بھگت کنور رام: محبت کی آواز، سخاوت کی روح / رمیش راجا

یکم نومبر کو سندھ کی یادوں میں رُک اسٹیشن کی وہ رات پھر جاگ اٹھتی ہے، جب ریل تو اپنی پٹڑی پر آگے بڑھ گئی تھی، مگر محبت کا ایک مسافر لہو میں ڈوب گیا تھا۔ یکم نومبر 1939ء کو بھگت کنور رام کے سینے میں اترنے والی گولی نے ایک انسان کی زندگی ضرور چھین لی، لیکن اس کی آواز کو سندھ سے جدا نہ کر سکی۔ آج، یکم نومبر 2026ء کو، ان کی شہادت کو ستاسی برس مکمل ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے سُروں میں وہی تڑپ، ان کی یاد میں وہی نرمی اور ان کے نام میں وہی دعا باقی ہے۔ کنور کی داستان پڑھتے ہوئے ہمارے سامنے صرف ایک گلوکار نہیں آتا، بلکہ وہ سندھ بھی ابھرتا ہے جہاں مختلف عقیدوں کے لوگ ایک ہی محفل میں بیٹھ کر اپنے اپنے انداز میں خدا کو یاد کرتے تھے۔

اس آواز نے 13 اپریل 1885ء کو جروار کی مٹی میں جنم لیا۔ میرپور ماتھیلو کے قریب واقع یہ گاؤں اُس وقت ضلع سکھر کا حصہ تھا اور اب ضلع گھوٹکی میں شامل ہے۔ رہڑکی کی روایت کے مطابق، بھائی تاراچند اور ماتا تیرتھ بائی کے گھر پیدا ہونے والے بچے کا نام سنت سترام دھام کے گدی نشین سنت کھوتا رام صاحب نے رکھا۔ دھام کے روحانی تذکروں میں ان کی پیدائش کے ساتھ کھوتا رام کی دعائیں بھی منسوب ہیں۔ یہ دعائیں خاندان اور عقیدت مندوں کے سینوں میں محفوظ اُن عزیز یادوں کا حصہ ہیں جنہوں نے بچپن ہی سے کنور کو محبت کا سایہ عطا کیا۔

ان کا بچپن دولت اور آسائش میں نہیں گزرا۔ وہ اپنے والد کی تھوڑی سی زمین پر پرندے اڑاتے، رہٹ چلاتے اور گھر کے گزارے میں ہاتھ بٹاتے تھے۔ بعد میں ابلے ہوئے دانوں کی ٹوکری اٹھائے بازاروں میں نکلنے لگے۔ قدرت نے ان کی صدا میں ایسی مٹھاس رکھی تھی کہ روزی کمانے کی پکار بھی نغمہ بن جاتی۔ انہوں نے سندھی اور فارسی سیکھی، حیات پتافی کی دربار میں بھائی ہاسارام سے گُرمکھی پڑھی، اور خدمت کرتے ہوئے زندگی کے وہ سبق حاصل کیے جو محض کتابوں کے لفظ نہیں سکھا سکتے۔ البتہ کسی جدید تعلیمی درجے یا سند کا مستند ریکارڈ دستیاب نہیں۔

روایت ہے کہ جب ان کی سُریلی پکار سنت سترام داس صاحب کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے اس کی جانب توجہ کی۔ کنور کی آواز میں صرف کسی فروش کی صدا نہیں تھی، بلکہ ایک ایسے دل کی گونج تھی جو ابھی اپنی راہ تلاش کر رہا تھا۔ یہ شناسائی رفتہ رفتہ مرشد اور مرید کے تعلق میں بدل گئی۔ رہڑکی ان کا روحانی گھر بن گیا، جہاں بھگتی کی تربیت کے ساتھ انہوں نے یہ بھی سیکھا کہ عبادت کا ایک دروازہ خدمتِ خلق کی طرف کھلتا ہے۔

سنت سترام داس 25 اکتوبر 1866ء کو پیدا ہوئے اور 25 جنوری 1910ء کو وفات پائی۔ ان کے وصال کے بعد کنور رام نے خدمت اور روحانی رہنمائی کی اس روایت کو آگے بڑھایا۔ اگر سلسلۂ جانشینی کا آغاز سنت کھوتا رام سے کیا جائے تو کنور رام تیسرے گدی نشین تھے، اور اگر سترام داس سے شمار کیا جائے تو دوسرے۔ جانشینی کے شائع شدہ تذکروں میں ان کا دور 1910ء سے 1939ء تک درج ہے۔ کھوتا رام اور سترام داس کے بعد اس سلسلے میں کنور رام، چندی رام، بھگوان داس، کنیا لال، سادھ رام اور روہت لال کے نام آتے ہیں۔ کنور کے بعد چندی رام کی جانشینی یہ بھی واضح کرتی ہے کہ روحانی گدی کی وراثت اور اپنی اولاد کے ذریعے چلنے والا نسب ایک ہی چیز نہیں۔

کنور کی زندگی میں گھر اور خاندان کی دنیا بھی آباد تھی۔ 1903ء میں ان کی شادی منگھریاں کے زمیندار بھائی اوتو مل کی بیٹی گنگا بائی سے ہوئی۔ ان کے بیٹے بھگت پیسو رام 8 اگست 1917ء کو جروار میں پیدا ہوئے۔ 1935ء میں پیسو رام کی شادی زمیندار جیٹھانند کی بیٹی پریتن بائی سے ہوئی۔ انہوں نے اپنے والد کی موسیقی اور سخاوت کی راہ اپنائی۔ کنور کی شہادت کے بعد وہ چند برس کلکتے کی جانب واقع پاکوڑ میں منشی رہے، پھر سندھ لوٹ آئے۔ تقسیم کے تقریباً دس برس بعد، 1957ء کے آس پاس، وہ بھارت کے شہر امراوتی میں جا بسے، جہاں کنور رام نگر میں ان کے والد کی یاد سے وابستہ ایک آستان قائم تھا۔ اس لیے یہ دعویٰ درست نہیں کہ پورا خاندان 1947ء ہی میں سندھ چھوڑ گیا تھا۔

کنور جب لمبا کرتا یا جامہ پہنے، سرخ پگڑی باندھے اور پاؤں میں گھنگرو سجائے محفل میں آتے تو بھگتی اپنے تمام رنگوں کے ساتھ جلوہ گر ہو جاتی۔ موسیقی، قصہ گوئی، رقص اور روحانی کیفیت ایک دوسرے میں یوں گھل مل جاتے جیسے مختلف دھارے ایک دریا بن جائیں۔ ان کی آواز شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، سامی، کبیر اور میرا بائی کے کلام کو اپنائیت کی حرارت بخشتی تھی۔ سننے والے اپنے اپنے عقیدوں کے ساتھ آتے، مگر محفل سے ایک مشترکہ انسانی احساس لے کر اٹھتے تھے۔

خواہ ’’نالی الکھ جی بیڑو تار منھنجو‘‘، یعنی ’’الکھ کے نام پر میرا بیڑا پار لگا‘‘ کی دعا ہو، ’’کیئن ریجھایاں توکھی، کیئن پرچایاں‘‘، یعنی ’’تجھے کیسے راضی کروں، کیسے مناؤں‘‘ کی التجا، ’’لولی لال نوں ڈیواں‘‘، یعنی ’’اپنے لال کو لوری سناؤں‘‘ کی مامتا، ’’آءُ کانگا، کر گالھ‘‘، یعنی ’’آ، اے کوّے، کوئی خبر سنا‘‘ کی تڑپ، یا ’’اُڈر ونج طوطل‘‘، یعنی ’’اڑ جا، ننھے طوطے‘‘ کا بلند ہوتا آلاپ، ان کی گائیکی میں لفظ گویا دل کی اپنی آواز بن جاتے تھے۔ موسیقی کی فہرستوں میں ’’جیڈو تُہنجو نانءُ‘‘، ’’سچو سائیں سترام‘‘ اور ’’سترام پراپکاری‘‘ بھی شامل ہیں۔

اس دور کی سندھی موسیقی میں دوسرے روشن نام بھی موجود تھے۔ تھاروشاہ کے ماسٹر چندر، جن کا زمانۂ حیات 1907ء سے 1984ء تک ہے، کا پہلا ریکارڈ 1932ء میں جاری ہوا۔ کنور رام نے ان کی آواز سن کر ان کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ 1901ء میں پیدا ہونے والی جیونی بائی اپنی کافیوں اور گراموفون ریکارڈوں کے ذریعے مشہور ہوئیں، جبکہ شکارپور کے استاد بیبو خان، جو 1904ء سے 1952ء تک زندہ رہے، دھرپد، خیال، ٹھمری، دادرا اور سندھی کافی پر عبور رکھتے تھے۔ یہ سب کنور کے ہم عصر تھے۔

کنور کی محفل کی دوسری نمایاں پہچان ان کی جھولی تھی، جو نذرانے وصول کرنے کے لیے پھیلتی تھی۔ عقیدت مند جب روپے، سونا، چاندی اور تحائف پیش کرتے تو یہ سب ان کے پاس ٹھہر نہیں جاتے تھے۔ آگے بڑھ کر کسی بھوکے کا کھانا، کسی مقروض کی رہائی یا کسی بیٹی کی شادی میں مدد بن جاتے۔ تذکروں کے مطابق، وہ ان نذرانوں میں سے اپنے خاندان کے لیے بھی کچھ نہ رکھتے تھے۔ کبھی کسی دوسرے کی ضرورت پوری کرنے کے لیے خود محفل کے سامنے جھولی پھیلا دیتے۔ ایک روایت میں زیورات کے ساتھ 1,100 روپے جمع کرکے شادی کے لیے مدد مانگنے والے شخص کو دینے کا ذکر ملتا ہے۔ انہوں نے زندگی بھر کتنا مال تقسیم کیا، اس کا کوئی مصدقہ مجموعی حساب موجود نہیں، مگر ان کی سخاوت کی یاد آج بھی زندہ ہے۔

کنور رام اور آج کے گدی نشینوں کا فرق ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ’’کنور صرف دینے والے تھے، جبکہ یہ گدی نشین لینے والے ہیں۔‘‘ سائیں سترام داس نے روحانی گدی ایک سچے بھگت کے سپرد کرنے کی روایت قائم کی تھی، مگر اب اسے موروثی بنا دیا گیا ہے۔

انسانوں کو قریب لانے کی ان کی کاوشوں کے اعتراف کا ایک تحریری حوالہ بھی ملتا ہے۔ سندھ کے برطانوی گورنر نے ہندو مسلم اتحاد کے فروغ، چھوت چھات کی مخالفت اور محروم انسانوں کی خدمت کے اعتراف میں انہیں تعریفی سند، خلعت کے طور پر کپڑا یا شال، اور ناریل پیش کیا۔ ’’سندھی شان‘‘ میں بھی دوشالے، سند اور ناریل سے ان کی عزت افزائی کا ذکر ہے۔ نہ ان نذرانوں نے اور نہ اس پذیرائی نے ان کے اندر مال جمع کرنے کی خواہش پیدا کی۔

وہ آج کے مذہبی اداروں کے لیے بھی ایک سادہ مگر گہرا سوال چھوڑ گئے ہیں: عقیدت کے نام پر ملنے والی دولت میں سے ضرورت مندوں تک کتنا پہنچا؟ کنور کی زندگی ہر ایک کے لیے ایک اخلاقی کسوٹی ہے۔ اگر کسی روحانی گدی کے ساتھ ان کا نام وابستہ ہے تو اس کی حقیقی وراثت ان کے راگ کے ساتھ ان کے دینے والے ہاتھ کو بھی زندہ رکھنے میں ہے۔

