اسلامی سیاسی نظامِ خلافت: قرآنی اصول، تاریخی اطلاق، اور جمہوریت سے تقابلی جائزہ
مقدمہ
سیاسی نظام کی تشکیل کسی بھی معاشرے کے استحکام، عدل اور ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ انسانیت نے مختلف ادوار میں مختلف نظام وضع کیے — جمہوریت، بادشاہت، آمریت، اشتراکیت وغیرہ — مگر قرآن و سنت میں اللہ نے ایک مکمل اور خود مختار نظام عطا کیا، جسے “خلافت” کہا جاتا ہے۔ یہ نظام دراصل اللہ کی حاکمیت کو زمین پر نافذ کرنے کا ایک انتظامی ڈھانچہ ہے۔ اس نظام میں اللہ تعالیٰ واحد حاکم، واحد مالک اور واحد قانون ساز ہے، جبکہ انسان اس کے حکم کے تحت زمین پر نظام چلانے والا فرمانبردار ہے۔
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ تھیوکرسی یا الٰہی نظام سلطنت میں انسان اللہ کے نائب کے طور پر کام کرتا ہے، مگر اس نظام میں کوئی بھی شخص “اللہ کا نائب” نہیں ہو سکتا، کیونکہ نائب کے معنی ہیں اصل حاکم کی غیر موجودگی میں نظام چلانے والا، حالانکہ اللہ تو ہمیشہ موجود، نگراں، حاکم اور مالک ہے۔ جیسے فرشتے اللہ کے حکم کے تحت کائنات کا نظام چلاتے ہیں مگر وہ حاکم نہیں ہیں، اسی طرح انسان بھی اللہ کے حکم کے تحت زمین کا نظام چلائے گا مگر وہ حاکم نہیں ہے۔ ملکیت اور حاکمیت خالصتاً صرف اللہ کی ہے؛ اس میں شراکت کا دعویٰ شرک ہے جو ظلم عظیم ہے۔ انسان کو اشیاء کا صرف حق استعمال دیا گیا ہے، حقِ ملکیت صرف رب کو حاصل ہے۔
جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ سوال ہوا کہ کیا وہ “خلیفۃ اللہ” ہیں، تو انہوں نے واضح فرمایا: “لست بخلیفۃ اللہ، أنا خلیفۃ رسول اللہ” (میں اللہ کا خلیفہ نہیں، بلکہ رسول اللہ کا خلیفہ ہوں)۔ یہی تصحیح بعد میں آنے والے خلفاء نے بھی اپنائی۔
خلافت اسلامی سیاسی نظریے کا مرکزی تصور ہے، مگر یہ ایک افسوسناک حقیقت ہے کہ عام طور پر بیشتر مباحث اس کے ابتدائی دور یعنی خلافتِ راشدہ تک ہی محدود رہتی ہیں۔ یہ ایک عام فہم غلطی ہے کہ خلافت صرف چار خلفائے راشدین پر مشتمل تھی، جبکہ تاریخی حقائق اس کے برعکس ہیں کیونکہ خلافت بحیثیت ایک سیاسی اور انتظامی ادارہ 1924ء تک مسلسل قائم رہی۔ مورخ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں 1300 سال سے زائد کی مدت میں 90 سے زائد خلفاء کا تذکرہ کیا ہے۔ یہ مقالہ اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے خلافت کی سیاسی ضرورت، تاریخی تسلسل، جدید دور میں اس کے قیام کی عدم کوششوں پر تنقیدی نظر ڈالتا ہے، اور قرآنی آیات، نبوی سیرت، خلفائے راشدین کے عمل اور تاریخی اطلاق کی روشنی میں نظامِ خلافت کی وضاحت کرے گا۔
باب اول: حاکمیتِ الٰہی اور ملکیتِ الٰہی — بنیادی قرآنی اصول
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی مطلق حاکمیت اور ملکیت کے بارے میں بے شمار آیات ہیں۔ یہ اصول نظامِ خلافت کی بنیاد ہیں:
سورہ الناس (114:1-3):
“قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ • مَلِكِ النَّاسِ • إِلَٰهِ النَّاسِ”
“کہہ دیجیے میں پناہ مانگتا ہوں لوگوں کے رب (پالنے والے) کی، لوگوں کے مالک کی، لوگوں کے معبود (حاکم) کی۔”
سورہ الفاتحہ (1:4):
“مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ”
“یومِ جزا کے مالک۔”
یعنی اللہ صرف اس جہاں کا ہی مالک نہیں ہے بلکہ وہ روز جزا کا بھی مالک ہے۔
سورہ آل عمران (3:26):
“قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ”
“کہہ دے: اے اللہ! تمام بادشاہی کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے بادشاہی چھین لے۔”
سورہ الحدید (57:2):
“لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ”
“آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔”
سورہ الانعام (6:61):
“وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ”
“اور وہی اپنے بندوں پر غالب ہے۔”
سورہ یوسف (12:40):
“إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ”
“حکم (فیصلہ کرنے کا اختیار) اللہ کے سوا کسی کا نہیں۔”
مزید قرآنی آیات:
“اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَى عَلَى الْعَرْشِ ۖ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ” (السجدہ 32:4)
“تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” (الملک 67:1)
“وَلِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ” (المائدہ 5:17)
ان آیات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ملکیت اور حاکمیت خالصتاً صرف اللہ کی ہے؛ انسان کو اشیاء کا صرف حق استعمال دیا گیا ہے، حقِ ملکیت صرف رب کو حاصل ہے۔ عوام اور حکمران دونوں کو اللہ کے احکام کے تابع رہنا ہے۔ یہی جمہوریت اور خلافت میں پہلا بنیادی فرق ہے — جمہوریت میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے، جبکہ خلافت میں حاکمیت صرف اللہ کی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کیا کہ انسان فطری طور پر آزاد تو ہے، مگر خود مختار نہیں ہے۔ اسے اختیار اللہ نے دیا ہے، اور وہ کسی بھی چیز کا مالک نہیں بلکہ محض حق استعمال رکھتا ہے۔
“وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ” (المائدہ 5:44)
“جو لوگ اللہ کے نازل کردہ کلام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے، وہی کافر ہیں۔”
لہٰذا، حاکمیت میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا شرک ہے جو ظلم عظیم ہے۔
باب دوم: خلافت کا تصور — اللہ کی نیابت نہیں، رسول کی نیابت
1. لفظ “خلیفہ” کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم
لفظ “خلیفہ” لغوی اعتبار سے “جانشین”، “نائب” یا “پیچھے آنے والا” کے معنی رکھتا ہے۔ اسلامی اصطلاحِ سیاست میں “خلیفہ” اس شخص کو کہا جاتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کے بعد آپ کے جانشین کے طور پر امت کی قیادت سنبھالے۔ چونکہ نبوت و رسالت کا سلسلہ حضور ﷺ پر ختم ہو چکا ہے، اس لیے اللہ کی طرف سے براہِ راست نامزدگی کا باب بھی بند ہو گیا۔ چنانچہ ختمِ نبوت کے بعد نامزدگی کا یہ اختیار اہل حل و عقد کو دیا گیا تاکہ وہ خلیفہ کا تقرر کریں۔
2. قرآن میں “خلیفہ” کا اطلاق — ایک اہم توضیح
قرآن میں لفظ “خلیفہ” کا اطلاق انسان پر ہوا ہے، لیکن اس سے کبھی یہ مراد نہیں کہ انسان “اللہ کا خلیفہ” ہے:
· حضرت آدم علیہ السلام: “إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً” (البقرہ 2:30)
امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: “خلیفہ سے مراد یہ ہے کہ ان کے یکے بعد دیگرے بعض کے بعض جانشین ہوں گے اور ایک زمانے کے بعد دوسرے زمانے میں یونہی صدیوں تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔” یعنی انسانوں کی ایک نسل دوسری نسل کی جانشین ہوگی، نہ کہ انسان اللہ کا جانشین ہوگا۔
· حضرت داؤد علیہ السلام: “يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ” (ص 38:26)
یہاں خلیفہ سے مراد زمین میں اللہ کے احکام کو نافذ کرنے والا اور لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والا ہے، گویا داؤد علیہ السلام اللہ کے نائب نہیں تھے بلکہ وہ آدم اور سابق انبیاء کے وارث اور جانشین تھے۔
· تمام انسانوں کو خطاب: “هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ” (الأنعام 6:165، الفاطر 35:39)
3. خلفائے راشدین کا موقف — اللہ کا خلیفہ نہیں، رسول کا خلیفہ
جب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو “خلیفۃ اللہ” کہہ کر پکارا گیا تو آپ نے فوراً اس سے انکار فرمایا اور کہا:
“لست بخلیفۃ اللہ، أنا خلیفۃ رسول اللہ”
(طبری، تاریخ الامم والملوک، ج3، ص210؛ ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، ج5، ص245)
اس کا مطلب ہے: خلافت رسول اللہ ﷺ کے بعد ان کے نظام اور شریعت کو جاری رکھنے کا نام ہے۔
4. خلافت کی فوری ضرورت — تاریخی شواہد
رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ابھی تدفین بھی نہیں ہوئی تھی کہ سقیفہ بنی ساعدہ میں خلیفہ کے انتخاب کو اولین ترجیح دی گئی (صحیح بخاری)۔ علامہ ابن خلدون نے مقدمہ میں لکھا کہ صحابہ کا اجماع امامت کے وجوب پر منعقد ہوا۔ امام غزالی نے الاقتصاد فی الاعتقاد میں کہا: “امامت کی ضرورت شرعاً و عقلاً ثابت ہے، کیونکہ بغیر امام کے لوگ فساد میں مبتلا ہو جائیں گے۔”
5. اللہ کا وعدۂ استخلاف
“وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ” (النور 24:55)
یہاں استخلاف سے مراد زمین پر حکمرانی عطا کرنا ہے، نہ کہ اللہ کی نیابت۔
—
باب سوم: نظامِ خلافت کے عملی اجزاء (قرآنی و نبوی)
1. خلیفہ کا انتخاب — صرف “اہل حل و عقد” کے ذمے
“إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا” (النساء 4:58)
اہل حل و عقد وہ چنیدہ افراد ہیں جو علم، امانت اور تجربے سے متصف ہوں۔
تاریخی اطلاق:
· ابوبکر: حضرت عمر و ابو عبیدہ کی تجویز، حاضرین کی بیعت
· عمر: ابوبکر کی نامزدگی، پھر عوام کی بیعت
· عثمان: چھ رکنی کمیٹی کا مشاورتی انتخاب
· علی: کبار صحابہ کی بیعت
2. بیعت — مشروط عہدِ اطاعت
“إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ” (الفتح 48:10)
بیعت مشروط ہے: خلیفہ جب تک شریعت پر چلے، اطاعت واجب؛ کھلے کفر یا حکمِ الٰہی کی خلاف ورزی پر اطاعت جائز نہیں۔ حدیث: “لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ” (صحیح بخاری و مسلم)
3. عوام کو احتساب کا حق — امر بالمعروف
“وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ” (آل عمران 3:104)
“وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ” (التوبہ 9:71)
4. ذیلی قانون سازی — اہل علم کا اجتہاد
“وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ” (النساء 4:83)
5. شوریٰ — مشاورت کا نظام
“وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ” (الشوریٰ 42:38)
باب چہارم: جمہوریت اور سیکولرزم کا تاریخی پس منظر
1. جمہوریت یونانی اصل ہے، اسلامی نہیں
جمہوریت کی ابتدائی شکلیں قدیم یونان (ایتھنز، پانچویں صدی قبل مسیح) میں موجود تھیں۔ قرآن نے یونانی تہذیب کا ذکر نہیں کیا، اور نہ ہی اس نظام کو اپنانے کا حکم دیا۔
2. سیکولرزم کی تاریخی بنیاد — مسیحی چرچ کے تضادات کا ردعمل
مغربی سیکولرزم کو سمجھنے کے لیے اس کے تاریخی اسباب کو جاننا ضروری ہے۔ سیکولرزم دراصل چرچ کی سیاست میں مداخلت اور اس کی غیر علمی روایت کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ بائبل کا کوئی ایک متفقہ اور مستند متن موجود نہیں تھا، جس کے باعث اس میں شدید تضاد پایا جاتا تھا۔
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بائبل کو باقاعدہ طور پر مدون کر کے اسے ایک کتابی شکل دینے کا موقع نہیں ملا۔ نتیجتاً، ان کے حواریوں اور بعد کی نسلوں نے بائبل کے نام پر جو کچھ تحریر کیا، اس میں انسانی عمل دخل کے باعث بہت بگاڑ پیدا ہو گیا۔ مختلف اناجیل (متی، مرقس، لوقا، یوحنا) میں باہمی تضادات پائے جاتے ہیں، اور ان کے علاوہ بے شمار اپوکریفائی (غیر مستند) کتب بھی موجود تھیں۔
اس تضاد کو کم کرنے کے لیے بعد میں چرچ کو ایک ادارے کے طور پر قائم کیا گیا، اور بائبل کی حتمی تشریح اور تالیف (Canonization) اس کے سپرد کی گئی۔ چرچ نے اپنی مرضی سے بعض کتب کو مستند قرار دیا اور بعض کو مسترد کر دیا۔ لیکن یہ حتمی تشریح بھی متعدد فرقوں (کیتھولک، آرتھوڈوکس، پروٹسٹنٹ) کے درمیان مختلف رہی، جس کی وجہ سے یورپ میں مذہبی جنگیں اور شدید سیاسی کشمکش برپا ہوئی۔
چرچ کے اس اختیار اور اس کی سیاست میں مداخلت (جیسے پاپائیت کا دنیاوی اقتدار، انکوائزیشن، اصلاحی جنگیں) کے خلاف ردعمل نے نشاۃ ثانیہ اور بالآخر روشن خیالی کے دور میں سیکولر فکر کو جنم دیا۔ مفکرین نے چرچ کی بالادستی کو مسترد کرتے ہوئے مذہب کو عوامی زندگی سے الگ کرنے کا نظریہ پیش کیا۔ یوں سیکولرزم ایک ایسے نظام کے طور پر ابھرا جہاں ریاست مذہبی اداروں سے آزاد ہوگی۔
3. قرآن — پچھلی کتب کا مصدق، مہیمن اور اپڈیٹڈ ایڈیشن
یہاں یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ قرآن کریم بائبل اور تورات کا ہی اپڈیٹڈ ایڈیشن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود فرمایا:
“وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ الْكِتَابِ وَمُهَيْمِنًا عَلَيْهِ” (المائدہ 5:48)
“اور ہم نے آپ کی طرف حق کے ساتھ یہ کتاب نازل فرمائی ہے جو اپنے سے پہلے کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی اور ان پر نگران (محافظ) ہے۔”
اس آیت کے مطابق قرآن:
· مصدق (تصدیق کرنے والا) ہے: یہ پچھلی کتب کے اصل الہامی مندرجات کی تصدیق کرتا ہے۔
· مہیمن (نگران اور محافظ) ہے: یہ پچھلی کتب پر حاکم ہے، ان میں ہونے والی تحریفات کو درست کرتا ہے، اور اصل احکام کو واضح کرتا ہے۔
چونکہ پچھلی کتب میں انسانی تحریف اور تضاد پیدا ہو چکا تھا، اور ان کا اصل متن محفوظ نہ رہ سکا، اس لیے اللہ نے آخری نبی محمد ﷺ پر قرآن نازل فرمایا جو تحریف سے محفوظ ہے اور قیامت تک کے لیے انسانیت کی رہنمائی کا ذریعہ ہے۔ اللہ نے خود اس کے تحفظ کی ضمانت دی:
“إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ” (الحجر 15:9)
“بیشک ہم نے ہی یہ ذکر (قرآن) نازل فرمایا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔”
اس طرح جہاں بائبل اور تورات کی تحریف اور تضاد نے سیکولرزم کو جنم دیا، وہیں قرآن کا محفوظ اور متفقہ متن مسلمانوں کے لیے ایک مکمل اور خود مختار نظام (خلافت) کی بنیاد فراہم کرتا ہے جس میں دین اور سیاست میں کوئی تضاد نہیں۔
