ایک تصویر ۔کئی یادیں / مہناز رحمن

ہماری دوست نرگس رحمان آج کل اپنی تنظیم ویمن پیس فائونڈیشن کی سرگرمیوں کی دستاویز بندی میں مصروف ہیں۔1996 یا شاید 1997کی ایک تقریب میں انہیں ہم تقریر کرتے دکھائی دئیے تو وہ تصویر ہمیں واٹس ایپ کر دی۔ بس پھر کیا تھا ، بہت سی کہانیاں یاد آ کے رہ گئیں۔اس تصویر میں ہم نے سر پر اسکارف لپیٹاہوا ہے۔اسکارف باندھنے کی وجہ یہ تھی کہ سر پر بال اگنے کا انتظار ہو رہا تھا۔ چلئے اور پیچھے چلتے ہیں ۔1985 تا 1993چین میں قیام کے آخری سالوں میں آدھے سر میں درد رہنے لگا تھا۔اس کے کچھ عرصہ بعد اکثر بازو سن ہو جاتے تھے اور یوں لگتا تھا کہ فالج کا حملہ ہونے والا ہے۔ اپنے مترجم کے ساتھ جا کے چینی ڈاکٹروں کو یہ بات بتاتے تھے تو وہ ہنس کر کہتے تھے، آپ کا اتنا ایکٹیو لائف اسٹائل ہے، آپ ڈرائیونگ بھی کرتی ہیں، آپ کو فالج کیوں ہونے لگا۔اور ہم خاموش ہو جاتے تھے۔ جون 1993 میں کراچی واپس آئے تو امی نے ہماری شکل دیکھ کر شور مچایا بقول ان کے ہم بہت کمزور ہو چکے تھے۔ان دنوں ہماری بیٹی فیفے ڈائو میڈیکل کالج میں پڑھ رہی تھیں۔وہ ہمیں اپنے میڈیسن کے پروفیسر ڈاکٹر شعیب کے پاس لے گئیں۔انہوں نے ہماری باتیں سن کر مختلف طرح کے ٹیسٹوں کی لمبی فہرست تھما دی اور ساتھ ہی سی ٹی اسکین کرانے کو بھی کہا۔ہم مشین میں لیٹے ہوئے شیشے میں سے دوسری طرف کھڑے ہوئے صاحب کو دیکھ سکتے تھے۔ اچانک وہ کچھ پریشان ہو کر باہر چلے گئے اور ڈاکٹر صاحب کو لے کر آ گئے۔میں اسی وقت سمجھ گئی کہ انہیں ہمارے دماغ میں کچھ نظر آ گیا ہے۔امی باہر میرے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ڈر کے مارے میرا برا حال تھا لیکن میں نے اپنی پریشانی ان پر ظاہر نہیں کی۔کچھ دن بعد میں رپورٹ لینے امی کی بجائے فیفے کو ساتھ لے کر گئی۔ اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ دماغ میں ٹیومر تھا اور نام اس کا،تھا میننجیوما۔ اس وقت ڈاکٹر جمعہ کا،انتقال ہو چکا تھا اور ڈاکٹر بھٹی کو لوگ نمبر ون نیو رو سرجن مانتے تھے۔ ہماری خوش قسمتی کہ ہمارا،آپریشن ان ہی نے کیا۔سرجری سے پہلے سر کے بالوں پر استرا پھیر دیا گیا تھا اور نئے بال آنے تک ہمیں کئی مہینے اسکارف اوڑھنا پڑا تھا اس زمانے میں مجھے پھول بہت پسند تھے اور گھر کی تقریبات میں میری ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ لوگ جوڑے اور مٹھائی کی بجائے میرے لئے پھول لے کر آئیں مگر مجھے بالکل اندازہ نہیں تھا کہ اک دن میری یہ خواہش ہسپتال میں پوری ہو گی۔ احفاظ کی طرح فیفے کا بھی میڈیکل کالج میں حلقہء احباب بہت وسیع تھا۔اور میرا کمرہ ہمیشہ پھولوں سے بھرا رہتا تھا۔اور میں سوچتی تھی کہ خواہش،پوری بھی ہوئی تو کہاں اور کیسے۔امی، احفاظ، فیفے اور رمیز، بھائیوں اور سارے احباب نے جتنا میرا،دھیان رکھا، ان کی محبتوں کا قرض میں کبھی نہیں چکا سکتی۔ سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا لیکن اس زمانے میں اس،اسپتال میں لیبارٹری کی سہولت نہیں تھی اور خون کے نمونے کہیں اور بھیجے جاتے تھے۔ ہمارے سفید خلیئے زیادہ نکلے تو،بھٹی صاحب جو سرجری کرتے کرتے بقول خود ان کے میڈیسن بھول چکے تھے،نے میری وہ دوائی بندکروا دی جو سرجری کے بعد لینا ضروری تھی۔نتیجہ یہ ہوا،کہ مجھے دورہ پڑ گیا۔ میڈیسن کے ایک پروفیسر کے پاس،گئے تو انہوں نے کہا،کہ اب مجھے ساری عمر مرگی کی دوائی کھانا ہو گی جو ہم نے فرمانبرداری کے ساتھ کھانا شروع کر دی۔ کچھ سالوں بعد ہماری چھٹی حس نے کام دکھایا اور ہم مرگی کے ایک اسپیشلسٹ کے پاس جا،پہنچے جنہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمیں تو یہ مرض کبھی تھا ہی نہیں اور ہم غیر ضروری طور پر یہ دوائی ( فینو باربی ٹون)کھا رہے تھے۔ بتدریج کم کرتے ہوئے یہ دوائی چھوڑی۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کی سرجری کے ایک ماہ بعد ہی ہم دفتر جانا شروع ہو گئی اور پھر عورت فاؤنڈیشن کی مردم شماری یا،افراد شماری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،تھا ۔اسے کہتے ہیں ورکوحلک ہونا ۔

اپنا تبصرہ لکھیں