26 سال کا جنید 40 سال کا ہو گیا ہے
اس کے سر کے بہت سے بال سفید ہو چکے ہوں گے
اور میں نہیں جانتا ان تیرہ برسوں میں وہ کتنی بار مر چکا ہو گا
جنید کا باپ بوڑھا ہو گیا ہے، شاید کوئی بہن بھی ہو گی
جو ہر رات اپنے خوابوں کے دوپٹے میں آنسوؤں کی ایک گرہ باندھتی ہو گی۔
توہین کی یہ ظالم ڈائن ہر سال نہ جانے کتنے بے گناہوں کو لہو چوستی ہے
مگر یہ کسی ایک کی بَلی قبولنے کے بعد بھی شانت نہیں ہوتی
مولوی کے پیٹ کی طرح قناعت جیسے اس کے خمیر میں ہے ہی نہیں
جنید کی گرفتاری کے چار سال بعد مشال خان بے موت مار دیا گیا
پریانتھا کمار ایک مشتعل ہجوم کی درندگی کا نوالہ بن گیا
ڈاکٹر شاہ نواز اور سید خان کو پولیس کے اہلکاروں نے ہی توہین کی بلی چڑھا کر اپنا عشق ثابت کر کے اپنے نامہ اعمال میں جنت کی مہر ثبت کر دی۔
مذہبی غنڈہ گردوں نے ملتان کے تمام وکیلوں کو دھمکا رکھا تھا کہ کوئی جنید کا کیس نہیں لے گا
جب ایک وکیل نے مقدمہ لینے کی حامی بھری تو اسے تب تک ہراساں کیا جاتا رہا جب تک اس نے انکار نہیں کر دیا
اور جب راشد رحمان مرحوم نے جنید کا مقدمہ لڑنے کی ٹھانی تو انہیں ان کے چیمبر میں مار دیا گیا،ریاست کی طرف سے ان قاتلوں سے متعلق آج تک تحقیقات شروع کرنے کی بھی کوشش تک نہیں کی گئی
2019 میں ٹرائل کورٹ نے جنید کو موت کی سزا سنائی
شاید جج جان گیا تھا کہ اگر وہ سزا نہیں سنائے گا تو سزا یافتہ ٹھہرے گا
اپنی ہی عدالت سے باہر نہ نکل سکے گا
سلمان تاثیر کی طرح اپنے ہی سکیورٹی گارڈ کے ہاتھوں فنا ہو کر اپنے قاتل کو ہیرو بنا دے گا
یا پھر کیا معلوم وہ خود بھی اس ہجوم میں سے ایک ہو جو لاشیں جلا دیتے ہیں
اور دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہیں چھوڑتے
وہ ایسے گدھ ہیں جو کلیجے چباتے ہیں اور ان کے نتھنے ہر وقت نفرت کی بو سے بھرے رہتے ہیں
2020 میں عدالت کی طرف سے موت کی سزا سنائے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی گئی
جس کی آج سے دو دن پہلے تک کبھی سماعت نہیں ہوئی تھی
حالانکہ اسکے بعد کے سالوں تک کی اپیلیں سنی جا چکی ہیں
جنید کی اپیل پینڈنگ کیوں جا رہی تھی اس کی وجہ ہم سب کو معلوم ہے
گزشتہ روز، مدتوں بعد، لاہور ہائیکورٹ نے جنید کی اپیل کی سماعت کی
عدالت نے اپیل پر استغاثہ اور شکایت کنندہ کو نوٹس جاری کیے
آئندہ سماعت 10 اکتوبر کو ہو گی۔
ہم اپنی ریاستی ترجیحات ، عدلیہ کی بے بسی اور منصفین کی مجبوریوں سے آگاہ ہیں لیکن ایک امید باقی رہ گئی ہے
کہ شاید اب ہم محکوموں کے پاؤں تلے دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے
اور انالحق کے نعروں کی گونج میں جنید حفیظ تاریک راہوں میں بے موت مرنے سے بچ جائے ۔۔۔۔ یہ اک خواب ہے کسی ایسے دن کا جسے لوحِ ازل پر لکھنے والے ہاتھ کاٹے جا چکے ہیں اور جس کا کبھی وعدہ نہیں کیا گیا۔


