اسٹیبلشمنٹ، کارپوریٹ میڈیا اور عمیرہ احمد کا ڈسکورس: مذہب، ذوق اور ثقافتی یکسانیت/ سائرہ رباب

عمیرہ احمد پر گفتگو صرف اس سوال تک محدود نہیں ہونی چاہیے کہ ان کے ڈرامے اچھے ہیں یا برے، کہانی مضبوط ہے یا کمزور۔ اصل سوال یہ ہے کہ وہ کس قسم کا سماجی، مذہبی اور ثقافتی تصور ہمارے سامنے بار بار رکھتی ہیں، اور یہ تصور ہمارے اجتماعی تخیل کو کیسے تشکیل دیتا ہے؟

اس سوال کو سمجھنے کے لیے پہلے ثقافت اور سرمایہ داری کے تعلق کو دیکھنا ہوگا۔ پیئر بوردیو نے بہت پہلے سمجھایا تھا کہ ذوق(taste) محض ذاتی پسند نہیں ہوتا۔ ہم کیا کھاتے ہیں، کیا پہنتے ہیں، کس گھر کو خوبصورت سمجھتے ہیں، کون سی زبان شائستہ لگتی ہے، کون سا لباس نفیس اور کون سا پینڈو ، کون سا فرنیچر جدید اور کون سی چیز دقیانوسی ۔۔۔یہ سب ہمارے سماجی مقام اور ثقافتی سرمائے (cultural capital) سے جڑے ہوتے ہیں۔ ثقافتی پیداوار پھر انہی ذوقوں کو دوبارہ بناتی اور مضبوط کرتی ہے۔

یہاں ڈرامہ محض کہانی نہیں رہتا۔ وہ ذوق (taste)، طرزِ زندگی (life style) اور خواب بھی بیچتا ہے۔ گھر کا ڈیزائن، فرنیچر، لباس، شادی، کھانا، بول چال، عورت کا مثالی کردار، کامیابی کا تصور….سب مل کر ایک ’’اچھی زندگی‘‘ کی تصویر بناتے ہیں۔ میڈیا کے بڑے کاروباری ڈھانچوں کے بارے میں تحقیق بھی یہ دکھاتی ہے کہ کارپوریٹ ارتکاز (centralization) اور عالمی منڈی کے پھیلاؤ کے ساتھ ثقافتی یکسانیت (cultural homogenization) کا رجحان پیدا ہوسکتا ہے۔

اسی لیے اگر ہم پاکستانی ڈراموں کو چند دہائیوں کے فاصلے سے دیکھیں تو ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے…. وہ مقامی ثقافتی تنوع(diversity) کہاں گیا جو کبھی ہمارے ڈراموں میں زیادہ نمایاں تھا؟ اسی معاشرے میں چارپائی، پیڑھی، چوکی، مقامی برتن، روایتی لباس، گلی محلے، صحن، مقامی بولیاں اور مخصوص علاقائی طرزِ زندگی کہانی کا قدرتی حصہ ہوا کرتے تھے۔ آج بہت سے شہری ڈراموں میں گھر تقریباً ایک ہی جدید شہری جمالیات کے مطابق دکھائی دیتے ہیں….جدید صوفے، جدید کچن، جدید انٹیریئر، مخصوص لباس اور ایک ایسا متوسط طبقاتی شہری ذوق جسے دیکھ کر لاہور، کراچی، اسلام آباد یا کسی اور شہر کے بیچ فرق بھی دھندلا جاتا ہے۔

یہ صرف جمالیات کا مسئلہ نہیں۔ جب ثقافت کی مخصوص مقامی شکلیں غائب ہوتی ہیں تو ان کے ساتھ وابستگی، مقامی یادداشت اور اپنی زندگی کے طریقوں پر اعتماد بھی کم ہو جاتا ہے۔ نوآبادیاتی منصوبوں نے دنیا کے مختلف حصوں میں مقامی زبانوں، علم اور ثقافتی خودمختاری کو کمزور کیا… بعد میں کارپوریٹ سرمایہ داری اور عالمی میڈیا نے بہت سی جگہوں پر ایک دوسرے سے ملتے جلتے ذوق اور صارفانہ طرزِ زندگی (consumerist lifestyle) کو پھیلایا۔ اسی وسیع تناظر میں چومسکی اور میڈیا کے دوسرے ناقدین کا سوال اہم ہوجاتا ہے کہ ثقافت صرف تفریح ہے یا لوگوں کے شعور اور خواہشات کی تشکیل کا میدان بھی؟

یہ تعلق صرف نظری بات نہیں۔
The Globalization of Corporate Media Hegemony
میں ہندوستان کے حوالے سے کیا گیا مطالعہ دکھاتا ہے کہ معاشی لبرلائزیشن، کارپوریٹ میڈیا اور عالمی اشتہاری منڈی کے پھیلاؤ کے ساتھ میڈیا نے صرف نئے پروگرام اور تفریحی فارمیٹ نہیں دیے بلکہ مخصوص صارفی اقدار (consumerist values)، مغربی جمالیات اور متوسط طبقاتی طرزِ زندگی کو جدید اور desirable بنانے میں بھی کردار ادا کیا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی مغربی چیز لازماً بری ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب کارپوریٹ میڈیا بار بار ایک ہی قسم کے گھر، لباس، خوبصورتی، کامیابی، دولت اور لائف سٹائل کو ’’جدید‘‘ اور قابلِ تقلید بنا کر پیش کرتا ہے تو ذوق بھی ایک تجارتی عمل کا حصہ (marketable) بن جاتا ہے۔ یوں میڈیا صرف یہ نہیں بتاتا کہ ہمیں کیا دیکھنا ہے، بلکہ آہستہ آہستہ یہ بھی تشکیل دیتا ہے کہ ہمیں کیا پسند کرنا چاہیے، کس طرزِ زندگی کو ترقی سمجھنا چاہیے اور اپنی ہی مقامی چیزوں کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے۔

ہندوستان کے مطالعے میں اسی عمل کے نتیجے میں مقامی اور عالمی عناصر کے ایک ہائبرڈ کلچر کی بات کی گئی ہے ۔۔یعنی ثقافت لازماً ختم نہیں ہوتی، مگر اس کے بہت سے لوکل عناصر ایک ایسی کمرشل اَستھیٹکس میں ڈھلنے لگتے ہیں جس میں marketable اور aspirational چیزیں نمایاں ہوتی جاتی ہیں۔ یہی نکتہ ہمارے ڈراموں میں بھی اہم ہوجاتا ہے۔۔۔ اگر جدید شہری گھر، مخصوص فرنیچر، لباس، زبان اور مڈل کلاس لائف سٹائل مسلسل ’’اچھی زندگی‘‘ کی بصری علامت بن جائیں تو سوال صرف اَستھیٹکس کا نہیں رہتا، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری اجتماعی پسند اور ناپسند کو آخر کون تشکیل دے رہا ہے؟

یہیں سے مذہب اور ثقافت کے تعلق کا سوال بھی آتا ہے۔

پاکستان میں ریاستی مذہبی بیانیے نے ایک طرف مقامی ثقافتی تنوع کو ’’اسلامی‘‘ اور ’’غیر اسلامی‘‘ کی درجہ بندیوں کے ذریعے دیکھنے کی کوشش کی، تو دوسری طرف ایک مخصوص قسم کی صوفیانہ زبان بھی مقبول ہوئی۔۔۔۔جس میں قناعت، تقدیر، رضا، بے نیازی، دنیا سے لاتعلقی اور اپنے باطن کی اصلاح پر زور زیادہ ہے، جبکہ سماجی طاقت، طبقاتی ناانصافی اور سیاسی جبر سے ٹکراؤ نسبتاً کم نمایاں ہے۔ ممتاز مفتی، قدرت اللہ شہاب اور اشفاق احمد کے ہاں موجود اس روایت کو میں بیوروکریٹک صوفی ازم کہوں گی۔ مسئلہ تصوف نہیں، بلکہ تصوف کی وہ تعبیر ہے جو اجتماعی سوال کو فرد کے باطن تک محدود کردیتی ہے۔

عمیرہ احمد کے ہاں بھی مذہب اور روحانیت کا یہی زاویہ بار بار سامنے آتا ہے۔ شہرِ ذات، پیرِ کامل، میری ذات ذرۂ بے نشان ، الف اور دوسرے کاموں میں مختلف کہانیاں ضرور ہیں، مگر ان میں فرد کے روحانی سفر، گناہ، توبہ، تقدیر، خدا کی طرف واپسی اور ذاتی اخلاقی تبدیلی کا ایک مستقل ڈھانچہ نظر آتا ہے۔ الف کی باقاعدہ شناخت بھی روحانی/صوفیانہ ڈرامے کے طور پر ہوئی تھی۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔۔۔ اگر ایک عورت چوڑی، جھمکا، مہندی، ٹپہ، لوک گیت، شادی کے اجتماعی رقص یا اپنی مقامی ثقافتی روایت کے ذریعے اپنی کمیونٹی اور جڑوں سے جڑنا چاہے تو کیا اسے لازماً پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ ایک ’’اچھی مسلمان عورت‘‘ بھی ہے؟

اگر ثقافت کو مسلسل گناہ اور ثواب کے پیمانے پر پرکھا جائے تو مقامی ثقافتی شناخت آہستہ آہستہ دفاعی پوزیشن میں چلی جاتی ہے۔ پھر انسان اپنی ثقافت کو زندہ رکھنے کے بجائے اس سے معذرت خواہ ہونے لگتا ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں عمیرہ احمد کے ڈسکورس اور ریاستی مذہبی یکسانیت کے درمیان مماثلت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ عمیرہ احمد ریاستی منصوبے کے تحت لکھتی ہیں یا ان کے ہر ڈرامے کا مقصد یہی ہے۔ ۔۔۔ لیکن ایک مخصوص قسم کی مذہبی اخلاقیات کا بار بار مرکزی مقام حاصل کرنا، جبکہ ثقافتی اور سیاسی پہلو اور مزاحمت پس منظر میں چلی جائے، طاقت کے لیے ایک خاص قسم کی سماجی subjectivity ضرور پیدا کرسکتا ہے

اس کا ایک خوبصورت مثال الف میں دیکھی جاسکتی ہے۔ بطور فلم ہیرو اور ڈائریکٹر حمزہ کے پاس یہ موقع تھا کہ وہ اپنے اردگرد موجود حقیقی طاقت کے سوالات کو دیکھے… طبقاتی جبر، مافیا، استحصال، سیاسی طاقت، محکومی، ادارہ جاتی ناانصافی۔ مرکزی کردار کی زندگی ان سوالات سے ٹکرا کر بھی ایک بڑے سماجی سوال کی طرف جاسکتی تھی۔ مگر کہانی بالآخر بڑی حد تک روحانی بے نیازی، بیگانگی، باطنی تبدیلی، خطاطی اور خدا سے تعلق کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔. یہی چیز کبری خان اور سجل علی کے کرداروں کے بارے میں بھی سچ ہے ۔
یوں مسئلہ ’’نظام کو کیسے بدلا جائے؟‘‘ سے بدل کر ’’انسان اپنے اندر کیسے بدلے؟‘‘ ہوجاتا ہے۔

میری ذات ذرۂ بے نشان میں بھی ایک عورت کے پاس اپنی ایجنسی ثابت کرنے، اپنے حالات سے لڑنے اور سماجی ساختوں کو چیلنج کرنے کے کئی راستے ہوسکتے تھے۔ لیکن کہانی میں اخلاقی مرکز زیادہ تر ذاتی گناہ، ندامت، توبہ اور مذہبی اصلاح کے گرد بنتا ہے۔

یہ فرق معمولی نہیں۔

مذہب کا ایک تصور انسان کو دنیا بدلنے کے لیے کھڑا کرتا ہے۔۔۔دوسرا اسے دنیا سے بے نیاز ہوکر تسبیح ، مصلے، ظاہری رسومات اور اندرونی اصلاح تک محدود کر دیتا ہے ۔۔ اس تصور میں فرد نا انصافی ، محرومی کی سٹرکچرل وجوہات پہچاننے کی بجاۓ احساس گناہ کی شکل اپنی ذات کو ہی مورد الزام ٹھہرانے لگتا ہے۔۔

ہر مذہب کی تاریخ میں ایسے عوامی بیانیے رہے ہیں جنہوں نے طاقتوروں کے تخت الٹنے اور ظلم کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو اخلاقی معنی دیے۔ لیکن جب مذہب کو صرف ذاتی گناہ، ثواب، تسبیح، دم درود، صبر، رضا اور اپنی ذات کی اصلاح تک محدود کردیا جائے تو اس کا اجتماعی اور سیاسی امکان کم ہوجاتا ہے۔

اور یہی وہ جگہ ہے جہاں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مماثلت کا سوال سب سے زیادہ معنی خیز ہوجاتا ہے۔۔۔۔ ایک ایسا فرد جو اپنے ذاتی دکھ کو تقدیر سمجھ کر قبول کرے، طاقت کے ڈھانچے سے سوال نہ کرے، اپنی ثقافتی شناخت پر بھی مذہبی جرم کا بوجھ محسوس کرے اور تبدیلی کو زیادہ تر اپنی ذات کی اصلاح میں تلاش کرے۔۔۔ایسا فرد لازماً کسی سازش کا نتیجہ نہیں، لیکن ایسا سماجی مزاج طاقت کے موجودہ ڈھانچوں کے لیے کم مزاحم ہوسکتا ہے۔

اور یہاں عمیرہ احمد کی مقبولیت اس سوال کو مزید اہم بنا دیتی ہے۔ کیونکہ وہ صرف کہانی نہیں سناتیں۔۔۔۔ وہ کروڑوں لوگوں کے لیے اخلاق، عورت، مذہب، محبت، کامیابی، گناہ اور ’’اچھی زندگی‘‘ کے تصورات کو قابلِ فہم کہانی میں ڈھالتی ہیں۔

اس لیے میری تنقید عمیرہ احمد کی تخلیقی صلاحیت سے انکار نہیں۔ ان کی کہانی کہنے کی قوت، خاص طور پر عورت کی نفسیات اور جذباتی دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت، ان کے اثر کو اور زیادہ طاقتور بناتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ اچھی کہانی کار ہیں یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنی اس غیر معمولی کہانی کاری کے ذریعے ہمیں کس قسم کی دنیا دکھا رہی ہیں۔۔۔اور کون سی دنیا دکھائی ہی نہیں دے رہی؟

شاید اصل تنقیدی سوال یہی ہے:
ہمارے ڈراموں میں مافیا، طبقاتی طاقت، زمین، محنت، ریاست، سرمایہ اور حقیقی اجتماعی مسائل غائب ہوتے جارہے ہیں، مگر جدید گھر، جدید فرنیچر، مخصوص طبقاتی ذوق، مذہبی اور مڈل کلاس اخلاقیات اور ذاتی نجات کے خواب مسلسل موجود ہیں۔

یہ محض اتفاق بھی ہوسکتا ہے، ثقافتی منڈی کی منطق بھی، یا طاقت اور ثقافت کے گہرے تعلق کی علامت بھی۔ لیکن اسے سوال بنانا ہی تنقید کا آغاز ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں