چاند کی نرم گیلی روشنی۔۔۔صادقہ نصیر رانا

چاند کی نرم گیلی روشنی
سے نرم خو خاموش گفتگو۔
استراحت ، حلاوت
سوکھے پتوں کی سرسراہٹ۔۔۔
بھلا خواب کوئی قریب پھٹکنے دیتی ہے۔
رات بھر کی خاموشی کا شور؛
رات کو رات رہنے نہیں دیتا۔
کون کہتا ہے کہ،
شاعری غمزدہ ہے۔۔۔۔
یہ رات کا فسوں تو غم کو یونہی تحلیل کردیتا ہے۔
چاندنی کی تھر تھراتی برف،
ایک منجمد سا خیال پگھلاتی ہے؛ یوں کہ جیسے نرم کوئلوں کا آتشدان
چنگاریاں چٹخاتے ہوئے
تخلیق کے نئے زاویوں کی لکیریں چھوڑتا ہوا غائب ہوجائے۔۔
اور ہمارے لہجے اور تمہاری چپ کی ہلکی ہلکی چاپ سنائی دے تو کیسا لگتا ہے ؟؟؟
کبھی ملیں گے تو بات ہوگی۔
ابھی رات کی خاموشی کا طلسم نہیں ٹوٹا ۔ ہم سوئے ہی نہیں کیونکہ ہمیں جاگنا ہے۔۔
تخلیق کی آخری چنگاریوں کے چٹخنے تک۔۔۔
تب کمال ہوگا تب بات ہوگی۔۔۔
ہماری چپ کا راز فاش ہوگا۔۔۔
یہ بے کار کی بات نہیں ہے ۔۔۔
یہی تو ایک معمہ ہے۔ ۔۔زندگی کی کہانی کبھی ملتوی نہیں ہوتی مگر کبھی مکمل بھی تو نہیں ہوتی۔۔
اور اپنی ہی کہانی میں خود کی تلاش
میں شرمندہ شرمندہ
آخر کو نیم شب تک
وہیں ڈھیر ہوکر سونا ۔۔۔ اور اپنا چہرہ خواب میں پہچاننا۔۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں