کراچی: کے الیکٹرک کی اجارہ داری,عوام پریشان/ شیر علی انجم

آئین کے آرٹیکل 38 کے مطابق ریاست کی زمہ داری ہے کہ ریاست جنس، ذات، عقیدہ یا نسل کی تفریق کے بغیر عوام کی فلاح یقینی بنائے گی: معیارِ زندگی بلند کر کے، دولت اور پیداوار و تقسیم کے ذرائع کا چند ہاتھوں میں ارتکاز روک کر (جو عام مفاد کے خلاف ہو)، اور آجروں/ملازمین و زمینداروں/کاشتکاروں کے درمیان حقوق کا منصفانہ توازن قائم کر کے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ دستیاب وسائل کے اندر تمام شہریوں کو کام اور مناسب روزگار کی سہولتیں (مناسب آرام و تفریح کے ساتھ) فراہم کرے گی۔پاکستان کی خدمت میں یا دیگر ملازم افراد کے لیے لازمی سماجی انشورنس یا دیگر ذرائع سے سماجی تحفظ فراہم کرے گی۔ ریاست کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ بلا تفریق کے بنیادی ضروریاتِ زندگی (خوراک، لباس، رہائش، تعلیم، طبی امداد) ان شہریوں کو دے گی جو بیماری، معذوری یا بے روزگاری کی وجہ سے عارضی یا مستقل طور پر کمانے سے قاصر ہوں۔لیکن اس وقت پاکستان میں عام آدمی اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہے کہ بلآخر ریاست ہے کون؟ ریاست کا مطلب اگر آئین پاکستان کی رو سے دیکھا جائے تو منتخب عوامی حکومت ہوتا ہے،لیکن منتخب عوامی حکومت کے ساتھ جو کچھ پاکستان میں ہوتا ہے وہ لمحہ فکریہ ہے اور جن کو حکومت کے نام پر اقتدار پر بٹھایا جاتا ہے اور ریاست کی جو تعریف آج کی جارہی ہے یقیناً دنیا کے مہذب اور جمہوری معاشروں اور پاکستان میں جمہوری نظام کا تقابلی جائزہ لیں تو یقیناً پاکستان کا نظام حکومت دنیا کیلئے ایک تماشا ہے۔ جن اداروں کو پاکستان میں ریاست سمجھا جاتا ہے ان اداروں کے ماتحت اداروں اور علاقوں کا جائزہ لیں تو آئین کے آرٹیکل 38 پر مکمل عملدرآمد ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن آئین کے مطابق جس کی ریاست کی تعریف کی گئی ہے وہ چونکہ خود غیر فعال بلکہ مکمل طور جمود کے شکار ہیں اس وجہ سے اس ریاست کے ماتحت تمام ادارے زوال کا شکار نظر آتا ہے۔
اگرچہ صورتحال پورے ملک کی بد سے بدتری طرف رواں دواں ہے، لیکن سیاسی تقاریر اور جلسوں کے ساتھ گودی میڈیا کی نظر میں پاکستان ترقی کر رہا ہے لیکن کسی بھی معاشرے یا ملک میں ترقی کا معیار اس ملک کے عام آدمی نظام زندگی دیکھ کر پرکھا اور جانچا جاتا ہے، مگر پاکستان میں عام آدمی کوئی سوال ہی نہیں الیکٹرانک میڈیا کے پرائم ٹائمز خبروں، ٹاک شوز سے لیکر پرنٹ میڈیا کی ہیڈ لائنز کو دیکھیں تو صرف سیاست اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسلہ نظر آتا ہے۔خیر ہمارا اصل موضوع پاکستان کا معاشی شہر اور غریبوں کی ماں کراچی پر مسلط کے الیکٹرک کی نااہلی کو بیان کرنا ہے۔کراچی کو بجلی سپلائی کرنےوالی کمپنی جس کا اصل نام کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن تھا، اس ادارے میں کرپشن ہوا کرتے تھے، ہر کام پیسوں کے بغیر ممکن نہیں تھے لیکن پھر بھی کراچی روشن رہتا تھا۔ تاریخی طور دیکھا جائے تو کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا قیام 1913 میں عمل میں آیا تھا جب کہ 1952 میں اسے قومیایاکیا گیا تھا۔ 2005 میں جنرل مشرف کی نکاری پالیسی کے تحت اس ادارے کی نجکاری کی بھی گئی اور اس ادارے کا نام تبدیل کرکے کے الیکٹرک کردیا۔ یقینا اس ادارے کی نجکاری کا بنیادی مقصد ادارے کو خسارے سے نکالنا اور کراچی کے شہریوں اور اس شہر کی صنعتوں بجلی کی ترسیلات کو مزید بہتر بنانا تھا لیکن صورت حال الٹا ہوگیا اور اس کمپنی نے کراچی کو روشنیوں کی شہر سے اندھیر نگری میں تبدیل کردیا۔ صنعتیں بند ہوگئی روزگار کے مواقع کم ہوئے لیکن اس کمپنی کو ٹس سے مس نہیں نہ ہوا اور نہ ہی اس کمپنی سے کسی حکومت اور سرکاری ادارے نے آج تک عملی طور پر جواب طلب کی۔کراچی کی قومی اثاثے کی نجکاری پر بھی اگر چہ مختلف کاروباری حلقوں اور صحافیوں کی جانب سے مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں لیکن سوال یہ نہیں کہ اس اہم قومی اثاثے کو اونے پونے کا خریدار کون تھا بلکہ مدعہ یہ ہے کہ اسنجکاری سے کراچی کی ترجمانی بلند بانگ دعویٰ کرنے والی جماعت کے اراکین صوبائی اور قومی اسمبلی نے کتنا فائدہ اٹھایا۔ بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ جس جماعت نے نجکاری کیلئے سہولت کاری کرکے ذاتی مفادات حاصل کئے آج اسی جماعت کے لوگ مگر مچھ کے آنسو بہاتے نظر آتا ہے۔
کراچی تقریباً ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں 20 فی صد، ٹیکس ریونیو میں تقریبا 45 فی صد حصہ ادا کرتا ہے جب کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں سے وابستہ 70 فی صد کے لگ بھگ ملازمین اسی شہر میں کام کر رہے ہیں۔ نجکاری سے پہلے لوڈ شیڈنگ سے کراچی والے ناواقف تھے۔ لیکن بدقسمتی سے آج کراچی کے ذیادہ تر علاقوں اور انڈسٹریل ایریا میں بارہ گھنٹوں سے ذیادہ لوڈشیڈینگ ہوتے ہیں لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔حالانکہ گزشتہ دنوں وزیر اعظم شہباز شریف باقاعدہ طور پر کہا کہ پورے میں لوڈشیڈینگ کو دورانیہ دو گھنٹوں سے ذیادہ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کراچی میں کے الیکٹرک کی اپنی الگ حکومت ہے جو وزیر اعظم کے احکامات ماننے کے پابند نہیں۔
کہا یہ جاتا ہے کراچی می بجلی لوڈشیڈنگ کی بنیادی وجہ بجلی کی چوری ہے اور یقینا ایسا ہی ہے ضلع ملیر کراچی کا سب سے بڑا ضلع ہے اس ضلع نوے فیصد لوگ پاکستان پیپلزپارٹی کے ووٹر ہیں اس ضلع سے قومی اسمبلی کیلئے عبدالحکیم بلوچ اور صوبائی اسمبلی کیلئے ناصر بلوچ مسلسل جیتتے رہے ہیں۔ اگر صرف ضلع ملیر کی بات کریں تو یہاں اسی فیصد لوگ بجلی چور کرکے استعمال کرتے ہیں لیکن آج تک ہم نے نہیں دیکھا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے چوری کی روک تھام کیلئے کسی بھی قسم کی کاروائی کی ہو۔ راقم نے ذاتی طور تین بار باقاعدہ علاقوں کی نشاندہی کرکے کے الیکٹرک کے شکایتی سیل میں شکایت درج کی لیکن کوئی سنوائی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے وہ لوگ جو باقاعدہ کی بلوں کی ادائیگی کرتے ہیں وہ بھی شدید متاثر ہورہا ہے۔ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حالانکہ اس ادارے کی ذمہ داری ہونا چاہئے کہ جہاں بجلی چور ہوتا ہو وہاں متعلقہ تھانے کی مدد لیکر کاروائی کریں اور بجلی چوری کرنے والوں پر بھاری جرمانہ عائد کرکے باقاعدہ ایف آئی آر درج کریں، لیکن بات وہی ہے جہاں سیاسی اثر رسوخ ہو وہاں بجلی چوری کرنا بھی نظام کا حصہ ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ ضلع ملیر غازی ٹاون، میمن گوٹھ سعود آباد جیسے علاقوں کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہاں انسان نہیں رہتے، ان علاقوں میں پانی کی قلت، صفائی کا نظام، گلیوں کی صورتحال، منشیات کے عادی لوگوں کی ملیر ایک طرح سے اماجگاہ بن گیا ہے۔کیونکہ جس عوامی نمائندے کو یہاں کے لوگ ووٹ دیتے ہیں اُن کیلئے عوام کوئی مسلہ ہی نہیں جو کہ پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
لہذا ضرورت اس امر کراچی میں کے الیکٹرک کی آمریت اور من مانی کے خلاف ایکشن لیا جائے اور انکو باورا کرایا جائے کہ بجلی دینا انکا کام اور عوام کو حق ہے اور بجلی چوروں کے خلاف تادیبی کاروائی اس ادارے کی اولیکن ذمہ داری ہے۔ لہذا کراچی میں لوڈشیدنگ کی بنیادی وجہ اس ادارے کی نااہلی ہے جو دراصل سیاسی اثر رسوخ کی بنیاد پر بجلی چوروں کے خلاف ایکشن نہیں لیتے جس کا خمیازہ اُن لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے جو باقاعدہ سے بلوں کی ادائیگی کرتے ہیں۔ لہذا کراچی کو اس ادارے کی آمریت سے آذادی دلانا ہوگا کیونکہ اس ادارے کا مشن بجلی دینا نہیں بلکہ صرف پیسہ بنانا لگتا ہے۔
شیر علی انجم

اپنا تبصرہ لکھیں