ملنے جلنے والوں، دوستوں ،رشتہ داروں ،بہن بھائیوں، پڑوسیوں سےامید تب رکھی جائے جب ہم ان سے جڑے ہوں۔ انسان ہی انسان کے کام آتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اکیلا رہنا چاہے، کسی سے میل جول رکھنا پسند نہ کرے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
۔ انسان کا پہلا ناتا، پہلا رشتہ پہلا سہارا وہ خود ہوتا ہے۔
جب اپ اپنے فیصلے خود لینے لگتے ہیں. با اختیار ہو جاتے ہیں۔ اپنی فیملی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں ۔کسی کی خبر گیری نہیں کرتے۔ کسی کو اپنا حال نہیں بتاتے.کسی کا حال نہیں پوچھتے۔ پڑوس میں اجنبیوں کی طرح رہتے ہیں، تو یہ اپ کا انتخاب اور اختیار ہے۔ ہر انسان کو اپنی زندگی اپنے طریقے سے جینے کا حق ہے۔
اگر کسی کم ہمت شخص کو لگتا ہے کہ اس کی بیماری شدید نوعیت کی ہے اور وہ ڈاکٹر ہوتے ہوئے بھی اتنا احمق ہے کہ اسے یہ علم نہیں کہ اس بیماری کا علاج کہاں سے مفت ہو سکتا ہے، وہ اپنے حالات اور زندگی سے مایوس ہو جاتا ہے۔ اپنی کیفیات جذبات اور خیالات کا اظہار کسی سے بھی نہیں کرتا اپنی بیوی بچوں سے بھی نہیں چلیں یہ بھی اس کا اختیار ہے۔
وہ احمق ہے، بزدل ہے، حالات سے نکلنے کے لیے اسے کوئی راہ سجھائی نہیں دی۔ یہ بھی مان لیا۔ حالانکہ اگر ایک ڈاکٹر کا کلینک نہ چلے تو اس کے پاس روزگار کے کئی اپشن ہوتے ہیں وہ کہیں ٹیچنگ کر سکتا ہے، یہ بھی نہ ہو تووقتی طور پر ٹھیلا لگا سکتا ہے بیوی کے ساتھ مل کر ، سوشل میڈیا پر کوئی کاروبار کر سکتا ہے۔
انا کے مارے ہوئے خود ترحمی کا شکار،جب اس طرح کا انتہائی قدم اٹھاتے ہیں تو ان کے دل و دماغ میں محض معاشرے سے انتقام کا جذبہ ہوتا ہے۔
ایسے لوگوں کی خواہش پوری ہو جاتی ہے جیسے کہ ہم دیکھ رہے ہیں ڈاکٹر عمر اور ان کے کنبے کی لاشیں ملنے کے بعد ان کے رشتہ داروں، بہن بھائیوں، اور پڑوسیوں پر لعن طعن کی جا رہی ہے۔ ڈاکٹر عمر کا مقصد تو پورا ہو گیا۔ چند جذباتی لوگ وہی کر رہے ہیں جو ڈاکٹر عمر نے چاہا تھا لیکن ایک بزدل اور پھرقاتل کسی ہمدردی کا مستحق نہیں۔ اسے اپنی زندگی پر اختیار تھا وہ اپنا خاتمہ کر لیتا۔ اس کے مرنے کے بعد اس کی بیوی یقینا اپنے بچوں کے لیے ایک سائبان ثابت ہوتی۔ وہ کٹھن حالات سے نبردآزماہو کر نکل جاتی۔ ڈاکٹر عمر کو اپنی بیوی بچوں کی موت کا اختیار نہیں تھا۔


