گتھم گتھا، گھونسے اور گھمسان کا رن/ محمد کوکب جمیل ہاشمی

جس معاشرے میں گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کثرت سے ہوتا ہو، وہاں افراد کا گھروں سے باہر نکلنا محال ہو جاتا ہے۔ کوئی، گھریلو خواتین کے ساتھ کسی غرض سے گھر سے باہر جا رھا ہو تو گھات لگاۓ بیٹھے مجرم اسلحه دکھا کر نقدی، زیورات اور موبائل فون چھین کر فرار ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاؤہ ایسا لگتا ہے کہ لڑائی جھگڑا ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔۔ لوگ ذرا ذرا سی بات پر ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔ پھر کسی کا چہرہ ہوتا ہے اور کسی کا گھونسآ۔ تھپڑوں اورمکوں کی بارش شروع ہوجاتی ہے۔ رفتہ رفتہ ایسا گھمسان کا رن پڑتا ہے کہ اللہ کی پناہ۔ اگر کچھ لوگ معاملے کو رفع دفع کرنے اور بیچ بچاؤ کے لئے آگے بڑھتے ہیں تو انہیں بھی لڑائی میں گھسیٹ لیا جاتا ہے۔ ایسے میں کمزور دل لوگوں کی تو گھگھی بندھ جاتی ہے۔ مگر یہ گتھی نہیں سلجھتی کہ آخر جھگڑا کیوں شروع ہوا تھا؟ آللہ ہم سب کو جھگڑا لو عناصر سے بچاۓ۔ ہمارے بزرگوں کا کہنا ہے کہ زیادہ بولنا صحیح نہیں ہوتا، اس لئے خاموشی بہتر ہوتی ہے۔ مگر ایسے لوگوں کا کیا کریں کہ وہ خاموش رہنے والوں کو گھنا سمجھتے ہیں۔

خواتین اکثر اپنی شاپنگ کے لئے، یا درزی کی دکان پر جا رہی ہوتی ہیں تو چند اوباش نوجوان انہیں ایسے گھورگھور کر دیکھتے ہیں، جیسے وہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہوں۔ دکان دار کا رویہ بھی اچھا نہیں ہوتا۔ ان کی باتیں سن کر تو سر گھوم جاتا ہے۔ الغرض بے چینی اور اضطراب نے ہمارے پورے معاشرے کو گھٹن زدہ بنا رکھا ہے۔ ہمارے اپنے مسائل اتنے زیادہ ہیں کہ سوائےصبرکے گھونٹ پینے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی یہ بھی ہوتا ہے کہ کوئی بوڑھا شخص سڑک پار کرتے ہوۓ گھمیر کھا کر گر جاتا ہے۔ کیونکہ اسکے ساتھ سہارا دینے والا کوئی نہیں ہوتا۔
کبھی کبھی انسان کو پے در پے گھمبیر مشکلات اس طرح گھیرلیتی ہیں کہ اس کا دم گھٹنے لگتا ہے لیکن باوجود کوشش کے پریشانیاں ہیں کہ گھٹنے کا نام نہیں لیتیں۔ کبھی آپ کسی کام سے متعلقہ دفتر جانے کے لئے گھر سے باہر نکلتے ہیں تو پانچ منٹوں کا کام گھنٹوں میں بھی نہیں ہوپاتا۔ ایسے میں دماغ چکرا جاتا ہے۔ یا آپ اجلے کپڑے پہن کر ملازمت کے لئے زبانی امتحان دینے جاتے ہیں تو اچانک گھنگھور گھٹائیں امڈ کر آ جاتی ہیں۔ اور پھر گھن گرج کے ساتھ تیز بارش شروع ہوجاتی ہے۔ بارش برسنے سے ہر جگہ گھٹنوں گھثنوں پانی بھر جاتا ہے۔ اس وجہ سے آپ دفتر میں بروقت نہیں پہنچ پاتے۔ بار بار گھڑی کو دیکھنے کے باوجود وقت اور ملازمت دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ اس میں آپ کی اپنی کوئی غلطی ہو یا نہ ہو لیکن آایسا تاثر ضرور قائم ہوتا ہے کہ اس سمیت اور بھی ا فراد ہیں جو کسی نہ کسی مصیبت میں گھرے ہوے ہیں۔ لوگ اپنے ناکافی وسائل کی وجہ سے گدھے کی طرح محنت کرتے ہیں۔ لیکن گزارا نہ ہونے پروہ سر میں گھمیر محسوس کرنے لگتے ہیں۔ پھرہر آسان کام بھی گھمبیر دکھائی دینے لگتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں افطاری کے وقت کچھ بھی خرید نا پڑ جاۓ تو خریدارکوگھٹیا مال مہنگے داموں خریدنا پڑ جاتا ہے۔ اس ماحول میں آنکھیں بھر آئیں اور دل گھبراۓ گا نہیں تو کیا جھومے گا؟ د یکھنے میں آیا ہے کہ انسان اپنی ضرورتوں کے لئے گھن چکر بنا رہتا ہے۔ اسے کسی کام سےسرکاری وفاترمیں جانا پڑ جاۓ تو وہاں گھپلے ہی گھپلے دکھائی دیتے ہیں۔ جن کی روداد اخباروں میں شہ سرخیوں کے ساتھ لگ رہی ہوتی ہیں لیکن گڑبڑ گھوٹالوں کے سدباب کی کوئی کوشش دکھائی نہیں دیتی۔

سب جانتے ہیں کہ ہمارے کاروباری لوگ کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے۔ انہوں نے تو گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا یوتا ہے اس لئے مار نہیں کھاتے البتہ وہ خریداروں سے خار کھاۓ بیٹھے ہوتے ہیں۔ وہ انتظار میں ہوتے ہیں کہ کوئی موٹی آسامی ہاتھ لگے اور اس سے دو دو ہاتھ کریں۔ وہ منٹوں میں دوسروں کو قائل کرنے کی بجاۓ گھائل کر دیتے ہیں۔ وہ طرح طرح کی کہانیاں گھڑ کر خریداروں کو گھیرتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ کاروباری لوگوں کے پاس پیسہ بہت ہوتا ہے لیکن اس پہ گھمنڈ کرنا اچھی بات نہیں ہوتی۔
پہلے زمانے میں قلم گھڑ گھڑ کر بقلم خود شادی کے دعوت نامے بھیجے جاتے تھے۔ لیکن اچھے رشتوں کی تلاش میں والدین کی جوتیاں گھس جاتی تھیں، اور اب نوجوانوں کو بھی ملازمت ڈھونڈنے کے لئے جوتے گھسانے پڑتے ہیں۔ بالاخر وہ صبر کا گھونٹ پی کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک بات جو ہم سب سے کہنا چاہتے ہیں کہ آج کل کے حالات میں احتیاط کا تقاضہ ہے کہ ہمیں ہر وقت اپنے گھروں کے دروازے بند رکھیں، تاکہ چوراندر نہ گھس سکیں۔
ایک زمانہ تھا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ بہت ذیادہ ہوا کرتی تھی۔ رات کے وقت گھپ اندھیرا ہوا کرتا تھا۔ مگر اب بجلی آتی ہی نہیں۔ ہر طرف روشنی ہی روشنی دیکھنے کے خواب پورے نہیں ہوتے۔ چنانچہ سمجھانے والے کہتے ہیں کہ گھبرانا نہیں۔ یہ۔ بی کہا جاتا ہے کہ اللہ کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ا معلوم نہیں راتوں کو سب کے ساتھ گھل مل کر دعوتیں اڑانے کے مواقع کب ملتے ہیں۔ کراچی پہلے روشنیوں کا شہر اور عروس البلاد کہلاتا تھا مگر اب وہاں آٹھ آٹھ گھنٹے بجلی نہیں آتی اس پر وہاں کے شہریوں کے پاس سواۓ آٹھ آٹھ آنسوں بہانے کے کوئی چارہ نہیں ہوتا۔
جب تک گھڑیال گھنٹی نہ بجائیں مرد حضرات اپنے گھروں کو نہیں لوٹتے۔ گھروں کے ذکرسے خیال آیا کہ اس زمانے میں گھر چھوٹا ہو یا بڑا، بڑی نعمت ہے۔ چاہے مٹی کا گھروندہ ہو یا گھاس پھوس سے بنی جھونپڑی، اسی میں سکون ملتا ہے، بالکل اسطرح جیسے پرندے اپنے گھونسلوں میں ہی آرام پاتے ہیں۔
انسان اپنے آرام کا شروع سے ہی متمنی رہا ہے۔ لیکن اچھا انسان وہی ہوتا ہے جو گھنے درخت کی طرح دوسروں کو سایہ فراہم کرتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں وہ خود روکھی سوکھی کھاتا ہے لیکن دوسروں کو گھی میں چوپڑی اور دو دو کھلاتا ہے۔ ایسے مہربان لوگ نہ جانے کیا گھول کر پلاتے ہیں کہ ہر کوئی انکا دیوانہ بن جاتا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم بھی اپنی دنیاوی خواہشات کے سرپٹ دوڑتے گھوڑے سے اتر کر اور اپنی غیر ضروری تمناؤں کا گلا گھونٹ کر گھڑے کے ٹھنڈے پانی سے دوسروں کی پیاس بجھائیں۔ لیکن شرط یہ کہ گھڑے کے آس پاس انسانوں کا پھینکا پوا گند نہ پڑا ہو ورنہ سب کو گھن آٔئے گی۔ آئیے ہم اپنا گھیراؤ کرتی ہر برائی کو موت کے گھاٹ اتار دیں۔ یہی گھڑمس مچے ماحول سےنجات کا صحیح راستہ ہے۔ آخرمیں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ جو لوگ ٹھٹھہ کے رہنے والے ہوں یا گھارو کے، ہمیں انکا اس بات پہ ٹھٹا نہیں اڑانا چاہئے کہ وہ پس ماندہ علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ ہم پہ لازم ہے کہ ہم سب کے ساتھ گھل مل کر رہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں