یکم نومبر صبحِ آزادی سے آزادی تک کا سفر/ سراجی تھلوی

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر جشن آزادی گلگت بلتستان کے حوالے سے جین زی ،نئی نسل خاصی متحرک دکھائی دے رہی ہے۔
میں گلگت بلتستان سے میلوں دور پرائے دیس میں بیٹھا سوچ رہا ہوں۔لکھوں تو کیا؟
جشن آزادی کے گیت یا محرومیوں کے نوحے؟
اپنی سرزمینِ کے بے آئین ہونے پر فخر کروں یا k2 کے باسی ہونے پر ؟
خیر کل گلگت بلتستان کے ہر ہر گاوں ،محلوں میں جشن آزادی کے گیت گائیں گے۔رقص و سرود کے محفلیں سجیں گی۔
کیا ڈھول کے تھاپ پر رقص کرنے سے واقعی آزادی کا احساس جاگ جاے گا؟
آج سے تقریبا 77 سال قبل گلگت بلتستان کے باہمت جوانوں نے کرنل حسن خان اور بابر خان کی قیادت میں مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف اعلان بغاوت کردیا ۔اور گلگت بلتستان کو ڈوگراہ راج سے آزاد کردیا۔یہ صرف دو گز زمین کی جنگ نہیں تھی بلکہ صدیوں سے محرومیوں کے بوجھ تلے پستے یہ پہاڑی باشندے خود مختار ہوجائیں،آزاد ہوجائیں،ادھورے خوابوں کی تکمیل کریں،تعلیم و تربیت کے بہترین مواقع میسر ہوجائیں لیکن افسوس سالوں گزرنے کے باجود یہ خواب خواب ہی رہا۔نہ آئین نہ مکمل سیاسی حقوق جس کا خواب آزادی کے متوالوں نے دیکھا تھا۔بلکہ آج بھی احساس محرومی و سوتیلاپن بدستور باقی ہے۔
تبتی ،تبت خورد،لداخی ،پولولو پتہ نہیں کتنے ناموں سے گزرتے ہوئے بلتستان سے موسوم اس خطے میں آج بھی کتنے چہروں پر ہجروفراق کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
تقسیم کے بعد جدائیوں نے کتنے خاندانوں کی زندگیاں اجیرن کردیں۔
آزاد ہونے کے باوجود اپنوں کی یادوں سے آزادی حاصل نہ کرسکی۔کوئی ماں اپنی بیٹی کی یاد میں کوئی بیٹی ماں کی یاد میں کوئی بھائی،بھائی کی یاد میں کوئی شوہر اپنی بیوی کی یاد میں شاید آج بھی آہیں بھرتی ہیں۔
آج میرا مقصود بلتستان کی تاریخ ،جنگ آزادی کے ہیروں کے کارنامے لکھنا نہیں۔ مولوی حشمت اللہ سے لے کر یوسف حسین آبادی تک کتنوں نے بلتستان کی تاریخ لکھی۔جنگ آزادی کے ہیروں کے کارنامے لکھے۔لیکن ہجر و فراق کی وہ کہانیاں کتنوں کے دلوں میں مدفون ہو کر رہ گئیں۔اور کتنے وہ بوجھ لے کر منوں مٹی تلے ہمیشہ کےلیے سوگئے۔
میں نے جب جب عبداللہ حسین کی کتاب “اداس نسلیں “کا مطالعہ کیا۔مجھے گلگت بلتستان کے “اُداس نسلوں “کا منظر چشمِ تصور کے آگے رقصاں لگا۔
میں نے جب جب بھی انتظار حسین کی کتاب”خدا کی بستی”پڑھی تو پہاڑوں کے درمیاں آباد اس بستی کا خیال زہن میں ابھرتا ہے ۔
آج بھی پہاڑوں کے درمیاں آباد اس بستی کے “اُداس نسل”اس آزادی سے آزادی حاصل کرنے کے تگ و دو میں ہیں۔پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان کے کتنے نوجوان دیار غیر سدھار گئے۔دیار غیر کے خواب دل میں لیے کتنے نوجوان اس دنیا سے ہی آزاد ہوگئے۔
آزادی حاصل کیے 77 سال گزرنے کے باوجود ان اُداس نسلوں کا دیار غیر جا بسنا ہی مقصودِ زندگی بن جاے تو ہماری آزادی پر سوال ضرور اٹھتا ہے۔
کیا ہم آزاد ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں