نئی نسل، سوشل میڈیا اور شعور کی آزمائش/ وقار اسلم

نئی نسل کے ہاتھ میں موبائل محض ایک آلہ نہیں، ایک آئینہ بھی ہے؛ فرق صرف یہ ہے کہ اس آئینے میں دنیا بھی دکھائی دیتی ہے اور انسان کا اپنا شعور بھی بے نقاب ہوتا ہے۔ سویڈن کے عظیم سفارت کار اور اقوام متحدہ کے سابق سیکرٹری جنرل ڈیگ ہیمرشولڈ نے کہا تھا، ’’انسان کا سب سے طویل سفر اپنے اندر کی طرف ہوتا ہے۔‘‘ اور ٹی ایس ایلیٹ نے شاید ہمارے عہد کی کیفیت بہت پہلے بیان کردی تھی: ’’وہ حکمت کہاں گئی جسے ہم نے علم میں کھو دیا، اور وہ علم کہاں گیا جسے ہم نے معلومات میں کھو دیا؟‘‘ سوشل میڈیا نے نئی نسل کو معلومات کا سمندر دے دیا ہے، مگر اصل امتحان اب بھی وہی ہے کہ وہ اس سمندر سے شور چنتی ہے یا شعور، ہجوم کی رائے اپناتی ہے یا سوال کرنے، پرکھنے اور اپنی عقل سے نتیجہ نکالنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔
کسٹمز ہیلتھ کئیر سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک سیر حاصل سیمینار منعقد کیا گیا جس کا موضوع یہ ہی تھا جو میرے کالم کا ہے۔ اس تقریب میں منتظمین کی طرف سے مجھے بھی بطور سپیکر مدعو کیا گیا۔ اس تنظیم کے روح رواں ڈاکٹر آصف محمود جاہ ہیں جو چیف کلیکٹر کسٹمز رہے بعد ازاں وفاقی محتسب کے عہدے پر بھی براجمان رہے وہ ایک نستعلیق شخصیت ہیں درد دل رکھتے ہیں اور باکمال انداز میں رکھی انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں ان کا سوشل ورک قابل تقلید اور قابل تعریف ہے نا صرف پاکستان میں بلکہ پوری دنیا میں۔ اس جامع اور انتہائی ضروری موضوع پر یہ گفتگو بڑی روشن کردینے والی تھی۔تقریب کی نظامت سینئر اینکر پرسن اور سابق ڈی جی Tevta مصطفیٰ کمال پاشا نے سر انجام دی اسپیکرز میں ڈاکٹر رف رف، آل پاکستان اسکولز فیڈریشن کے روح رواں کاشف مرزا، ڈاکٹر فیاض احمد رانجھا، ڈاکٹر شفیق جالندھری ( ماس کمیونیکیشنز ماسٹر) ،مولانا یوسف خان خطیب (جامع اشرفیہ) انجینئر فیاض، ڈاکٹر تسیر علی، ڈاکٹر حالد یزدانی، ڈاکٹر اشفاق نقشبند سمیت کسٹمز ڈیپارٹمنٹ اور بیورو کریسی، صحافت، سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والی کئی قابل قدر شخصیات موجود تھیں۔ مقررین کے اعداد و شمار کافی حیران کن تھے کہ کس طرح سوشل میڈیا گمراہی پھیلا رہا ہے۔ میں نے ہمہ تن گوش ہو کر سب سنا مگر میرا موقف ان سے سے یکسر مختلف تھا کہ جہاں اس کے نقصان ہیں وہیں فوائد بھی ہم اسے کنٹرول نہیں کر سکتے۔ پیکا ایکٹ کے بعد شنید ہے حکومت اب کوشاں ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال کو مکمل گرفت میں لے کر اس پر صرف کنٹرول شدہ مواد ہی نشر کروائے۔اگر یہ فحاشی ، عریانی کے تدارک کے لئے کرنا ہے تو ضرور کریں لیکن اگر اس آڑ میں آزادی اظہار رائے کی آواز دبانا مقصود ہے تو یہ ایک صحت مند معاشرے کی رمز نہیں۔بنگلہ دیش کے طلبہ جب 2024 میں سرکاری ملازمتوں کے کوٹے کے خلاف نکلے تو ان کے ہاتھوں میں کتابوں کے ساتھ موبائل بھی تھے۔ احتجاج کی خبریں، کارروائیوں کی ویڈیوز اور رابطے کے پیغامات پھیلے، تحریک وسیع ہوئی اور 5 اگست کو شیخ حسینہ کا اقتدار ختم ہوگیا۔ سوشل میڈیا نے اس جدوجہد کو آواز اور رابطہ دیا، لیکن قربانیاں سڑکوں پر دی گئیں۔ اسی فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ تبدیلی میں نوجوانوں کی تنظیم، حکومتی ردعمل اور سیاسی حالات بھی شریک تھے؛ اسے صرف موبائل کی فتح کہنا تاریخ کو ایک اسکرین میں قید کرنا ہوگا۔

بھارت میں بھی نوجوانوں کے احتجاج نے جواب دہی کا سوال اٹھایا۔ امتحانی پرچوں کے افشا کے تنازع پر چلنے والی تحریک کے بعد وزیر تعلیم دھرمندر پردھان نے 25 جولائی 2026 کو استعفیٰ دیا۔ آن لائن مہم نے توجہ حاصل کی، جبکہ طلبہ کے مسلسل مظاہروں نے دباؤ بڑھایا۔ یہاں نئی نسل کا مثبت کردار دکھائی دیتا ہے کہ وہ اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں پر سوال کرسکتی ہے۔ البتہ کسی وزیر کی رخصتی کے بعد امتحانی نظام کی اصلاح بھی ضروری ہے۔ احتجاج کی کامیابی کو مستقل ادارہ جاتی بہتری میں بدلنا اصل کام رہتا ہے۔
مجھے عرب اسپرنگ کی وہ بیش بہاء تبدیلیاں یاد آتی ہے اور سوشل میڈیا اس کا مرکز نہیں مگر جزو ضرور رہا تھا۔

اس سلسلے کی جڑیں تیونس تک جاتی ہیں، جہاں 17 دسمبر 2010 کو پھل فروش محمد بوعزیزی نے سرکاری اہلکاروں کے سلوک اور روزگار کی مشکلات کے خلاف خودسوزی کی۔ احتجاج کی تصاویر اور ویڈیوز پھیلیں تو بے روزگاری اور تحقیر جھیلنے والوں نے اس واقعے میں اپنا دکھ پہچانا۔ 14 جنوری 2011 کو صدر بن علی ملک چھوڑ گئے۔ اس کے بعد خطے میں پھیلنے والی احتجاجی لہر عرب بہار کہلائی۔ سوشل میڈیا نے پہلے سے موجود بے چینی کو رابطہ دیا؛ ناانصافی کے اسباب اس کے وجود سے پہلے بھی موجود تھے۔

مصر میں فیس بک صفحات، یوٹیوب ویڈیوز اور ٹوئٹر پیغامات احتجاج کی خبریں اور اجتماعات کی اطلاع پہنچاتے رہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، حسنی مبارک کے استعفے سے پہلے ہفتے میں مصر کی سیاسی تبدیلی سے متعلق روزانہ ٹویٹس تقریباً 2,300 سے 230,000 ہوگئیں۔ ان میں مصر کے اندر اور باہر کے پیغامات شامل تھے۔ اتنا بڑا اضافہ عالمی توجہ کی علامت تھا۔ مگر معاشی مشکلات، سیاسی جبر اور زمینی تنظیم کو نظرانداز کرکے سارا سہرا انٹرنیٹ کے سر باندھنا درست نہیں۔ وسیلے کی طاقت، انسانی جدوجہد کی جگہ نہیں لے سکتی۔

عرب بہار سے تیونس، مصر، لیبیا، یمن، شام اور بحرین نمایاں طور پر متاثر ہوئے۔ اردن، مراکش، عمان اور الجزائر میں بھی احتجاج اور اصلاحات کے مطالبات سامنے آئے۔ نتائج یکساں نہیں تھے؛ کہیں حکمران رخصت ہوئے، کہیں محدود تبدیلیاں آئیں، جبکہ شام، لیبیا اور یمن میں حالات مسلح تنازعات کی طرف گئے۔ ان تباہیوں کو محض سوشل میڈیا کا نتیجہ کہنا بھی غلط ہوگا؛ ریاستی تشدد، مسلح گروہوں اور بیرونی مداخلت کے اپنے کردار تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ عوامی بیداری کے بعد امن، قانون اور قابلِ اعتماد اداروں کی تعمیر الگ ذمہ داری ہے۔

اردن میں 2011 کے احتجاج کے بعد وزیراعظم کی حکومت بدلی، بادشاہت برقرار رہی۔ 2018 کے ٹیکس مخالف مظاہروں میں فیس بک اور واٹس ایپ نے رابطے میں مدد دی۔ ایران میں 2022 کے دوران مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد احتجاج دنیا کی توجہ بنا۔ لیکن شہریوں کو آواز دینے والی ٹیکنالوجی نگرانی میں بھی استعمال ہوتی ہے۔ اقوام متحدہ کی 2025 کی رپورٹ میں ایران میں حجاب کی پابندی نافذ کرنے کے لیے کیمروں، ڈرونز اور موبائل ایپ کے بڑھتے استعمال کا ذکر ہے۔ اس لیے اظہار کی آزادی کے ساتھ نجی زندگی کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

پاکستان میں اس بحث کو نوجوانوں کی تفریح کہہ کر ٹالا نہیں جاسکتا۔ ڈیجیٹل 2026 رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2025 میں تقریباً 11 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کرتے تھے، جبکہ سوشل میڈیا کی صارف شناختیں 7 کروڑ 99 لاکھ تھیں۔ یہ لازماً اتنے ہی الگ انسان نہیں، کیونکہ متعدد شناختیں ایک شخص کی ہوسکتی ہیں۔ اتنی بڑی موجودگی رائے عامہ پر اثر رکھتی ہے۔ شہری حکومتی دعووں کی پڑتال کرسکتے ہیں، مگر جعلی اکاؤنٹس، جماعتی نفرت اور ادھورے کلپس اختلاف کو دشمنی بنادیں تو مکالمہ کمزور پڑتا ہے۔ 8 فروری 2024 کے انتخابات پر موبائل خدمات کی بندش نے معلومات تک رسائی کا سوال بھی اٹھایا۔ تحفظ کے اقدامات شفاف اور محدود ہونے چاہییں، تاکہ عام شہری کی آواز اور روزگار بلاوجہ متاثر نہ ہوں۔

اس کے باوجود سوشل میڈیا کے فوائد ہماری زندگی میں واضح ہیں۔ طالب علم مفت لیکچر سنتا ہے، نوجوان ہنر دکھا کر کام حاصل کرتا ہے، دکاندار خریدار تک پہنچتا ہے اور خاتون گھر سے کاروبار چلاتی ہے۔ خون کے عطیے، گمشدہ فرد کی تلاش اور آفت زدہ خاندان کی مدد کا پیغام مفید ثابت ہوسکتا ہے۔ مسئلہ رسائی کی نابرابری بھی ہے؛ مہنگا انٹرنیٹ، زبان کی رکاوٹ اور کم تعلیم بہت سے لوگوں کو پیچھے رکھتے ہیں۔ نئی نسل کو سہولت کے ساتھ تربیت ملے تو یہی طاقت روزگار اور خدمت میں بدل سکتی ہے۔

صحافت میں بھی تبدیلی آئی ہے۔ اب اینکر، یوٹیوبر، بلاگر اور موقع پر موجود شہری خبر پہنچاتے ہیں۔ نئے ذرائع نظرانداز آوازیں سامنے لاتے ہیں، لیکن ناظرین کی تعداد سچائی کی سند نہیں۔ اصل معیار یہ ہے کہ خبر کی تصدیق کیسے ہوئی، رائے کہاں شروع ہوئی اور غلطی کی اصلاح ہوئی یا نہیں۔ حوثی تنازع میں روبیمار جہاز سے منسوب ایک ویڈیو کی فروری 2024 میں جانچ ہوئی تو وہ 2013 میں ڈوبنے والے دوسرے جہاز کی نکلی۔ منظر اصلی تھا، نسبت جھوٹی تھی۔ جذبات میں پھیلائی گئی ایسی خبر فہم کے بجائے فریب بڑھاتی ہے۔

کورونا کے دوران بھی یہی امتحان سامنے آیا۔ صحت کی درست معلومات اور رابطوں نے مدد دی، جبکہ جھوٹے علاج اور افواہوں نے الجھن بڑھائی۔ عالمی ادارۂ صحت غلط مواد سمیت معلومات کی بھرمار کو انفودیمک کہتا ہے۔ جنگ ہو یا وبا، خوف میں مبتلا انسان فوری جواب چاہتا ہے اور یہی جلدی اسے گمراہ کرسکتی ہے۔ ذمہ دار لکھنے والا اپنی معلومات کی حد بھی بتاتا ہے۔ ہر سوال پر یقین سے بولنا علم نہیں، بعض اوقات اپنی لاعلمی تسلیم کرنا زیادہ دیانت دارانہ رویہ ہوتا ہے۔

گھر کے اندر خاندانی وی لاگنگ نے خوشیاں بانٹنے اور آمدن کے مواقع دیے ہیں۔ تربیت، گھریلو ہنر اور تجربات دکھانا مفید ہوسکتا ہے، مگر بچے کی بیماری، رونا، اسکول اور شرمندگی کے لمحات دکھانے سے پہلے اس کا حق دیکھیے۔ یونیسف کے مطابق، چھوٹے بچے ایسی اشاعت کے نتائج سمجھ کر رضامندی نہیں دے سکتے۔ والدین جس یاد سے آج کماتے ہیں، ممکن ہے بچہ کل اسے چھپانا چاہے۔ بچے کی بے بسی کو تفریح بنادینا تربیت کے کس اصول سے مطابقت رکھتا ہے؟ گھر والوں کی عزت اور نجی زندگی، اشتہاری آمدن سے زیادہ قیمتی ہونی چاہیے۔

ذہنی صحت پر اثر بھی یکساں نہیں۔ دوستوں سے اچھا رابطہ تنہائی کم کرسکتا ہے، مگر مسلسل موازنہ، تضحیک اور نیند کی کمی بے چینی بڑھا سکتے ہیں۔ دوسروں کی منتخب خوشیاں دیکھ کر اپنی پوری زندگی کو ناکام سمجھنا خود سے ناانصافی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، یورپ، وسطی ایشیا اور کینیڈا کے 44 ممالک اور خطوں میں مسئلہ بننے والا سوشل میڈیا استعمال 2018 کے 7 فیصد سے 2022 میں 11 فیصد ہوگیا۔ یہ پاکستانی شرح نہیں، نہ ہر ذہنی مسئلے کی واحد وجہ سوشل میڈیا ہے۔ تاہم متاثرہ نوجوان کو محض نخرے کا طعنہ دینا مناسب نہیں۔

میری رائے میں نئی نسل کو پابندی اور بے مہار آزادی کے درمیان سمجھ کا راستہ چاہیے۔ مواد چننے والا نظام ہماری پسند جیسی چیزیں دکھاتا ہے، اس لیے دوسری رائے سننا شعوری کوشش مانگتا ہے۔ خبر کی تاریخ، اصل ذریعہ اور دوسری تصدیق دیکھیے؛ مصنوعی تصویر اور نقل شدہ آواز پر فوراً یقین نہ کیجیے۔ والدین خود مثال بنیں، ادارے ہراسانی کی شکایت سنیں اور بچوں کی حفاظت کریں۔ فون ہماری بات دنیا تک پہنچا سکتا ہے، اس بات کی سچائی ہمارے ذمے رہتی ہے۔ یہی ذمہ داری نئی نسل کے اظہار کو اعتبار دے سکتی ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں