11 ستمبر 2001ء: ایک دن جس نے دنیا کا سیاسی، جغرافیائی اور معاشی نقشہ بدل دیا/شہباز الرحمن خان

کتاب: In the Line of Fire – A Memoir
مصنف: جنرل پرویز مشرف
باب نمبر 20: One Day That Changed the World

—

ایک واقعہ، جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا

11 ستمبر 2001ء جدید انسانی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جسے دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ یہ محض امریکہ پر ہونے والا ایک دہشت گرد حملہ نہیں تھا بلکہ عالمی سیاست، بین الاقوامی تعلقات، جغرافیائی ترجیحات، معاشی مفادات اور تہذیبی و سماجی رویّوں میں ایک بنیادی تبدیلی کا نقطۂ آغاز تھا۔ اس روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز اور امریکی محکمہ دفاع کے مرکزی دفتر پینٹاگون کو دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں نے نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کو ایک ایسے نئے عالمی منظرنامے سے روشناس کرایا جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف نے اپنی خودنوشت سوانح عمری In the Line of Fire کے باب نمبر 20، جس کا عنوان ’’One Day That Changed the World‘‘ ہے، میں اس تاریخی دن کے اپنے ذاتی مشاہدات اور تجربات بیان کیے ہیں۔ ان کے مطابق 11 ستمبر کی شام وہ کراچی میں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے مزار کے خوب صورت باغات میں جاری کام کا معائنہ کر رہے تھے۔ اسی دوران انہیں اطلاع دی گئی کہ نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ایک ٹاور سے طیارہ ٹکرا گیا ہے۔

ابتدائی طور پر انہوں نے اس خبر کو ایک حادثہ تصور کیا، لیکن جب وہ اپنے دفتر واپس پہنچے اور سی این این پر براہِ راست مناظر دیکھے تو انہیں اندازہ ہوا کہ یہ کوئی معمولی فضائی حادثہ نہیں بلکہ ایک منظم اور غیر معمولی دہشت گرد حملہ تھا۔ دو مسافر بردار طیارے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاورز سے ٹکرائے، ایک اور طیارہ پینٹاگون سے ٹکرایا جبکہ چوتھا طیارہ پنسلوانیا کے ایک میدان میں گر کر تباہ ہوگیا۔

مشرف لکھتے ہیں کہ جب انہوں نے دونوں ٹاورز کو اپنی آنکھوں کے سامنے گرتے دیکھا تو انہیں احساس ہوا کہ دنیا ایک ناقابلِ واپسی تبدیلی کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ انہیں یہ بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ اس واقعے کے اثرات صرف امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پاکستان بھی اس نئی عالمی کشمکش کی صفِ اول میں کھڑا ہونے والا ہے۔

عالمی سیاست کا نیا باب اور افغانستان کی جنگ

11 ستمبر کے واقعات کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا اعلان کیا اور افغانستان میں القاعدہ کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا۔ اس وقت افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم تھی اور القاعدہ کی قیادت اس سرزمین پر موجود تھی۔ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت، افغانستان کے ساتھ طویل سرحد، تاریخی تعلقات اور اس وقت طالبان حکومت کے ساتھ سفارتی روابط نے پاکستان کو اس بحران کا ایک اہم فریق بنا دیا۔

امریکہ کے سامنے ایک واضح ہدف تھا: القاعدہ کے نیٹ ورک کو ختم کرنا اور افغانستان میں طالبان حکومت کو اقتدار سے ہٹانا۔ لیکن پاکستان کے لیے صورتِ حال کہیں زیادہ پیچیدہ تھی۔ ایک طرف دنیا کی سب سے طاقتور ریاست کے مطالبات اور دباؤ تھے، دوسری طرف اپنی قومی سلامتی، علاقائی مفادات، داخلی استحکام اور افغانستان کے ساتھ تاریخی و جغرافیائی تعلقات کو محفوظ رکھنے کا چیلنج تھا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب پاکستان کی قیادت کو ایسے فیصلے کرنا پڑے جن کے اثرات محض چند برسوں تک محدود نہیں رہنے تھے بلکہ آنے والی نسلوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی مستقبل پر بھی مرتب ہونے تھے۔

جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں اس وقت کے حالات، امریکی دباؤ، پاکستان کے فیصلوں اور اپنی ذاتی سوچ کو ایک حکمران کی حیثیت سے بیان کیا ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے قاری کو یہ سمجھنے کا موقع ملتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے ساتھ معاملات طے کرتے وقت ایک ریاست کے سربراہ کو کس نوعیت کے سیاسی، سفارتی اور قومی سلامتی کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہاں کتاب کا ایک اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے: اقتدار کے بلند ترین منصب پر بیٹھا شخص بظاہر ریاست کی طاقت اور اختیار کا نمائندہ ہوتا ہے، لیکن عالمی دباؤ اور قومی مفادات کے درمیان فیصلے کرتے ہوئے اسے بھی شدید سیاسی اور ذاتی کشمکش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مشرف کی خودنوشت اسی داخلی کشمکش کو ان کے اپنے نقطۂ نظر سے سمجھنے کا ایک ذریعہ فراہم کرتی ہے۔

سرمایہ دارانہ نظام، عالمی طاقتیں اور نئے تزویراتی مفادات

11 ستمبر کے بعد عالمی سیاست میں آنے والی تبدیلیوں کو صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ اس دور میں عالمی طاقتوں کے تزویراتی مفادات، علاقائی اثر و رسوخ، توانائی کے وسائل، تجارتی راستوں اور جغرافیائی برتری کے سوالات بھی نمایاں طور پر سامنے آئے۔

تنقیدی سیاسی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو افغانستان کی جنگ کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور بڑی طاقتوں کے وسیع تر سیاسی و معاشی مفادات سے الگ کرکے نہیں سمجھا جا سکتا۔ افغانستان کا محلِ وقوع جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم جغرافیائی رابطے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خطے میں عالمی طاقتوں کی دلچسپی صرف افغانستان کی داخلی سیاست تک محدود نہیں رہی۔

بلاشبہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے اپنے سلامتی کے تقاضے تھے، لیکن اس جنگ کے ساتھ عالمی طاقتوں کی علاقائی ترجیحات، عسکری موجودگی اور سیاسی اثر و رسوخ کے سوالات بھی جڑے رہے۔ ناقدین کے نزدیک اس پورے عمل میں طاقتور ریاستوں کے مفادات نے کمزور ممالک کی سیاسی خودمختاری اور معاشی ترجیحات کو بھی متاثر کیا۔

افغانستان اس طویل عالمی کشمکش کا میدان بنا اور پاکستان، اپنی جغرافیائی قربت اور سیاسی فیصلوں کے باعث، اس کے اثرات سے محفوظ نہ رہ سکا۔

پاکستان کی قربانیاں: انسانی جانوں سے معاشی تباہی تک

اس عالمی جنگ کی سب سے بھاری قیمت پاکستان نے ادا کی۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ارکان کی بے شمار قربانیاں دیں۔ دہشت گردی نے ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں زندگی کے معمولات کو بری طرح متاثر کیا۔ خودکش حملے، بم دھماکے، مسلح کارروائیاں، فوجی آپریشنز اور داخلی نقل مکانی ایک طویل قومی المیے کی صورت اختیار کر گئے۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے مطابق دہشت گردی کے خلاف دو دہائیوں سے زائد عرصے میں 90 ہزار سے زیادہ پاکستانی اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جبکہ معاشی نقصانات 150 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ ستمبر 2024ء میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے بھی ایک سرکاری سیمینار میں 80 ہزار سے زیادہ جانی نقصانات اور تقریباً 150 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا ذکر کیا تھا۔

یہ اعداد و شمار محض سرکاری دستاویزات یا معاشی رپورٹس کے ہندسے نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کے بکھرنے، بچوں کے یتیم ہونے، گھروں کے اجڑنے، کاروبار تباہ ہونے اور معاشرتی زندگی کے متاثر ہونے کی ایک طویل داستان ہیں۔

اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان کو نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان اٹھانا پڑا بلکہ سرمایہ کاری میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں تعطل، ترقیاتی منصوبوں کی سست روی، سیاحت کے شعبے کی تباہی، داخلی نقل مکانی اور معاشرتی بے یقینی جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

ایک ایسا ملک جسے اپنی توانائیاں تعلیم، صحت، صنعت، ٹیکنالوجی، روزگار اور معاشی ترقی پر صرف کرنی چاہییں تھیں، اسے طویل عرصے تک دہشت گردی اور داخلی سلامتی کے مسائل سے نمٹنے پر اپنے وسائل صرف کرنا پڑے۔

یہاں سوال صرف مالی نقصان کا نہیں بلکہ اس ترقی کا بھی ہے جو ممکن تھی مگر مسلسل بدامنی اور عدم استحکام کے باعث متاثر ہوئی۔

افغانستان: جس کے لیے جنگ لڑی، اسی کے ساتھ تعلقات کا نیا بحران

تاریخ کا ایک اہم تضاد یہ بھی ہے کہ پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے کئی دہائیوں تک اپنے تزویراتی مفادات، علاقائی سلامتی اور سیاسی اثر و رسوخ کو اہمیت دی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئی پیچیدگیاں پیدا ہوتی گئیں۔

افغانستان میں طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد پاکستان کو یہ توقع تھی کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے گی اور افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم مسلح گروہوں کی کارروائیوں کا خاتمہ ہوگا۔ تاہم بعد کے حالات نے ان توقعات کو شدید آزمائش میں ڈال دیا۔

پاکستان کا مؤقف ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عناصر افغان سرزمین سے پاکستان کے اندر دہشت گرد کارروائیاں کرتے ہیں اور افغان طالبان حکومت ان کے خلاف مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔ دوسری طرف افغان طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2025ء کی ایک رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کی افغانستان میں موجودگی اور پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور عارضی جنگ بندیوں کے باوجود مستقل حل سامنے نہیں آ سکا۔

یوں ایک ایسا پڑوسی ملک جس کے ساتھ پاکستان مذہبی، ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی رشتے رکھتا ہے، آج بداعتمادی، سرحدی کشیدگی اور سلامتی کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

یہ صورتِ حال ہمیں مجبور کرتی ہے کہ ہم اپنی گزشتہ پالیسیوں، تزویراتی ترجیحات اور علاقائی حکمتِ عملی کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیں۔ کسی بھی ملک کے ساتھ تعلقات کی بنیاد صرف تاریخی قربت یا مذہبی مماثلت نہیں بلکہ باہمی احترام، خودمختاری، عدم مداخلت اور مشترکہ مفادات پر قائم ہونی چاہیے۔

ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا؟

یہ وہ بنیادی سوال ہے جس کا جواب آج بھی پاکستانی قوم، ریاستی اداروں، سیاسی قیادت اور پالیسی سازوں کو تلاش کرنا چاہیے۔

کیا پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں اپنے قومی مفادات کا مکمل تحفظ کیا؟ کیا ہمارے فیصلوں نے ملک کو داخلی امن، معاشی استحکام اور علاقائی برتری کی طرف گامزن کیا؟ کیا ہم نے اس جنگ میں اپنی قربانیوں کے تناسب سے کوئی پائیدار سیاسی، معاشی یا سفارتی کامیابی حاصل کی؟

یا ہم ایک ایسے عالمی تنازعے کا حصہ بن گئے جس کے ابتدائی فیصلوں میں ہمارے اپنے قومی مفادات اور مستقبل کے تقاضوں کو پوری طرح متوازن نہیں کیا جا سکا؟

یہ سوال کسی ایک شخصیت یا حکومت کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ قومی پالیسی کے تاریخی احتساب کے لیے اہم ہے۔ جنرل مشرف کے دور کے فیصلوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ ان سے پاکستان کو فوری طور پر کیا حاصل ہوا، طویل مدت میں کیا نقصانات ہوئے اور ان کے متبادل راستے کیا ہو سکتے تھے۔

ایک ریاست کے لیے سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہوتی کہ وہ کسی عالمی طاقت کی ترجیحات میں اپنی جگہ بنا لے، بلکہ اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، معاشی استحکام، داخلی امن اور عوام کے مستقبل کا تحفظ کر سکے۔

بدلتا ہوا عالمی نظام اور آنے والی نسلوں کا مستقبل

11 ستمبر 2001ء کے بعد دنیا نے دہشت گردی، سلامتی اور جنگ کے تصورات کو نئے انداز میں دیکھا۔ نگرانی کے نظام میں وسعت آئی، ریاستوں کے دفاعی بجٹ بڑھے، خارجہ پالیسیوں کی ترجیحات تبدیل ہوئیں اور عالمی طاقتوں نے اپنے سیاسی و عسکری اثر و رسوخ کو نئے انداز میں استعمال کرنا شروع کیا۔

اس دور میں مذہبی شناختوں، تہذیبی اختلافات اور معاشرتی تقسیم کے حوالے سے بھی نئی بحثیں سامنے آئیں۔ بعض معاشروں میں مسلمانوں کے بارے میں شکوک و شبہات اور اسلاموفوبیا میں اضافہ ہوا، جبکہ کئی مسلم ممالک کو داخلی سلامتی، سیاسی عدم استحکام اور بیرونی مداخلت جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نے عالمی سطح پر انسانی حقوق، ریاستی خودمختاری، فوجی مداخلت اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے بنیادی سوالات پیدا کیے۔ دنیا آج بھی اس بحث سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر طاقت کے استعمال کی حدود کیا ہونی چاہییں اور اس عمل میں عام شہریوں کے حقوق اور جانوں کا تحفظ کس طرح یقینی بنایا جائے۔

پاکستان کے لیے اس پورے تجربے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ قومی سلامتی کا تصور صرف فوجی طاقت یا سرحدوں کے دفاع تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حقیقی قومی سلامتی میں مضبوط معیشت، معیاری تعلیم، سماجی انصاف، سیاسی استحکام، جدید ٹیکنالوجی، داخلی ہم آہنگی اور خودمختار خارجہ پالیسی بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

تاریخ کا سبق اور قومی خود احتسابی

جنرل پرویز مشرف کی کتاب In the Line of Fire کا مطالعہ محض ایک سابق حکمران کی خودنوشت پڑھنے کا عمل نہیں بلکہ پاکستان کی حالیہ تاریخ کے ایک نہایت اہم اور پیچیدہ دور کو سمجھنے کی کوشش بھی ہے۔

اس کتاب میں بیان کردہ واقعات ہمیں یہ دکھاتے ہیں کہ 11 ستمبر کا واقعہ کس طرح ایک عالمی بحران سے بڑھ کر پاکستان کی قومی پالیسی، سلامتی اور مستقبل کا مسئلہ بن گیا۔ تاہم کسی بھی خودنوشت کو تاریخ کا آخری اور غیر متنازع فیصلہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ مصنف کے ذاتی مشاہدات اور مؤقف کو سرکاری دستاویزات، بین الاقوامی رپورٹس اور دیگر تاریخی مطالعات کے ساتھ ملا کر دیکھنا ہی ایک متوازن تاریخی فہم پیدا کرتا ہے۔

آج، جب ہم 11 ستمبر کے بعد کے پچیس برسوں کے سفر پر نظر ڈالتے ہیں، تو سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہم نے اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا ہے؟ کیا ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ عالمی طاقتوں کی ترجیحات مستقل نہیں ہوتیں، لیکن ان کے لیے کیے گئے ہمارے فیصلوں کے نتائج کئی نسلوں تک باقی رہ سکتے ہیں؟

تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی ریاست کی اصل طاقت اس کی خودمختار سوچ، مستحکم معیشت، مضبوط اداروں اور باشعور عوام میں ہوتی ہے۔ عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات ضرور اہم ہیں، لیکن ان تعلقات میں قومی مفاد، عوامی فلاح اور ریاستی خودمختاری کو بنیادی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔

11 ستمبر 2001ء صرف ایک دن نہیں تھا؛ یہ ایک ایسے عالمی دور کا آغاز تھا جس نے طاقت کے توازن، جنگوں کے طریقۂ کار اور ریاستوں کے مستقبل کو نئی شکل دی۔ پاکستان اس تاریخ کا محض تماشائی نہیں بلکہ اس کے اثرات کا ایک بڑا فریق رہا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ایسی قومی حکمتِ عملی تشکیل دیں جس میں کسی بیرونی طاقت کی ترجیحات کے بجائے پاکستان کے عوام، قومی سلامتی، معاشی ترقی اور آنے والی نسلوں کا مستقبل مقدم ہو۔

آخر میں سوال پھر وہی ہے:

ہم نے اس جنگ میں کیا کھویا، کیا پایا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم نے اپنی تاریخ سے کچھ سیکھا؟

یہ سوال صرف جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت کا نہیں بلکہ پاکستان کی ریاست، سیاسی قیادت اور پوری قوم کے اجتماعی شعور کا سوال ہے۔-

اپنا تبصرہ لکھیں