نہ ہو جستجو اگر! خوب سے خوب تر کہاں / محمد کوکب جمیل ہاشمی

علی الصبح موبائل فون کی گھنٹی بجتے ہی میں سوتے سے جاگ اٹھا۔ فون کی آواز سن کرمیں نے فون اٹھا لیا۔ مگر اس سے پہلے کہ کوئی آواز سنائی دیتی، فون بند ہوگیا۔ میں کمرے سے باہر برآمدے میں گیا تو وہاں لپٹا ہوا آج کا اخبار پڑا دیکھا۔ اخبار اٹھایا تو وہی روزانہ کی اکتا دینے والی خبریں طبیعت پہ گراں گزرنے لگیں۔ البتہ میری نگاہیں ایک خبر پر جم گئیں۔ خبرمیں کسی اہلکار کے حوالے سےانکشاف تھا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ملک بھر میں مہنگائی کی شرح میں خاطرخواہ کمی واقع ہو گئی ہے۔ میں بے یقینی اور خوش فہمی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ۔ گمان کرنے لگا کہ جو ٹماٹر پرسوں، سو روپے کلو سے زائد میں فروخت ہو رہےتھے، آج ضرور پچاس روپے کلو میں ملیں گے اورچینی کا بھاؤ جو دو سو روپے کلو تک پہنچ گیا تھا، اب ہمارے بلے باز بابر کی طویل انتظارکے بعد بننے والی سنچری کی طرح، تاخیر سے ہی سہی، سنچری روپے کلو پر آ گیا ہوگا۔ اور آب مہنگائی پر نکتہ چینی کی ضرورت نہیں رہے گی، سب کی بلے بلے ہو جائیگی، برے دنوں میں تگنی کا ناچ ناچنے والی عوام ڈھول بتاشے کے ساتھ اب جشن منا رہی ہوگی اور پہلے کی طرح خریداروں کا پارا جو تیز تر بخار کی طرح چڑھا ہوا تھا اب اتر چکا ہوگا۔ اتنے میں دوبارہ فون کی گھنٹی بجی۔ میں نے فون اٹھایا تو اس بار دوسری طرف سے ہمارا ڈرائیور ہی کسی اور کے فون سے بول رہا تھا۔ میں نے ڈرائیور سے پوچھا کہ کیا تھوڑی دیر پہلے تم نے ہی فون کیا تھا؟ جواب ملا کہ ” ہاں میرے موبائل فون میں بیلنس نہیں تھا اس لئے میں نے صرف مس کال دی تھی”۔ یہ مس کال بھی عجیب میڈم کی طرح ہوتی ہے جو اکثر آتی تو ہے مگر بات کئے بغیر، بنا اپنی شکل دکھاۓ، بجلی کی طرح غائب ہو جاتی ہے۔ خیر! وہ کہنے لگا کہ آج وہ کام پہ نہیں آ سکتا، کیونکہ اس کی موٹر سائیکل خراب ہو گئی ہے اور اس کے پاس اس کی مرمت کرانے کے پیسے نہیں ہیں۔ اچھا ؟ میں نے حیرت کا اظہار کیا کہ نہ موبائل فون میں بیلنس اور نہ موٹر سائیکل ٹھیک کرانے کی رقم اس کے پاس تھی، جبکہ ایک ہفتہ پہلے ہی اسے تنخواہ ادا کر دی گئی تھی۔ نہ جانے کیوں! یہ لوگ پورے ماہ کی تنخواہ کو چند دنوں میں خرچ کر بیٹھتے ہیں۔ شائد ڈرائیوراپنی آمدنی کو طریقے اور سلیقے سے خرچ کرنے سے قاصر تھا۔ وہ ایک ہفتے میں تیسری بار چھٹی بھی کرچکا تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے وہ اپنی تنخواہ بڑھانے کی خاطر حیلے بہانے کر رہا ہے۔ لیکن میں نے اپنی بد گمانی پہ لا حول پڑھی اور اس سے کہا کہ وہ کسی سے کچھ پیسے ادھار لے کر، موٹر سائیکل مرمت کروا لے اور کام پر آجاۓ، میں تمہارا ادھار اتار دونگا۔ میں سوچ میں غلطیاں ناشتے کی میز پر پہنچا تو بیگم صاحبہ نے آج کی ہنڈیا روٹی کے لئے پیسے مانگ لئے۔ کہنے کو بیگم صاحبہ نے پیسوں کی مانگ کی تھی. “پیسوں کی بات تو اب قصہ پارینہ ہو چکی ہے” ، میں نے سوچا! اب تو روپوں کا راج ہے۔ مانگ پٹی کے لئے درکار کنگھا بھی، جس کی بہت کم مانگ ہوتی ہے، پیسوں کا نہیں پچیس تیس روپے کا ملتا ہے۔
میں نے اس سوچ و فکر کے ساتھ ناشتہ کیا کہ اللہ نے ہمیں کتنی بیش بہا اور بے انتہا نعمتوں سے نوازا ہوا ہے کہ جن کا شمار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن ہم ان سے صحیح استفادہ نہیں کر پاتے نہ اسکی ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں، جن سے انفرادی یا اجتماعی سطح پر یہ ہمارے کام آ سکیں۔ وجہ دراصل یہ ہے کہ ہم اس کی جستجو نہیں کرتے۔ نہ یہ سوچتے ہیں کہ ساری تنخواہ دو روز میں نہ لٹا دیں بلکہ آگے کے لئے بھی کچھ بچا کر رکھیں۔
انفرادی سطح پر جب تک کوئی بھی تنخواہ دار یا کاروباری فرد اپنی آمدنی کو، اس طریقے اور منصوبہ بندی سے خرچ نہیں کریگا کہ گھر کی ضروریات بھی پوری ہورہی ہوں اور کسی نا گہانی اخراجات کے لئے بھی کچھ نہ کچھ رقم الگ سے مختص کر دی جاۓ، تاکہ بوقت ضرورت کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس طرح آمدنی قلیل ہو یا کثیر، اس میں گزارہ کرنے کے لئے صحیح انصاف کیا جا سکتا ہے۔ مگر ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ ایسا شخص شائد لاکھوں میں ایک ہوگا، جو لاکھوں روپے کماتا ہو اور رقم مٹھی میں آتے ہی یکمشت خرچ نہ کردے اور پھر تہی دست ہونے کا رونا نہ روتا رہے۔

آمدن اور اخراجات کے درمیان توازن صرف اس صورت میں نتیجہ خیز ہوتا ہے جب اس کی جستجوکی جاۓ۔ دنیا کا کوئی کام اس وقت تک پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتا جب تک اس کے لئے ارادہ اور جستجو نہ کرے۔ ہمارے یہاں گھروں سمیت ہر شعبہ زندگی میں لیت ولعل، سستی اور غفلت کے باعث کام ادھورے پڑے رہتے ہیں۔ صرف اشخاص اور خاندانوں پہ موقوف نہیں، بلکہ حکومتی اداروں میں بھی دلچسپی، ارادے اور جستجو کی عدم موجودگی سے مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرمہنگائی کو روکنے کے لئے سنجیدگی سے جستجو نہ کی جاۓ اور محض زبانی جمع خرچ کرتے رہیں تو کبھی بھی اچھے نتائج برآمد نہیں ہو سکتے۔ حالانکہ ارباب اختیار تو ہر سال جمع، خرچ پر مبنی میزانیہ تیار کرتے ہیں اور آمدن و اخراجات کا تخمینہ لگا کر نظام حکومت چلاتے ہیں۔

ہم اپنی خواہشات پوری کرنے کے لئے ہزارہا جتن کرتے ہیں۔ اچھی ملازمت، منفعت بخش کاروبار، پر آسائش مسکن، خوشگواراور آرام دہ گاڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ اشیاء زندگی کے حصول کی جستجو میں لگے رہتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ تمناؤں کی ان محبوباؤں کی تلاش میں مارے مارے بنوں میں پھرتے ہیں ہزاروں۔ کیونکہ انسان تو یہی چاہتا ہے کہ ” ہے جستجو خوب سے خوب تر کہاں” لیکن ہم اپنے معمولات کو درست رکھنے کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ اپنے اخلاق کو سنوارنے، ہمدردی کے جذبات رکھنے، جھوٹ سے اجتناب کرنے، حرص و طمع سے کنارہ کش ہونے، حسد سے گریز کرنے، بغض و عناد کو ترک کرنے، لوٹ مار کو برا نہ سمجھنے، ملاوٹ سے دوری اختیار نہ کرنے، دھوکہ دہی سے کام نہ لینے، غیبت کو خیرآباد نہ کہنے، اور دوسروں کو برے ناموں سے نہ پکارنے، بد اعتقادی کے ساتھ دوسروں کی اندھی تقلید سے خود کو دور نہ رکھنے کی جستجو نہیں کرتے۔ اس طرح ہمارا معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیۓ ہماری مادی ترقی کا حسن اس وقت تک ماند پڑا رہیگا جب تک ہمارا اچھا کردار، رواداری، اعلیٰ ظرفی، تعلیم و ہنرمندی، خوداری اور جرآت و بہادری ہمارے احسن خصائل کی روشنی سے منورنہ ہوں۔ مگر اس کے لئے جستجو از بس ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں