خود کردہ را علاج نیست / پروفیسر سید عاصم علی

خدا کی مدد اس کی اپنی شرائط سے مشروط ہے، کسی کی قومی یا سیا سی امنگوں کی تابع نہیں۔
برطانوی استعمار نے بیسویں صدی کے وسط میں دو فطری ملکوں کو کاٹ کر دو غیر فطری ملک تراشے۔ مسلمانوں کے بنائے ہوئے ملک ہندوستان کے اندر دو حصے تراش کر نیا ملک پاکستان بنادیا، مسلمانوں کے نام پر۔ اور کنعان (فلسطین) کو تراش کر اسکے اندر ایک نیا ملک اسرائیل بنا دیا، یہودیوں کے لیے۔ دونوں ”استعمار داد“ ہیں، گوکہ دونوں کو ”خداداد“ گردانا گیا۔ وِدَمنا (irony) یہ کہ جدید سیکولر دنیا میں دونوں نئے ملک خدا و مذہب کے نام پر تراشے گئے، جبکہ دونوں کا مشترک آقا سیکولر امریکا۔
کنعان کے شہر یروشلم کو مسلمان اپنا مقدس مقام گُمان کرتے ہیں جو عملاً یہودیوں کے زیر انتظام آگیا اور جو انکے لیے مقدس ترین ہے۔ اور پاکستان کا مغربی ٹکڑا (موجودہ پاکستان) برہمن دھرمیوں (ہندؤوں) کے لیے مقدس ترین ہے جسکو وہ اپنی اصطلاح میں ”دیوا ورَت“ (ارض اللہ) کہتے ہیں، مسلمانوں کے زیر تسلط آگیا۔ جتنی تکلیف مسلمانوں کو یروشلم کے یہودیوں کے قبضے میں جانے پر ہے، اس سے زیادہ تکلیف برہمن دھرمیوں کو ”دیوا ورت“ ملیچھوں کے قبضے میں جانے پر ہے۔ جسطرح مسلمان یروشلم پر اپنا سیاسی قبضہ۱ بحال دیکھنے کے آرزو مند ہیں، اس سے زیادہ برہمن دھرمی ”دیوا ورت“ پر اپنا سیاسی اور مذہبی قبضہ بحال دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔
لیکن اس معاملے میں ”مسلمان کنعانیوں“ اور ”برہمن دھرمی بھارتیوں“ کا سیاسی رد عمل بلکل مختلف ہے۔ کنعانیوں نے اپنے ملک کی سرزمین پر عالمی طاقتوں کے قائم کردہ ایک نئے ملک کو تسلیم نہیں کیا، بلکہ اول روز سے ہی اسکی پرتشدد سیاسی مزاحمت شروع کر دی۔ لیکن برہمن دھرمی بھارتیوں نے اپنی ”ارض اللہ“ پر اُسی استعمار کے قائم کردہ ایک نئے ملک کو کم از کم سیاسی سطح پر اور وقتی طور پر قبول کر لیا۔ ہرچند کہ یہ امر انکے مذہبی جذبات کے لیے سخت تکلیف دہ تھا اور ہے، پھر بھی انھوں نے اس نئے ملک کے قیام کے خلاف اور اپنی ”ارض اللہ“ کو ملیچھوں سے آزاد کرانے کے لیے کوئی مسلح جدوجہد اور ”انتفاضہ“ نہیں شروع کیا، بلکہ اپنے لیے تعلیمی، سائنسی، اور معاشی ترقی کا خاموش راستہ چُنا اور اس میں تمام تر اندرونی خامیوں اور تضادات کے باوجود مسلمانوں والے حصے کو بہت پیچھے چھوڑ دیا۔ اتنا کہ اب کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اور اب وہ اس پوزیشن میں آ چکے ہیں کہ جب چاہیں ”دیوا ورت“ پر اپنا سیاسی قبضہ بھی بحال کر لیں۔ لیکن برہمن سوچ سمجھ کر قدم اٹھانے والی زیرک قوم ہے۔ہماری طرح جذباتی اور عاقبت نااندیش نہیں۔ وہ ایسا اُسوقت کریگی جب پاکستان (برہمن دھرمیوں کی درپردہ کوششوں کے نتیجے میں) اندرونی طور پر پوری طرح کھوکھلا ہو کر خود اپنے بوجھ تلے ڈھے جائے گا۔ جسکے امکانات اب نوشتۂ دیوار ہیں۔ اس داخلی مسماری کے عمل میں وہاں کی فوج برہمن دھرمیوں کی معاون کار ہے۔
دوسری طرف کنعانی مسلمانوں نے اول روز سے پر تشدد سیاسی مزاحمت کا راستہ چُنا، اور یہودیوں نے تعلیمی، سائنسی اور معاشی تعمیر و ترقی کا۔ یہودیوں کا حصہ معلوم تاریخ میں پہلی بار جنت نظیر بن گیا، جبکہ پرتشدد مزاحمت والوں کا کھنڈر۔ (جنت نظیر علاقے میں غیر متشدد، پر امن فلسطینی شہریوں کی تعداد اکیس لاکھ ہے، جن میں ۸۳ فیصد مسلمان ہیں، جسکا عموماً ذکر نہیں ہوتا۔)
برہمن دھرمی تعلیم و ترقی کے راستے اپنے ہدف کے بہت قریب پہونچ چکے ہیں جب اپنے ”دیوا ورت“ ۲ پر انکا قبضہ بحال ہو جائے گا۔ اور تعلیم و سائنسی ترقی کے ہی راستے یہودیوں کا عنقریب پورے کنعان (بلکہ زیادہ) پر تسلط قائم ہو جائے گا۔ جدید جنگیں اور نئے جنگی آلات سائنسی ترقی کا ہی شاخسانہ ہیں، تیروتفنگ کا نہیں۔ حقیقت پسندی کے تحت، کنعانیوں کو عالمی طاقتوں کی قائم کردہ نئی سیاسی حقیقت کو، تلخ ہی سہی، قبول کر لینا چاہیے تھا۔ اور ہر ناپسندیدہ بات کو نئی صورتحال سے وقتی مصالحت کے تحت برداشت کرتے ہوئے یہودیوں کے ساتھ، انھیں کے اداروں میں، تعلیمی اور سائنسی ترقی کے سفر میں خاموشی سے شریک ہو کر ہر لحاظ سے انکے برابر آنے کی انتھک کوشش کرنی چاہیے تھی۔ بلکہ ابتک انکو پیچھے چھوڑ دینا چاہیے تھا۔ یوں جدید تعلیم سے لیس کنعانی اپنی عددی اکثریت کے ذریعے اسرائیلی جمہوریے پر اگر حاوی نہ ہوپاتے تو کم از کم برابری کی حصے داری اور یک گونہ توازن قائم رکھ سکتے تھے، یوں وہ اپنے حصے کو بھی جنت نظیر بننے دے سکتے تھے، جو وہ خود صدیوں میں نہیں کر پائے، نہ انکے ذہنی ایجنڈے میں یہ کوئی ہدف ہے۔
اسی تعلیمی، سائنسی اور معاشی دوڑ میں ہندوستانی مسلمانوں کو متحدہ ہندوستان میں رہتے ہوئے برہمن دھرمیوں کے دوش بدوش شامل ہوجانا چاہیے تھا۔ اسطرح نہ صرف یہ کہ بدبختانہ تقسیم کے نتیجے میں بیس پچیس لاکھ انسانی زندگیاں تلف ہونے سے بچ جاتیں، موجودہ پچیس کروڑ پاکستانی مسلمان فوج کا بے حیثیت غلام ہونے سے محفوظ رہتے، لاکھوں مشرقی پاکستانی اپنے مسلمان ہم وطنوں کے ہاتھوں سفاکانہ قتل عام کا شکار نہ ہوتے، پچیس کروڑ بھارتی مسلمان غداری کے الزام اور تذلیل سے محفوظ رہتے، بلکہ مسلمان جمہوری سیاسی عمل میں برابر کے شریک ہو کر متحدہ ہندوستان میں قومی سیاسی توازن اور اپنا لسانی اور ثقافتی وجود برقرار رکھتے، اور ابتک تعلیمی، سائنسی اور معاشی سفر میں ہم وطنوں کے آگے نہ سہی، کم از کم ہم پلہ ہوتے۔
ایسا نہ کر کے کنعان و ہندوستان دونوں جگہ مسلمانوں کی تباہی کا سامان کیا گیا۔ اور اپنی شدید روایتی عاقبت نا اندیشی کا پھر ثبوت دیا گیا۔ نوبت باینجا رسید کہ دونوں جگہ سر دست انکو وجودی خطرہ لاحق ہے۔ خدا کی مدد دونوں جگہ نہیں آئے گی، کہ کسی جگہ ایجنڈا خدا کا نہیں، خود تراشیدہ ہے۔غیر قرآنی ہے۔ قومی اور سیاسی ہے۔ قومی اور سیاسی مقابلہ آرائی میں کامیابی کا امکان اُسی وقت ہے جب آپ دنیوی اسباب میں مدمقابل سے کچھ زیادہ یا کم ازکم اسکے ہم پلہ ہوں۔ اور خدا کی مدد اُسوقت آتی ہے جب ایجنڈا خدا کا ہو، خواہ دنیوی اسباب میں آپ کمتر ہی کیوں نہ ہوں ۔ اور خدا کا ایجنڈا وحدت انسانیت اور تکریم انسانیت کا حامی ہے، نفرت کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کا نہیں۔
——————————
۱۔ سیاسی اسلیے کہ مذہبی قبضہ اب بھی مسلمانوں کا ہی ہے۔ گنبد صخرہ اور جسکو مسجد اقصا کہتے ہیں اسکی تولیت اردن کے ماتحت اسلامی وقف کے پاس ہے۔ یعنی جسکو آزاد کرانا ہے وہ پہلے ہی آزاد ہے۔
۲۔پاکستان کی سرزمین=دیوا ورت (ارض اللہ)۔
دریائے سندھ سے لے کر گنگا تک=رشی ورت (ارض اولیاء)۔
گنگا سے تقریبن بِہار تک اور جنوب میں مدھیہ پردیش تک=آریہ ورت (ارضِ اشراف)۔
اسکے مشرق میں مگدھ دیش۔
اور باقی ساری دنیا ملیچھ دیش۔ دیکھو منو سمرتی ۔
——————————

اپنا تبصرہ لکھیں