ایک سول سوسائٹی ایکٹوسٹ کی حیثیت سے دیگر ساتھیوں کی طرح میں گزشتہ کچھ عرصے سے شدت سے یہ محسوس کر رہی ہوں کہ ہماری جگہ مسلسل سکڑ رہی ہے۔ ہم کہاں بولیں؟ کہاں لکھیں؟ کہاں سوال اٹھائیں؟ اور کہاں اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کریں؟ یہ سوال اب محض صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں یا سیاسی کارکنوں کا سوال نہیں رہا۔ یہ ہر اس شہری کا سوال ہے جو ایک زندہ، جمہوری اور مساوی معاشرے میں سانس لینا چاہتا ہے۔
ہم نے آزادیِ اظہار، جمہوری آزادیوں اور سول سوسائٹی کے لیے کئی سیمینار کیے، بحثیں کیں اور آواز اٹھائی۔ لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ہر بحث کے بعد دائرہ مزید تنگ ہو جاتا ہے۔ PECA میں 2025 کی ترامیم پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی تشویش ظاہر کی کہ مبہم دفعات اور وسیع اختیارات آزادیِ اظہار کو مزید محدود کر سکتے ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اسے صحافیوں کے ساتھ ساتھ عام سوشل میڈیا صارفین کے لیے بھی آزادیِ اظہار کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیا۔
اسی پس منظر میں 26 ستمبر کو پاکستان ویمنز فاؤنڈیشن فار پیس (PWFFP) کے زیر اہتمام کراچی میں ہونے والا سیمینار نہایت اہم تھا۔ موضوع تھا: “Safe Spaces, Equal Futures: Securing and Ensuring Women’s Rights to Public Domains”۔ بظاہر یہ خواتین کے محفوظ اور مساوی عوامی مقامات تک رسائی کا موضوع تھا، لیکن گفتگو نے اس سے کہیں بڑے سوالات کو چھوا—عورت کا عوامی زندگی میں حق، بولنے کا حق، کام کرنے کا حق، فیصلہ سازی میں شرکت کا حق اور اپنی زندگی کے بارے میں خود فیصلہ کرنے کا حق۔
نرگس رحمان نے اپنے افتتاحی خطاب میں ایک بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے آئینی ضمانتیں موجود ہیں، مگر اصل مسئلہ ان پر عمل درآمد کا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 27 مساوات اور امتیاز سے تحفظ کی بات کرتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 14، 25، 26 اور 34 خواتین کی عزت، مساوات، عوامی زندگی میں شرکت اور بنیادی حقوق کے وسیع تر دائرے سے متعلق ہیں۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف آئین میں حق لکھ دینے سے وہ حق شہری کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے؟
اگر ایک عورت گھر سے باہر نکلنے سے خوفزدہ ہو، کام کی جگہ پر ہراسانی کا سامنا کرے، سڑک پر عدم تحفظ محسوس کرے، سیاسی فیصلہ سازی میں اس کی آواز نہ سنی جائے، اپنی جائیداد اور مالی وسائل تک آزادانہ رسائی نہ رکھتی ہو، تو محض یہ کہنا کافی نہیں کہ آئین اسے مساوی شہری تسلیم کرتا ہے۔
پروفیسر عامرہ طارق نے اسی تضاد کو نمایاں کیا کہ آزادی اور مساوات محض قانونی عبارت نہیں ہونی چاہئیں بلکہ عورت کی زندہ حقیقت بننی چاہئیں۔ حقِ روزگار، عوامی موجودگی، اظہارِ رائے اور اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کا حق اس مساوات کا لازمی حصہ ہیں۔ ہمارے ہاں تحریری قانون اور اس کے نفاذ کے درمیان جو وسیع خلا ہے، وہ شاید ہماری سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک ہے۔
محفوظ جگہ صرف محفوظ سڑک نہیں
ڈاکٹر نسرین مہدی نے “محفوظ جگہ” کے تصور کو وسیع کرتے ہوئے ایک اہم نکتہ اٹھایا کہ تحفظ کا مطلب صرف جسمانی تشدد سے بچاؤ نہیں۔ ہراسانی، نفسیاتی دباؤ، دھمکی، نفرت انگیز گفتگو اور خوف کی فضا بھی انسان کی آزادی کو محدود کرتی ہے۔
یہ بات خواتین کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی پر بھی پوری طرح صادق آتی ہے۔
اگر ایک کارکن کو یہ خوف ہو کہ اس کی تقریر، تحریر یا سوشل میڈیا پوسٹ اس کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے، اگر ایک صحافی سوال اٹھانے سے پہلے کئی بار سوچے، اگر ایک طالب علم اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے گھبرائے، تو بظاہر جگہ موجود ہوتے ہوئے بھی عوامی جگہ آزاد نہیں رہتی۔
یہی وجہ ہے کہ خواتین کے عوامی مقامات تک مساوی رسائی اور آزادیِ اظہار کے سوال کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھا جا سکتا۔ دونوں کا تعلق شہری آزادی سے ہے۔
قانون موجود ہے، انصاف کہاں ہے؟
سیمینار میں ضیاء احمد اعوان نے ایک اور تلخ حقیقت سامنے رکھی۔ UN Women کے تعاون سے پانچ شہروں میں ہونے والے 35 سیشنز کے تجربے کے مطابق تقریباً 95 فیصد سروے کیے گئے جج اور وکلا متعلقہ قانونی تحفظات سے ناواقف تھے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون سے پوری طرح واقف نہ ہوں تو عام شہری اپنے حقوق کیسے حاصل کرے؟
انہوں نے 2014 کے گھریلو تشدد کے قانون کے کمزور نفاذ، خواتین کے وراثتی حقوق میں رکاوٹوں اور جہیز سے متعلق استحصال کی مثالیں بھی دیں۔
یہ صورت حال ہمیں ایک بنیادی سوال تک لے جاتی ہے: قانون بنانا کافی ہے یا قانون کو زندگی کا حصہ بنانا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے؟
ہماری تاریخ میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے کئی قوانین بنے۔ مگر قانون اور عمل کے درمیان فاصلے نے ان قوانین کی تاثیر کم کی۔ یہی مسئلہ صرف خواتین کے قوانین تک محدود نہیں۔ آزادیِ اظہار، معلومات تک رسائی، پرامن اجتماع، تنظیم سازی اور اختلافِ رائے کے حقوق بھی اسی آزمائش سے گزر رہے ہیں۔
سول سوسائٹی کی جگہ کیوں ضروری ہے؟
سول سوسائٹی ریاست کی مخالف قوت نہیں؛ جمہوری معاشرے میں وہ ایک ضروری نگرانی، سوال اور احتساب کا میدان ہے۔
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ سول سوسائٹی کی ذمہ داری ہے کہ جہاں حقوق متاثر ہوں وہاں سوال اٹھائے، قانون کی خامیوں کی نشاندہی کرے اور کمزور طبقات کی آواز بنے۔
لیکن اگر سوال اٹھانا ہی خطرے میں بدل جائے تو پھر خاموشی معاشرے کی عمومی حالت بن جاتی ہے۔ HRCP کی 2026 میں جاری کردہ 2025 کی انسانی حقوق کی رپورٹ نے بھی پاکستان میں سول اسپیس کے شدید سکڑاؤ، آزادیِ اظہار پر دباؤ اور خوف و خود اختیاری سنسرشپ کے بڑھتے ہوئے ماحول کی نشاندہی کی ہے۔
PECA کی ترامیم کے حوالے سے بھی انسانی حقوق کے حلقوں نے خاص طور پر “fake or false information” اور آن لائن مواد سے متعلق مبہم اور وسیع دفعات پر اعتراض کیا ہے۔ HRCP کے مطابق بعض نئی دفعات میں عوامی عہدے داروں اور ریاستی اداروں کے بارے میں “aspersions” کو بھی قابلِ کارروائی مواد میں شامل کیا گیا، جس سے آزادیِ اظہار اور احتساب کے درمیان توازن کا سوال پیدا ہوتا ہے۔
آئینی تبدیلیاں اور بنیادی حقوق
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم نے بھی ہمارے آئینی اور ادارہ جاتی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں کیں۔ 27ویں ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کا قیام، عدالتی اختیارات میں تبدیلیاں، سپریم کورٹ کے suo motu اختیار کا خاتمہ اور آرٹیکل 243 کے تحت عسکری کمان کے ڈھانچے میں تبدیلیاں کی گئیں۔
ان ترامیم کے حامی ان تبدیلیوں کو حکمرانی، انصاف اور ادارہ جاتی اصلاحات کے تناظر میں پیش کرتے ہیں، جبکہ ناقدین نے عدالتی آزادی اور ادارہ جاتی توازن کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔ یہاں اختلافِ رائے کو دبانے کے بجائے اس پر کھلی اور آئینی بحث کی ضرورت ہے۔
کیونکہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ جمہوریت کا مطلب یہ بھی ہے کہ شہری سوال کر سکیں، اختلاف کر سکیں، احتجاج کر سکیں، لکھ سکیں اور اقتدار میں موجود اداروں سے جواب طلب کر سکیں۔
عورت کی عوامی جگہ، دراصل شہری کی جگہ ہے
آج کے سیمینار میں طلبہ کے سوالات خاص طور پر امید افزا تھے۔ ایک نوجوان نے سوال اٹھایا کہ سڑک پر خواتین کو ہراساں کرنے والے مرد اپنے گھروں کی خواتین کے ساتھ ایسا رویہ کیوں نہیں رکھتے؟ یہ سوال دراصل ہماری اجتماعی ذہنیت کی گہری پرت کو چھوتا ہے۔
عورت کو گھر میں عزت اور باہر خطرے کے درمیان تقسیم کر دینا ایک سماجی تضاد ہے۔ عورت اگر گھر سے باہر کام کرے، یونیورسٹی جائے، سیاست میں حصہ لے، سڑک پر آزادانہ چلے، عدالت جائے، صحافت کرے یا احتجاج میں شریک ہو تو وہ کسی کی اجازت سے نہیں بلکہ ایک شہری کی حیثیت سے یہ حق استعمال کرتی ہے۔
اسی طرح ایک عورت اگر اپنی رائے کا اظہار کرے تو اسے خاموش کرانا صرف اس کی آواز دبانا نہیں؛ یہ معاشرے کے ایک شہری کی آواز دبانا ہے۔
لہٰذا Safe Spaces کا مطلب صرف ایسی سڑکیں نہیں جہاں عورت محفوظ ہو۔ محفوظ عوامی جگہ وہ بھی ہے جہاں وہ بلاخوف بول سکے، لکھ سکے، سوال کر سکے، اختلاف کر سکے اور فیصلہ سازی میں حصہ لے سکے۔
خاموشی حل نہیں
ہم نے اپنے ملک میں آمریتیں دیکھی ہیں، سنسرشپ دیکھی ہے، پابندیاں دیکھی ہیں۔ لیکن ہر دور میں سول سوسائٹی، صحافیوں، طلبہ، خواتین اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے کسی نہ کسی طرح اپنی جگہ بنائی ہے۔
آج شاید پھر وہی مرحلہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کی تنظیمیں، انسانی حقوق کے ادارے، وکلا، صحافی، اساتذہ، طلبہ اور تمام جمہوری قوتیں اپنے اپنے دائرے میں محدود رہنے کے بجائے شہری آزادیوں کے بنیادی سوال پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑی ہوں۔
کیونکہ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ عورت کو عوامی جگہ میں کتنی جگہ ملتی ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس معاشرے میں شہری کے لیے جگہ باقی رہتی جا رہی ہے؟
اور اگر یہ جگہ واقعی سکڑ رہی ہے تو اسے دوبارہ وسیع کرنا صرف کسی ایک تنظیم، کسی ایک طبقے یا کسی ایک جنس کی ذمہ داری نہیں۔ یہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
آواز کو دبانے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا؛ صرف معاشرہ خاموش ہو جاتا ہے۔ اور خاموش معاشرہ کبھی بھی مساوی اور محفوظ معاشرہ نہیں بن سکتا۔


