آنکھوں آنکھوں میں (انشائیہ ) تحریر: احمد شہزاد

کہنے کو تو دو آنکھیں ہیں مگر ہزار افسانے ہیں،ان میں نہ صرف ساری دنیا سما سکتی ہے بلکہ پوری زندگی آباد ہے، کبھی محبت کبھی نفرت، کبھی خواب کبھی حقیقت، کبھی آنسو کبھی شوخی،کبھی ظاہر کبھی باطن، سبھی کچھ دکھائی دیتا ہے۔

شاعر نے کہا تھا کہ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں لیکن آنکھ جو کچھ کرتی ہے وہ بھی بیان کرنا مشکل ہے،عجب عجب ادائیں دکھاتی اور اشارے کرتی ہے، کہیں آنکھ مارتی ہے، کہیں نین سے نین لڑاتی ہے۔ من پسند صورت ہو تو دیدے بھی مٹکاتی ہے، مژگاں کے تیر چلاتی ہے، کنکھیوں سے دیکھتی ہے، کبھی آنکھ چراتی ہے کبھی آنکھ دکھاتی ہے۔ کچھ آنکھیں دزدیدہ ہوتی ہیں کچھ ندیدہ، کچھ دید سے نادید ہوتی ہیں، کچھ آنکھیں راز رکھتی ہیں، کچھ مخبری کرتی ہیں، کچھ آنکھیں پڑھی جاتی ہیں کچھ سبق پڑھا جاتی ہیں۔

آنکھیں قدرت کاعظیم تحفہ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نایاب عضو ہے جو کائنات کے مناظر کو لمحہ بہ لمحہ اپنے اندر محفوظ کر رہا ہوتا ہے۔ اس عضو کی گونج اتنی طویل ہے کہ شعرا صدیوں سے ا ِس کے سحر میں گرفتار ہیں۔ یہ صرف دیکھنے کاعضو نہیں بلکہ دل کا ترجمان اور احساسات کا عکاس بھی ہے۔ چشمِ تصور سے چشمِ زدن تک بہت کچھ ہوتا ہے لیکن شاعر اکثر چشمِ تصور سے چشمِ زن تک ہی رہتے ہیں۔

شعرا نے حسینوں کی آنکھوں کو ایک سے ایک نام دیا ہے۔ جیسے نرگسِ قتان، نرگسِ طناز، نرگسِ شہلا، نرگسِ بیمار، ناوکِ مژگاں، نینوں کے ساغر، ساحر آنکھیں، آہوِ چشم، قاتل نگاہیں، چشمِ معشوق ، طلسمی آنکھیں، نگاہِ ناز، مست مست نین، کاسہء چشم، دیدہء غزال، نین نشیلے اور کاشنی اکھ۔

ہمارے نزدیک حسینوں کی خوبصورت آنکھیں دیکھنے کے بھی آداب ہیں،چشمِ بام اور چشمِ زیریں کو ہولے ہولے وا کیا جائے۔ والہانہ اور دلبرانہ دیکھا جائے، نظریں عاشقانہ دید سے لبریز ہوں۔ نگاہیں محبت سےمعمورہوں، ایک نظر میں ہزار بار دیکھیئےاور جی بھر کے جامِ دید پیجئیے۔ دیدہ و دل فرشِ راہ کیے ہوں، اُچٹتی اور عامیانہ نگاہ تو بالکل نہ ہو۔

ایک بارچاند چہرہ ستارہ آنکھوں کی محفل میں تھے جہاں ایک سے ایک ماہ پارہ اور گل اندام، اپنی حسین آنکھوں کی حشر سمانیوں سمیت جلوہ گر تھیں۔ ناوکِ مژگاں سے گھائل پہ گھائل کر رہی تھیں۔ اُن کی نظریں مہر و و فا کا وہ جہاں آباد کرتیں کہ دل دھڑکنا اور آنکھیں پلک جھپکنا بھول جاتیں۔ ایسے میں نظرایک چشمِ غزال پر کیا ٹھہری! کہ دل دشتِ اُلفت میں اسی کے ساتھ چوکڑیاں بھرنے کوبے تاب تھا، اسی حالت میں تھے کہ نگاہیں ایک نشیلی آنکھوں پہ پڑیں تو بن پیے اور بن مے خانے گئے بہکنے اور جامِ دید پینے کو بے قرار تھیں، وہاں سے نظریں اٹھیں تو جھیل سی گہری آنکھوں پہ رُک گئیں جہاں تیرنے کی بجائے ڈوبنے کو بے چین ہو ہی رہے تھے کہ دفعتاً شیرنی سی آنکھیں گھورتی دکھائی دیں، اللہ!! ایسی آنکھوں کے ہوتے یہ کیا؟؟ یاد آیا کہ بیگم بھی اِدھر موجود ہیں، دل تو اسی وقت کیا کہ آج طوطا چشم بن کے رہیں گے۔ اتنے میں وہ کہیں اور متوجہ ہوئیں تو ایک گناہ اور سہی کے مصداق ایک نگاہ اور سہی کے طالب ہوئے۔ نگاہیں ایک طلسمی آنکھوں کے بحرِ طلسم میں ڈوب جانے کو مچل ہی رہی تھیں کہ دور سے بیگم کی عقابی نگاہوں نے بھانپ لیا اور وہ بلی کی طرح دبے پاؤں سامنے تھیں اور۔۔۔۔اور پھر ہم کبوتر کی طرح آنکھیں مُندے ہوئے تھے ۔۔۔۔ آخر گھر بھی جانا تھا۔
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے

کہتے ہیں کہ آنکھوں آنکھوں میں پیار ہو جاتا ہے، یہی نہیں کبھی کبھی تو ہوش بھی اُڑ جاتے ہیں، کچھ غلط فہمیاں بھی ہوجاتی ہیں، آنکھوں آنکھوں میں رات بھی گزر جاتی ہے، آنکھوں آنکھوں میں دیکھنے سے ہمارے ہاں تو قتل بھی ہو جاتے ہیں کہ “مجھے گھور کے کیوں دیکھا؟”

آنکھیں دل کا آئینہ ہوتی ہیں سب کچھ دکھائی دے جاتاہے، آنکھوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ جھوٹ نہیں کہتیں، زبان چاہے لاکھ وضاحتیں دے، راز کھول دیتی ہیں زبان کچھ نہ بھی کہے آنکھیں گواہی دے دیتی ہیں۔ جہاں لب کشائی جرم بن جائے وہاں آنکھیں کلام کرتی ہیں۔

آنکھ واحد دریچہ ہے جہاں سے روح جھانکتی ہے۔ کبھی کبھار لبوں پر آئے الفاظ بھی وہ سچ کہہ نہیں پاتے جو جھکی ہوئی، بھیگی ہوئی، افسردہ یا شرارتی آنکھیں بیان کر دیتی ہیں۔ انسانی زندگی کے بیشتر معمولات اسی آنکھ کے مرہون منت ہیں، خوشی کی چمک، شرم و حیا کی لالی، حیرت کی کشادگی، غصے کی سرخی اور خوف کا پھیلاؤ، یہ سب آنکھ کے رنگ ہیں۔ان میں سب سے اہم رنگ محبت کا ہے۔محبوب کا جمالیاتی حُسن بھی انہی آنکھوں سے بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

تِرے جمال کی تصویر کھینچ دوں لیکن
زباں میں آنکھ نہیں، آنکھ میں زبان نہیں

آنکھ صرف دیکھتی ہی نہیں فیصلہ بھی کرتی ہے، کبھی پسندکبھی ناپسند، کبھی تعریف کبھی تنقید، کبھی دوستی کبھی دشمنی، بعض نگاہوں کو زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی ایک نظر ہی کافی ہوتی ہے۔آنکھوں کا سب سے بڑ اکمال یہ ہے کہ انسان کو اس کی اپنی اصل حقیقت دکھا دیتی ہیں۔آنکھیں جہاں زبان سے زیادہ بےباک ہوتی ہیں وہاں حساب بیباق کرنے میں بھی کچھ کم نہیں ہوتیں۔

آنکھ کے آنسوؤں میں کوئی وزن نہیں ہوتا، لیکن جب بہتے ہیں تو اندر کے پہاڑ ایسے بوجھ ہلکے کر دیتے ہیں۔ کچھ آنکھیں مسکراتی ہیں کچھ رُلاتی ہیں، کچھ آنکھیں دلبرانہ ہوتی ہیں کچھ رقیبانہ، کچھ آنکھیں حیا سے جھک جاتی ہیں کچھ شرم سے عاری ہوتی ہیں۔کچھ آنکھیں پتھر ایسی ہوتی ہیں کچھ موم کی مانند،کچھ نگاہیں توکرم کی مانند جبکہ کچھ غضب کی طرح، کچھ آنکھیں دید کے اور کچھ نادید کے قابل ہوتی ہیں۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جب یہ آنکھیں کھلتی ہیں تو دنیا میں وارِد ہوتے ہیں جب بند ہوتی ہیں تو اگلے جہاں سدھار جاتے ہیں بس آنکھوں کی اتنی سی کہانی ہے!!!

اپنا تبصرہ لکھیں