عالیہ نے دیکھا کہ فائزہ کچھ عرصے سے تھکی تھکی سی رہتی ہے۔ ہر چیز یا صورتحال کو لیکر ضرورت سے زیادہ فکر مند رویہ دکھاتی ہے۔ ٹھیک سے سونہیں پاتی ۔۔۔ جب بیٹھتی ہے تو مسلسل ٹانگ ہلاتی رہتی ہے یا ہاتھوں کی انگلیاں چٹاتی ہے۔۔۔ بال پوانٹ سے ” ٹک ٹک ” کرتی رہتی ہے۔۔۔ تقریباً ہر وقت ہی بے چینی محسوس کر تی ہے ۔۔۔ عالیہ نوٹ کر رہی تھی کہ فائزہ کی یہی کیفیت دن کے زیادہ تر اوقات میں برقرار رہتی ہے۔۔۔
یہ کوئی جسمانی بیماری نہیں بلکہ ” تشویش / اضطراب” کی ایک حالت ہے جسے نفسیات کی زبان میں ” اینگزائٹی” کہتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسی حالت کو محض ” کمزوری ” ، ” وہم ” یا عام روٹین سمجھ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ یہ ایک نفسیاتی بیماری ہے جس پر با قاعدہ سائنسی اور نفسیاتی تحقیق موجود ہے۔۔۔
روز مرہ زندگی میں پریشانی کی بات پر پریشان ہونا بالکل نارمل بات ہے لیکن تشویش میں اگر کوئی واضح پریشانی نہ بھی ہو تو پھر بھی انسان خطرہ محسوس کرتا ہے۔ جیسے سانپ کو دیکھ کر ڈرنا فطری بات ہے لیکن بار بار دروازے کی طرف دیکھنا کہ وہاں سے سانپ نہ نکل آئے۔۔۔ بیماری کی ایک حالت ہے۔۔۔
تصویر کا ماخذ: پکسابے ہے
امریکن سائیکاٹرک ایسوسی ایشن کی تشخیصی کتاب کے مطابق:
مختلف معاملات بشمول کام کاج اور سکول کی کارکردگی کے بارے میں مسلسل اور حد سے زیادہ پریشان ہونا جن پرفرد کیلئے قابو پانا مشکل ہو۔۔۔ مزید یہ کہ جسمانی علامات میں بے چین ہو جانا یا ہے چینی محسوس کرنا ۔۔۔ بغیر کسی سخت مشقت کے جلدی تھک جاتا ۔۔۔ توجہ مرکوز کرنے میں دشواری جسے دماغ بالکل خالی ہو۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جلدی غصہ کرنا ۔ ۔ چڑ چڑا پن ۔۔۔ کندھوں میں کھنچاؤ اور تاؤ محسوس ہوتا ۔۔۔ بار بار آنکھ کھل جانا اور سکون ” سے نا سو سکنا ۔۔۔ وغیرہ ” تشویشی امراض ” میں شامل ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق:
دھیان لگانے میں دشواری یعنی کہ توجہ کا بار بار بھنکتا اور کوشش کے باوجود توجہ قائم نہ رہتا۔۔۔ فیصلہ نہ کر سکتا۔۔۔ مخمصے میں پڑ جانا کہ یہ کام کروں یا نہ کروں ۔۔ متلی یا پیٹ خراب کی علامات کا بار بار آتا ۔ ۔ ۔ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتا۔۔۔ پسینہ آنا ۔۔ کانپنا یا لرزنا۔۔۔ کسی بات کو لیکر آنے والے وقت کے بارے میں خوف کا احساس۔۔۔ وغیرہ شامل ہیں۔
شاٹر آکسفورڈ ٹیکسٹ بک آف سائیکاٹرک کے مطابق:
دماغ کا وہ نظام ( آٹونومک نروس سسٹم ) جو کہ دل کی دھڑکن ، سانس اور ہاضمے وغیرہ کو کنٹرول کرتا ہے ” تشویش ” کے دوران اس کا ایک حصہ (سمپیتھیٹک ) حد سے زیادہ متحرک ہو جاتا ہے۔ (ویسے تو عام طور پر جب کوئی ظاہری خطرہ موجود ہو جیسے سانپ دیکھنا تب زیادہ متحرک ہو جاتا ہے ) لیکن تشویش میں پریشانی یا خطرہ چونکہ ذہن میں چل رہا ہوتا ہے پھر بھی دماغ وہی رد عمل پیدا کرتا ہے جس سے بہت زیادہ پسینہ آنا ، دل کی دھڑکن تیز ہونا ، منہ کا خشک ہونا ، معدے میں درد اور چکر آنا شامل ہیں ۔۔۔
ریسرچ سے ثابت ہے کہ انسان ان علامات کی نفسیاتی وجوہات سے لاعلم ہوتا ہے تو وہ ان علامات کو دل کا دورہ یا کوئی جسمانی بیماری سمجھ
کر مزید خوفزدہ ہو جاتا ہے۔۔۔
اس صورتحال کو نارمل کرنے کیلئے نفسیاتی ترکیبیں
گہرے گہرے سانس لیں کسی کھلی جگہ بیٹھ جائیں اور قدرے ٹھنڈے پانی سے وضو کر لیں (جیسا کہ نیورولوجی کی جدید ریسرچ اور پولی ویگل تھیوری کے مطابق جب پانی ماتھے ،گال اور آنکھوں سے ٹکراتا ہے تو سب سے اہم اعصاب یعنی ویگس نرو بیدار ہو جاتی ہے جو کہ دماغ کو دل، پھیپھڑوں اور ہاضمے کے نظام سے جوڑتی ہے اور تشویش کے دباؤ کو ختم کر دیتی ہے۔
یونیورسٹی آف مشی گن کی ایک نفسیاتی ریسرچ کے مطابق جب لوگ اپنے ہا تھ اور منہ کو دھوتے ہیں تو دماغ کو ایک” پاکیزگی” یا” شروعات نو”کا سگنل ملتا ہےجو ان منفی خیالات کو دور کرنے میں مدد کرتا ہے جو گھبراہٹ کا باعث بن رہے ہوتے ہیں۔
سائنسی جریدے کے مطابق ست رفتار اور لمبے لمبے سانس لینے کی بار بار مشق کرنے سے جسم کا اعصابی نظام فعال ہو کر دل کی دھڑکن اور
بلڈ پریشر کو فوری کنٹرول کرتا ہے اور اس طرح ” تشویش “خود بخود کم ہو کر نارمل ہو جاتی ہے۔
تصویر کا ماخذ: پکسابے ہے
نیورولوجیکل ریسرچ کے مطابق
دماغ ہمارے جسم کا “حکمران” ہے جو کہ ہمارے جسم کو کنٹرول کرتا ہے۔
نفسیات کا ایک پہلو جو کہ صرف اور صرف خیالات یعنی ہماری سوچ سے جڑا ہے۔۔۔ بتاتا ہے کہ جب انسان اپنے ذہن میں آنے والی منفی اور نقصان دہ خیالات کو مثبت خیالات میں بدل لیتا ہے تو جسم خود بخود پر سکون ” ہو جاتا ہے۔۔۔
کا گنیٹو ریسرچ کے مطابق حالات بذات خود پریشانی کا باعث نہیں بنتے بلکہ ان حالات سے متعلق ہماری سوچ اسے پریشان کن بنا دیتی ہے مطلب یہ کہ اگر ہم پریشانی کو قابلِ حل سمجھیں گے تو بہتر سوچ بچار سے اس کا تعمیری حل تلاش کر سکتے ہیں۔
اس لیے علامات ظاہر ہونے کی صورت میں ماہر نفسیات سے کاؤ نسلنگ کروانا یعنی مشاورت کے ذریعے معلوم کرنا کہ خیالات کو مثبت کیسے بنایا جائے، کوئی عیب نہیں اور نہ ہی معاشرتی طور پر نا پسندیدہ بات ہے۔۔۔ بلکہ “ذہنی صحت ” کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔۔۔


