ہمارے پاکستانی بھائی ہرگز جھگڑالو نہیں ہیں۔ وہ دکھائی دیتے ہیں کہ جیسے لڑرہے ہوں، کیونکہ اونچا بولنا پسند کرتے ہیں۔ جب ایسا شورہو رہا ہو کہ کان پڑی آواز بھی سنائی نہ دے تو لا محالہ دھیان جاتا ہے سبزی منڈی، ریلوے اسٹیشن یا اسمبلیوں کے ایوانوں کی طرف جہاں، جہاں دیدہ اورسنجیدہ افراد بھی خم ٹھونک کر دوسروں کے ساتھ زور آزمائی اور پنجہ آزمائی کرتے نظر آتے ہیں، تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ ان میں کتنا دم خم ہے تاکہ زور بازو بوقت ضرورت کام آئے اور بغیر کسی کی مدد کے اپنی بہادری کے جوہر دکھا کر اپنے دشمن سے حساب چکتا کر سکیں۔ انکی لفظی گولہ باری کی ضرررسانی اور مزاجاً بہا د ری کی شہرت نے بہت سے وضعداروں کو بغرض خاموشی اپنے لبوں پہ انگلی رکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تھوڑا بہت لڑنا جھگڑنا برا نہیں ہوتا، اس لئے معمولی طور پر دست و گریبان ہونا اس مقصد کے لئے کافی ہے کہ کوئی برداشت اور عفو و در گزر سے کام لینے والے کو بزدل نہ سمجھ بیٹھے۔ فی الحقیقت ہم سب پر امن رہتے ہیں اور انسان دوستی کے دلدادہ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن سے لیکر جوانی تک اور جوانی سے لیکر بڑھاپے تک ایسے نا قابل برداشت حالات و واقعات سے کامیابی سے گزر چکے ہوتے ہیں کہ جن کے نتیجے میں صبر و ضبط اور ہمت و حوصلے کا خون ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہوتا ہے۔ ہم بحیثیت مجموعی سخت حالات سے دل برداشتہ ہونے کی بجاۓ استقامت اور حوصلے سے سخت سے سخت حالات کا مقابلہ کرنے کی سکت رکھتے ہیں۔ البتہ کوئی دشمن ہم پر حملہ آور ہو تو ہم تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں اور ایک قوم بن کر جان کی بازی لگانے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ ہم حالت حرب میں ہوں تو کہہ اٹھتے ہیں کہہ “اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو ہے للکارا – لے ہم بھی ہیں صف آراء”. البتہ یہ ہمارے کچھ نادان سیاسی افراد اپنی دانست میں وطن عزیز کو اور اس کےمنتظمین کو بلا وجہ برا بھلا کہنے سے باز نہیں آتے۔
ہماری عوام ہوں یا عسکری ادارے مشکل حالات میں صف آراء ہو کر نامؤافق حالات کا مقابلہ کرتے ہیں۔ امن ہو یا حالت جنگ یہ انتہائی پرامن، صلح جو اور ایک دوسرے کے ہمدرد رہتے ہیں ۔ یہ صبر و برداشت سے کام لیتے ہیں۔ بلکہ دوسروں کی ہمت بندھانے کے لئے گاتے پھرتے ہیں کہ ” ہے جذبہ جنون توہمت نہ ہار”. ہم نے پاکستانیوں کے جذبہ و جنوں کا بطور خاص ذکر اس لئے کیا ہے کہ پچھلے دو تین مہینے انہوں نے سخت آزمائش والے نا مؤافق موسمی حالات کا انتہائی صبر و استقامت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے تند و تیزآ ندھی طوفانوں، دل دہلا دینے والی بادلوں کی گرج چمک، مسلسل شدید بارشوں اور کلاؤڈ برسٹ کے دھواں دار سماوی ہہاؤ کو ہمت اور حوصلے سے برداشت کیا ہے۔ انکے اٹھتے ہوۓ پرجوش قدم پہاڑیوں سے گرتے پتھروں سے مسدود سڑکوں پر بھی رواں رہے۔ زور دار بارشوں کے تسلسل سے ندی نالوں میں آنے والی طغیانیوں نے اورمختلف علاقوں میں پانی کے طاقت ورریلوں نےشہری زندگی کو بری طرح متاثرکیا۔ گھر، دکانیں، منہدم ہوتی دیکھیں۔ پل ٹوٹتے دیکھے، گاڑیاں بہتی دیکھیں، بڑے بڑے وزنی پتھروں کو پانی کی طاقت سے ریزہ ریزہ ہوتے دیکھا۔ خود مداوے کی کوشش کی اور اللہ سے مدد طلب کی۔ کچھ بارش کے پانی کی بہتات اور بھارت کی طرف سے دریاؤں میں چھوڑے گۓ پانیوں نے دریاؤں کےکناروں سے باہر بپھرتے ہوۓ کھیتوں کھلیانوں، زرعی اجناس ذخیرہ کرنے والے کوٹھوں اور کچے گھروں، کو اپنی لپیٹ میں لیکر تتر بتر کر دیا۔ غریب کسانوں اور زمینوں کے سونا اگلتے خزانوں کوغرقاب ہوتے دیکھنے والوں نے آسمانی آفات پر نم دار آنکھوں کے ساتھ ضبط کے گھونٹ پئے۔ نقصانات کا قلق ضرور تھا لیکن اللہ کے شکر کے سوا کسی سے شکوہ نہیں کیا۔
لگتا ہے کہ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں۔ ثابت قدمی کی رداؤں پر جا بجا کھونچ آنے کو ہے۔ گذشتہ موسم کے بگڑے تیوروں کی ناری حدت کسی حد تک مدھم پڑنے لگی تھی کہ ستم ہاۓ ابر و حبس کے قفس سے آزاد ہوتے بندگان خدا کو جانفزا خبر نے چونکا دیا۔ شنید ہے کہ آنے والا موسم سرما گزشتہ سردی سے کہیں ذیادہ سرد اور برفیلا ہوگا۔۔ یہ سن کرگمان ہونے لگا ہے کہ ناک اورمونہہ سے نکلتی بھاپ، برف کی قلمیں بن کر زمین پر گرتی نظر آئیں گی اور ٹھندی آہیں سانس کی نالیوں میں قلفی کی طرح جمتی چلی جائیں گی۔ یہ راقم الحروف ہنوز دوحہ کۓ گرم موسم میں مقیم ہے، لیکن اسلام آباد سےایسی پوسٹیں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ آئندہ کے موسم سے زمین کی ہریالی نے خاکی چادر اوڑھنے کی تیاری کر لی ہے۔ د رختوں پر لرزہ طاری کرتی خنک ہؤاؤں کے حجام نے درختوں ، شاخوں اور پتوں پہ استرا پھیر کر گنج خزاں کو فروغ دینے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ اللہ خیر کرے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟
ہوش اڑاتی ہواؤں کی آوارہ گردی کی چھٹی ہو چکی تھی، لیکن اب سردی کے قدموں کی چاپ، چپ چاپ پورے چھب سے آتی محسوس ہو رہی ہے۔ ڈر اور خوف ہواس پہ حاوی ہونے لگا اور بدن کو چھیدتی متوقع سرد ہواؤں کے تصور سے کپکپی طاری ہونے لگی ہے۔ ابھی سے جانکاہ دھند کے دھندہے اور اسموگ کے روگ کی آہٹیں بھی سنائی دے رہی ہیں
ہمارے کانوں میں ایک اور حوصلہ شکن خبرکی حکومتی معتبر ذرائع سے ملنے کی بھنک پڑگئی ہے۔ دعائیں ہو رہی ہیں، اللہ خیر کرے۔ اب ایک خبر دل تھام کے سن لینے کو تیار ہو جائیں۔ با خبر ذرائع نے آگاہ کیا ہے کہ آئندہ سال برسات کے مہینوں میں طوفان باد و باراں پچھلے سال کے مقابلے میں پچیس فی صد زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ حد سے زائد برسات ہوگی، فکر اور پریشانی دن رات ہوگی۔ متعلقہ اداروں کی طرف سے اس کی تیاری ابھی سے کرنا ہوگی۔ بلا شبہ ہم سب آئندہ پیش آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، آسمانی آفات کا قوت برداشت سے مقابلہ کریں گے اورتکلیف کو قدرت کی آزمائش سمجھ کر برداشت کریں گے۔ یاد رکھئیے ایسے میں اللہ کویاد کیا جاۓ اوراس سے مدد مانگی جاۓ۔ وہی سننے والا اور مصیبت سے نجات دینے والا ہے۔ دشمن کی طرف سے مسلط کی گئی جنگ ہو یا موسمیاتی یلغار اللہ تعالیٰ ہمیں ہر آزمائش میں سرخرو کرے۔ آمین۔


