیم، صحت، آبادی میں اضافہ، پانی، توانائی، امن و امان، شہری منصوبہ بندی، ادارہ جاتی کمزوریاں اور سیاسی عدم استحکام جیسے بے شمار مسائل موجود ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اکثر بنیادی مسائل کو ترجیحات میں شامل کرنے کے بجائے نئے نئے موضوعات کو قومی بحث کا مرکز بنا لیتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ ایک بار پھر سیاسی و قومی بحث کا حصہ بن گیا ہے۔ یہ بحث یقیناً اہم ہے، کیونکہ کسی ملک کا انتظامی ڈھانچہ وقت کے ساتھ تبدیل ہونے والی آبادی، جغرافیائی ضروریات اور عوامی مسائل کے مطابق ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں نئے صوبے یا انتظامی یونٹس واقعی ہمارے مسائل کا حل ہیں؟ کیا اس کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے موجود ہے؟ کیا وفاق اور صوبے اس کے مالی اثرات برداشت کرسکتے ہیں؟ اور کیا ایسی تبدیلی ملک کو انتظامی طور پر مضبوط کرے گی یا مزید سیاسی اور علاقائی تقسیم پیدا کرے گی؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ صوبہ اور انتظامی یونٹ ایک ہی چیز نہیں۔ صوبہ آئینی حیثیت رکھنے والی وفاقی اکائی ہوتا ہے، جس کا اپنا آئینی و انتظامی ڈھانچہ، حکومت اور اسمبلی ہوتی ہے، جبکہ انتظامی یونٹ سے مراد انتظامی سہولت اور بہتر حکمرانی کے لیے کسی علاقے کو ایک الگ انتظامی حیثیت دینا ہوسکتا ہے۔ اس لیے ہر انتظامی یونٹ لازماً نیا صوبہ نہیں ہوتا۔
اسلام آباد کے حوالے سے بھی یہی بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ اگر اسے نیا صوبہ یا الگ انتظامی یونٹ بنایا جائے تو اس کا مقصد کیا ہوگا؟ اگر مقصد یہ ہے کہ دارالحکومت کی بڑھتی ہوئی آبادی، ٹریفک، پانی، رہائش، صحت، تعلیم، بلدیاتی سہولیات اور شہری منصوبہ بندی کے مسائل زیادہ مؤثر انداز میں حل کیے جائیں تو اس بحث کو سنجیدگی سے لیا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر صرف نام، عہدے، دفاتر اور ادارے بڑھانے ہیں تو پھر سوال پیدا ہوگا کہ اس کا مالی بوجھ کون اٹھائے گا؟
پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں کسی نئے صوبے یا انتظامی یونٹ کا قیام صرف نقشے پر نئی لکیر کھینچنے کا معاملہ نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ نئی انتظامیہ، محکمے، دفاتر، ملازمین، اسمبلی یا دیگر ادارے اور مستقل اخراجات بھی وابستہ ہوں گے۔ اس لیے فیصلہ کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ اس پورے انتظامی ڈھانچے کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے۔
یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا نئے صوبے واقعی عوامی مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں اسکول نہیں، اسپتالوں میں سہولیات نہیں، نوجوانوں کے لیے روزگار نہیں اور سڑکیں خستہ حال ہیں تو صرف انتظامی حدود تبدیل کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ اصل مسئلہ بہتر حکمرانی کا ہے۔ ایک کمزور نظام کو نئے نام سے مضبوط نہیں کیا جاسکتا۔
ہاں، اگر کسی علاقے کا حجم اتنا بڑا ہوچکا ہے کہ موجودہ انتظامی نظام عوام تک ریاستی سہولیات مؤثر انداز میں نہیں پہنچا پا رہا، اگر دور دراز علاقوں کو مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے اور اگر انتظامی تقسیم سے فیصلہ سازی عوام کے قریب آسکتی ہے تو پھر نئے انتظامی یونٹس کا قیام ایک قابلِ غور تجویز ہوسکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے اعداد و شمار، تحقیق اور واضح منصوبہ بندی ضروری ہے۔
اس بحث کا ایک اہم پہلو صوبائی شناخت بھی ہے۔ پاکستان کے صوبے محض انتظامی حدود نہیں بلکہ ان کی اپنی تاریخی، ثقافتی اور لسانی شناختیں بھی ہیں۔ کسی بھی صوبے کی تقسیم یا نئی حدود کا تعین کرتے وقت یہ دیکھنا ہوگا کہ کہیں انتظامی اصلاح کے نام پر لوگوں میں احساسِ محرومی، عدم تحفظ یا علاقائی کشیدگی تو پیدا نہیں ہوگی۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر فیصلہ ناکام ہوگیا تو پھر کیا ہوگا؟ ہم اکثر بڑے منصوبے شروع کرتے وقت ان کے فوائد بیان کرتے ہیں، مگر ناکامی کی صورت میں متبادل منصوبہ نہیں بناتے۔ اگر نیا انتظامی یونٹ بنا، اخراجات بڑھ گئے، ادارے بہتر نہ ہوئے اور عوام کو مطلوبہ سہولیات نہ مل سکیں تو پھر کیا کیا جائے گا؟ کیا اسے دوبارہ ختم کرنا ممکن ہوگا؟ کیا دوبارہ حدود تبدیل ہوں گی؟ اس لیے ایسے فیصلے تجرباتی بنیادوں پر نہیں ہونے چاہئیں۔
اس پورے معاملے میں سیاسی جماعتوں کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ نئے صوبوں کا معاملہ کسی ایک جماعت یا حکومت کا نہیں بلکہ پورے ملک کے مستقبل سے متعلق ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اکثر ایسے معاملات پر واضح اور مستقل اصول اپنانے کے بجائے اپنے سیاسی مفاد کے مطابق مختلف اوقات میں مختلف مؤقف اختیار کرتی دکھائی دیتی ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے حوالے سے بھی اس بحث میں سوال اٹھتا ہے۔ اگر انتظامی بنیادوں پر نئے یونٹس کی ضرورت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور خیبر پختونخوا کے حوالے سے بھی انتظامی تقسیم یا نئے یونٹس کی بحث سامنے آتی ہے، تو سندھ کی تقسیم یا وہاں نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کے حوالے سے اصول واضح کرنا ضروری ہے۔ اگر آبادی، انتظامی مشکلات اور بہتر حکمرانی نئے یونٹس کی بنیاد ہیں تو پھر یہی معیار پورے پاکستان پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔
یہی سوال پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سمیت دوسری جماعتوں سے بھی پوچھا جانا چاہیے۔ اگر ایک جماعت سندھ کی تقسیم کی مخالفت کرتی ہے تو اسے یہ بتانا ہوگا کہ اس کا اصول کیا ہے۔ اگر دوسری جماعت پنجاب کے حوالے سے انتظامی تقسیم کی بات کرتی ہے تو اسے بھی واضح کرنا ہوگا کہ کیا یہی اصول سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے لیے بھی قابلِ قبول ہے۔
یہاں مسلم لیگ ن کے حوالے سے بھی ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے۔ مرکز میں ایک طرح کا سیاسی تاثر اور پنجاب کی سیاست میں ایک مختلف مؤقف نظر آئے تو عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ اصل پالیسی کیا ہے۔ اگر یہ مؤقف ہے کہ زیادہ آبادی انتظامی مشکلات پیدا کرتی ہے اور بڑے صوبے کو بہتر طور پر چلانے کے لیے تقسیم ضروری ہوسکتی ہے تو پھر یہی دلیل دوسرے بڑے صوبوں پر بھی لاگو ہونی چاہیے۔
مجھے یہاں ایک اور تضاد بھی نظر آتا ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ پنجاب کی بڑی آبادی انتظامی مسائل کا سبب ہے اور اسی لیے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے، جبکہ دوسری طرف پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تیز رفتار ترقی اور مؤثر حکمرانی کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ اگر آبادی کا حجم ہی بنیادی مسئلہ ہے تو پھر بڑے صوبے میں تیز تر ترقی اور بہترین انتظامی کارکردگی کے دعوے کس بنیاد پر کیے جارہے ہیں؟ اور اگر واقعی بڑے صوبے کو مؤثر انداز میں چلایا جاسکتا ہے تو صرف آبادی کو تقسیم کی بنیادی وجہ قرار دینا مکمل طور پر قابلِ اطمینان دلیل نہیں رہتی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پنجاب میں نئے انتظامی یونٹس کی بحث غلط ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت اور سیاسی جماعتوں کو اپنے معیار واضح کرنے چاہئیں۔ فیصلہ آبادی کی بنیاد پر ہوگا، جغرافیہ کی بنیاد پر، انتظامی ضرورت کی بنیاد پر، عوامی مطالبے کی بنیاد پر یا سیاسی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر؟ جب تک یہ بنیادی اصول طے نہیں ہوں گے، نئے صوبوں کی بحث سیاسی نعروں سے آگے نہیں بڑھ سکے گی۔
پاکستان کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا صوبوں کی تعداد بڑھانے کے بجائے موجودہ صوبوں کے اندر مضبوط بلدیاتی نظام قائم کرکے وہی نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اگر اختیار اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومت سے نکل کر ضلعی اور مقامی سطح تک منتقل کردیا جائے تو ممکن ہے بہت سے مسائل نئے صوبے بنائے بغیر حل ہوسکیں۔
اصل مسئلہ شاید صوبوں کی تعداد سے زیادہ اختیارات کی تقسیم کا ہے۔ ایک عام شہری کو اس بات سے زیادہ غرض نہیں کہ اس کے علاقے کا نام صوبہ ہے یا انتظامی یونٹ۔ اسے اس بات سے غرض ہے کہ اس کے بچے کو اچھا اسکول ملے، بیمار ہونے پر اسپتال میں علاج ہو، سڑک بہتر ہو، بجلی اور پانی دستیاب ہو، پولیس تحفظ فراہم کرے، روزگار کے مواقع ہوں اور سرکاری دفتر میں اس کا کام رشوت یا سفارش کے بغیر ہوسکے۔
اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو عوامی سہولت کے نقطۂ نظر سے دیکھنا ہوگا، نہ کہ سیاسی مفاد کے نقطۂ نظر سے۔
ایک اور اہم سوال وفاقی مالیات کا ہے۔ اگر ملک میں مزید صوبے بنتے ہیں تو وسائل کی تقسیم، قومی مالیاتی کمیشن، ٹیکس آمدن، ترقیاتی بجٹ اور وفاق و صوبوں کے مالی تعلقات پر بھی نئے سرے سے غور کرنا ہوگا۔ یہ معمولی معاملہ نہیں۔ پہلے ہی محدود وسائل کو مزید انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے سے اگر ہر نئی اکائی اپنے مستقل اخراجات کے لیے وفاق یا قومی خزانے پر انحصار کرے تو اصلاح کے بجائے مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
اس لیے نئے صوبے بنانے سے پہلے ایک مکمل معاشی جائزہ ہونا چاہیے۔ ہر مجوزہ صوبے یا انتظامی یونٹ کے بارے میں یہ بتایا جائے کہ اس کی آبادی کتنی ہے، اپنی آمدن کتنی ہے، اخراجات کتنے ہوں گے، ادارے کیسے قائم ہوں گے اور عوام کو پانچ، دس یا بیس سال میں کیا حقیقی فائدہ پہنچے گا۔
اسی طرح سیاسی اتفاقِ رائے بھی ضروری ہے۔ ایسے فیصلے جو ملک کی آئینی اور انتظامی ساخت تبدیل کرتے ہوں، انہیں محض ایک حکومت یا ایک سیاسی جماعت کے فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ پارلیمان، صوبائی نمائندوں، سیاسی جماعتوں، ماہرین اور عوام کے درمیان وسیع مشاورت ہونی چاہیے۔
کیونکہ اتفاقِ رائے کے بغیر کیا گیا انتظامی فیصلہ مستقبل میں سیاسی تنازع بن سکتا ہے۔ ایک صوبے کو لگ سکتا ہے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہوئی، دوسرے کو محسوس ہوسکتا ہے کہ اس کی شناخت متاثر ہوئی اور کسی تیسرے علاقے کو خدشہ ہوسکتا ہے کہ وسائل کی تقسیم اس کے خلاف ہوگئی ہے۔ اس لیے اصلاح کا مقصد مسائل کم کرنا ہونا چاہیے، نئے تنازعات پیدا کرنا نہیں۔
پاکستان کو نئے صوبوں کی ضرورت ہے یا نہیں، اس کا حتمی جواب جذباتی انداز میں نہیں دیا جاسکتا۔ ممکن ہے کچھ علاقوں کے لیے نئے انتظامی یونٹس واقعی ضروری ہوں اور ممکن ہے کچھ علاقوں میں مضبوط بلدیاتی نظام ہی کافی ہو۔ ہر علاقے کی ضرورت الگ ہوسکتی ہے۔
لیکن ایک اصول سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اگر ایک صوبے میں آبادی اور انتظامی مشکلات کی بنیاد پر تقسیم کی بات کی جاتی ہے تو دوسرے صوبے میں بھی اسی معیار کو دیکھا جائے۔ اگر کسی صوبے کی تاریخی شناخت تقسیم کی وجہ سے متاثر ہوسکتی ہے تو یہی اصول دوسرے صوبوں کے لیے بھی ہونا چاہیے۔ اگر مالی بوجھ کسی ایک صوبے کے لیے مسئلہ ہے تو باقی ملک کے لیے بھی مسئلہ سمجھا جائے۔
پاکستان کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت واضح ترجیحات کی ہے۔ ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری قومی ترجیحات کیا ہیں اور نئے صوبے یا انتظامی یونٹس ان ترجیحات میں کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔ اگر یہ ثابت ہوجائے کہ انتظامی تقسیم سے عوام کو بہتر حکمرانی، بہتر سہولیات اور بہتر مواقع مل سکتے ہیں تو اس پر سنجیدگی سے پیش رفت ہونی چاہیے۔ لیکن اگر یہ صرف سیاسی طاقت کے حصول یا انتخابی نعرے کا حصہ ہے تو پھر ہمیں رک کر سوچنا ہوگا۔
نقشے پر نئی لکیر کھینچنا آسان ہے، مگر ایک نئی انتظامی اکائی کو کامیاب بنانا مشکل۔ نئے صوبے کا اعلان چند دنوں میں ہوسکتا ہے، لیکن اس کے ادارے مضبوط ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔
اس لیے پاکستان کو صوبوں کی تعداد بڑھانے سے پہلے حکمرانی کا معیار بڑھانے پر توجہ دینا ہوگی۔ کیونکہ عوام کو نئے نقشے سے زیادہ نئی امید، نئے دفتر سے زیادہ بہتر نظام اور نئے صوبے سے زیادہ بہتر مستقبل چاہیے۔
نئے صوبوں کی بحث ہونی چاہیے، ضرور ہونی چاہیے، لیکن کھلے ذہن، واضح اصول، مکمل تحقیق اور قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ۔ کیونکہ یہ صرف حدود کی تبدیلی نہیں، پاکستان کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کا سوال ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں