قانونِ وراثت-اولاد کی اور بہن بھائیوں کی منفعت(5)-عرفان شہزاد

اولاد کا حقِ وراثت فطری بنیاد رکھتا ہے۔ ان کی کفالت و بہبود انسان کی ذمہ داری ہے۔ یہی چیز انھیں میت کے ترکے کا اصل حق دار بناتی ہے۔ البتہ ان کے درمیان ترکے کی تقسیم کی ان کی منفعت کی بنیاد پر کی گئی ہے۔اولاد سے ملنے والی خدمت، حمایت اور کفالت دیگر اقربا کی نسبت مقدم ہے۔ ان کی خدمت سے راحت، ان کی حمایت سے دفاع اور بڑھاپے کی ناتوانی میں ان سے کفالت کی سہولت میسر آتی ہے۔
خدمت میں بیٹے اور بیٹیاں مساوی ہیں، جب کہ حمایت اور کفالت بیٹوں کی ذمہ داری ہے۔ بیٹیاں اپنے شوہر کے گھر سدھار جاتی ہیں، ان پر والدین کی کفالت کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ اس لحاظ سے بیٹے بیٹیوں سے انفع ہوتے ہیں ،اور اسی لیے وراثت میں بیٹوں کا حصہ بیٹیوں سے دوگنا ہے۔
بیٹوں اور بیٹیوں کے حق وراثت میں ایک اور دو کے تناسب کا فرق اس صورت میں بھی برقرار رکھا گیا ہے جب وارث صرف ایک بیٹی ہو۔ چنانچہ اسے ترکے کے نصف کا مستحق قرار دیا گیا ہے، بہ خلاف ایک بیٹے کے، اسے پورے ترکے کا حق دار بنایا گیا ہے۔
اسی طرح بیٹیاں دو ہوں تو وہ دو تہائی ترکے کی مستحق ہیں۔ یہ اس لیے کہ وارث اگر ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہو تو ایک نسبت دو کے لحاظ سے ایک بیٹی ایک تہائی ترکے کی مستحق ہوتی ہے۔ اس حساب سے دو بیٹیاں مل کر دو تہائی کی حق دار بنتی ہے۔ البتہ، دو سے زائد بیٹیوں کی صورت میں بھی وہ دو تہائی ہی کی حق دار ٹھیرائی گئی ہیں۔ اس مقدار کو اس لیے نہیں بڑھایا گیا کہ لڑکیوں کو کفالت کی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ جو شخص میت کی جگہ اس کا قائم مقام بن کر ان کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے، بقیہ ترکہ اسے دیا جائے۔ یہ ذمہ داری عام طور پر قریب ترین مرد رشتہ دار ادا کرتا ہے۔ اس کی یہ منفعت اسے بقیہ مال کاحق دار بناتی ہے۔

بہن بھائیوں کی منفعت
اولاد نہ ہو تو ان کی منفعت بھائی بہنوں سے متوقع ہوتی ہے۔ اس لیے بہن بھائیوں کو اولاد کا قائم مقام بنایا گیا ہے،چاہے وہ حقیقی ہوں یا سوتیلے۔ ترکے میں ان کے وہی حصے مقرر کیے گئے ہیں جو اولاد کے ہیں۔
والدین کی منفعت
اولاد اور بہن بھائی نہ ہوں تو اصل وارث والدین قرار پاتے ہیں۔
تقسیم وراثت میں ماں کی خدمت اور باپ کی کفالت کی منفعت کو برابر حیثیت دی گئی ہے۔ اس لیے اولاد کی موجودگی میں ترکے میں ان دونوں کا حصہ برابر ہے، یعنی دونوں کا چھٹا حصہ ہے۔ تاہم، اولاد اور بہن بھائی نہ ہوں تو ماں سے زیادہ باپ کی منفعت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ وہ یوں کہ عام حالات میں جوان اولاد کو ماں کی خدمت کی ضرورت نہیں رہتی، لیکن انھیں باپ کی حمایت، بہرحال درکار ہوتی ہے، نیز، لاچارگی کی صورت میں باپ سے کفالت بھی متوقع ہوتی ہے، جب کہ ماں سے، اس صورت میں صرف خدمت درکار ہو سکتی ہے۔ اس لیے ورثا صرف والدین ہوں تو باپ کا حصہ ماں سے دو گنا رکھا گیا ہے، یعنی ماں کا ایک تہائی اور باپ کا دو تہائی۔
وارث صرف ماں ہو تو اسے ترکے کے ایک تہائی کا مستحق قرار دیا گیاہ ےاور بقیہ ترکہ قریب ترین مرد رشتہ دار کو دیا جاتا ہے، کیونکہ ماں کی کفالت اب اس کی ذمہ داری ہے۔
وارث صرف باپ ہو تو سارا ترکہ اسے ملتا ہے، کیونکہ وہ اصل وارث ہے اور سارا ترکہ اصل وراث کو ملتا ہے، جب کہ وہ مرد ہو۔
زوجین کی منفعت
زوجین ایک دوسرے کو رفاقت مہیا کرتے ہیں جب کہ شوہر بیوی کو کفالت بھی مہیا کرتا ہے۔ ایک دوسرے کے لیے ان کی یہ منفعت ایک دوسرے کے ترکے میں انھیں ایک حصے کا حق دار بناتی ہے۔
بیوی کے حق وراثت کی ایک عقلی و فطری بنیاد بھی ہے۔ حق مہر کی طرح اس کا حق وراثت مرد پر اس کی کفالت کی ذمہ داری کا امتداد ہے۔ حق مہر نکاح میں داخلے کے وقت اور حق وراثت شوہر کے دنیا سے رخصت ہونے پر اسے ملتا ہے۔ اس کے برعکس عورت کے ترکے میں شوہر کا حصہ عورت اور اس کی اولاد کی کفالت کی ذمہ داری ادا کرنے کا شکرانہ ہے۔
مرد کی وفات کے بعد اس کی بیوی اس کی اولاد کی ضروریات کی نگران بھی ہوتی ہے، اس لیے بھی وہ ترکے میں وراث بننے کی حق دار ہے۔
شوہر اور بیوی کی باہمی اولاد میں مردو عورت کا اتصال ہو جاتا ہے، اس لیے زوجین ایک دوسرے کے لیے بمنزلہ ارحام ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ وہ اپنا حریم بدن بانٹتے ہیں تو اپنا مال، جو انھیں کی ذات کا ایک حصہ ہوتا ہے،وہ بھی بانٹتے ہیں۔ اس سے ان کا تعلق زیادہ گہرا ہو جاتا ہے، ورنہ یہ محض معاہداتی اور کاروباری نوعیت کا رہ جاتا کہ ایک کی وفات سے اس کی منفعت ختم ہوجائے تو دوسرے کو اس کی رفاقت کا کوئی صلہ نہ دیا جائے۔ ایک دوسرے کے مال کے وارث ہو کر وہ ایک دوسرے کے نفع و نقصان کو اپنا نفع و نقصان سمجھتے ہیں، یوں ایک دوسرے کے مال کے امین اور بہی خواہ ہو جاتے ہیں۔ ان مصلحتوں سے زوجین ایک دوسرے کے مال میں وارث قرار دیے گئے ہیں۔
شوہر چونکہ بیوی کو رفاقت مہیا کرنے کے علاوہ اس کی کفالت بھی کرتا ہے، اس کی یہ اضافی منفعت اسے مستحق بناتی ہے کہ بیوی کے ترکے میں اس کا حصہ، اس کے ترکے میں بیوی کے حصے سے زیادہ ہو۔ چنانچہ بیوی کے ترکے میں شوہر کا حصہ شوہر کے ترکے میں بیوی کے حصے سے دو گنا رکھا گیا ہے، یعنی بیوی کے اولاد ہو تو شوہر اس کے ترکے میں ایک چوتھائی کا حق دار ہے، اور شوہر کی اولاد ہو تو بیوی اس کے ترکے میں آٹھویں حصے کی مستحق ہے۔ بیوی کے اولاد نہ ہو تو شوہر کا حصہ اس کے ترکے میں نصف ہے، اور شوہر کے اولاد نہ ہو تو بیوی کا حصہ اس کے ترکے میں ایک چوتھائی ہے۔
بیویوں کے لیے ترکے کا حصہ مخصوص ہے، بیوی چاہے ایک ہو یا ایک سے زائد۔
خاوند کی وفات کے بعد عورت کے لیے کچھ مال کی وصیت وراثت سے الگ ایک حکم ہے، جو اپنی جگہ برقرار ہے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ یہ عورت کی عدت کے دورانیے میں اسے ملنے والے نفقہ میں اضافی طور پر اس کے کام آتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ دوسرا نکاح کرنا چاہے تو اس کے لیے بھی اسے کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔ یہ وصیت اس دورانیے میں اس کے کام آتی ہے۔ اس وصیت کی مشابہت تسریح باحسان کے وقت کچھ متاع دینے سے ہے، اس فرق کے ساتھ کہ تسریح باحسان میں شوہر بیوی کو اپنی زندگی میں رخصت کر دیتا ہے اور وصیت اس صورت میں ہے جب وہ اپنی وفات کی صورت میں بیوی سےجدا ہوتا ہے۔
جاری۔۔۔۔

اپنا تبصرہ لکھیں