کیا مولانا فضل الرحمن کا سیاسی محاصرہ کیا جارہا ہے؟-اسلم اعوان

ملک کی موجودہ سیاسی صورتِ حال میں اگرچہ بظاہر تحریکِ انصاف اور ریاستی مقتدرہ کے مابین جاری کشمکش نے پورے سیاسی منظرنامے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، لیکن اس ہنگامہ خیز ماحول کے پسِ پردہ ایک اور اہم سیاسی محاذ بھی سرگرمِ عمل دکھائی دیتا ہے، جس کا تعلق مذہبی جماعتوں، بالخصوص جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی)، کے سیاسی کردار اور مستقبل سے ہے۔

بظاہر سیاسی محاذ آرائی کی تمام تر توجہ پی ٹی آئی اور مقتدرہ کے تنازعے پر مرکوز ہے، مگر اس شور و غوغا کے سائے میں مذہبی سیاسی قوتوں کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوششوں کے خدشات بھی سر اٹھا رہے ہیں۔ جے یو آئی اپنی نظریاتی وابستگی، منظم مذہبی و سیاسی نیٹ ورک اور عوامی اثر و رسوخ کے باعث ایک ایسی قوت کی حیثیت رکھتی ہے جسے ملکی سیاست سے الگ تھلگ کرکے نظرانداز کرنا آسان نہیں۔

یہ تاثر بھی تقویت پا رہا ہے کہ جے یو آئی کی سیاسی قوت ریاستی مقتدرہ کی بعض داخلی اور خارجی پالیسیوں کے لیے ایک ممکنہ رکاوٹ بن سکتی ہے، خصوصاً وہاں جہاں مذہبی نظریات، قومی مفادات اور حکومتی ترجیحات ایک دوسرے سے متصادم ہوں۔ چنانچہ اصل سوال یہ نہیں کہ سیاسی محاذ پر کون کس سے برسرِ پیکار ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس تمام سیاسی ہنگامہ آرائی کے دوران طاقت کے توازن میں کس کی حیثیت کم ہو رہی ہے، کس کے لیے سیاسی گنجائش محدود کی جا رہی ہے، اور مستقبل کے پاکستان میں مذہبی سیاسی قوتوں کا کردار کیا باقی رہ جائے گا؟

یہ محض سیاسی منظرنامے کا ایک پہلو نہیں، بلکہ ملک کے مستقبل کے سیاسی و نظریاتی تشخص سے جڑا ایک بنیادی سوال ہے۔ تاہم، جے یو آئی کو محدود کرنے کے کسی منظم ریاستی منصوبے کے دعوے کا حتمی فیصلہ ٹھوس شواہد اور واقعات کے غیر جانب دارانہ تجزیے ہی سے ممکن ہے۔

امر واقعہ یہ ہے کہ پشاور کی انتظامیہ نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے صوبائی سیکرٹریٹ، مفتی محمود مرکز، کے مبینہ تجاوز شدہ حصے کو گرانے کا فیصلہ فی الحال مؤخر کر دیا۔ تاہم، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ مناسب وقت آنے پر مرکز کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

اس صورتِ حال کو محض ایک انتظامی معاملہ سمجھنے کے بجائے ملک کے وسیع تر سیاسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی مقتدرہ مستقبل کے سیاسی بندوبست میں مذہبی جماعتوں، بالخصوص جے یو آئی جیسی بڑی مذہبی و سیاسی قوت، کے کردار کو محدود کرنا چاہتی ہے۔ جے یو آئی کا اثر و رسوخ صرف انتخابی سیاست تک محدود نہیں، بلکہ اس کا ایک مضبوط نظریاتی اور مذہبی پس منظر بھی ہے، جس کے ساتھ ملک کی سب سے بڑی مسلکی تحریک، تبلیغی جماعت، سے وابستہ وسیع اور بااثر مذہبی حلقوں کے علاؤہ ملک بھر میں دیوبند مکتب فکر کے ہزاروں مدارس کا تعلق یا نظریاتی اشتراک پایا جاتا ہے۔

اس تناظر میں یہ تاثر بھی سامنے آتا ہے کہ 2024 کے الیکشن کے دوران پہلے مرحلے میں جے یو آئی کی سیاسی قوت کو کمزور کرنے، اسے مرکزی دھارے کی قومی سیاسی جماعتوں سے بدظن کرنے اور بتدریج سیاسی تنہائی کی طرف دھکیلنے کی موثر کوشش کی گئی۔ اسی طرح یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ ملک کی بعض دیگر مذہبی جماعتوں اور بالخصوص الرشید ٹرسٹ سے وابستہ دیوبندی علما کو مولانا فضل الرحمٰن کے مقابل صف آرا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔

مزید برآں، تحریکِ ختمِ نبوت کی نمایاں شخصیات میں شمار ہونے والے مولانا اللہ وسایا کے حوالے سے بھی یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بعض فرقہ وارانہ اور مناظرانہ تنازعات نے انہیں مولانا فضل الرحمٰن سے دور کر دیا۔ اس ضمن میں جے یو آئی سے وابستہ بعض افراد، بالخصوص مفتی واحد قریشی، کے کردار پر بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ تاہم، ان معاملات کے اسباب اور مختلف شخصیات کے مابین اختلافات کو سمجھنے کے لیے متعلقہ فریقین کا مؤقف اور مستند شواہد بھی سامنے آنا ضروری ہیں۔

اگر ان سیاسی اور مذہبی حالات کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو ایک اہم سوال جنم لیتا ہے: کیا مولانا فضل الرحمٰن کو سیاسی طور پر تنہا، مذہبی طور پر متنازعہ، ملک کے دینی حلقوں کو باہم تقسیم کرکے جے یو آئی کو دباؤ میں لانے کی کوششیں محض پاور پالیٹکس کا کھیل ہے یا کسی بڑے سیاسی منصوبے کا حصہ ہیں؟

یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مختلف انتظامی اقدامات اور سیاسی تنازعات کے ذریعے جے یو آئی کو ردِعمل پر مجبور کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے خلاف مزید سخت کارروائیوں کا جواز پیدا ہو۔ ناقدین کے نزدیک، اس عمل کا ایک ممکنہ نتیجہ قومی سیاست میں مذہبی جماعتوں کے اثر و رسوخ میں کمی اور ایک ایسے سیاسی و سماجی ماحول کا فروغ ہو سکتا ہے جسے وہ سیکولرائزیشن یا معاشرے کی بتدریج غیر مذہبی سیاسی تشکیل سے تعبیر کرتے ہیں۔

تاہم، یہ تمام خدشات اور سیاسی تشریحات ہیں، انہیں کسی منظم ریاستی منصوبے کا ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوں گے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی معاشرے کے مجموعی ڈھانچہ میں گہرائی تک جڑیں رکھنے والی مذہبی جماعتوں کے سیاسی کردار کو محدود کرنے کی کوئی منظم حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے یا موجودہ صورتِ حال مختلف انتظامی فیصلوں، سیاسی اختلافات اور مذہبی حلقوں کے باہمی تنازعات کا نتیجہ ہے؟

اس سوال کا جواب محض قیاس آرائی سے نہیں بلکہ واقعاتی شواہد، سیاسی فیصلوں کے تسلسل اور تمام متعلقہ فریقین کے بتدریج بدلتے ہوئے مؤقف کا غیر جانب دارانہ جائزہ لینے سے ہی سامنے آ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں