انیس اشفاق کا ناول” ہیچ” اردو ادب اور تقسیم کے بعد کے ہندوستان خاص کر لکھنؤ کی تہذیب اور تاریخ پر لکھا گیا ایک اہم ناول ہے۔

جنگ اور اس میں بہنے والا انسانی خون اور ٹوٹنے والی اقدار ، غاصبوں اور مجبوروں کی نفسیات ، اس سارے عمل میں جبر کے نظام کے باغیوں کا کردار اور انجام یہ سب اس ناول میں موجود ہے ۔
پہلے سے آخری صفحے تک جب ایک ناول آپ کی انگلی پکڑ کر آپ کو ساتھ لے کر چلنا شروع کردے تو سمجھ جائیں کہ وہ ایک کامیاب ناول ہے ۔ ہیچ ایک کامیاب ناول ہے ۔
تقسیم ہند اور اس کی خون ریزیوں سے جنم لینے والی کہانیوں سے بے شمار ادب تخلیق ہوچکا ہے ۔ وہ تقسیم کسی داستان کا انجام نہیں تھی بلکہ اس کے نتیجے میں بننے والے دو ممالک کی زندگیوں کا آغاز تھی ۔ جیسے فلم ختم ہونے کے بعد کبھی کبھار سکرین پر لکھا نظر آتا ہے “ یہ اختتام نہیں ایک اور فلم کا آغاز ہے ۔۔ تو تقسیم ہند اس میں بسنے والے لوگوں کی اور آنے والی نسلوں کی کہانیوں کا پہلا پناتھی ۔
اس ناول میں وہ سارے پنے پلٹے گئے ہیں ۔ ہمیں اس میں ہندوستان میں پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں کی ایسی زندگی نظر آتی ہے جو مین سٹریم میڈیا یا شو بز میں کہیں دکھائی نہیں دیتی ہے ۔

انیس اشفاق کا قلم وہ سچ اُگل رہا ہے جسے شائننگ انڈیا کی شائن میں چھپایا جاتا ہے ۔
ہم اس ناول میں جنگ، موت اور جدائی کا کرب اور خوف مسلسل محسوس کرتے ہیں ۔ جو کبھی مرکزی کردار شہنام کی نانی کی زبان سے 1857 کے غدر سے جھانکتا ہے ، کبھی اس کی ماں کی زبان سے عالمی جنگوں کی ہولناکیوں میں ،کبھی تقسیم ہند میں اور پھر خانہ جنگیوں کی صورت وہ خود اس کا فرسٹ ہینڈ تجربہ کرتا ہے ۔۔ جس کے نتیجے میں لوگ گھر سے بے گھر ہوتے ہیں ،پیچھے رہ جانے والے گھر ، نئے دیس میں جا کر بسنے والوں کے نئے گھر ، پرانے گھروں کی دیواریں جو چلے جانے والے مکینوں کے لئے عمر بھر ماتم کناں رہتی ہیں ، پھر ان نئے گھروں کی دیواریں جو نئے مکینوں کو پناہ تو دے دیتی ہیں مگر اپنائیت دیتے دیتے عمریں لگا دیتی ہیں ۔
لکھنؤ میں ہونے والے شیعہ سنی فسادات ، بابری مسجد کا انہدام ، گجرات کا قتل عام اور اس کے قاتل کا پھر ملک کا سربراہ بن جانا ، اس ناول میں ان سب واقعات کو صرف لکھا نہیں بلکہ بیتا گیا ہے ۔
ک شمیر ، پاکستان ، ایران میں ہونے والے واقعات خاص کر کے پاکستان کے مارشل لاز اور انڈیا کی جمہوریت اور بُچَر آف گجرات کے بعد اس جمہوریت کا انتقال ،
لکھنے پر پابندی، بولنے پر پابندی ۔
بھٹو کی پھانسی ، اندرا گاندھی کا قتل اس کے نتیجے میں پھوٹنے والے فسادات ۔پاکستان چلے جانے والے مہاجر کہلائے ، انڈیا میں رہ جانے والے ساری عمر کے غدار کہلائے ۔ان پر کبھی اعتبار کیا ہی نہیں گیا ۔
مٹی چھوڑ جانے والے اور مٹی کی محبت میں وہیں رہ جانے والے یہ ناول ان سارے انسانوں کے کرب کو ، ایک مسلسل ٹریجڈی کو اپنے اندر سموتا ہے۔
یہ ناول مزاحمت کی ایسی کہانی ہے جس میں عورتوں کا اہم کردار ہے ۔۔
شہنام کی امی ایک مضبوط عورت ہے ، جس کا شوہر نجانے کہاں کھو گیا ہے مگر وہ اپنے بیٹے کو قابلیت،شرافت ،عزت اور سب سے بڑھ کر مزاحمت کی تعلیم دیتی ہے جس کی وصیت ہی بیٹے کو یہ ہوتی ہے کہ
“جب ظلم کے دن آئیں تو چپ نہ رہنا ۔۔ “
پھر شہنام کی کلاس فیلو شہلا جو بعد میں اس کی بہترین دوست بنتی ہے ۔ مزاحمت کی ایسی علامت ہے جس نے طالبعلمی کے زمانے سے لے کر اپنے کھو جانے تک ہر لمحہ مزاحمت کی راہ چنی ، وہ ظلم کے خلاف چپ کرنے یا دب جانے کو موت کے برابر سمجھتی تھی ۔۔اس نے جیلیں کاٹیں ، سختیاں برداشت کیں مگر جھکنا گوارا نہیں کیا ۔ اس کی دوست شہنا ز جو پہلے مصلحت کی حامی تھی مگر بعد میں وہ بھی باغی ہوئی ۔۔ شہلا کی تقریریں اس کی لیڈرانہ خصوصیات ، شہنام ان سب کے ساتھ جڑا رہا مگر اس نے کہیں بھی اس پر نہ کچھ تھوپا نہ اسے پیچھے گھسیٹا نہ اس ڈرایا نہ دھمکایا اور نہ اردگرد کے ماحول نے حتیٰ کہ پولیس والوں نے بھی جب اسے جیل میں رکھا تو اسے عورت ہونے کی سزا نہیں دی گئی ۔۔ اس کی بغاوت ویسی ہی بغاوت لی جارہی تھی جیسی کسی باغی مرد کی لی جائے ۔
اس کا عورت ہونا کبھی بھی مزاحمت کی راہ میں آیا ہی نہیں ۔ جب وہ کسی نجی یونیورسٹی میں پڑھا رہی تھی تب وہ دلی کی یونیورسٹی جا کر تقریریں کرتی ۔ سٹوڈنٹس چاہے لڑکیاں ہوں یا لڑکے اس کو سنتے اس کو لیڈر مانتے ۔۔ اس کی عزت کرتے ۔
اس ناول میں دلی یونیورسٹی سے ریٹائر ہونے والی مسز بنر جی کی آخری تقریر ۔ اس میں بھی آپ انڈیا میں عورت کی تعلیم، شعور اور مزاحمت کی ایک ایسی جھلک دیکھیں گے جو آپ کو پاکستان میں عورت کے مقام پر سوال اٹھاتی نظر آتی ہے ۔
اس ڈارک ناول میں جہاں ہر طرف موت، دکھ، ہجرت ،جدائی ،خانہ جنگیاں ، ظلم ، ناانصافیاں دکھائی دیتی ہیں وہاں ایک خوبصورت بات یہ نظر آتی ہے عورت مرد کے شانہ بشانہ بلکہ اس سے کہیں آگے نظر آتی ہے ۔
اندرا گاندھی کی ایمرجنسی پر بھی یہ سطریں لکھی نظر آتی ہیں جو شہلا کی زبان سے ہیں مگر ظاہر ہے مصنف ایک مرد ہے وہ لکھتا ہے کہ یہ والا کام کسی مرد کو کرنا پڑتا تو اس سے نہ ہوتا۔
اس ناول میں انڈیا کی جو عورت دکھائی گئی ہے وہ میرا ایک خواب ہے ۔ جو ہمیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بالکل نظر نہیں آتا ۔۔جد و جہد کرتی عورت آپ کو بلوچستان میں تو نظر آئیگی مگر پاکستان میں کہیں اور اس طرح کی کوئی مثال نہیں ملتی ۔اس کی وجہ جو مجھے سمجھ آتی ہے، لوگوں کا، سوسائٹی کا یہ مزاج سیٹ کردیا گیا ہے کہ وہاں سیاست میں یا تو “پاپا کی پریاں “آسکتی ہیں اور یا مرد حکمرانوں کے کندھوں سے لٹکی معذور اور دماغی اپاہج، میک اپ سے لدی، سرجریوں سے اٹی یعنی صرف خوبصورتی اور جوانی کو سنبھالتی ہوئی دوشیزائیں ۔
کاٹن کا سوٹ پہنے کاندھے سے سستا سا بیگ لٹکائے جوگرز پہنے اعلیٰ شعور لیے پاکستان میں ایسی خواتین کہاں پائی جاتی ہیں ؟ ایسی مزاحمتی مائیں ، بہنیں، بیٹیاں ہیں کہیں ؟ بیٹوں کو عزت نفس اور کبھی نہ سر جھکانے کا سبق دینے والی مائیں کہاں ہیں ؟ بھائیوں یا مرد دوستوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملائے نعرے مارتی لڑکیاں کبھی دیکھی ہیں ؟
نہیں دیکھیں ناں! اس لیے نہیں دیکھیں کہ اسلام کی آڑ میں عورت کو اتنا دبا دیا گیا ہے کہ جو اپنے زور بازو سے اس میں سے نکل آتی ہیں اسے سارا معاشرے بری نگاہوں سے دیکھنے لگتا ہے ۔ دوپٹے کے بغیر ایک جینز کی پینٹ اور شرٹ میں مزاحمت کر نے نکلے تو اسے بری عورت کہا جانے لگتا ہے ۔ اس کے نظرئیے کو چھوڑ کر اس کے جسم اور شکل پر حملے شروع ہوجاتے ہیں ۔
مجھے یاد ہے عمران خان کے جلسے وہ واحد امید کی کرن ہوا کرتے تھے جہاں روشن خیالی نظر آتی تھی مگر انقلاب اور مزاحمت کے راستے پر چلنے والے جب دیوانہ وار جھومتے تھے تو ان لڑکیوں کو کبھی تتلیاں اور کبھی تو طوائفیں تک کہا جانے لگا ، ان پر اتنے گندے جملے کسے جاتے کہ ماں باپ اپنی بیٹیوں کے بارے ایسے الفاظ سنتے ہوئے گھبرانے لگے اور اس راہ میں نکلنے والیوں کو جب بری عورتیں ، بد کردار لڑکیاں کہا جانے لگا تو معاشرے کی اس تنزلی پر ماتم کرنے کو دل کرتا ۔
شعور کی طرف بڑھتی ہر عورت کو ایسی گندی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ کوئی بہت ہی مضبوط ہو تو ٹک جائے ورنہ تو یہ میدان خالی ہی سمجھیں ۔
عورت نے سیاست میں آنا ہے تو منافقانہ طریقے سے سر پر دوپٹہ اوڑھے آتی ہے ۔ حجاب ،نقاب ہر ایک کا اپنا آزادنہ فیصلہ ہونا چاہیئے نا کہ صرف اس معاشرے کو خوش کرنے کے لیے اوڑھا جائے جہاں چند ماہ کی بچی اپنے پیپمر میں بھی محفوظ نہیں ہے ۔مگر ہمارے ہاں کی عورت کی سیاست اور شعور ان چیزوں کے گرد گھما کر رکھ دیا جاتا ہے اس کے بدلے مطلب ایسی منافقانہ نظام سے سمجھوتہ کر کے جو خواتین اقدار تک پہنچتی ہیں یا کسی بھی شعبے میں آگے آتی ہیں وہ ایک قوم کی کیا تربیت کریں گی ۔ وہی تربیت کریں گی جو اب ہمیں ہر طرف نظر آرہا ہے ۔ مائکرو لیول پر یہی کہنا چاہوں گی عورت کے سیاسی ،سماجی نظریات سے اختلاف کرنے والے اپنے مسلم پاکستانی بھائی اس پر تو بات ہی نہیں کرتے وہ اسے اس کی شکل ،جسم، عمر کے طعنے کے بعد جو پہلا وار کرتے ہیں وہ اس کی کردار کشی کا ہوتا ہے ۔ کسی کے ساتھ نام جوڑ کر اسے اچھالنے کی کوشش کرتے ہیں یہ ہے ان کی وہ تربیت جو پاکستان جیسے فرسودہ معاشرے میں رہ کر ان کی مائیں کرتی ہیں کیونکہ ان کی ماؤں نے بھی زندگی بھر یہی دیکھا ہوتا ہے ۔۔ جو ان کو دیا جاتا ہے اسے وہ ایسے ہی لٹا سکتی ہیں اور کیا کر سکتی ہیں ۔
انیس اشفاق کے اس ناول میں مزاحمتی اور طاقتور عورت کا جو کردار دکھایا گیا ہے وہ پاکستانی معاشرے کے لیے ایک یوٹیوپین کردار ہے ۔ ہم اس کی حسرت تو کر سکتے ہیں مگر اسے حاصل نہیں کر سکتے ۔
بنگلہ دیش ہو یا انڈیا عورتیں مردوں کے شانہ بشانہ نہیں بلکہ ان سے دو ہاتھ آگے چل کر ہمت اور مزاحمت کی تاریخ رقم کرتی ہیں اور ہماری عورت ابھی تک اپنے آپ کو الزاموں سے بچاتی چھپتی پھرتی ہے ۔
اور اس سارے نظام کے بدلے جن عورتوں کو اپنی عقل اور دانش کے حساب سے چھپنا چاہیے، وہ قوم پر مسلط ہوجاتی ہیں ۔ اور پھر ایسی مائیں ایسے ہی بچے ٹرین کر سکتی ہیں جو ہم ہر طرف دیکھ رہے ہیں “گاربیج ان گاربیج آوٹ” ۔
ہو سکے تو یہ ناول ضرور پڑھیں ۔۔ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں اور پاکستان چل کر آجانے والی عورتوں کی بے بسی سمجھنے کے لیے ۔
انیس اشفاق نے ہندوستان میں رہ کر ایسا ناول اور وہ بھی اردو زبان میں جسے وہاں پاکستان کی زبان سمجھا جاتا ہے لکھ کر ایک بڑا کارنامہ انجام دیا ہے اور میرا یہ ایمان ہے لکھنے والے جب تک اپنے قلم کا حق ادا کرتے رہیں گے اندھیرے میں روشنی کی لکیر نظر آتی رہے گی جو کہ بدقسمتی سے چند ایک کو نکال کے باقی پاکستانی رائٹرز نے دکھانی چھوڑ دی ہے ۔سب وہی کررہے ہیں جو مصلحت میں ڈوبی ، اپنی عزتیں بچاتی ، تعلیم و شعور اور عزت نفس سے دور جھکنے والی دبی ہوئی پسماندہ سوچ کی حامل مائیں سکھا سکتی ہیں ۔ سٹوڈنٹ تحریکیں بھی اسی وجہ سے دنیا میں آپ کو ہر جگہ نظر آجائیں گی ماسوائے پاکستان کے ۔ ماں کو بیدار ہونے دیں ، اسے عزت سے اپنا کام کرنے دیں تاکہ وہ آنے والی نسلوں کو عزت سے جینے کا ڈھنگ سکھا سکے۔



انیس اشفاق کا قلم لکھنؤ کی تہذیب کے رچاؤ سے لبریز ہے ۔ ان کے ہاں زبان، اسلوب، ٹریٹمنٹ سب عوامل آپ کو یوں اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں کہ انسان ایک بار شروع کرلے تع اختتام سے پہلے کتاب ہاتھ سے نہیں نکلتی۔ ایک عمدہ ناول پر آپ کا تبصرہ ،خوب است۔