سب نے مانا مرنے والا دہشت گرد اور قاتل تھا
ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا ( احمد سلمان)
میں ہمیشہ سے ماورائے عدالت قتل کے سخت خلاف رہا ہوں. اس کے باوجود ملتان کے واقعے نے مجھے ایک عجیب کشمکش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ننھے وسیم کو جان بچانے کے لیے بھاگتے اور پھر سفاکانہ انداز میں گاڑی کے نیچے کچلے جاتے دیکھ کر کون سا انسان ہوگا جس کا دل نہ دہل جائے؟ بلاشبہ یہ ایک انتہائی بھیانک جرم تھا اور اس کے مرتکب کو سخت سزا ملنی چاہیے تھی مگر کیا کسی کے بھیانک جرم سے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کا جواز پیدا ہو جاتا ہے؟ برائی کو برائی سے ختم کرنا قطعی ناممکن ہے۔ ماورائے عدالت قتل غیر قانونی، غیر شرعی اور غیر اخلاقی عمل ہے۔ آج ملتان میں ایک ملزم پولیس کے ہاتھوں مارا گیا، کل کسی بے گناہ کو بھی اسی طرح مار دیا گیا تو ذمہ دار کون ہوگا؟
جب یہ خبر آئی کے اسے سی سی ڈی نے مار دیا ہے۔تو مجھے خوشی کے بجائے ایک خوف محسوس ہوا۔ اس خاندان کے لیے افسوس ہوا جس کا جوان بیٹا بغیر مقدمہ چلائے مارا گیا۔ ایسا شخص جس کا کوئی ایسا کرمنل ریکارڈ بھی نہیں تھا۔ غصے میں اس سے حادثہ ہوا اور سب اس کے خون کے پیاسے بن گئے۔ خاص طور میڈیا سے حرام کی کمائی کرنے والے “جھوٹیوبرز”۔ بقول اس کے اس کا ارادہ گاڑی کو گھما کر بچے کا راستہ روکنا تھا۔ آپ غور سے دیکھیں جہاں سے اس نے گاڑی کو گھمایا وہاں ماربل لگے ہوئے تھے۔ گاڑی کے ٹائر سلپ ہوگئے۔ گاڑی بے قابو ہوگئی اور بچہ زد میں آگیا۔ اس کا اردہ اسے جان سے مارنے کا تو بالکل بھی نہیں تھا۔ مجھے اس بچے کے قاتل سے کوئی ہمدردی نہیں مگر قرائن بتاتے ہیں اس سے یہ غلطی دانستہ نہیں ہوئی اچانک ہوگئی ہے۔ جو شاید پنجاب پولیس کی سمجھ میں نہیں آیا۔ایک یتیم کا بدلہ لینے کےلئے ریاست نے مزید بچے یتیم کر دیئے۔
ننھے وسیم کی ویڈیو سامنے آنے کے ساتھ ساتھ جواد حیدر نامی یتیم خانہ کا انچارج بھی سامنے آیا تھا۔ اس نے پولیس کو موقع پہ بیان دیا تھا کہ وسیم ان کے یتیم خانہ میں رہتا تھا اور کام سیکھنے کے سلسلہ میں باہر جاتا تھا۔چونکہ اس وقت تمام فوکس صرف توقیر پہ تھا سو بعد میں جیسے ہی اداروں کا فوکس یتیم خانہ پر ہوا تو علم ہوا کہ ان کا یہ پروجیکٹ غیر منظور شدہ تھا ۔یہ بچوں سے مزدوری کرواتے تھے ۔چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے ایکشن لیا۔جس کی وجہ ان پر ایف آئی آر درج ہوئی اور رات کے وقت 16 چھوٹے بچوں کو چائلڈ پروٹیکشن والوں نے اپنی تحویل میں لے لیا ۔اب عوام کو کوئی علم نہیں کہ بعد میں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوا ۔
بر ٹرینڈ رسل کا کہنا ہے۔ “سپاہی ایک تربیت یافتہ قاتل ہوتا ہے اسے نکیل ڈالے رکھنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے۔” اس حوالے سے پولیس ریمانڈ کے دوران ملزمان کو یوں پھڑکانے کا جو رواج چل پڑا ہے، اس کے معاشرے پر اس سے بھی زیادہ بھیانک اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اگر ماورائے قانون قتل ہی انصاف کا معیار بنانا ہے تو پھر عدالتیں کس لیے ہیں؟ عدلیہ، وکلا اور پورے عدالتی نظام پر قومی خزانے سے اربوں روپے خرچ کرنے کا کیا فائدہ؟ پھر تو بہتر آپشن یہ ہے کہ ایک ایس ایچ او کو ہی تمام اختیارات دے دیں؛ وہی تفتیش کرے، فیصلہ سنائے اور سزا سنا دے۔ کم از کم عدالتوں کے چکر، وکلا کی فیسیں اور برسوں کے انتظار کی اذیت تو ختم ہو جائے گی۔
یہاں ایک سوال اور بھی پیدا ہوتا ہے۔ جو ریاست دو دن میں ملزم ڈھونڈ کر مار سکتی ہے، وہ کئی مقدموں میں برسوں سے خاموش کیوں ہے۔وسیم عباس انیس اکتوبر کو مارا گیا۔ دو دن بعد اکیس اکتوبر کی صبح توقیر نذیر بھی مارا جاچکا تھا۔ اس سے ایک دن پہلے نعمان پولیس کی حراست میں مارا جا چکا تھا۔ اس لحاظ سے ہم اتنی تیز ریاست ریاست کے چند اور مقدمات پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔۔
کراچی کے کارساز حادثے میں اگست 2024 میں ایک باپ اور بیٹی کی جان گئی۔ ملزمہ نتاشا دانش کو لواحقین نے اللہ کے نام پر معاف کر دیا اور عدالت نے صلح منظور کر لی۔ چار ستمبر 2026 کو وہ منشیات کے مقدمے سے بھی بری ہو گئی۔
اسلام آباد میں پی ٹی وی چوک کے قریب ایک اسکوٹر پر سوار دو لڑکیاں اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محمد آصف کے بیٹے ابوذر کی گاڑی کی ٹکر سے ماری گئیں۔ دفعہ تین سو بائیس کے تحت مقدمہ درج ہوا، چار روزہ ریمانڈ ملا، اور پھر دونوں خاندانوں نے معاف کر دیا۔ پچاس ہزار روپے کے مچلکے پر رہائی ہو گئی۔
تین جولائی 2026 کو لاہور میں دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے رضا ڈار کا نام آیا۔ گرفتاری ہوئی، ڈی این اے نمونے بھیجے گئے۔ تین مہینے گزر گئے اور اس مقدمے کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح 2022 میں سوان پل کے قریب ایک جج کی بیٹی کی گاڑی سے دو افراد کچلے گئے، اور وہ تفتیش آج تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔
اس لئے پاکستان کے عدالتی نظام پر سوال اٹھتا ہے کہ یہاں سنگین جرائم کے ملزمان جرگوں، دباؤ اور سمجھوتوں کے ذریعے چھوٹ جاتے ہیں جبکہ مظلوم انصاف کے لیے دربدر پھرتے ہیں اور بااثر افراد قانون کی گرفت سے بچ نکلتے ہیں۔ جب عدالتیں جرائم کی روک تھام اور مظلوموں کو انصاف دینے میں ناکام دکھائی دیں تو عوام کے ذہنوں میں ان کی افادیت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔اگر قانون کی حکمرانی قائم کرنی ہے تو انصاف بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ نہ طاقتور قانون سے بالاتر ہو اور نہ کسی عام شہری کو قانونی کارروائی اور عدالتی فیصلے کے بغیر سزا دی جائے۔ یا پھر اس کا مطلب یہ بتانا ہے کہ، اگر آپ طاقتور ہیں تو آپ جرم کر سکتے ہیں! لیکن اگر آپ عام آدمی ہیں تو جرم کے چوبیس گھنٹوں میں، بنا قانون کے بھی، آپ کو سزا مل سکتی ہے۔سی سی ڈی نے آٹھ مہینوں میں نو سو سے زیادہ لوگ مارے۔ یہ قانون کی ناکامی نہیں۔ یہ قانون کا نیا طریقہ ہےکہ غریب کے لیے گولی، امیر کے لیے صلح، اور بیچ والے کے لیے انتظار۔
