سندھ کی سیاسی تبدیلی میں بہت سے لوگوں نے اہم کردار ادا کیا، لیکن نچلی سطح پر نظریاتی سیاست کرنے والے کارکنوں کی تاریخ زیادہ تر نظرانداز ہوتی رہی ہے۔ سندھ میں عوامی تاریخ کو مرتب اور محفوظ کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ ادارہ بھی موجود نہیں، اسی لیے عوامی تحریکوں اور ان سے وابستہ کرداروں کی تاریخ زیادہ تر ذاتی کوششوں کے ذریعے ہی محفوظ ہوئی ہے۔پاکستان کے قیام کے بعد 1951ء میں راولپنڈی سازش کیس کو بنیاد بنا کر ترقی پسند سیاست اور اس سے منسلک اداروں پر جو پابندی عائد ہوئی، جس کی وجہ سے ترقی پسند سیاست کی تنظیمی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچا۔ 1980ء کی دہائی میں سیاسی ماحول تبدیل ہوا تو نوجوانوں نے ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (DSF) کو دوبارہ منظم کیا۔ اسی دور میں پابندی کا شکار کمیونسٹ پارٹی نے بچوں کی سیاسی تربیت کے لیے ’’ساتھی نونہال سنگت‘‘ کے نام سے تنظیم قائم کی، جس کے یونٹ سندھ کے مختلف شہروں میں قائم کیے گئے۔ انہی نوجوانوں میں ضلع نواب شاہ کے شہر دوڑ کا نوجوان عبداش پنہور بھی شامل تھا۔
عبداش پنہور سیاسی شعور ایم آر ڈی (تحریک بحالیٔ جمہوریت) کی تحریک سے پہلے ہی حاصل کرچکا تھا، لیکن اس کی سیاسی تربیت میں جمہوریت کی بحالی کے لیے چلنے والی ایم آر ڈی تحریک کا کردار بہت اہم تھا۔ یہ تحریک اس کے سیاسی سفر میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔علی حسن چانڈیو، جو ڈی ایس ایف کے چیئرمین رہ چکے تھے، ان کی قربت عبداش کو کمیونسٹ پارٹی کے بچوں کے فرنٹ ’’ساتھی نونہال سنگت‘‘ کے قریب لے آئی۔ عبداش نے پورا سندھ گھوما۔ اس نے مزدوروں، کسانوں، دہکانوں، محنت کشوں اور مظلوموں کے دکھوں کو سکھ میں بدلنے کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ جنرل ضیاء الحق کی آمریت کے دور میں جب کمیونسٹ پارٹی پر پابندی عائد تھی، اس کے مختلف محاذ بھی اپنی طاقت کے مطابق سیاسی جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
عبداش کا اصل نام عبدالرحمان تھا، لیکن وہ انقلابی شخصیات کے ناموں سے متاثر تھا۔ اس نے اپنے لیے ’’عبداش‘‘ نے فلسطینی انقلابی رہنما جارج حباش کے نام سے متاثر ہو کراپنا نام اختیار کیا۔عبداش کی پیدائش 1972ء کے لگ بھگ ضلع نواب شاہ کے قریب ایک محنت کش، یار محمد پنہور، کے گھر ہوئی۔ اس نے ابتدائی تعلیم مین پرائمری اسکول، دوڑ، سے حاصل کی، جہاں سے 1981ء میں پانچویں جماعت پاس کی۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی اسکول، دوڑ، میں داخلہ لیا اور تقریباً 1986ء میں دسویں جماعت پاس کی۔جب وہ کالج کی تعلیم حاصل کرنے کے قابل ہوا تو اس وقت دوڑ میں کوئی کالج موجود نہیں تھا، چنانچہ اسے نواب شاہ جا کر کالج کی تعلیم حاصل کرنا پڑی۔ 1992ء کے لگ بھگ وہ سندھ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے پہنچا، جہاں دورانِ تعلیم اس نے صحافت کا آغاز کیا۔2020ء کے لگ بھگ جب دوڑ میں گورنمنٹ کالج کا آغاز ہوا تو عبداش کو بہت خوشی ہوئی۔ وہ اپنے آبائی شہر دوڑ میں قائم ہونے والے اس کالج کو دیکھنے گیا، کالج کے پرنسپل خادم حسین کورائی سے ملاقات کی اور لائبریری کے لیے کتابیں بھی عطیہ کیں۔
عبداش نے 1985ء کے لگ بھگ دوڑ میں ’’ساتھی نونہال سنگت‘‘ کی بنیاد رکھی اور دوڑ کا بانی صدر بنا۔ 1986ء میں ساتھی نونہال سنگت کے سندھ کے مرکزی کنونشن میں اسے مرکزی صدر منتخب کیا گیا۔ وہ ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کا جوائنٹ سیکریٹری بھی رہا۔1989ء میں ساتھی نونہال سنگت کے دوڑ کنونشن میں عبداش کو جنرل سیکریٹری، جبکہ خورشید مستوئی کو مرکزی صدر منتخب کیا گیا۔ 1989ء کے لگ بھگ دوڑ میں ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کی جانب سے شہید نذیر عباسی کی برسی منائی گئی۔ یہ پروگرام دوڑ کے دھوبی گراؤنڈ میں منعقد ہوا تھا، جس میں کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری کامریڈ جام ساقی خصوصی مہمان کے طور پر شریک ہوئے۔ تقریب میں رشید احمد شاہ ایڈووکیٹ، ساتھی نونہال سنگت، ہاری کمیٹی اور دیگر محاذوں کے رہنما بھی شریک تھے۔ مورو سے میں اور علی نواز سولنگی بھی اس پروگرام میں شریک ہوئے تھے۔
پروگرام رات گئے تک جاری رہا۔ عبداش نے جلسے کی کارروائی چلائی، جبکہ ڈی ایس ایف کے مرکزی چیئرمین خادم تھہیم نے صدارت کی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ ڈی ایس ایف کے کسی پروگرام میں ڈی ایس ایف کے چیئرمین نے آخر میں خطاب کیا۔ عام طور پر صدارت کرنے والے مقرر کو ابتدا میں خطاب کروایا جاتا تھا اور آخری تقریر کامریڈ جام ساقی کی ہوتی تھی۔عبداش نے اس روایت کو توڑا اور اصولی طور پر تنظیم کے صدر سے آخری خطاب کروایا۔ یوں خادم تھہیم نے آخر میں تقریر کی۔ عبداش اپنے اس عمل کو ہمیشہ فخر سے بیان کرتا تھا۔ اس کے اس انداز سے مجھے بھی خوشی ہوتی تھی۔جب کامریڈ جام ساقی نے دسمبر 1991ء میں سندھ کی آخری سرحد، ریتی (اوباڑو)، سے کراچی تک لانگ مارچ کیا تو عبداش بھی اس سفر میں ان کے ساتھ تھا۔ راستے میں ہونے والے جلسوں میں اکثر میزبانی کی ذمہ داری عبداش ادا کرتا تھا۔ مورو شہر میں ہم نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا۔ یہ یادیں آج بھی ذہن کی اسکرین پر اسی طرح محفوظ ہیں۔1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد کمیونسٹ پارٹی اپنا اثر برقرار نہ رکھ سکی اور اس کے بیشتر محاذغیرمتحرک ہوگئے۔
عبداش سے میری پہلی ملاقات میرے شہر مورو میں ساتھی نونہال سنگت کی ایک میٹنگ میں ہوئی۔ اس وقت ضلع نواب شاہ تھا۔ ساتھی نونہال سنگت کا انچارج سجاد مہدی تھا، جو اپنی پوسٹنگ کی وجہ سے مورو میں رہتے تھے۔ وہ ہر جمعے کو میرے والد کے کلینک پر آتے اور ہمارے ساتھ دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔یہ سیاست کے وہ دن تھے جب ہم کھیل کود کے بجائے اپنے بچپن کے دن انقلاب کے خوابوں اور ان کی تعبیر کے لیے جدوجہد میں گزارتے تھے۔ مورو میں ساتھی نونہال سنگت کے متحرک ساتھیوں میں الابخش راٹھوڑ، کوثر شاہ، غلام نبی بہرانی، علی نواز سولنگی اور امداد سولنگی شامل تھے۔عبداش اور شیخ مہدی کی ایک خاص جوڑی تھی۔ شیخ مہدی ڈی ایس ایف کے سرگرم رہنما تھے۔ دونوں اکثر ایک ساتھ سندھ کا دورہ کرتے تھے اور مورو بھی اکٹھے آتے تھے۔ لیکن جیسے ہی عبداش نے کراچی کو اپنا مسکن بنایا، پھر ان محفلوں کا سلسلہ بھی بند ہوگیا۔ شیخ مہدی بعد میں خیرپور چلا گیا، جہاں اس نے تہذیب بک اسٹال قائم کیا۔ دونوں کا مورو آنا بھی تقریباً بند ہوگیا۔
عبداش سے دوبارہ رابطہ 2002ء کے لگ بھگ کراچی میں ہوا۔ کراچی آنے کے بعد اس نے سندھی روزنامہ ’’ہلچل‘‘ کو اپنی سیاسی اور صحافتی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا تھا۔ بعد ازاں عبداش نے کراچی سے ’’ہلچل‘‘ کے حیدرآباد دفتر کی ذمہ داری سنبھال لی۔ اس نے زندگی کے کئی سال حیدرآباد اور جامشورو میں گزارے۔2025ء میں معلوم ہوا کہ عبداش دوبارہ کراچی واپس آگئے ہیں۔ ’’ہلچل‘‘ کے کراچی دفتر میں ان کے ساتھ ایک بھرپور بیٹھک ہوئی۔ اسی دوران ہمارے پرانے ساتھی شفقت بھیلار کا فون آیا۔ عبداش نے اسے میرے بارے میں بتایا اور شفقت کے بیٹے کی وفات پر اس سے تعزیت بھی کی۔عبداش ’’ہلچل‘‘ اخبار کے سربراہ یونس مہر کو باقی اخبارات کے مالکان کی نسبت بہتر سمجھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عبداش زندگی کی آخری گھڑیوں تک اسی اخبار کے ساتھ جڑے رہے۔عبداش جب بیماری کے ایام کے دوران اسپتال میں داخل تھے تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔ اس وقت بھی وہ بے حد پرجوش تھے۔ اس گفتگو میں ان کا چھوٹا بھائی خادم بھی موجود تھا۔ عبداش بار بار فتح اور کامیابی کے انقلابی نشان بنا رہے تھے۔ ڈاکٹروں نے انہیں بولنے سے منع کر رکھا تھا، اس لیے وہ زیادہ تر اشاروں اور قلم سے لکھ کر بات کرتے تھے۔ اس کیفیت نے مجھے بہت اداس کر دیا تھا۔اسپتال میں عبداش سے میری تین ملاقاتیں ہوئیں۔ ان ملاقاتوں میں کامریڈ ناصر منصور اور گل محمد منگی بھی میرے ساتھ تھے۔ ہم انہیں حوصلہ اور امید دیتے رہے۔ اس حالت میں بھی عبداش پورے معاشرے کی آزادی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ انہیں پختہ یقین تھا کہ اگر وہ خود نہیں تو کوئی اور انقلابی ضرور ہمارے خواب کی تعبیر کرے گا۔
عبداش کی زندگی کا ایک اہم پہلو صحافت بھی ہے۔ اس کے نزدیک صحافت محض خبریں شائع کرنے کا نام نہیں تھی، بلکہ سماج کے ان سوالات کو سامنے لانا بھی صحافت کا فرض تھا جنہیں عام طور پر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ ترقی پسند صحافت کی روایت کے مطابق مزدور، کسان، طالب علم، عورت، مظلوم اور پسے ہوئے طبقات اس کی صحافتی سوچ کے مرکز میں رہے۔وہ صحافت کے مختلف شعبوں اور اس کے اصولوں سے واقف تھے۔ پیسوں کے عوض کسی کو ہیرو بنانا یا کسی کو بلیک میل کرنا اس کی صحافت کا حصہ نہیں تھا۔ اس کی صحافت میں سیاسی سوالات کے ساتھ عام لوگوں کے مسائل کو بھی اہمیت حاصل تھی۔ اختلاف، سوال اور تنقید کو وہ سیاسی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتا تھا۔ اسی لیے اس کا صحافتی کردار بے باک تھا اور وہ مظلوموں کی آواز بلند کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہا۔
عبداش پنہور کی سیاسی زندگی ہمیں یہ بتاتی ہے کہ تاریخ صرف آقاؤں، بادشاہوں اور حکمرانوں کی نہیں ہوتی۔ تحریکوں کے پیچھے ایسے بے شمار لوگ بھی ہوتے ہیں جو تنظیمیں بناتے ہیں، معاشرے کو جوڑتے ہیں، نوجوانوں سے بحث کرتے ہیں، انہیں حوصلہ دیتے ہیں، نظریاتی گفتگو کرتے ہیں اور برسوں تک بغیر کسی شہرت اور لالچ کے اپنا کردار ادا کرتے رہتے ہیں۔عبداش انہی کارکنوں کی نمائندگی کرتا ہے جن کی محنت سیاسی تحریکوں کو اندرونی طاقت فراہم کرتی ہے۔ سندھ کی سیاسی تاریخ میں ایسے کرداروں کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ عوامی تحریکوں کی تاریخ اکثر سرکاری دستاویزات یا معروف سیاسی رہنماؤں کے گرد لکھی جاتی ہے، جبکہ نچلی سطح پر کام کرنے والے کارکنوں کی کہانیاں، ان کے ذاتی تجربات اور ان کی تنظیمی جدوجہد محفوظ نہیں ہو پاتی۔اسی لیے عبداش پر لکھنا ضروری محسوس ہوتا ہے۔ اس کی زندگی پر لکھنے سے صرف ایک فرد کی زندگی محفوظ نہیں ہوگی، بلکہ ایک پوری سیاسی نسل کی تاریخ کے کئی ابواب بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ عبداش جیسے کردار مایوس کارکنوں کے لیے حوصلے اور تحریک کا باعث بن سکتے ہیں۔
عبداش کی زندگی کو صرف ماضی کے ایک سیاسی کارکن کے طور پر دیکھنا بھی اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔ ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے اس کی جدوجہد یہ سوال اٹھاتی ہے کہ نظریاتی سیاست انسان کی زندگی میں کیا معنی رکھتی ہے؟ کیا سیاست صرف اقتدار حاصل کرنے کا نام ہے، یا معاشرے کی سوچ، رویوں اور باہمی تعلقات کو بدلنے کی ایک طویل کوشش بھی ہے؟
عبداش کی سیاسی سرگرمیوں، ساتھی نونہال سنگت کے دور کی سیاست اور اس کی صحافت کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ سیاست کو سماجی تبدیلی کی ایک طویل حکمتِ عملی کے طور پر دیکھتا تھا۔ اس کے کردار کا شاید سب سے اہم پہلو یہی تھا کہ اس نے سیاسی کام کو زندگی کے مختلف شعبوں سے جوڑ کر دیکھا۔طالب علم سیاست سے بچوں کی تنظیم تک، تنظیمی سرگرمیوں سے صحافت تک، نظریاتی بحث سے عام لوگوں کے مسائل تک، اس کے سفر کے کئی پہلو تھے۔ ان تمام شعبوں میں عبداش ایک بے خوف اور آدرشی کارکن کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہا۔اس کی شخصیت کے یہ تمام پہلو مل کر ایک ایسے عبداش کی تصویر بناتے ہیں جس کے پاس کھونے کے لیے صرف غلامی تھی اور حاصل کرنے کے لیے پوری دنیا۔ اس کی بے باک جدوجہد محض ایک سیاسی کارکن یا صحافی کی جدوجہد نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے انسان کی کوشش تھی جو اپنے عہد کے سیاسی اور سماجی سوالات کو سمجھنے اور ان کے ساتھ اپنے حصے کا رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتا رہا۔آج عبداش ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کے آدرش ہمیشہ پسے ہوئے طبقات کی جدوجہد میں زندہ رہیں گے۔ مظلوموں کے نعروں اور ان کی جدوجہد میں عبداش ہمیشہ شامل رہے گا۔
سجاد ظہیر سولنگی ترقی پسند کالم نگار، تجزیہ نگار اور ادیب ہیں۔ وہ اردو اور سندھی زبان میں ادب، سماج، سیاست، کرنٹ افیئرز اور فنونِ لطیفہ کے موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سماجی مسائل، سیاسی و ادبی مباحث اور عصری حالات کا تجزیاتی مطالعہ نمایاں ہے۔


