برخوردار ہو یا دختر، اپنا گھر ہو یا دفتر، اسے کھلی کھڑکی سے باہر کا نظارہ دیکھنے کاموقع نہ ملے تو اکتاہٹ، کام کی تھکن اور ذہنی کوفت اعصاب پر سوار ہو جاتی ہے۔ کھڑکی سے باہر کامنظر ذیادہ خوبصورت نہ بھی ہو تب بھی کھڑکی کے قریب کھڑے ہو کرتازہ ہوا میں لیا ہوا ایک سانس سکون اور تازگی سے ہمکنار کرتا ہے۔ مکان اور دفتر یہاں ہو یا ایشیا، افریقہ، یورپ اور عرب میں، سب جگہ ان میں قدرمشترک کھڑکی ہوتی ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ کہیں کھڑکیاں چھوٹی ہوتی ہیں اور کہیں بڑی۔ کہیں مستقل کھلی رہتی ہیں اور کہیں موسموں کے ساتھ کبھی کھلی اور کبھی بند رہتی ہیں۔ کھڑکیاں نہ ہوں تو ہوا کا جھونکا اندر آنے کا راستہ نہ ملنے پر دروازے پر دستک دیے کر لوٹ جانے والے اجنبی کی طرح واپس چلا جاتا ہے۔ باہر کی تازہ ہوا اندر نہ آئے تو گھٹن کا احساس نا صرف مزاج پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ دم گھٹتے ماحول میں دل بھی گھٹنے لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بن ہوا کی فضا گھات لگاۓ صحت پر حملہ آور ہونے پر تیار رہتی ہے۔ پہلے زمانے میں عاشق مزاج نوجوان مانگ پٹی کئے کھڑکی پہ کھڑے ہو کر گھنٹوں سامنے والی کھڑکی میں کسی چاند نما چہرے کو تکتے رہتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا، کیونکہ اب ” بوھے باریاں نالے کنداں ٹپ کے” کا زمانہ آ گیا ہے، لیکن کنداں ٹاپنے والےگرفتار ہوجائیں تو وہاں سے سیدھا انہیں ایسے زندان خانے میں پہنچا دیتا ہے جہاں کوئی کھڑکی نہیں ہوتی۔
رہائشی عمارتوں یا دفاتر کی طرح انسانی دماغ میں بھی بہت سی کھڑکیاں موجود ہوتی ہیں۔ مگر ہم لاعلمی یا نادانی میں اکثر انہیں بند رکھتے ہیں۔ دماغ کی ایک کھڑکی غور و فکر، سوچ بچار، عقل و فہم اور فراست سے متعلق ہوتی ہے۔ اس کھڑکی میں قدرتی طور پر خورد بین یا دور بین سے دیکھنے کے آلات نصب ہوتے ہیں۔ اب یہ انسان پرمنحصر ہے کہ وہ کون سا آلہ بصر دیکھنے کے لئے کس زاوئیے سے انہیں استعمال کرتا ہے۔ نگاہ شوق جتنی دور تک جاتی ہے۔ اتنی ہی روشنی منعکس ہو کر دماغ کو روشن اور ان دیکھی چیزوں سے روشناس کراتی ہے۔ کھوج لگانے کی جستجو اور تحقیق کا ذوق ہو تو خواہش ذہن کی کھڑکی کے راستے باہر جاتی ہے اور پھر طلب کے اثاثے لیکر واپس لوٹتی ہے۔ کسی بھی چیز کے اچھے یا برے ہونے کی پہچان ہمیں عقل کی یہی کھڑکیاں دیتی ہیں۔ عقل کی کھڑکھیوں سے در آنے والی ہواؤں کے خوشگوار جھونکوں کے طفیل ہماری بصیرت کی مہک چار سو پھیلتی ہے۔
کھڑکیاں وا ہوں توہماری دانش کے لوء لوء اور مرجان جیسے جواھر کے حصول کو سہل بناتی ہیں اور ہمیں علم و آگہی سے روشناس کرتی ہیں۔ مگر ہم میں سے بیشتر لوگ نہ تو علم و آگہی سے شناسا ہوتے ہیں، اور نہ ہی دماغ کی کھڑکی کو کھلی رکھتے ہیں۔ اس کا نتیجہ ہمیں کم عقلی، بیوقوفی اور نقصان کی صورت میں بھگتنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں علم کے چرغوں کی روشنی مدھم ہوتی ہے، وہاں ہم بھی لوگوں کے مقابلے میں فکر اور سوچ کے معاملے میں تہی دامن رہ جاتے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ جہاں لوگوں میں غور و خوض اور عقل و فہم کا فقدان ہو وہاں کے لوگ حکومت کو سلیقے اور طریقے سے چلانے کے قابل نہیں ہوتے۔ اس وجہ سے ہمارے معاشی مسائل حل ہونے کے لئے درکار قابلیت و لیاقت کا فقدان ہوتا ہے۔ ہم زراعت اور صنعتی ترقی میں بہتر منصوبہ بندی نہ ہونے اور دیگر عوامل کے باعث دوسری اقوام سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کوتاہی کے باعث ہماری سیاست مفاد پرستی کے تابع، سوجھ بوجھ سے عاری، اور حرص و طمع کی شکار ہونے کی وجہ سے عوام کو فائدہ پہنچانے سے قاصر رہتی ہے۔ ہمارے وکلاء، چند مستثنیات کو چھوڑ کر عام طور پر فہم و فراست اور مہارت کی کمی اور قانون کی موشگافیوں سے عدم آگاہی کی وجہ سے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پاتے۔ بلکہ اکثرعدالتوں میں سوال و جواب کے دوران ان کی فہمائش بھی ہوتی ہے۔ خود عدلیہ میں بھی متوقع قابلیت کی کمی کی وجہ سے اور قانون پر سرسری غور و فکر کی علاوہ دیگر غیر متعلقہ عوامل کو مد نظر رکھ کر دیئے ہوئے فیصلے متنازعہ اور نا قابل قبول بن جاتے ہیں۔ چنانچہ عدالتی نظام کی کمزوری اور جانب داری پر تنقید ہوتی ہے۔ معاشرے میں ناگواریت اورانصاف سے محرومی کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ اخلاقیات، رواداری اور حسن کلام کی خوبصورتی کہیں نظر نہیں اتی۔
ہمارے معاشرے کی گاڑی جو بے سمت چلی جا رہی ہے اس کا ایندھن بھی ختم ہوتا جارہا۔ ہے ہماری کم عقلی، بے حسی، لاپروائی اور مفاد پرستی اورہمارے معاشرے میں جتنی بھی خرابیاں ہیں ان کا سبب ہمارے ادراک کی یہی بند کھڑکیاں ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ہم ہوس اور دولت کی طمع میں بھی اندھے ہو چکے ہیں۔ ہمیں مال و دولت اور فقط جلب زر کی خواہش کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ جرائم ہو رہے ہوں تو ہوتے رہیں، اشیاء خورد و نوش میں ملاوٹ ہو رہی ہے تو ہوتی رہے، کوئی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کر رہا ہے تو کرتا رہے ، جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے تو کوئی بات نہیں، صحت کے مسائل موجود ہیں تو کیا فرق پڑتا ہے، کم ناپ تول اور ناجائز منافع خوری مقصد حیات بن چکا ہو تو پرواہ نہیں۔۔۔ نوجوان نسل، سوشل میڈیا پر غلط کو صحیح اور صحیح کو غلط بنا کر پیش کرکے اپنی عقل کو نقل پہ پر مامور کر دیں تو کرتے رہیں، تو پھر ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ کوئی ڈھنگ، کوئی راست عمل، کوئی نیکی اور خیر کی کسی بات کی قابل رشک جھلک ہمارے کردار میں نظر آئے۔ سواۓ اس کے کہ انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھتے رہیں اور آنسو بہاتے رہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر ان تمام غفلتوں اور اصلاحی عمل سے لاتعلقی کا علاج کیا ہے۔ ہم خود اپنی گراوٹ اور تنزلی سی پیچھا کیوں نہیں چھڑا رہے؟ تو اس کا حل یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھی زندگی گزارنے کا لائحہ عمل موجود ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی عطا کردہ کتاب قرآن پاک ہے جو مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسے کھولیں، پڑھیں اور اس میں موجود احکامات پر غور و فکر اور عمل کریں، اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ اگر ہم نے یہ راستہ اپنا لیا تو یقین کریں دماغ کے بند سب دریچے کھلتے چلے جائیں گے۔ فہم و فراست کی سب بتیاں روشن ہو جائیں گی۔ ان شاء اللہ۔