4. مغربی جمہوریت کی درآمد اور علمی مغالطے
1924ء میں خلافت کے خاتمے کے بعد مسلم معاشروں نے مغربی جمہوریت کو قبول کر کے اسے “اسلام سے ہم آہنگ” قرار دینے کی کوشش کی — یہ ایک علمی مغالطہ ہے۔ ڈاکٹر محمد عمارہ (الاسلام والدیمقراطیة، ص45) کے مطابق: مغربی جمہوریت سیکولر اقدار، قومی ریاستوں کے تصور اور خودمختاری کے غیر الٰہی تصورات پر مبنی ہے۔
علامہ اقبال نے 1930 کے الہ آباد خطبے میں کہا: “مسلمانوں کے لیے جمہوریت کا نام نہاد مغربی ماڈل قبول کرنا خودکشی کے مترادف ہے، جب تک اسلامی اصولوں پر ایک حقیقی سیاسی نظام قائم نہیں ہوتا۔”
باب پنجم: تاریخِ اسلام میں خلافت کے اطلاق کے نمونے — امویوں سے عثمانیوں تک
1. خلافتِ راشدہ (632-661 عیسوی) — مثالی نمونہ
خلافت راشدہ کے خصائص میں شامل ہیں:
· انتخاب اہل حل و عقد کے ذریعے۔
· بیعت عامہ کی رسم۔
· احتساب کا نظام (حضرت عمر نے اپنے گورنروں کو جوابدہ بنایا)۔
· شوریٰ کا باقاعدہ اجلاس۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “الخلافة بعدي ثلاثون سنة ثم تكون ملكا عضوضا” (خلافت میرے بعد تیس سال رہے گی، پھر بودار بادشاہت ہوگی)۔
2. اموی اور عباسی خلافت (661-1258 عیسوی)
عام طور پر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ خلافت راشدہ کے بعد خلافت نے اپنی جوہری حیثیت کھو دی۔ حالانکہ اہل سنت کے نزدیک خلیفہ کا تقرر شرعی طور پر واجب ہے، اور امت پر لازم ہے کہ وہ ایک امام (خلیفہ) کی بیعت کرے (امام نووی، شرح صحیح مسلم، کتاب الامارہ)۔ اموی، عباسی، اور بعد ازاں عثمانی خلفاء نے اس روایت کو تسلسل بخشا۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب بھی مسلم سیاست میں خلافت کے ادارے کو کمزور کیا گیا یا اس کے خلاف بغاوتیں ہوئیں، نتیجتاً سیاسی انتشار، خانہ جنگیاں اور بیرونی حملے بڑھے۔ مورخ طبری نے اپنی تاریخ میں یہ ثابت کیا ہے کہ ہر فتنے کے دوران قیادت کے بحران نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔
اموی اور عباسی ادوار میں خاندانی بادشاہت کی طرف مائل ہوئی، لیکن بظاہر “خلافت” کا نام رہا۔ علماء (فقہاء) کا کردار قانون سازی میں نمایاں رہا۔
3. عثمانی خلافت (1299-1924 عیسوی)
سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد 1924ء میں مصطفٰی کمال اتاترک نے خلافت کا خاتمہ کیا تو اس وقت عالم اسلام میں شدید ردعمل سامنے آیا، مگر افسوس کہ مسلمانوں کے علمی اور سیاسی بحران کے باعث نہ تو پہلے سے موجود سیاسی نظام کو بحال کیا جا سکا اور نہ ہی کوئی مؤثر متبادل نظام پیش کیا جا سکا (محمد حمید اللہ، خلافت و ملوکیت، ص 210)۔ اس ردعمل میں ہندوستان میں تحریک خلافت (1919-24) شامل تھی جس میں علمائے دیوبند اور اہل حدیث نے بھرپور حصہ لیا۔
عثمانی خلافت ابتدائی طور پر سلطنت تھی، بعد میں آئینی بادشاہت (1876) کی طرف گئی۔ اگرچہ کامل نہ تھی، مگر نظریۂ خلافت قائم رہا۔
4. ایران کا اسلامی نظام — عصری ماڈل کے طور پر
اس کے بعد حالیہ اسلامی تاریخ میں ہمارے پاس خلافت سے ملتا جلتا ایک ماڈل صرف ایران میں موجود ہے جس کے تحت ایران دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جہاں اسلامی انقلاب کے بعد سے باقاعدہ ایک شرعی نظام نافذ العمل ہے۔ یہ نظام سنی-شیعہ تعصب کے باعث دھائیوں ہماری نظروں سے اوجھل رہا، مگر امریکہ-ایران جنگ نے ہماری آنکھوں پر پڑے تعصب کے ان پردوں کو چاک کر دیا۔
ایران کا سیاسی نظام دنیا کا مضبوط ترین سیاسی نظام ہے جو رہبر انقلاب اور ایران کی دیگر اعلی سطحی قیادت کی شہادتوں اور امریکہ-اسرائیل کی چالیس روزہ خوفناک بمباری کے باوجود بھی اپنی جگہ مضبوطی سے قائم ہے، جبکہ یہ جنگ چھیڑی ہی اس لیے گئی تھی کہ اس عظیم نظام کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا جائے۔
اسلامی تاریخ میں چودہ سو سال بعد چشم فلک نے اسلام کے میدان جنگ کا وہ نظارہ پھر سے دیکھا کہ میدان جنگ میں ایک رہنما شہید ہوتا ہے تو دوسرا آگے بڑھ کر اس کا علم تھام لیتا ہے — اور یہی ہماری روایت ہے۔
محقق ڈاکٹر اسرار احمد کے مطابق: “مسلم امت کو بغیر کسی تعصب کے ایران کے تجربے سے سبق لینا چاہیے کہ شرعی نظام بیرونی جارحیت کے خلاف کس طرح مضبوطی سے کھڑا رہ سکتا ہے” (بحوالہ: اسلامی نظامِ سیاست، ص 245)۔
چنانچہ ایران کا یہ نظام مجموعی اسلامی دنیا کا واحد جدید سیاسی تاریخی ورثہ ہے جس سے تمام اسلامی ممالک کو بغیر کسی تعصب کے مستفید ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ شیعہ فقہاء کا اہل سنت کے نظریہ خلافت سے فقہی اختلاف موجود ہے لیکن اگر دونوں کے تضادات کو حل کر لیا جائے تو قرآنی جدلیات کے مطابق ایک مشترک نظام وضع کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔ اس نظام اور اہل سنت کی خلافت کے درمیان جو نظریاتی حدود موجود ہیں، ان میں امامت کا تصور، اختیارات کی تقسیم، اور قانون سازی کے ذرائع شامل ہیں۔ بہر حال، یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران کا نظام مجموعی اسلامی دنیا کے جدید سیاسی تجربات میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔
باب ششم: خلافت اور مغربی سیاسی نظریات کا علمی تقابل (پیراگراف میں)
نظامِ خلافت کا تقابل جب ہم مغربی سیاسی روایت کے دو ستونی نظریات — بادشاہت (رابرٹ فلمر) اور جمہوریت (جان لاک) — سے کرتے ہیں تو اسلامی نظام کی فکری اساس واضح ہو جاتی ہے۔ لیکن اس سے قبل یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ مغربی نظریات بھی اپنی بنیاد میں الہامی احکامات کی تنقید اور تالیف پر قائم ہیں۔
رابرٹ فلمر (1588-1653) نے اپنی کتاب Patriarcha میں بادشاہت کے الٰہی حق (Divine Right of Kings) کا نظریہ پیش کیا۔ فلمر نے بائبل سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ حضرت آدم علیہ السلام دنیا کے پہلے بادشاہ تھے، اور انہیں اللہ نے مطلق اختیار دیا تھا۔ فلمر کے مطابق یہ اختیار وراثت کے ذریعے تمام بادشاہوں کو منتقل ہوتا ہے، اور بادشاہ صرف اللہ کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے، عوام کے سامنے نہیں۔ یوں فلمر نے بائبل کی آیات کو اپنے سیاسی نظریے کی تائید میں پیش کیا، مگر انہوں نے ان آیات کو ان کے اصل سیاق و سباق سے نکال کر ایک مطلقانہ نظام کی بنیاد رکھی جو بعد میں جان لاک اور دیگر مفکرین کی شدید تنقید کا نشانہ بنا۔
جان لاک (1632-1704) نے اپنی کتاب Two Treatises of Government میں فلمر کے نظریات کا بائبل اور عقل دونوں کی بنیاد پر مفصل رد کیا۔ لاک نے استدلال کیا کہ حضرت آدم کو کوئی مطلق بادشاہی اختیار نہیں دیا گیا تھا، اور یہ کہ انسان فطری طور پر آزاد اور مساوی پیدا ہوئے ہیں۔ لاک نے “سماجی معاہدے” (Social Contract) کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت عوام کی رضامندی سے بنتی ہے اور عوام کو حکومت تبدیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ لاک نے اپنے نظریات کی بنیاد فطری حقوق (Natural Rights) پر رکھی، جنہیں انہوں نے عقلی طور پر ثابت کرنے کی کوشش کی، اور یوں انہوں نے بائبل کی مخصوص تشریحات کی بجائے عقلی استدلال کو ترجیح دی۔
دونوں مفکرین — فلمر اور لاک — نے اپنے اپنے سیاسی نظریات کی تائید یا تردید کے لیے الہامی متون (بائبل) کا سہارا لیا۔ فلمر نے بادشاہت کو جائز ثابت کرنے کے لیے بائبل سے آیات پیش کیں، جبکہ لاک نے انہی آیات کی دوسری تشریح کر کے بادشاہت کے الٰہی حق کو مسترد کیا اور جمہوریت کی بنیاد رکھی۔ یہ مغربی فکری روایت میں ایک اہم موڑ ہے: الہامی متون کو سیاسی نظریات کا ذریعہ بنایا گیا، پھر انہی متون کی تنقید کے ذریعے نئے نظریات کو فروغ دیا گیا۔
اسلامی نظامِ خلافت ان دونوں سے یکسر مختلف ہے، کیونکہ یہ کسی مفکر کی ذاتی تشریح یا عقلی استدلال پر مبنی نہیں، بلکہ براہِ راست وحی الٰہی (قرآن و سنت) پر قائم ہے جس میں حاکمیت، ملکیت، قانون سازی اور عدالت کے بارے میں واضح اور غیر متضاد احکام موجود ہیں۔
اب تفصیلی تقابل دیکھیں:
حاکمیت کے سرچشمے کے اعتبار سے: فلمر کی بادشاہت میں حاکمیت بادشاہ (مطلق) کے پاس ہوتی ہے، لاک کی جمہوریت میں حاکمیت عوام کے پاس ہوتی ہے، جبکہ نظامِ خلافت میں حاکمیت صرف اللہ کے پاس ہے۔
قانون کے سرچشمے کے اعتبار سے: فلمر کے نزدیک قانون کا سرچشمہ بادشاہ کی مرضی ہے، لاک کے نزدیک عوام کی مرضی ہے، جبکہ نظامِ خلافت میں قانون کا سرچشمہ شریعت ہے جس کی تفصیل اور تطبیق اہل علم کے اجتہاد سے ہوتی ہے۔
حکمران کے انتخاب کے اعتبار سے: فلمر کی بادشاہت میں انتخاب وراثت کی بنیاد پر ہوتا ہے، لاک کی جمہوریت میں عوامی ووٹ سے، جبکہ نظامِ خلافت میں انتخاب اہل حل و عقد کرتے ہیں۔
اقتدار کی حدود کے اعتبار سے: فلمر کی بادشاہت میں اقتدار کی کوئی حد نہیں ہوتی، لاک کی جمہوریت میں اقتدار آئین اور عوام کی مرضی سے محدود ہوتا ہے، جبکہ نظامِ خلافت میں اقتدار شریعت سے محدود ہوتا ہے۔
انسان کی آزادی کے اعتبار سے: فلمر کی بادشاہت میں انسان محض رعایا ہے جسے بنیادی آزادی حاصل نہیں، لاک کی جمہوریت میں انسان فطری طور پر آزاد اور خود مختار ہے، جبکہ نظامِ خلافت میں انسان فطری طور پر آزاد ہے مگر خود مختار نہیں — اسے اختیار اللہ نے دیا ہے۔
جائیداد کے حق کے اعتبار سے: فلمر کی بادشاہت میں جائیداد کا حق بادشاہ کی عطا کردہ ہوتا ہے، لاک کی جمہوریت میں یہ حقِ ملکیت ہے، جبکہ نظامِ خلافت میں انسان کو صرف حقِ استعمال حاصل ہے، حقیقی ملکیت صرف اللہ کو ہے۔
عدالت کی نوعیت کے اعتبار سے: فلمر کی بادشاہت میں عدالت بادشاہ کی عدالت ہے، لاک کی جمہوریت میں عوامی عدالت ہے، جبکہ نظامِ خلافت میں زمین پر رب کی عدالت قائم ہوتی ہے جو عدل، اصلاح اور انتظام کے لیے ہے، جبکہ آخرت میں اللہ کی حتمی عدالت قائم ہوگی۔
ماخذ کے اعتبار سے: فلمر نے بائبل کی مخصوص تشریح سے اپنا نظریہ بنایا، لاک نے بائبل کی تنقید اور عقل کو مقدم رکھ کر اپنا نظریہ پیش کیا، جبکہ نظامِ خلافت کا ماخذ براہِ راست وحی (قرآن و سنت) ہے جو تحریف سے محفوظ ہے۔
خلاصہ یہ کہ نظامِ خلافت دراصل فلمر اور لاک دونوں سے مختلف ہے — یہ نہ مطلق بادشاہت ہے اور نہ سیکولر جمہوریت، بلکہ ایک الگ قسم کا سیاسی نظام ہے جو الٰہی حاکمیت، شریعت کے نفاذ، اور مشروط عوامی اطاعت پر مبنی ہے۔ جہاں مغربی مفکرین نے الہامی متون کو اپنی مفروضاتی تعمیرات کا ذریعہ بنایا، وہاں اسلامی نظام بغیر کسی بشری مداخلت کے خود وحی الٰہی پر قائم ہے۔
باب ہفتم: شبہات اور ان کے قرآنی جوابات
شبہہ 1: کیا شوریٰ جمہوریت کو ثابت نہیں کرتی؟
جواب: شوریٰ اہل الرائے (علماء، ماہرین) سے ہوتی ہے، نہ کہ عام ہجوم سے۔ جمہوریت میں اکثریت کی رائے حتمی ہے چاہے شریعت کے خلاف ہو — جو اسلام میں جائز نہیں۔
شبہہ 2: کیا بیعت الیکشن جیسی نہیں؟
جواب: نہیں۔ بیعت میں عوام پہلے سے منتخب خلیفہ کی اطاعت کا عہد کرتے ہیں، ووٹ نہیں دیتے۔ بیعت شرعی ہے، الیکشن سیکولر۔
شبہہ 3: کیا آج خلافت قائم کرنا ممکن ہے؟
جواب: جی ہاں۔ جس طرح نبی کی وفات کے فوراً بعد قائم ہوئی، اسی طرح آج بھی ممکن ہے — یا کوئی مسلم ریاست شریعت کو آئین مانے، انتخاب اہل حل و عقد کرے، اور عوام کو احتساب کا حق دے۔ امام شاطبی (الاعتصام) کے مطابق: خلافت کے کلاسیکی اصولوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا جائے، نہ کہ جمہوریت کی اندھی تقلید۔
خاتمہ اور خلاصہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کیا ہے کہ وہی رب الناس، ملک الناس، الٰہ الناس، مالک یوم الدین، مالک الملک ہے۔ ملکیت اور حاکمیت خالصتاً صرف اللہ کی ہے۔
سیکولرزم دراصل مسیحی چرچ کی سیاست میں مداخلت اور بائبل کے تضادات کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا — جبکہ قرآن پچھلی کتب کا مصدق، مہیمن اور محفوظ اپڈیٹڈ ایڈیشن ہے، جو قیامت تک کے لیے ایک مکمل سیاسی نظام (خلافت) عطا کرتا ہے۔
نظامِ خلافت کی خصوصیات کا خلاصہ:
1. حاکمیت صرف اللہ کی — کوئی بھی قانون شریعت کے خلاف نہیں ہو سکتا۔
2. خلیفہ “خلیفۃ رسول اللہ” ہے — جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے واضح فرمایا۔
3. خلیفہ کا انتخاب اہل حل و عقد کرتے ہیں — نہ کہ عوامی ووٹنگ۔
4. عوام بیعت کرتی ہے — مشروط اطاعت کا عہد۔
5. عوام کو احتساب اور نصیحت کا حق ہے — بذریعہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔
6. ذیلی قانون سازی اہل علم کرتے ہیں — نہ کہ پارلیمنٹ۔
اللہ کا وعدہ آج بھی زندہ ہے: “لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ” (النور 55)۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سیاسی نظام کو قرآن و سنت کی روشنی میں تشکیل دیں، نہ کہ مغربی جمہوریت کی اندھی تقلید کریں۔
واللہ أعلم بالصواب
کتابیات و حوالہ جات
1. قرآن کریم (ترجمہ و تفسیر)
2. صحیح بخاری (کتاب الحدود، باب رجم الحبلی)
3. امام ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
4. امام طبری، تاریخ الامم والملوک
5. علامہ ابن خلدون، مقدمہ (الفصل الثالث فی أن الخلافة واجبة شرعاً)
6. امام غزالی، الاقتصاد فی الاعتقاد
7. امام نووی، شرح صحیح مسلم (کتاب الامارہ)
8. امام شاطبی، الاعتصام (ج 2)
9. ڈاکٹر محمد عمارہ، الاسلام والدیمقراطیة
10. محمد حمید اللہ، خلافت و ملوکیت
11. ڈاکٹر اسرار احمد، اسلامی نظامِ سیاست
12. سید مودودی، اسلام کا سیاسی نظام
13. علامہ اقبال، الہ آباد خطبہ 1930
14. Robert Filmer, Patriarcha (1680)
15. John Locke, Two Treatises of Government (1689)
16. Bart D. Ehrman, Misquoting Jesus (بائبل کے تضادات پر)