ایسا لگتا ہے کہ ہو کچھ یوں رہا ہےکہ جب کوئی سنگین جرم ہوتا ہے سوشل میڈیا پر “جھوٹیوبرز” اپنی کمائی کے لئے اس جرم کو اپنے اپنے اینگل سے وائرل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ جو عام طور پر منفی ہوتا ہے اور یوں پبلک اور پولیس کی ذہن سازی ہونی شروع ہونے لگتی ہے اور سی سی ڈی طرز کے مبینہ پولیس مقابلے شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر جب کوئی سنگین جرم سوشل میڈیا پر وائرل ہو جائے تو گرفتار ملزمان کبھی پولیس حراست سے فرار ہو جاتے ہیں یا پھر کبھی ان کے ساتھی انہیں چھڑانے آ جاتے ہیں اور فائرنگ کے نتیجے میں ملزم مارا جاتا ہے۔
نتیجتاً کئی سوال پیدا ہوتے ہیں کہ کیا اب سنگین جرائم کا فیصلہ عدالتوں کے بجائے سوشل میڈیا پر عوامی غصہ اور پولیس مقابلے کریں گے؟ کیا پولیس مقابلوں پر عوام کے ایک حصے کی خوشی دراصل پولیس پر اعتماد کا اظہار ہے یا عدالتوں سے مایوسی کا؟کہیں ایسا تو نہیں کہ لوگ پولیس مقابلوں کو اس لیے سراہنے لگے ہیں کہ انہیں یقین ہی نہیں رہا کہ عدالتوں سے بروقت انصاف مل سکے گا؟
معاشروں میں جرائم ہوا کرتے ہیں اور ملزمان کو پکڑنا اور سزا دلوانا حکومت کا کام ہوتا ہے مگر یہ ہمارے ہاں یہ کیا کام شروع کر دیا گیا ہے ۔ معذرت مگر یہ کسی مہذب معاشرے کا طریقہ نہیں۔ ملک میں پہلے ہی فرسٹریشن اور ہیجان انگیزی کا عالم ہے۔ خدا کے لئے ا س ملک میں پتھر کے دور کا انصاف لانے کی کوشش نہ کریں۔ اس سے معاشرے میں لاقانونیت کا جو زہر پھیلے گا ۔یہ بیک فائر کرے گا ۔ کل لوگ خود ہی یہ کام کرنا شروع کر دیں گے۔مجرم کو سزا نہ ملنا انصاف کی ناکامی ہے، لیکن ملزم کا عدالت پہنچنے سے پہلے مارا جانا انصاف کی کامیابی نہیں۔اگر پولیس مقابلہ ہی انصاف کا متبادل بن گیا تو کل کسی بے گناہ کو مجرم قرار دے کر مارنے سے کون روکے گا؟
عوام کو فوری انصاف چاہیے، پولیس مقابلے نہیں۔ریاست کا اصل امتحان مجرم کو مارنا نہیں، جرم ثابت کرکے قانون کے مطابق سزا دلوانا ہے۔ اس کےلئے فوری طور پر درج ذیل اقدامات کیے جا سکتے ہیں؛
پولیس مقابلے عدالت کا متبادل ہرگز نہیں ملک میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں انہیں اپنا کام کرنے دیں۔ عدالتی نظام ٹھیک کرنے پر توجہ دیں۔انصاف میں تیزی لائیں۔ موجودہ عدالتوں میں مخصوص جج اور مسلسل سماعت کا نظام بنایا جائے۔ پولیس کو محض ملزم گرفتار کرنے کے بجائے سائنسی شواہد جمع کرنے کا پابند بنایا جائے۔ پراسیکیوشن مضبوط ہو ، گواہوں کو تحفظ ملے اور مقدمہ عدالت پہنچنے سے پہلے شواہد کی قانونی جانچ ہو تاکہ مجرم تفتیش کی خامیوں سے فائدہ نہ اٹھا سکیں۔ خاص طور پر زیرِ حراست ملزم کی ہر غیر طبعی موت کی لازمی، آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہوں۔ اس قسم کے کسی بھی معاملے کی پیش رفت اور نتائج عوام کے سامنے رکھے جائیں۔
لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود تمام “جھوٹیوبرز”پر جو اپنی کمائی کے لئے کسی بھی جرم کو اپنے اپنے منفی اینگل سے وائرل کرنا شروع کر دیتے ہیں ۔ یو ں یہ معاملہ عوامی بن جاتا ہے ۔ جس کے زیر اثر پولیس اور دوسرے ادارے کبھی کبھار فوری طور پر انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پے اس کی فوری روک تھام کی جائے اور انھیں پابند کیا جائے کہ جب تک مقدمے کا فیصلہ کورٹ سے نہ آجائے وہ اس معاملے کو ہر گز نہ اچھالیں ۔


