محبت، جدائی اور ایک وعدۂ زندگی/ پروفیسر عامرزریں

خزاں کی رُت کے اُداس دن تھے۔ شامیں معمول سے کچھ زیادہ طویل ہو گئی تھیں اور ان کے دامن میں آنسوؤں جیسی خنکی سمٹ آئی تھی۔ راتیں عجیب وحشت زدہ سی تھیں، جیسے کائنات نے اپنے ہونٹوں پر خاموشی کی مہر لگا لی ہو۔ چاندنی میں زرد پتوں کا رقص جاری تھا۔ وہی پتے جو دن بھر شاخوں سے لپٹے زندگی کا گیت گاتے تھے، شام ڈھلتے ہی زمین کو بوسے دیتے ہوئے اپنے وجود کی آخری کہانی لکھنے لگتے۔

خزاں کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ یہ صرف درختوں سے پتوں کے بچھڑنے کا موسم نہیں، ان رشتوں کی یاد کا موسم بھی ہے جو کبھی ہماری زندگی کی شاخوں پر ہرے بھرے خواب بن کر لہراتے تھے۔ اس رُت میں ہوا بھی کچھ کہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور خاموشی بھی کسی بچھڑے ہوئے شخص کی آواز بن جاتی ہے۔
ایسے ہی ایک موسم میں تم ملے تھے، جانِ جاناں!تمہاری آمد سے یوں محسوس ہوا جیسے خزاں نے اچانک اپنا راستہ بدل لیا ہو اور بہار نے چپکے سے میرے دل کے دروازے پر دستک دے دی ہو۔ تمہاری سنگت میں، تمہاری باتوں کے سحر میں، میں بھول بیٹھی تھی کہ باہر زرد پتے گر رہے ہیں، شامیں اُداس ہیں اور راتیں اپنی تنہائی میں مزید طویل ہوتی جا رہی ہیں۔
………………………………
تمہارے ساتھ گزرتے لمحوں میں ایک عجیب سی خوشبو تھی۔ فضا مہکی ہوئی تھی، دل کے اندر کوئی ان کہی دھن بجتی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے کوئی محبتوں کی رُباعی لکھنے بیٹھ گیا ہو۔ جیسے ملن کا کوئی ایسا سماں بندھنے والا ہو جس میں جدائی کا تصور بھی اجنبی محسوس ہو۔ میری نگاہوں میں نئے نئے منظر آباد ہونے لگے تھے۔ مجھے محسوس ہوتا تھا کہ حسین پیڑوں کی ڈالیاں پھر سے ہری ہو گئی ہیں، پھولوں نے اپنی پنکھڑیاں کھول دی ہیں اور پرندے شاخوں پر بیٹھ کر محبت کے نئے گیت گا رہے ہیں۔

کبھی کبھی انسان کا دل حقیقت سے زیادہ خوب صورت ایک دُنیا تخلیق کر لیتا ہے۔ اس دُنیا میں موسموں کی پابندیاں نہیں ہوتیں، فاصلے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں اور وقت بھی جیسے کسی مہربان لمحے کے قدموں میں بیٹھ جاتا ہے۔ میں بھی اپنے دل کی اسی دُنیا میں رہنے لگی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید محبت کی موجودگی میں خزاں بھی بہار کا روپ دھار سکتی ہے۔لیکن زندگی ہمیشہ ہمارے خوابوں کی تابع نہیں ہوتی۔ کچھ فیصلے ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے محبت بھی خاموش ہو جاتی ہے، اور کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جنہیں کم کرنے کی خواہش کے باوجود انسان انہیں قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
……………………
مجھے آج بھی وہ شام یاد ہے جب تم نے مجھے آخری بار ملنے کے لیے بلایا تھا۔اکتوبر کا آخری ہفتہ تھا۔ شہر کے پرانے ریلوے اسٹیشن پر خزاں اپنی پوری اُداسی کے ساتھ موجود تھی۔ پلیٹ فارم پر لوگوں کی آمدورفت جاری تھی۔ چائے والوں کی صدائیں فضا میں گونج رہی تھیں اور دور کھڑی ریل گاڑی کے انجن سے اٹھتا ہوا دھواں شام کی دُھند میں تحلیل ہو رہا تھا۔ کسی کے لیے وہ سفر کا آغاز تھا، کسی کے لیے گھر واپسی کی خوشی، لیکن میرے لیے وہ ایک ایسی جدائی کا آغاز تھا جس کا تصور بھی کبھی میرے دل نے نہیں کیا تھا۔

تم ایک بینچ پر بیٹھے تھے۔ تمہارے ہاتھ میں سیل فون تھا جس میں تمہارا آن لائن ٹکٹ تھا اور آنکھوں میں وہ خاموشی جسے میں تمہاری آواز سے پہلے پڑھ لیا کرتی تھی۔ میں تمہارے سامنے جا کر بیٹھ گئی۔ چند لمحے ہم دونوں خاموش رہے۔ ہمارے درمیان لفظوں سے زیادہ وہ باتیں موجود تھیں جو ہم ایک دوسرے سے کہنا چاہتے تھے، مگر کہہ نہیں پا رہے تھے۔
آخر میں نے پوچھ ہی لیا، ”تم واقعی جا رہے ہو؟“…………تم نے میری طرف دیکھا۔ تمہاری آنکھوں میں بھی ایک عجیب سی نمی تھی، مگر تم نے خود کو سنبھال رکھا تھا۔…………”ہاں، مجھے جانا ہوگا۔“…………صرف چار لفظ تھے، مگر مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے اندر آباد ایک پوری دُنیا کے دروازے بند کر دیے ہوں۔
میں نے چاہا کہ تم سے بہت کچھ پوچھوں۔ کیا ہمارے ساتھ گزارے ہوئے لمحے تمہیں بھی اسی طرح یاد آئیں گے؟ کیا کسی اجنبی شہر کی بارش میں تمہیں میری ہنسی سنائی دے گی؟ کیا کبھی کسی شام تمہیں بھی یوں محسوس ہوگا کہ دنیا میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کوئی ضروری چیز کہیں کھو گئی ہے؟
مگر میرے ہونٹوں پر کوئی سوال نہ آ سکا۔ بعض دکھ لفظوں سے پہلے آنکھوں میں اُتر آتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ لفظوں میں اپنے دکھ کو بیان کرنا نسبتاً آسان ہے، لیکن کسی ایسے شخص کے سامنے اپنے بکھرنے کا اعتراف کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جسے ہم اپنی مضبوطی کا سبب سمجھتے رہے ہوں۔
اسی دوران ریل گاڑی کی سیٹی گونجی۔ تم نے اُٹھ کر اپنا سامان سنبھالا تو میں نے بے اختیار تمہارا ہاتھ تھام لیا۔ تم چند لمحے رکے، پھر میرے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولے، ”میں نہیں چاہتا کہ میری جدائی تمہاری زندگی کی خوشیوں کو چھین لے۔ تم مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے بعد بھی خوش رہو گی۔“

میں تمہیں دیکھتی رہی۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں ایک ایسی بے بسی جس کا کوئی نام نہیں ہوتا۔ میں تمہیں کیسے سمجھاتی کہ تمہارے بعد خوش رہنے کا وعدہ کرنا آسان ہے، مگر اس خوشی کو اپنے اندر آباد کرنا کتنا دشوار ہوگا۔………………تم نے میرے ماتھے پر بوسہ دیا اور آہستہ سے کہا، ”میں چاہتا ہوں کہ میری یاد تمہارے لیے بہار بنے، خزاں نہیں۔ اگر کبھی تمہاری آنکھوں میں میری یاد کے باعث آنسو دیکھے تو سمجھوں گا کہ میں تمہیں خوش رہنے کا ہنر نہیں سکھا سکا۔“………………یہ کہتے ہوئے تم نے میری آنکھوں میں دیکھا اور ایک عجیب شرط رکھ دی۔ تم نے کہا کہ اگر کبھی میری اُداسی کا کوئی شائبہ تمہاری یادوں کے ساتھ وابستہ رہا تو تم اپنا وعدہ توڑ دو گے، مجھے اپنی یادوں سے مٹا دو گے۔
………………………………
میں نے دل ہی دل میں سوچا کہ محبت کرنے والے بھی کتنے عجیب ہوتے ہیں۔ ایک طرف جدائی کا فیصلہ کرتے ہیں اور دوسری طرف چاہتے ہیں کہ ان کی جدائی کا دکھ بھی محبوب کو نہ چھوئے۔ وہ رخصت بھی ہوتے ہیں تو اپنی محبت کی حفاظت کی فکر ساتھ لے کر جاتے ہیں۔…………ریل گاڑی چلنے لگی تھی۔ تم دروازے کے پاس کھڑے مجھے دیکھ رہے تھے اور میں پلیٹ فارم پر ساکت کھڑی تھی۔ گاڑی آہستہ آہستہ دور ہوتی گئی۔ پہلے تمہارا چہرہ دھندلا ہوا، پھر تمہارا وجود چند چلتے ہوئے سایوں میں بدل گیا اور آخرکار گاڑی پٹری کے موڑ کے پیچھے غائب ہو گئی۔………………میں بہت دیر تک وہیں کھڑی رہی۔ میرے اردگرد لوگ اپنے اپنے راستوں پر جا رہے تھے۔ کسی کو کسی کے آنے کی خوشی تھی، کسی کو کسی کے جانے کا انتظار۔ صرف میرے لیے وہ شام ایک ایسے موسم میں بدل گئی تھی جس کا اختتام مجھے دکھائی نہیں دیتا تھا۔

…………………………

گھر لوٹی تو میز پر تمہاری دی ہوئی ایک کتاب رکھی تھی۔ اس کے پہلے صفحے پر تم نے لکھا تھا:”یاد رکھنا، محبت کا مطلب کسی کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا نہیں، کبھی کبھی اس کی دی ہوئی روشنی میں تنہا چلنا بھی محبت ہے۔“…………میں نے کتاب سینے سے لگا لی اور پہلی بار شدت سے روئی۔ اس رات میری آنکھوں سے بہنے والے آنسو کسی ایک جدائی کا ماتم نہیں تھے۔ وہ ان تمام خوابوں کی رخصتی کا نوحہ تھے جو میں نے تمہاری موجودگی میں دیکھے تھے۔ وہ ان تمام صبحوں کی اُداسی تھے جن میں تمہارے ساتھ جاگنے کی خواہش تھی، ان شاموں کی خاموشی تھے جنہیں تمہاری آواز سے بھر دینے کا خیال تھا۔

پھر مجھے تمہارا وعدہ یاد آیا۔ میں نے آنسو پونچھے، کھڑکی کھولی اور خزاں کی سرد ہوا کو اپنے اندر اترنے دیا۔…………میں خوش تو نہیں تھی، لیکن میں نے زندگی سے منہ موڑنے کے بجائے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ ضرور کر لیا تھا۔…………شاید خوشی کا پہلا قدم یہی ہوتا ہے: اپنے دکھ کو تسلیم کرنا، مگر اسے اپنی پوری زندگی کا مقدر نہ بننے دینا۔

انسان کی زندگی میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جنہیں کوئی نام دینا ضروری نہیں ہوتا۔ ان کی اہمیت اس بات میں نہیں کہ وہ کتنی دیر ہمارے ساتھ رہے، بلکہ اس میں ہوتی ہے کہ انہوں نے ہمارے اندر کیا بدلا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں تو ہمیں اپنے ہونے کا احساس ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ ہم خود کو زیادہ مکمل، زیادہ زندہ اور زیادہ خوب صورت محسوس کرتے ہیں۔ پھر وہ چلے جاتے ہیں، لیکن ان کی موجودگی کا تجربہ ہمارے اندر باقی رہتا ہے۔

…………………………
تمہاری یادیں بھی میرے لیے محض گزرے ہوئے دنوں کا سرمایہ نہیں تھیں۔ وہ خوابوں کی طرح تھیں، بہار کی طرح تھیں، ان پھولوں کی طرح جنہیں خزاں بھی اپنی تمام تر شدت کے باوجود میرے دل سے نہیں چھین سکتی تھی۔ میں سوچتی تھی کہ اگر میں تمہاری یادوں کو بھی کھو دوں تو میرے پاس باقی کیا رہ جائے گا؟ زندگی شاید پھر بھی چلتی رہے، صبحیں طلوع ہوں، شامیں ڈھلیں اور موسم بدلتے رہیں، مگر میرے اندر کا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے گا۔…………اسی لیے میں نے تمہاری یادوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ میں نے انہیں اپنے دکھ کا واحد حوالہ بنانے سے انکار کیا، مگر ان کی اہمیت سے بھی انکار نہ کر سکی۔ میں نے آہستہ آہستہ یہ سیکھا کہ یادیں اگر آنکھوں کو نم کرتی ہیں تو کبھی کبھی دل کو روشنی بھی دیتی ہیں۔ ہر آنسو کمزوری کی علامت نہیں ہوتا، اور ہر مسکراہٹ خوشی کی دلیل نہیں ہوتی۔
………………………………
وقت گزرتا رہا۔ خزاں کے بعد بہار آئی، درختوں پر نئے پتے نکلے اور پرندوں نے اپنے پرانے ٹھکانوں کی طرف واپسی شروع کی۔ زندگی نے مجھے بھی نئے راستوں سے متعارف کرایا۔ میں نے دوبارہ ہنسنا سیکھا، لوگوں سے ملنا سیکھا اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں میں زندگی کی معنویت تلاش کرنا شروع کی۔………………مگر اس سب کے باوجود کچھ شامیں ایسی بھی آئیں جب اچانک کوئی خوشبو، کوئی دھن یا کسی کتاب کا کوئی جملہ تمہاری یاد لے آیا۔ میں چند لمحوں کے لیے ٹھہر جاتی، پھر اپنے کام میں مصروف ہو جاتی۔ مجھے احساس ہوا کہ کسی کو یاد کرنا زندگی سے پیچھے رہ جانا نہیں، بشرطیکہ یادیں ہمارے قدموں کو زنجیر نہ بنا دیں۔

آج بھی جب خزاں کی شامیں طویل ہونے لگتی ہیں، جب چاندنی میں زرد پتے زمین پر اترتے ہیں اور ہوا میں کسی پرانے موسم کی خوشبو گھل جاتی ہے، تو مجھے تمہاری باتیں یاد آتی ہیں۔ میں سوچتی ہوں کہ خوش رہنے کا مطلب کیا واقعی یادوں سے نجات حاصل کرنا ہے؟ کیا محبت کا احترام اسی میں ہے کہ انسان اپنے ماضی کو مٹا دے، یا یہ کہ وہ اس ماضی کو اپنے وجود کا حصہ بنا کر زندگی سے اپنا تعلق قائم رکھے؟

شاید خوشی ہمیشہ مسکرانے کا نام نہیں۔ کبھی یہ کسی کی یاد کو آنسوؤں کے بغیر اپنے دل میں جگہ دینے کا ہنر ہوتی ہے۔ کبھی یہ جدائی کو قبول کرکے بھی محبت سے انکار نہ کرنے کا حوصلہ ہوتی ہے۔ اور کبھی یہ ایک ایسا وعدہ ہوتا ہے جسے نبھانے کے لیے انسان کو ہر روز اپنے اندر ایک نئی بہار پیدا کرنا پڑتی ہے۔………………میں آج بھی نہیں جانتی کہ تم نے میری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھنے کی شرط کیوں رکھی تھی۔ شاید تم چاہتے تھے کہ تمہاری محبت میری کمزوری نہیں، میری قوت بنے۔ شاید تم مجھے یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ زندگی کسی ایک شخص کے چلے جانے سے ختم نہیں ہو جاتی۔………………مگر میں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ کچھ لوگ ہماری زندگی سے رخصت ہو کر بھی ہم سے جدا نہیں ہوتے۔ وہ موسموں میں، خوشبوؤں میں، خاموش شاموں میں اور ان لفظوں میں زندہ رہتے ہیں جنہیں ہم کسی سے کہے بغیر اپنے دل میں دہراتے رہتے ہیں۔

………………………………
خزاں آج بھی آتی ہے۔ پتے آج بھی گرتے ہیں۔ شامیں آج بھی اداس ہوتی ہیں۔ لیکن اب میں جانتی ہوں کہ ہر خزاں کے بعد بہار کا آنا ضروری نہیں کہ وہی پرانی بہار لوٹ آئے۔ بعض بہاریں ہمارے اندر جنم لیتی ہیں، ان یادوں کی صورت میں جنہیں ہم کھونا نہیں چاہتے۔………………اور میں نے تم سے کیا ہوا وعدہ آج بھی اپنے دل میں سنبھال رکھا ہے۔…………میں خوش رہوں گی۔

تمہاری یادوں کے ساتھ، تمہاری دی ہوئی محبت کے ساتھ، اور اس یقین کے ساتھ کہ بعض رشتے منزل تک نہیں پہنچتے، مگر سفر کو ہمیشہ کے لیے خوب صورت بنا جاتے ہیں۔…………
خزاں کی رت میں بھی کبھی کبھی بہار ہوتی ہے؛ بس اس کے پھول دل کے اندر کھلتے ہیں۔ (ماخوذ)

اپنا تبصرہ لکھیں