گداگری کے فروغ میں سماج اور سرکار کا کردار/عتیق الرحمن راؤ

گداگری (بھیک مانگنا) کا آغاز انسانی زندگی کے ابتدا میں ہی شروع ہونے کی وجہ سے بے حد قدیم ہے۔ گداگری سماج میں موجود معاشی ناہمواریوں کی بنا پر شروع ہوئی۔ جب امیر اور غریب کے درمیان فرق بڑھا تو غریب لوگ زندہ رہنے کے لیے دوسرے لوگوں سے مدد مانگنے لگے۔ یہ عمل گداگری کہلایا اور مانگنے والے کو گداگر، بھکاری اور فقیر کہا جانے لگا۔

غربت معاشرتی عدم مساوات، بنیادی ضروریات کی قوتِ خرید نہ ہونے (یعنی مہنگائی) اور سماجی مسائل کی وجہ سے وجود میں آتی ہے اور صدیوں سے جاری ہے۔ قدیم روم، مصر اور یونان کی تہذیبوں میں بھی غریب اور معذور افراد مختلف انداز میں بھیک مانگتے تھے۔ دنیا کے تمام مذاہب نے غریبوں، مسکینوں اور ناداروں کی مدد کے بارے میں تعلیم دی۔ قرآن پاک میں سورۃ البقرہ کی آیت کا مفہوم کچھ یوں ہے:
“لوگ آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں اور کن پر؟ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہہ دیں تم جو بھی (خیر) خرچ کرو، سب سے پہلے والدین، قریبی رشتہ دار، پھر یتیموں، پھر مسکینوں، غریبوں اور پھر ضرورت مند مسافروں پر۔”

لہٰذا بطور مسلمان، صاحبِ حیثیت اور مڈل کلاس باشعور طبقہ ان تعلیمات پر عمل کرتا ہے، جبکہ اس کے برعکس پیشہ ور لوگوں نے بھیک مانگنے کو مستقل ذریعہ معاش بنا لیا ہے۔ جبکہ آپ ﷺ نے فرمایا:
“انسان کے لیے اس سے بہتر کوئی لقمہ نہیں جو وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے۔”

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں حکومتی اصلاحات کی گئیں تو غریب اور نادار لوگوں کی معاشی بحالی کے لیے فلاحی ریاست (Welfare State) کے تحت ان کی بیت المال کے ذریعے بحالی کی ابتدا کی گئی تاکہ گداگری کو کم کیا جا سکے۔ یوں تمام اسلامی ممالک کی ذمہ داری کا تعین کر دیا گیا کہ وہ ضرورت مند لوگوں کی کفالت کریں اور سماج میں روزگار فراہم کریں۔

یہ ذمہ داری اسلامی حکمران اور ممالک کس قدر ادا کر رہے ہیں، یہ ایک علیحدہ ایشو ہے۔ جبکہ ہم مشاہدہ کریں تو مغربی ممالک، جنہیں ہمارے علماء کافر کہتے ہوئے نہیں تھکتے، ان میں سکینڈینیوین ممالک (ڈنمارک، سویڈن اور ناروے) میں سوشل سیکیورٹی کے ذریعے نہ صرف ضرورت مند لوگوں کی مدد بلکہ شیرخوار بچوں کو ایک مخصوص عمر تک دودھ کی فراہمی کا معاوضہ بھی سرکار ادا کرتی ہے، اور فلاح و بہبود کے پروگرامز کو حضرت عمر فاروق کی اصلاحات کی نسبت سے “عمر لا” کہا جاتا ہے، اور یہ دنیا میں عوامی فلاح و بہبود میں پہلے نمبر پر ہیں۔

1947 میں پاکستان کی دیہی آبادی کا تناسب 80 فیصد سے زیادہ تھا جبکہ شہری آبادی 20 فیصد سے بھی کم تھی۔ دیہاتوں میں زراعت اور مویشی پر مبنی معیشت مستحکم تھی۔ تاہم غربت بھی تھی مگر گداگری کا رواج نہ تھا۔ اب یہ تناسب دیہی 60 فیصد اور شہری 40 فیصد ہو چکا ہے اور پاکستان تیزی سے نیم شہری معاشرہ بن رہا ہے، لہٰذا سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

پاکستان اس وقت شرحِ غربت کے لحاظ سے دنیا کے چند ممالک میں شامل ہے۔ کارل مارکس کے نظریے کے مطابق:
“غربت خدا کی طرف سے مقدر نہیں بلکہ انسانوں کے بنائے ہوئے معاشی نظام اور طاقتور طبقوں کی ناانصافی کے باعث ہے۔”

پاکستان کو بھی درج ذیل وجوہات کی وجہ سے غربت اور گداگری کا سامنا ہے: آبادی میں بے تحاشا اضافہ (یعنی خاندانی منصوبہ بندی کا فقدان)، غیر یقینی حالات، صنعتوں کا نہ ہونا، مہنگی پیداواری لاگت، غیر پیشہ ورانہ مہارت، بے روزگاری، عدم مساوات، پیشہ ور گداگر، شہروں کی طرف ہجرت، اشرافیہ کا وسائل پر قبضہ اور اجارہ داری۔

دنیا بھر میں سماج اور سرکار ضرورت مند، اپاہج، معذور، ضعیف، بوڑھے، غریب اور بے روزگار لوگوں کو روزگار اور مدد مہیا کر کے کارآمد شہری بناتے ہیں، نہ کہ مستقل پیشہ ور گداگر۔ البتہ معذور اور ضعیف افراد کی مدد سوشل سیکیورٹی کے ذریعے کی جاتی ہے۔

اب ہم اپنے ملک کی بات کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلے سماج زیرِ بحث لاتے ہیں۔ پاکستانی معاشرے کا شمار دنیا کے نمایاں خیرات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ یہ خیرات انفرادی اور اجتماعی شکل میں دی جاتی ہے۔ اس کا باقاعدہ شمار تو نہیں کیا جا سکتا مگر سالانہ حجم تقریباً 400 ارب روپے بنتا ہے۔ زیادہ تر خیرات رمضان اور عید کے موقع پر دی جاتی ہے۔

اب آ جائیں سرکار کی طرف تو وفاقی بجٹ میں ہر سال بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے 700 ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ صوبہ پنجاب تقریباً 170 ارب، سندھ 96 ارب، خیبر پختونخوا 67 ارب اور بلوچستان 18 ارب جبکہ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت کی ترجیحات الگ ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق مجموعی طور پر 1 کروڑ خاندانوں کی کفالت کے اعدادوشمار بتائے جاتے ہیں۔ سہ ماہی امداد 14500 روپے اور سالانہ 58000 روپے دیے جاتے ہیں۔

اس پروگرام کے علاوہ صوبوں کے اپنے پروگرام ہیں، مثلاً رمضان پیکج، راشن پروگرام، چیف منسٹر راشن کارڈ پروگرام، معذور افراد کے لیے ہمت کارڈ، بیواؤں کے لیے زکوٰۃ کارڈ وغیرہ۔

اب ہم سماج اور سرکار کی خیراتی تقسیم کا جائزہ لیں تو عجیب و غریب منظر دکھائی دیتا ہے کہ اس قدر خیرات اور امداد کے باوجود گداگری میں ہوشربا اضافہ ہو رہا ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پاکستانی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔ گداگری میں دنیا بھر میں پاکستانی قوم نمبر 1 ہے۔

افسوس کے ساتھ بحیثیت قوم مجموعی طور پر ہم مانگنے کو برا یا عار نہیں سمجھتے۔ خالصتاً غریب، نادار اور بے سہارا لوگوں کے علاوہ اچھے بھلے گھروں کے افراد بھی بھیک مانگنے کو عار نہیں سمجھتے۔ ان کی مثال طفیلی کیڑوں (parasite) جیسی ہے۔ اسے بغیر محنت کے روزگار (shortcuts) کہا جا سکتا ہے۔

آپ بازار میں خریداری کر رہے ہوں، گاڑی کا شیشہ نیچے کریں، بس یا ریل میں سفر کریں—مختصر یہ کہ ملک میں کہیں بھی ہوں، آپ کے سامنے مرد و خواتین گداگر قطار در قطار ہاتھ پھیلائے نمودار ہو جائیں گے۔ یہ پیشہ ور بھکاری ہیں، ان کا نیٹ ورک بہت مضبوط ہے۔ انہوں نے شہر کے اندرونی و بیرونی راستوں اور ہائی ویز پر اپنے گروپس کی جگہیں مختص کر رکھی ہیں۔

جمعرات کو خیرات اور بھیک کے لیے ایک خاص دن بنا لیا گیا ہے، جس دن بھکاریوں کی تعداد عام دنوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ اگر کوئی مستحق بھی ہو تو خیرات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عید الفطر یا عید الاضحیٰ پر صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے جہاں بعض اوقات لوٹ مار اور حادثات بھی پیش آتے ہیں۔

یہاں تک کہ گداگر مافیا بن چکے ہیں، بچوں کے اغوا میں ملوث ہوتے ہیں اور بعض اوقات جسمانی اعضا کو نقصان پہنچا کر گداگری کرواتے ہیں۔ خیرات اور مفت سہولیات (جیسے فری دسترخوان) بھی اس رجحان کو بڑھا رہی ہیں۔

سرکاری سطح پر بھی مسائل موجود ہیں۔ 2019-20 سے 2022 تک تقریباً 8 لاکھ غیر مستحق افراد کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکالا گیا، جو سالانہ تقریباً 60 ارب روپے کا نقصان کر رہے تھے۔ اس کے باوجود کرپشن، جعلی اندراجات اور کمیشن جیسے مسائل برقرار ہیں۔

یوں سماج اور سرکار ایک طویل اور نہ ختم ہونے والی جنگ لڑ رہے ہیں، جبکہ خیرات کے موجودہ طریقے بعض اوقات گداگری کے فروغ کا سبب بن رہے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ حل کیا ہے؟ غربت یا گداگری مکمل ختم نہیں ہو سکتی مگر اسے کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ بطور سماج اور سرکار ہمیں طریقہ کار بدلنا ہوگا۔ ایک کہاوت ہے:

“مچھلی کھلانے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھائیں۔”

سماج میں انفرادی اور اجتماعی طور پر مستحق خاندانوں کے بچوں کی تعلیم اور ہنر پر توجہ دی جائے۔ شارٹ کورسز جیسے پلمبر، الیکٹریشن، ہیئر ڈریسر، اے سی مکینک، کمپیوٹر کورسز وغیرہ کروائے جائیں۔ خواتین کے لیے سلائی کڑھائی، بیوٹیشن، ٹیوشن اور نرسنگ جیسے کورسز موزوں ہیں۔

سرکار کو بھی چاہیے کہ شفاف نظام کے تحت مستحق خاندانوں کو وقتی امداد کے بجائے ہنر اور روزگار فراہم کرے، اور ایک مقررہ مدت کے بعد انہیں خود کفیل بنا کر پروگرام سے خارج کرے۔

700 ارب روپے مکمل خیرات کی مد میں خرچ کرنے کے بجائے اس کا بڑا حصہ ہنر مندی اور روزگار کے منصوبوں پر لگایا جائے۔ مختلف علاقوں میں مقامی وسائل کے مطابق پروگرام شروع کیے جائیں، جیسے سرگودھا میں کینو، ملتان میں آم، سیالکوٹ میں صنعت و حرفت وغیرہ۔

آخر میں سوال یہی ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا؟ اگر گداگری کا تدارک نہ کیا گیا تو ہمارا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔

لہٰذا یہ مضمون محض گزارش نہیں بلکہ حقائق پر مبنی تجاویز ہیں تاکہ سماج اور سرکار مل کر ایک خوددار اور معاشی طور پر مستحکم پاکستان تشکیل دے سکیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں