مایوسی اور نا امیدی کے درمیان شمع جلانے والے ڈاکٹرز/ڈاکٹر محمد شافع صابر

مجھ سمیت سبھی ڈاکٹرز وطن عزیز پاکستان، حکومتی پالیسوں اور ڈاکٹرز کی مجموعی صورتحال سے مایوس ہو چکے ہیں اور ہر صورت میں یہاں سے ہجرت کرنا چاہتے ہیں اور کسی ترقی یافتہ اور مہذب ملک میں اپنا مستقبل بنانا چاہتے ہیں اور یہ حقیقت ہے۔
اب پاکستان میں تین طرح کے ڈاکٹرز ہیں۔ پہلے وہ ہیں،جو گھریلو مجبوریوں کی وجہ سے نہیں جا پا رہے۔ دوسرے وہ جو باہر کے ٹیسٹ افورڈ کرنے سے قاصر ہیں ۔ تیسرے وہ ہیں جنہوں نے بس طے کر لیا ہے کہ وہ پاکستان میں ہی مستقل سیٹل ہوں گے۔ ان تینوں قسموں میں ایک ایک چیز کامن ہے وہ ہے پاکستان کے شعبہ صحت سے مایوسی اور نا امیدی ۔
ان سب کے باوجود پاکستان میں ہر سال ہزاروں نئے ڈاکٹرز سسٹم میں داخل ہو رہے ہیں، لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ پچھلے چند سالوں سے Mdcat دینے والے طلبہ کی تعداد میں مسسل کمی واقع ہو رہی ہے اور ڈاکٹرز بنانے والی فیکٹریوں ۔۔۔پرائیویٹ میڈیکل کالجز میں ہر سال خالی سیٹیں رہ رہی ہیں ۔
پاکستان کا صحت کا نظام تقريبا کولیپس ہو چکا ہے،پمز کا واقعہ ہمارے آنکھوں کے سامنے ہی ہوا ہے،سرکار نے چہرے بدل دیئے ہیں لیکن روٹ کاز پر دھیان نہیں دیا وہ ہے مسلسل بڑھتی آبادی کے حساب سے سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور انفراسٹرکچر کی شدید کمی ہے اور سب سے ہم بات یہ ہے کہ ہر ہسپتال overburdened ہے اور ڈاکٹرز جو کہ اس oberburden کو ہینڈل کر رہے ہیں،انکی تنخواہیں اور دیگر مراعات نہایت کم ہیں،لیکن ان حالات میں بھی ڈاکٹرز جانفشانی سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں ۔
اس سب کے باوجود،ہم ڈاکٹرز روزانہ اس امید کے ساتھ ہسپتالوں میں جاتے ہیں کہ لوگ ہمارے پاس اس امید سے آتے ہیں کہ انہیں کی تکلیف کم ہو گی، انہیں شفاء ملے گی اور یہی وہ جزبہ ہے جو کہ ڈاکٹرز کو ڈیلی basis پر ہسپتال جا کر عوام الناس کی خدمت کرنے کی طاقت دیتا ہے۔
ایسے ہی ایک دن،میں مریض چیک کر رہا تھا۔ ایک پینتیس چالیس سال کا آدمی میرے پاس لیکر آیا۔ ہسٹری لی تو پتا چلا کہ تین ماہ قبل ایکسیڈنٹ ہوا تھا۔ نیا ایکسرے کروایا تو اس میں ٹخنے کے جوڑ کا فریکچر تھا۔ مزید سوالات پوچھے تو پتا چلا کہ اس نے 3 ماہ قبل بھی ایکسرے کروایا تھا، بعد میں دوستوں کے مشورے سے پہلوان کے پاس چلا گیا،وہ ہر دو تین دن بعد پٹی کرتا تھا اور فی پیٹی دو سے تین ہزار لیتا تھا، اور امید دلاتا تھا کہ ہڈی ایسے ہی جڑ جائے گی،اب تین ماہ کے بعد درد کی شدت میں کمی نہیں ہوئی تو پہلوان نے کہا کہ اب سرکاری ہسپتال چلا جائے اور یہ صاحب بہادر ہمارے پاس آ گئے ۔
اب وہ درد سے کراہ رہا تھا،ہڈی جڑی نہیں تھا، کام پر جا سکتا نہیں تھا اور کام پر نا جا سکنے کی وجہ سے گھر میں نوبت فاقوں تک آ چکی تھی ۔
پہلے تو میں نے اس سے یہ پوچھا کہ آج کے دور میں بھی،لاہور میں رہتے ہوئے بھی تم پہلوان کے پاس گئے تو گئے کیوں ۔جواب میں وہ۔خاموش رہا۔ خیر داخل کیا۔ ٹیسٹ کروائے،آپریشن کیا، میں اپنے SR کا فرسٹ اسسٹنٹ تھا، جب آپریشن تھیٹر سے باہر آتا تو میں نے اسے کہا کہ آپریشن ٹھیک ہو گیا ہے وہ مطمئن ہو گیا ۔
اگلے دن،راؤنڈ کے بعد اسے ڈسچارج کرنے کا پلان تھا۔ میں نے اسے ڈسچارج کارڈ تھمایا، احتیاطیں بتائیں اور فالواپ کب اور کسیے کروانا ہے ،اسے بتایا ۔
میں واپس ڈاکٹر روم جانے کے لئے مڑا،تو اس نے مجھے آواز دی کہ ڈاکٹر صاحب. میں رکا اور اس کے پاس گیا، اس نے میرا ہاتھ تھام کر کہا ” ڈاکٹر صاحب تسی ہمیشہ خوش رہو، اللہ سوہنا توانوں مدینے اپنے سوہنے دا گھر وکھائے”. وہ اتنی پرخلوص دعا تھی کہ میں نے شکریے کسیاتھ اسکا کندھا تھپتھپایا اور مسکرا کر اس سے مصافحہ کیا۔
ہمارے پروفیشن کی یہی سب سے بڑی خوبی ہے کہ مریض اور انکے لواحقین ہمیں دل سے دعائیں دیتے ہیں، ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ یہ شعبہ باقی شعبوں سے کیوں مخلتف ہے؟؟ کیونکہ ہم بنا رنگ،نسل،زات اور مزہب دیکھے سبھی کا علاج کرتے ہیں اور جب مریض شفایاب ہو کر گھر جانے سے پہلے ہمیں جو دعا دیتا ہے،وہی تو ہم سبکا سرمایہ حیات ہے، یہ دعائیں تو ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہیں،وگرنہ مرکزی سے لیکر ہر صوبائی حکومت نے ہر ڈاکٹر کو سوائے مایوسی اور ناامیدی کے دیا ہی کیا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے،تمام صوبائی حکومتیں مرکزی حکومت کیساتھ مل ایک جامع پالیسی تشکیل دیں، ڈاکٹرز کے لئے سروس اسٹرکچر کو نئے سرے سے سے مرتب کیا جائے اور انکی مراعات میں اضافہ کیا جائے، وگرنہ مایوسی اور ناامیدی کے سائے گہرے ہوتے چلے جا رہے ہیں ۔

اپنا تبصرہ لکھیں