ان کی آخری بھگتی کی محفل مانجھند میں ہوئی۔ وہاں سے وہ دادو پہنچے اور دوسری ریل میں سوار ہو کر سکھر روانہ ہوئے۔ یکم نومبر 1939ء کی رات جب گاڑی رُک اسٹیشن سے چلنے لگی تو گولی کی آواز گونجی۔ نور احمد جنجھی کے مطابق، حملے سے پہلے دو افراد نے ان سے دعا مانگی تھی۔ اسی بیان میں جان محمد جلبانی کو گولی چلانے والا اور سلیمان بھیو کو اس کے ساتھ موجود دوسرے شخص کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔

زخمی کنور کا بہت سا خون بہہ گیا، اور باگڑجی پہنچتے پہنچتے ان کی زندگی کا سفر تمام ہو چکا تھا۔ وہ 54 برس، 6 ماہ اور 19 دن کی عمر میں سندھ سے بچھڑ گئے۔ 2 نومبر کو ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں، اور ان کا آخری یادگاری آستان رہڑکی میں واقع ہے۔ ’’کاش تمہارے دل میں رحم جاگے‘‘ ان کے آخری الفاظ بتائے جاتے ہیں۔

قاتل کے بارے میں ’’سندھیانا‘‘ اور Voice of Love میں جان محمد، المعروف جانو جلبانی، کا نام آتا ہے اور اس کی نسبت بھرچونڈی سے بیان کی گئی ہے۔ کے آر ملکانی اپنی کتاب The Sindh Story میں جانو کو کنور رام، اللہ بخش سومرو اور ہاسارام پمنانی کے قتلوں سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ ان ماخذوں کے بیانات ہیں۔ سلیمان بھیو کی شمولیت، جانو کے رتوڈیرو سے تعلق، ایک درگاہ پر سازش کی منصوبہ بندی، اور بعد میں اسے جلدی بیماری لاحق ہونے اور پشیمانی میں مبتلا ہونے کی روایات بھی بیان کی جاتی ہیں۔

سکھر فسادات کی عدالتی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، کنور رام کے قاتل گرفتار نہیں ہوئے تھے۔ رپورٹ میں یہ قیاس درج ہے کہ قتل، 13 جولائی 1939ء کو سکھر میں بھرچونڈی کے پیر کے بیٹے اور ایک ہندو کے درمیان گراموفون کی مرمت پر ہونے والے جھگڑے کا انتقام تھا۔ رپورٹ نے اس مفروضے کی سچائی کا فیصلہ نہیں کیا۔ ایک بے گناہ انسان کی شہادت کی سنگینی بیان کرنے کے لیے غیر یقینی باتوں کو یقین کا لباس پہنانے کی ضرورت نہیں۔

اس رات سندھ میں اللہ بخش سومرو کی حکومت تھی، جن کا پہلا دورِ حکومت 23 مارچ 1938ء سے 18 اپریل 1940ء تک رہا۔ سندھ کے برطانوی گورنر سر لانسلاٹ گراہم، ہندوستان کے وائسرائے لارڈ لنلتھگو اور برطانیہ کے وزیراعظم نیول چیمبرلین تھے۔ چرچل مئی 1940ء میں وزیراعظم بنے۔ نومبر 1939ء کے واقعے کے وقت انہیں اس منصب پر دکھانا تاریخی غلطی ہوگی۔

22 نومبر 1939ء کے خفیہ مراسلے P-25-H(S)/39 کے ذریعے سندھ حکومت نے حکومتِ ہند کے محکمۂ داخلہ کو قتل اور حملہ آور کے فرار کی اطلاع دی۔ ضلعی مجسٹریٹ نے آخری رسومات کے جلوس کے لیے راستہ مقرر کیا۔ 10 نومبر کو شائع ہونے والے کانگریسی رہنماؤں کے ایک بیان میں قاتلوں کا تعاقب نہ کرنے پر پولیس کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اس بیان کے مطابق، قتل سے پہلے لاحق خطرات کے باعث کنور کے گھر پر مسلح پہرہ مقرر کیا گیا تھا اور انہیں بندوق کا لائسنس بھی دیا گیا تھا۔ اس کے باوجود ان کی جان نہ بچ سکی اور انصاف کی راہ ادھوری رہ گئی۔

8 اکتوبر 1940ء کو بھرچونڈی کے پیر کو بمبئی ریگولیشن نمبر XXV مجریہ 1827ء کے تحت گرفتار کرکے کراچی لایا گیا۔ یہ کارروائی روہڑی کے علاقے میں قتلوں اور بدامنی کے وسیع تر پس منظر میں کی گئی تھی۔ یہ کنور رام کے قتل میں کسی عدالتی سزا کا نتیجہ نہیں تھی۔ گورنر کے وائسرائے کے نام 6 نومبر 1940ء کے خط میں پیر کے بیٹے کی گرفتاری کی کوششوں اور پیر کی رہائی کے لیے سیاسی سفارشات کا بھی ذکر ہے۔ یہ خط اُس وقت کی حکومتی سوچ کو ظاہر کرتا ہے؛ اسے عدالتی فیصلے کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔

کنور کی شہادت ایسے زمانے میں ہوئی جب سندھ کی مشترکہ معاشرتی زندگی میں سیاسی اور مذہبی فاصلے بڑھ رہے تھے۔ 1939ء کی منزل گاہ تحریک اور فسادات، کنور رام کا قتل، اور 14 مئی 1943ء کو شکارپور میں اللہ بخش سومرو کی شہادت نے معاشرے کو گہرے زخم دیے۔ منزل گاہ تحریک میں سر عبداللہ ہارون، جی ایم سید، ایوب کھوڑو، ہاشم گزدر اور پیر علی محمد راشدی نے اہم کردار ادا کیا۔ تحقیقی کام میں اللہ بخش حکومت کے خلاف اس مسئلے کے سیاسی استعمال کا ذکر ملتا ہے۔ تاہم کسی تحریک کی قیادت کرنا اور کسی قتل کا حکم دینے کی قانونی طور پر ثابت شدہ ذمہ داری دو الگ باتیں ہیں۔

اللہ بخش سومرو کے قتل کے سلسلے میں ایوب کھوڑو اور ان کے بھائی پر سازش کا مقدمہ چلا، مگر ناکافی شواہد کی بنا پر وہ بری ہو گئے۔ 20 مارچ 1943ء کو سورھیہ بادشاہ، پیر صبغت اللہ شاہ راشدی، کو برطانوی حکام کی جانب سے پھانسی دینا بھی اس دور کا ایک بڑا سانحہ تھا۔ ان واقعات کو ایک ہی ثابت شدہ سازش کی کڑیاں یا قتل کے لیے چرچل کے براہِ راست حکم کا نتیجہ قرار دینے کے لیے مزید دستاویزی شواہد درکار ہیں۔ اسی طرح یہ کہنا کہ ’’اگر وہ زندہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا‘‘ ایک قیاسی سیاسی رائے ہے، ماضی کے بارے میں کوئی ثابت شدہ نتیجہ نہیں۔ تاریخ کے زخموں کی نگہداشت کے لیے یاد کے ساتھ سچائی کی پاسداری بھی ضروری ہے۔

کنور سے بارش برسانے اور ایک بچے کو دوبارہ زندہ کرنے جیسی کرامات بھی منسوب ہیں۔ یہ عقیدت اور عوامی یادداشت کے رنگ ہیں، جنہیں ان کے اپنے تناظر میں سمجھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کی عظمت کو کسی کرامت کے سہارے کی ضرورت نہیں۔ کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی مقروض کے کندھوں سے قرض کا بوجھ اتارنا، اور نفرت کے موسم میں مختلف عقیدوں کے لوگوں کو ایک جگہ بٹھانا بھی اپنی ذات میں عظیم انسانی کام تھے۔

ان کے بچھڑنے کے بعد لفظوں، تصویروں اور موسیقی نے ان کی یاد کو محفوظ رکھا۔ جیٹھانند ہیمنداس نے بھی ان کی وفات کے بارے میں کتابچے لکھے۔ 1952ء میں دھرم کمار کی ہدایت کاری میں ان کی زندگی پر سندھی فلم بھگت کنور رام بنائی گئی۔ جامشورو کے انسٹی ٹیوٹ آف سندھالوجی اور ضلع ٹھٹھہ کے فقیر گوٹھ میں بابا سری چند کے مندر میں ان کے مجسمے موجود ہیں۔ ہر سال ہندو اور مسلمان رُک اسٹیشن پر جمع ہو کر اس انسان کو یاد کرتے ہیں جس کی محفل نے انہیں ایک ساتھ بیٹھنے کی جگہ دی تھی۔

26 اپریل 2010ء کو بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹیل نے ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ یہ ان کی وفات کے بعد سرکاری سطح پر ان کی خدمات کے اعتراف کی ایک واضح مثال تھی۔ اس کے ساتھ شائع ہونے والے تعارفی متن میں امن، عدم تشدد، ہندو مسلم ہم آہنگی، بھگتی کے فنکارانہ اظہار اور غریبوں کی خدمت کے لیے ان کی وابستگی کو سراہا گیا۔ 2017ء میں شاہ عبداللطیف یونیورسٹی کے شکارپور کیمپس میں ان کے نام سے ایک آڈیٹوریم کا افتتاح بھی ہوا۔ ’’بھگت‘‘، ’’سنت‘‘ اور ’’شہید‘‘ ان کی عوامی اور روحانی شناخت کے القاب ہیں۔ ان کے نام سے دوسروں کو دیا جانے والا کوئی ایوارڈ، خود انہیں ان کی زندگی میں ملنے والا اعزاز نہیں سمجھنا چاہیے۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق، اکتوبر 2026ء کے آخری ہفتے میں سندھ اسمبلی کے رکن مہیش کمار ہسیجا نے دریائے سندھ پر تعمیر ہونے والے گھوٹکی–کندھ کوٹ پل کا نام ’’شہید بھگت کنور رام پل‘‘ رکھنے کی تجویز جمع کرائی ہے۔ دریا کے کناروں کو ملانے والے پل پر اگر دلوں کو ملانے والے انسان کا نام ہو تو اس پر کیا جانے والا سفر ایک تاریخی معنویت بھی پا سکتا ہے۔

کنور کی یاد کو مزید زندہ رکھنے کے لیے رُک میں ان کے مقامِ شہادت اور جروار و رہڑکی سے وابستہ ورثے کی دستاویز بندی اور حفاظت ہونی چاہیے۔ ان کی زندگی اور فکر کو نصاب میں جگہ ملے، ان کی اصل ریکارڈنگز محفوظ کی جائیں، اور باقاعدہ برسی کی تقریبات کے ساتھ موسیقی کی تعلیم اور ضرورت مند فنکاروں کی مدد کے لیے ان کے نام سے ایک فنڈ قائم ہو۔ پہلے سے موجود یادگاروں کی دیکھ بھال اور ادھورے منصوبوں کی تکمیل بھی اسی ذمہ داری کا حصہ ہے۔

شاید کنور رام کی سب سے خوب صورت یادگار اس گھر میں بنتی ہے جہاں سے کوئی کسی بھوکے کے لیے کھانا بھیجتا ہے۔ شاید وہ اس بچے کی آنکھوں میں روشن ہوتی ہے جس کی تعلیم کا خرچ کسی نے اٹھایا ہو، یا اس محفل میں گونجتی ہے جہاں ایک انسان بے خوف ہو کر دوسرے انسان کے پہلو میں بیٹھ سکے۔ ان کی جھولی اب ہمارے پاس نہیں، مگر اس کا سوال آج بھی موجود ہے: تمہیں جو کچھ ملا، اس میں سے تم نے دوسروں کو کیا دیا؟ جب سندھ اپنے عمل سے اس سوال کا جواب دے گا، تب رُک کی خاموش پٹڑیوں سے بہت دور، کنور کا آلاپ پھر سنائی دے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں