یوں تو عالمی سیاست کی بساط پہ جاری کھیل کے حوالے سے جاتا اکتوبر نہایت ہنگامہ خیز واقع ہوا ہے، مگر گزشتہ روز ہنگامہ خیزیوں کا نقطہء عروج تھا. مکہ معاہدے میں شامل تینوں ممالک کے نمائندے تہران پہنچے، گفت و شنید ہوئی، تصاویر بنیں، اعلامیہ جاری ہوا اور نہایت مختصر وقت میں یہ دورہ اختتام کو پہنچا.
اجلاس میں کیا کہا گیا، کیا سنا گیا، کس نوعیت کے گلے شکوے ہوئے، کن باتوں پہ اتفاقِ رائے ممکن ہوسکی اور کن امور پہ عدمِ اتفاق رہا، ظاہر ہے کہ یہ باتیں دنیا کو بتانے والی نہیں تھیں، لہٰذا کچھ نہیں بتایا گیا. حتی کہ اعلامیے میں بھی اتنا ہی کہا گیا کہ چاروں ممالک نے گفت و شنید کے سلسلے کو کو آگے بڑھانے اور اس نوعیت کے مزید اجلاسوں کے انعقاد پہ اتفاق کیا ہے.
ایسی صورت میں ہمارے پاس صورت حال کی باریک جانچ اور کڑی سے کڑی ملا کر نتائج اخذ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا.
چند بنیادی نکات کا جائزہ لیتے ہیں. امید ہے کہ ہم واضح تصویر ترتیب دینے میں کامیاب ہو جائیں گے.
پہلا نکتہ : 9 اکتوبر کو ڈونلڈ ٹرمپ اور ویلادمیر پیوٹن کے مابین ڈیڑھ گھنٹہ ٹیلیفونک کال ہوئی. بعد ازاں ٹرمپ نے اعلان کیا کہ واشنگٹن روس پر سے بعض پابندیاں اٹھا رہا ہے، تاکہ وہ امریکا سمیت عالمی منڈی کو ڈیزل فراہم کر سکے.
یہ غیر معمولی اعلان تھا. اس کا واضح مطلب روسی معیشت کو سہارا فراہم کرنا تھا. چنانچہ یوکرائنی صدر زیلنسکی نے اس پر یہ کہتے ہوئے احتجاج کیا کہ امریکا کے اس اقدام سے روس کو یوکرائنی جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل فراہم ہوسکیں گے.
دوسرا نکتہ : 19 اکتوبر کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف ایران پہنچے.
تیسرا نکتہ : 20 اکتوبر کو پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے تہران کا رخ کیا. اسی دوران ایرانی سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بیان دیا کہ یورینیم چونکہ ایرانی قوم کا اثاثہ ہے، اس لیے ایک ذرہ بھی ملک سے باہر نہیں جائے گا. تقریباً انہی الفاظ کے ساتھ یہی بیان وہ 8 اکتوبر کو بھی دے چکے ہیں.
چوتھا نکتہ : 21 اکتوبر کو امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں صدر پیوٹن سے ملاقات کی.
پانچواں نکتہ : روس نے اگلے ماہ یوکرائن کے حوالے سے منعقد ہونے والے سہہ فریقی مذاکرات میں شرکت کا عندیہ دیا ہے. اجلاس میں یوکرائن، امریکا اور روس شامل ہوں گے.
چھٹا نکتہ : 25 اکتوبر کو قطری وفد ایران میں موجود تھا، جو اس کوشش میں سرگرمِ عمل رہا کہ کسی طرح ایران اور امریکا کے مابین اگلی ممکنہ جھڑپ کو روکا جائے . ایران کا مطالبہ تھا کہ اس کی بندرگاہوں کا محاصرہ ختم کیا جائے. جون میں جہاں اسلام آباد مذاکرات کا پڑاؤ ہوا تھا، وہاں سے سلسلہ آگے بڑھایا جائے. جبکہ امریکا کا اصرار تھا کہ ایران ایٹمی صلاحیت کے حصول کی کوشش ترک کر دینے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بندش کے بند بھی کھولے.
ساتواں نکتہ : 26 تاریخ کو مکہ اتحاد کے تینوں ارکان دیارِ تہران میں موجود تھے.
آٹھواں نکتہ : حوثیوں نے کل سعودی عرب پہ اس وقت بھی حملے جاری رکھے، جب مکہ معاہدہ کے تینوں ارکان ایرانی سرزمین پہ موجود تھے.
نواں نکتہ : ایرانی صدر اور وزیر خارجہ اس وقت روس میں موجود ہیں.
دسواں نکتہ : آج اسرائیل میں الیکشن ہو ریے ہیں، جبکہ اگلے ہفتے امریکا میں بھی وسط مدتی انتخابات ہوں گے. ڈونلڈ ٹرمپ کی پوزیشن خاصی کمزور دکھائی دے رہی ہے.
گیارہواں نکتہ : امریکی بحری بیڑا تھیوڈور روزویلٹ 27 ستمبر کو امریکا سے روانہ ہو چکا ہے، امید کی جاتی ہے کہ نومبر کے وسط تک مشرقِ وسطیٰ پہنچ چکا ہوگا.
اب ذرا مکمل منظر نامہ ملاحظہ فرمائیے. امریکا کو اس جنگ میں کامیابی ملنی تھی ہی نہیں. اس کی وجہ جنگ کے آغاز میں ہم نے عرض کی تھی کہ زمینی افواج کے بغیر جنگ ادھوری رہے گی. امریکا نے یورپ کو ناراض کر رکھا ہے، چنانچہ یہ جنگ بہرصورت تنہا لڑنی تھی. اس جنگ میں کامیابی تب تک ممکن نہیں، جب تک افغانستان اور عراق کی جنگ میں لگائی گئی “فیلڈنگ” کی طرح کا نقص و خامی سے مبرا بندوبست نہیں کیا جاتا. چونکہ ایسا نہیں ہوا تھا، سو کامیابی خواب ہی رہی.
اب چونکہ نئے سرے سے کھیل کا آغاز ممکن نہیں ہے. دونوں فریق بھی بری طرح تھک چکے. باقی دنیا کی اکتاہٹ اور بیزاری بھی آسمان کو چھو رہی ہے، اس لیے اب دونوں حریفوں کی خواہش ہے کہ آبرومندانہ انداز میں جنگ کو ختم کیا جائے.
ادھر روس بھی یوکرائن جنگ کی طوالت کی وجہ سے بری طرح ہانپ رہا ہے. کریملن اور کیف بھی چاہتے ہیں کہ اب جنگ کے کمبل سے جان چھڑا لی جائے، مگر قصہ یہ ہے کہ روس چاہتا ہے کہ چونکہ یوکرائن کے جنوب مشرقی علاقے ڈونباس پہ اس کا قبضہ ہوچکا ہے، لہٰذا کیف اپنے اس خطے سے دستبردار ہو جائے، جبکہ زیلنسکی اس مطالبے کو تسلیم کرنے پہ آمادہ نہیں ہیں.
روس کے ایران سے قریبی تعلقات ہیں، جبکہ امریکا یوکرائن کا مائی باپ بنا بیٹھا ہے، اس لیے ٹرمپ کی خواہش ہے کہ روس اور امریکا ایک دوسرے کا شملہ بلند رکھنے کی تدبیر کریں. امریکا یوکرائن کو روسی شرائط ماننے پہ آمادہ کرے، جبکہ روس ایران کو امریکا کے من چاہے نکات تسلیم کرنے پہ راضی کرے.
اب واپس آئیے اس نکتے کی جانب کہ محسن رضائی نے جاتے ماہ میں دو بار کہا ہے کہ ایران یورینیم ملک سے باہر بھیجنے کے لیے تیار نہ ہوگا. دوسری جانب روس پچھلے ڈیڑھ سال میں دو بار کہہ چکا کہ وہ ایرانی یورینیم اپنے ہاں منتقل کرنے کے لیے تیار ہے. اگر یورینیم کا کوئی حل نکلتا ہے تو امریکا کے ہاتھ فتح کے شادیانے بجانے کا مضبوط جواز آجائے گا.
اگر ایران جھکنے پہ راضی نہیں ہوتا تو پھر اس بات کا قوی امکان ہے کہ نومبر کے وسط تک دوبارہ جنگ چھڑ جائے. اگر ٹرمپ وسط مدتی انتخابات میں ناکام رہتے ہیں تو جنگ کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے. کیونکہ شکست کی وجہ غیر یقینی کی صورت حال اور مہنگائی قرار پائے گی. ٹرمپ ایران کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے سوچیں گے کہ جو ہونا تھا ہوگیا، اب کیوں نہ سخت ترین حملوں کی صورت میں دل کے پھپھولے پھوڑے جائیں. اسرائیل میں آج ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو اگر ہار بھی جاتے ہیں تو بھی وہ تقریباً 42 دن زمامِ اقتدار تھامے رکھیں گے. ایسے میں خوب گزرے گی جو مل بیٹھیں گے دیوانے دو. اس صورت حال میں اگر جنگ چھڑی تو سارا مشرق وسطیٰ آتش کدہ بن جائے گا.
اگر امریکا ایران معاملات پہ کچھ کہنا مقصود تھا تو ایک دن قبل قطری پیغام رسانی کا فریضہ نبھا چکے تھے. مکہ معاہدے کے ارکان ممکنہ نئی جنگ کے خطرے کی پیش بندی کے لیے گئے تھے . جنگ کی صورت میں ایران کے بعد سب سے زیادہ نقصان سعودی عرب کا ہوگا. اس کا سبب یمنی حوثی ہوں گے. نیز جنگی صورت حال کی وجہ سے ایران کے لیے بھی سعودی عرب پہ براہ راست حملوں کے لیے جواز تراشنا مشکل نہ ہوگا. چنانچہ یقیناً مذاکرات کی میز پر دیگر موضوعات پہ زیرِ بحث آئے ہوں گے، مگر دورے کا اصل مقصد جنگ کی صورت میں سعودی عرب کو نقصان سے بچانا ہے . ورنہ تینوں ارکان کبھی بھی اکٹھے جماعت کی شکل میں دورہ نہ کرتے.
جب یہ نتیجہ اخذ کیا جاچکا کہ دورے کا تعلق ایران سعودی عرب اور یمن کی تکون سے تھا تو ایسے میں کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پہ مذاکرات ہوئے ہوں گے. سعودی عرب صنعا کے حصول سے کم پر راضی نہیں ہوسکتا. جواب میں ممکنہ طور پر ایران کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اول تو امریکا کو جنگ سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے گی. اگر بالفرض جنگ چھڑ گئی تو واشنگٹن سے کسی بھی قسم کا تعاون نہیں کیا جائے گا.
بہتری کی امید رکھنی چاہیے، مگر بدقسمتی سے چھٹی حس چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ آنے والا وقت ثابت کرے گا کہ یہ محض آوت جاوت کی مشق تھی. کیونکہ ایران اپنی پراکسیز سے کسی بھی قیمت پہ دستبردار نہیں ہوسکتا. عین اجلاس کے دن حوثیوں کے سعودی عرب پہ حملے بہت کچھ سمجھا اور بتا رہے ہیں . ایسے میں بہت ہوا بھی تو جنگ کا خطرہ ٹلنے تک خاموشی اختیار کی جاسکتی ہے ، مگر ہمیشہ کے لیے دشمنی و عداوت کا قصہ ختم سمجھنا خود فریبی ہوگی . البتہ دورے کا اتنا فائدہ ضرور ہے کہ مکہ معاہدے کے ارکان آخری مگر بھرپور کوشش کی صورت میں اپنی طرف سے اتمامِ حجت کر چکے. اب بال ایران کے کورٹ میں ہے .
صورت حال میں تازہ بدلاؤ یہ آیا ہے کہ مصری پارلیمنٹ نے بھی اپنی حکومت کو یمنی معاملے پر سعودی عرب سے فوجی تعاون کی اجازت دے دی ہے.
بشکریہ فیس بک وال


