کل پر جینے والی قوم / رانا جی جعفر

اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کی زندگی کا آخری “آج” ختم ہو رہا ہے، اور وہ “کل” کبھی نہیں آئے گا—تو آپ کیا کریں گے؟
شاید جواب فوراً مل جائے۔ مگر ہماری زندگی کا المیہ یہی ہے کہ ہمیں اپنے آخری “آج” کا پتا نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہم ضروری کام ایک ایسے لفظ کے حوالے کرتے جاتے ہیں جس کا وعدہ سب کرتے ہیں مگر ضمانت کسی کے پاس نہیں: کل۔
ترقی کل، اصلاح کل، فیصلہ کل، سچ کل۔ پھر کل آتا ہے تو آج بن کر گزر جاتا ہے، اور ہم اسے ایک نئے کل کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یوں کل کیلنڈر کا اگلا دن نہیں رہتا، ہماری سوچ کی پناہ گاہ بن جاتا ہے۔
ہم جس کام کو آج کرنے سے گھبراتے ہیں، کل اس کے لیے ہمیں بہت مہربان دکھائی دیتا ہے۔ مشکل فیصلہ ہو تو کل، اپنی غلطی ماننی ہو تو کل، محنت شروع کرنی ہو تو کل۔ آج کا بوجھ چند لمحوں کے لیے اتر جاتا ہے، مگر مسئلہ وہیں کھڑا رہتا ہے۔
نفسیات بھی اسی انسانی کمزوری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ فوری سکون ہمیں مستقبل کی مشکل کامیابی سے زیادہ دلکش لگتا ہے۔ مشکل کام سامنے آئے تو ذہن ایک آسان جملہ تراش لیتا ہے: “ابھی نہیں، کل کر لیں گے۔” یوں کام بھی نہیں ہوتا اور انسان کو اپنی بے عملی کا بوجھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔
یہی “کل” کبھی خوف سے بچاتا ہے، کبھی مشکل فیصلے سے، کبھی اپنی غلطی تسلیم کرنے سے۔ مگر وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ آج کا چھوٹا مسئلہ کل بڑا ہو سکتا ہے، آج کا معمولی فیصلہ کل مجبوری بن سکتا ہے، اور آج کا کھویا ہوا موقع کل صرف افسوس رہ جاتا ہے۔
تاریخ میں بھی ایسے لمحے آئے جب “کل” کی مہلت ختم ہو گئی۔ 1258ء میں ہلاکو خان بغداد کے دروازے تک پہنچ چکا تھا اور عباسی خلیفہ المستعصم باللہ کے سامنے وقت تیزی سے کم ہو رہا تھا۔ بغداد کا انجام ایک تلخ حقیقت چھوڑ گیا: خطرہ جب دروازے تک پہنچ جائے تو کل کے لیے بچایا گیا فیصلہ کبھی کبھی فیصلہ کرنے کی مہلت ہی چھین لیتا ہے۔ اندلس، سلطنتِ عثمانیہ، مغلیہ سلطنت اور نہ جانے کتنی ریاستوں کے زوال میں بھی ایسے موڑ آئے جب بدلتے حالات کو وقت پر سمجھنا ضروری تھا، مگر وقت واپس نہیں آیا۔
فرعون کا واقعہ اسی حقیقت کا دوسرا رخ ہے۔ جب واپسی کی کوئی گنجائش نہ رہی تو ایمان کا اقرار کیا، مگر جواب ملا: “آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ”—اب؟ حالانکہ اس سے پہلے نافرمانی کرتا رہا۔ شاید سب سے خوفناک “اب” وہ ہوتا ہے جو بہت دیر تک “کل” کہنے کے بعد آتا ہے۔
ہماری اپنی زندگی بھی اسی کہانی سے بھری ہے۔ طالب علم کہتا ہے کل پڑھوں گا، افسر کہتا ہے فائل کل دیکھوں گا، باپ کہتا ہے بیٹے سے کل بات کروں گا، تاجر کہتا ہے حساب کل درست کر لوں گا۔
عدالتوں میں بھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آج فیصلہ لکھ لیا جاتا ہے، مگر سنانے کے لیے کہا جاتا ہے کہ فیصلہ کل یا کسی اگلی تاریخ کو سنایا جائے گا۔ یوں انصاف بھی کبھی کل کے انتظار میں رہ جاتا ہے۔
پھر کبھی امتحان سامنے آ جاتا ہے، کبھی فائل ہاتھ سے نکل جاتی ہے، کبھی رشتہ دور ہو جاتا ہے، اور کبھی وقت ہی ختم ہو جاتا ہے۔
اور جب یہی “کل” فرد سے نکل کر قوم کے مزاج میں اتر جائے تو پھر ناکامی بھی ہمیں شکست محسوس نہیں ہوتی۔ ہم خود کو تسلی دیتے رہتے ہیں: اگلے پانچ سال میں سب بدل جائے گا۔ پانچ سال آتے ہیں، گزر جاتے ہیں، اور پھر اگلے پانچ سال کا ایک نیا وعدہ ہمارے سامنے رکھ دیا جاتا ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پانچ سال میں ملک کیوں نہیں بدلا؛ سوال یہ ہے کہ جو کام آج ہونا تھا، اسے پانچ سال کے حوالے کس نے کیا؟
ہم نے “کل” کو اتنا قابلِ اعتبار بنا دیا ہے کہ آج کی ناکامی بھی ہمیں شکست نہیں لگتی؛ بس کہتے ہیں، کل ٹھیک ہو جائے گا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے۔ دوسروں کا کل ہمیں بہانہ دکھائی دیتا ہے، اپنا کل مجبوری۔ دوسروں کی غفلت پر ہم فوراً انگلی اٹھاتے ہیں، اپنی غفلت کے لیے حالات کی پوری فہرست سامنے رکھ دیتے ہیں۔ یوں آدمی اپنے آپ کو دھوکا دیتے دیتے ایک دن اس دھوکے کا عادی ہو جاتا ہے۔
قرآن وقت کی قسم کھاتا ہے: “وَالْعَصْرِ ۙ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ”۔ شاید سب سے بڑا خسارہ وہ نہیں جو جیب سے نکل جائے؛ وہ ہے جو وقت سے نکل جائے اور واپس نہ آئے۔
اسی لیے زندگی کا سب سے خطرناک جملہ “میں نہیں کروں گا” نہیں، بلکہ “میں کل کر لوں گا” ہے۔ “نہیں” حقیقت سامنے رکھ دیتا ہے، مگر “کل” امید کا ایسا پردہ ہے جس کے پیچھے ہم اپنی بے عملی چھپا لیتے ہیں۔
خوف یہ نہیں کہ ہمارا آج گزر رہا ہے؛ خوف یہ ہے کہ ہم ہر گزرتے آج کو کل کے نام پر دفن کر رہے ہیں۔
حل کسی لمبی تقریر میں نہیں۔ صرف ایک لفظ بدلنے میں ہے: کل کی جگہ ابھی۔
جو بات کہنی ہے، ابھی کہہ دیجیے۔ جو فیصلہ کرنا ہے، ابھی کیجیے۔ جو غلطی درست کرنی ہے، ابھی کیجیے۔ کیونکہ کل کوئی الگ دن نہیں؛ کل جب آتا ہے تو آج بن کر آتا ہے۔
سلگتا اشارہ یہی ہے کہ ہم نے اپنے بہت سے خواب کل کے حوالے کر رکھے ہیں؛ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک دن ہمارا پورا مستقبل بھی اسی “کل” کے حوالے ہو چکا ہو۔

اپنا تبصرہ لکھیں