تعلیمی بورڈ یا ریونیو بورڈ؟- مصور خان

پاکستان میں تعلیم پہلے ہی بے شمار مسائل کا شکار ہے، مگر امتحانی نظام سے متعلق حالیہ صورتحال ایک الگ اور سنجیدہ سوال اٹھاتی ہے: کیا ہمارے تعلیمی بورڈز کا اصل مقصد طلبہ کی قابلیت کو منصفانہ انداز میں جانچنا ہے یا ایسا نظام بن چکا ہے جس میں طالب علم ہر مرحلے پر فیس ادا کرتا رہے؟
پشاور بورڈ کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو گیارہویں جماعت میں 63,605 طلبہ نے امتحان دیا، جن میں 32,436 فیل ہوئے، جبکہ بارہویں جماعت میں 66,735 طلبہ امتحان میں شریک ہوئے اور 31,632 فیل ہوئے۔ یوں دونوں جماعتوں میں مجموعی طور پر 130,340 طلبہ امتحان میں شریک ہوئے اور دیے گئے اعداد کے مطابق 64,068 طلبہ فیل ہوئے۔ یعنی تقریباً نصف طلبہ کے فیل ہونے کا دعویٰ سامنے آتا ہے۔
یہاں سب سے پہلا سوال فیل ہونے والے بچوں کے بارے میں ہے۔ اگر اتنی بڑی تعداد میں طلبہ امتحان میں ناکام ہو رہی ہے تو ہمیں صرف یہ نہیں کہنا چاہیے کہ بچے پڑھتے نہیں تھے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ تدریس کا معیار کیا تھا، کالجوں میں پڑھائی کا ماحول کیسا تھا، امتحانی پرچے کس معیار کے تھے، مارکنگ کا طریقہ کیا تھا اور کیا پورے عمل میں طلبہ کو یکساں اور منصفانہ مواقع ملے؟
کیونکہ کسی بھی امتحانی نظام کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جانی چاہیے کہ کتنے بچے فیل ہوئے، بلکہ اس بات سے بھی ناپی جانی چاہیے کہ ناکامی کی وجوہات کیا ہیں اور انہیں کم کرنے کے لیے ادارے نے کیا کیا؟
اگر 64,068 طلبہ واقعی فیل ہوئے ہیں تو یہ صرف 64 ہزار بچوں کا مسئلہ نہیں۔ یہ 64 ہزار خاندانوں کی پریشانی ہے۔ کسی گھر میں والد مزدور ہوگا، کسی کا چھوٹا کاروبار ہوگا، کسی کے پاس پہلے ہی محدود آمدن ہوگی۔ ایک طالب علم کے فیل ہونے کا مطلب صرف ایک نتیجہ نہیں بلکہ اضافی فیس، دوبارہ تیاری، وقت کا ضیاع اور بعض اوقات تعلیم چھوڑنے کا خطرہ بھی ہے۔
اب فرض کریں کہ ہر فیل طالب علم کو دوبارہ امتحان دینے کے لیے 6,000 روپے ادا کرنے پڑیں۔ 64,068 کو 6,000 سے ضرب دیں تو رقم 384,408,000 روپے بنتی ہے، یعنی 38 کروڑ 44 لاکھ 8 ہزار روپے۔ یہ صرف ایک مفروضاتی حساب ہے، لیکن یہ حساب ایک سوال ضرور پیدا کرتا ہے کہ جب ناکام ہونے والے طلبہ کی تعداد اتنی زیادہ ہو تو امتحانی نظام کی کمزوریوں پر کتنی سنجیدگی سے غور کیا جاتا ہے؟
مسئلہ صرف فیل ہونے والے طلبہ تک محدود نہیں۔ پاس ہونے والے طلبہ کے نمبروں کا معاملہ بھی اہم ہے۔ اگر کوئی طالب علم پاس تو ہوجاتا ہے لیکن اسے اپنی محنت اور قابلیت کے مطابق نمبر نہیں ملتے تو وہ بہتر نمبروں کے لیے دوبارہ امتحان دینے پر مجبور ہو سکتا ہے۔ نمبر بعض اوقات یونیورسٹی داخلے، اسکالرشپ اور مستقبل کے مواقع پر اثر انداز ہوتے ہیں، اس لیے مارکنگ کی شفافیت معمولی معاملہ نہیں۔
گیارہویں جماعت کے اعداد کے مطابق 63,605 میں سے 32,436 فیل ہوئے، یعنی 31,169 طلبہ پاس ہوئے۔ اگر محض ایک مفروضے کے طور پر ان پاس طلبہ میں سے 95 فیصد نمبر بہتر کرنے کے لیے دوبارہ امتحان دیں اوراگر ہر طالب علم سے 4,000 روپے فیس لی جائے تو رقم تقریباً 11 کروڑ 84 لاکھ 44 ہزار روپے بنتی ہے۔ یہ بھی صرف تخمینہ ہے جوکہ میری ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہا ہے
یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے: ایک طالب علم کو اس کے پہلے امتحان میں ہی اس کی حقیقی قابلیت کے مطابق نمبر ملنے چاہئیں۔ Improvement کا موقع یقیناً ہونا چاہیے، مگر اگر کوئی طالب علم صرف اس لیے دوبارہ امتحان دینے پر مجبور ہو کہ پہلی مرتبہ اسے اپنی محنت کے مطابق نمبر نہیں ملے تو یہ امتحانی نظام کے لیے سوال ہے۔
میں خود ایک ایسے تجربے کا گواہ ہوں جس نے میرے ذہن میں مارکنگ کے نظام کے بارے میں سنجیدہ سوال پیدا کیا۔ ہمارے امتحان کے دوران ایک استاد نے یہ دعویٰ کیا کہ پرچے بنانے اور چیک کرنے کا کام وہ کرتا ہے اور اگر اچھے نمبر چاہیے ہوں تو 50 ہزار روپے سے زیادہ ادا کرنے ہوں گے۔ ہم نے رقم دینے سے انکار کیا۔ باتوں باتوں میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ کسی کو 70 سے زیادہ نمبر نہیں دیتے اور عموماً 50 سے 70 کے درمیان نمبر دیتے ہیں۔
نتائج آنے کے بعد ہمارے نمبر بھی 70 سے کم رہے۔ میں اس ذاتی واقعے کو کسی فرد کے خلاف حتمی جرم ثابت کرنے کے طور پر پیش نہیں کر رہا، لیکن اگر کسی استاد نے واقعی ایسا مطالبہ کیا تھا تو ایسے معاملے کی آزادانہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ کیونکہ امتحانی نظام میں بدعنوانی کا ایک معمولی سا شبہ بھی ہزاروں طلبہ کے اعتماد کو متاثر کرسکتا ہے۔
اسی طرح نتائج کے بعد بھی طالب علم کے لیے مختلف فیسیں موجود ہیں۔ 2026 کے شیڈول کے مطابق Re-totaling کی فیس 1,500 روپے فی پرچہ، UFM/Cancelled Appeal کی فیس 2,000 روپے، Grace Marks کی فیس 600 روپے اور Show of Paper کی فیس 1,000 روپے فی پرچہ ہے۔ Show of Paper کے لیے پہلے Re-totaling فارم جمع کرنا بھی ضروری ہے۔
یہاں بھی سوال یہ نہیں کہ ہر فیس لازماً غیر قانونی یا غلط ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک غریب طالب علم کے لیے اپنے نتیجے پر سوال اٹھانا مالی طور پر آسان ہے؟ اگر طالب علم کو لگتا ہے کہ اس کے نمبر درست نہیں، تو اسے اپنے حق کی جانچ کے لیے کئی مراحل اور مختلف فیسوں سے گزرنا پڑتا ہے۔
پسماندہ پختونخوا میں یہ مسئلہ مزید اہم ہوجاتا ہے۔ یہاں بہت سے خاندانوں کے لیے چند ہزار روپے بھی معمولی رقم نہیں۔ ایک طالب علم کی کالج فیس، کتابیں، سفری اخراجات، امتحانی فیس، دوبارہ امتحان، Re-totaling یا Show of Paper—یہ سب مل کر والدین پر ایسا بوجھ ڈال سکتے ہیں جو بعض خاندان برداشت ہی نہ کر سکیں۔
اسی لیے تعلیمی بورڈز سے یہ مطالبہ ہونا چاہیے کہ وہ صرف فیسوں کے نظام میں نہیں بلکہ شفافیت کے نظام میں بھی اضافہ کریں۔ ہر طالب علم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کا پرچہ کس معیار کے تحت چیک ہوا، مارکنگ میں کیا اصول استعمال ہوئے، شکایت کی صورت میں آزادانہ جانچ کیسے ہوگی اور اگر کسی استاد یا اہلکار کے خلاف مالی بدعنوانی کی شکایت آئے تو اس کی تحقیقات کون کرے گا۔
اگر ایک طرف ہزاروں طلبہ فیل ہو رہے ہوں، دوسری طرف پاس طلبہ کے نمبروں پر سوالات اٹھ رہے ہوں، اور نتائج کے بعد Re-totaling، Show of Paper، Improvement اور دیگر مراحل میں مختلف فیسیں ادا کرنا پڑیں، تو عوام کا سوال اٹھانا فطری ہے۔
تعلیمی بورڈز کا مقصد طلبہ کو ناکام کرکے فیسیں وصول کرنا نہیں بلکہ انہیں منصفانہ امتحان دینا اور ان کی قابلیت کا درست فیصلہ کرنا ہونا چاہیے۔
پشاور بورڈ ہو یا ملک کا کوئی دوسرا تعلیمی بورڈ، اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ تعلیمی بورڈ ہے، محض ریونیو اکٹھا کرنے کا ادارہ نہیں۔
کیونکہ طالب علم کوئی فیس نمبر نہیں، وہ ایک خاندان کی امید اور ملک کا مستقبل ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں