سوشل میڈیا بریگیڈ:حقیقت سے پروپیگنڈا تک/سید مہدی بخاری

ماضی قریب کی بات ہے جب عاصم منیر کو سپہ سالار بنانے کی بات ہو رہی تھی تو ایک سیاسی طبقے نے مہم شروع کر دی تھی۔ ان کے نزدیک سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ کہیں آرمی چیف “غلط مسلک” کا نہ نکل آئے۔چنانچہ اہلخانہ کی ٹریول ہسٹری تک کھنگال لی گئی اور کہا گیا کہ یہ ایران جاتے ہیں لہٰذا ان پر اعتماد نہ کیا جائے۔مگر سیاست کا سب سے دلچسپ پہلو اس سیاسی طبقے کی یوٹرن اسپیڈ ہے۔ پھر وہی لوگ پوری سنجیدگی سے یہ ثابت کرنے میں لگے رہے کہ عاصم منیر اہل تشیع اور ایران کے خلاف ہیں۔انقلاب لگے لوگوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بیانیے بدلنے سے حقیقت نہیں بدلتی۔ کل جو الزامات تھے آج وہی دلائل بن جائیں تو مسئلہ کسی اور کا نہیں منافقانہ سوچ کا ہوتا ہے۔

کہانی اکتوبر 2022 میں شروع ہوتی ہے جب نادرا سینٹر کے ایک جونیئر ایگزیکٹو فاروق احمد کے پاس کوئی آرڈر آتا ہے جس میں ایک شناختی کارڈ نمبر دیا جاتا ہے اور اس سے شناختی کارڈ کے ڈیٹا کو ایکسیس کیا جاتا ہے اور وہ شناختی کارڈ کسی اور کا نہیں عاصم منیر کی اہلیہ کا تھا۔اس کام میں نادرا کے مزید لوگ بھی آئے جن میں سے ڈپٹی اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد علی ، محمد ساجد اور سیف اللہ یہ لوگ تربیت پر تھے اس کے علاوہ اسلام آباد سے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رشید احمداور اسلام آباد سے ہی رحمٰن محمود بٹ اس کام میں شامل ہوئے جو کہ پروجیکٹ ڈائریکٹریٹ پاکستان آئی ڈی سے تھے۔

رحمٰن بٹ کو موجودہ آرمی چیف کی فیملی کے آئی ڈی کارڈز نمبرز دیئے گئے اور کہا گیا کہ ان نمبرز کا پاسپورٹ کارڈ پن دیا جائے اس کے بعد اس ڈیٹا کو آئی بی ایم ایس(اینٹی گریٹڈ بارڈر مینجمنٹ سسٹم ) میں ڈالا گیا۔ یہ وہ سسٹم ہے جس میں کسی کا آئی ڈی کارڈ ڈالیں تو اس کا سارا ٹریول ریکارڈ آ جاتا ہے۔ مقصد یہ تھا کہ جنرل عاصم منیر کی فیملی کہاں کہاں ٹریول کرتی ہے چیک کیا جائے اور بالخصوص یہ دیکھنا تھا کہ کہیں وہ ایران تو سفر نہیں کرتے ؟۔ عاصم منیر کے بارے میں یہ بات بھی سعودی حکومت کو بتائی گئی تھی کہ وہ اہل تشیع میں کنورٹ ہو چکے ہیں یہ اطلاع سعودی حکومت کیلئے بہت حیران کن تھی کیونکہ جنرل عاصم منیر تو سعودی عرب میں ڈیوٹی سر انجام دے چکے تھے اور سعودی حکومت کو ان کے بارے سب معلوم تھا۔

عادل راجہ نے عاصم منیر اور ان کی فیملی کے خلاف اس پروپیگنڈا کو پھیلانا شروع کیا اور لونڈے لپاڑوں نے اُچک لیا اور سوشل میڈیا پر مہم شروع کر دی گئی۔ شہباز گل نے اس مدعے پر گیارہ ماہ بعد امریکا جا کر ستمبر 2023 میں ویلاگ کیا اور وہ ویلاگ چند ماہ پہلے ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔ جب شہباز گل کے خلاف امریکی انتظامیہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے باضابطہ شکایت معہ ثبوت دی گئی تو شہباز گل نے اپنے چینل سے ساری ویڈیوز ہٹا دیں ۔ اپنے چینل پر صرف 34 ویڈیوز باقی رہنے دیں۔ نادرا کے تمام ملازمین کے خلاف کیس چلا وہ اپنی نوکریوں سے برخاست ہوئے اور اب تک عدالتی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

دو تین دن پہلے انٹرنیٹ پر ایک خاتون کی روتے ہوئے ویڈیو گردش کر رہی تھی۔ یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے خواجہ سعد رفیق پر ون کانسٹیٹیوشن ایونیو بلڈنگ میں آٹھ فلیٹوں کے مالک ہونے کا الزام لگایا تھا۔ اس بات کو مطیع اللہ جان نے ٹویٹ کیا اور بعد ازاں وہ سعد رفیق سے معذرت کر کے ٹویٹ ڈیلیٹ کر گئے لیکن تب تک اس بات کو پوری سوشل میڈیا بریگیڈ لے اُڑی جبکہ سعد رفیق مسلسل کہتے رہے میرا کوئی فلیٹ نہیں ہے۔ اب جب سعد رفیق نے ان کے خلاف ہونے والے پراپیگنڈا پر قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے اور نوٹس جاری ہوئے ہیں تو اس خاتون کو بھی نوٹس ہوا ہے۔ اب محترمہ کو رونا آ رہا ہے۔ اب اپنی سوشل میڈیا ہسٹری ڈیلیٹ کرنے اور رونے والی کیا بات ہے۔ وکیل کریں اور جائیں جا کر بتائیں کہ یہ آٹھ فلیٹس سعد رفیق کے ہیں اور میں حق سچ کی آواز بن کر جہاد کر رہی تھی۔ اس خاتون کی پوری وال گھٹیا اور بیہودہ سیاسی کمنٹری سے بھری ہوئی تھی جسے اب وہ ڈیلیٹ کر چکی ہیں۔

کچھ عرصہ قبل لاہور میں پنجاب کالج کی ایک بچی کے ساتھ ریپ کی خبر پھیلی تھی جو سراسر جھوٹ تھی۔ لیکن سٹوڈنٹس نے کئی کالجز کو آگ لگا دی اور ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ میں نے معلومات لے کر اسی دن لکھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا کوئی ریپ نہیں ہوا۔ کمنٹس میں سوشل میڈیا بریگیڈ والے مجھے گالیاں دینے آ گئے جھوٹ بولتا ہے۔ اس میں مرکزی کردار سارہ خان نامی ایک ٹک ٹاکر نے ادا کیا تھا جس نے ٹک ٹاک پر کمال اداکاری کرتے ایک ویڈیو لگائی جس میں دعویٰ کیا کہ وہ میری بچی ہے اور اس کی حالت تشویشناک ہے۔ وہ ویڈیو جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ مشتعل ہو کر باہر نکل آئے۔ سکول کالجز میں احتجاج شروع ہو گئے اور پولیس کے سامنے سٹوڈنٹس آ گئے۔ اس عورت کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس نے یہ سب صرف توجہ حاصل کرنے کی خاطر کیا تھا۔ آج وہ عورت کوٹ لکھ پت جیل میں اپنی سزا کاٹ رہی ہے۔ اس پر انسداد دہشت گردی کی دفعات لگائی گئیں تھیں۔ ہائیکورٹ اس کی درخواست ضمانت خارج کر چکی ہے۔

چھبیس نومبر کا سانحہ جب ہوا سوشل میڈیا پر طوفان آ گیا۔ لاشوں کی تعداد سو سے شروع ہوئی اور کچھ گھنٹوں میں 280 تک پہنچا دی گئی۔ شہباز گل نے سب سے پہلے سو شہادتوں کا اعلان کیا اور پھر ہر کسی نے اپنی اپنی ہانکنا شروع کر دی۔ لطیف کھوسہ تک بات پہنچتے پہنچتے تعداد 280 ہو چکی تھی۔ سوشل میڈیا جنرل ڈائر والی پوسٹوں سے بھر گیا تھا۔ہر طرف massacre کی دہائی مچ گئی تھی۔ لوگ مشتعل تھے۔ تین دن سارا ملک ہیجان و غصے کی کیفیت میں رہا اور پھر بعد میں پی ٹی آئی نے خود بارہ لوگوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی مگر آخر کار وہ چھ لوگوں کا ہی بتا پائے۔ریاست کے ہاتھوں کسی ایک شہری کی جان جائے یا چھ کی جائے قابل مذمت ہے اور ظلم ہے۔میں اس کی مذمت میں لکھتا بولتا رہا ہوں۔چھبیس نومبر کی سخت مذمت پر میری ویڈیو بھی موجود ہے اور تحریر بھی موجود ہے۔ لیکن قابل مذمت لاشوں پر پراپیگنڈا بھی ہے۔ لوگوں میں سراسر اور مسلسل جھوٹ پھیلا کر اشتعال دلانا بھی ظلم ہے۔

کچھ ماہ پہلے شاندانہ گلزار سمیت دوسرے تیسرے درجے کی لیڈر شپ اور سوشل میڈیا بریگیڈ نے نیتن یاہو اور شہباز شریف کی ہاتھ ملاتے جعلی مینی پولیٹیڈ تصویر شئیر کی اور اس کو پھیلاتے رہے۔ جب شاندانہ گلزار کی ٹویٹ پر لوگوں نے کمنٹس کیے کہ محترمہ یہ جعلی تصویر ہے تو جواب دیا کہ یہ جعلی نہیں ہے۔ خفیہ ملاقات ہوئی ہے۔ اور پھر جب شور مچا تو کچھ دیر بعد ڈیلیٹ کر گئیں اور ڈیلیٹ کرنے کے بعد لکھا کہ پاکستان ابراہیم اکارڈ کو تسلیم کر رہا ہے۔ یعنی سراسر جھوٹ، لغو اور بے بنیاد پراپیگنڈا۔ جعلی تصویروں اور جعلی سکرین شاٹس کا دھندا سوشل میڈیا بریگیڈ اپنے مخالفین کے خلاف کرتی رہی ہے اور کرتی رہتی ہے۔جب کوئی چارہ نہ ملے۔ جب فرسٹریشن عروج پر ہو۔ یہ تب ایسا ہی کرتے ہیں۔

جعلی خبروں کا کارخانہ صرف ایک جماعت یا ایک طبقے تک محدود نہیں۔ سیاسی جنگ اب حقائق سے زیادہ کلپ،اسکرین شاٹ اور ٹرینڈ کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ کسی کی پرانی ویڈیو نکالو، کسی کی آڈیو لیک کر دو، کسی کے جملے کا آدھا حصہ کاٹ کر وائرل کر دو۔ سوشل میڈیا نے ہر جماعت کو اپنا اپنا پراپیگنڈا سیل عطا کر دیا ہے۔ ایک طرف فیاض چوہان طرز کی سیاست ہے جہاں زبان بریک فیل گاڑی کی طرح ڈھلوان پر اترتی چلی جاتی ہے۔ دوسری طرف رضی دادا اور حسن ایوب جیسے کردار ہیں جو سیاسی اختلاف کو ذاتی جنگ بنا کر پیش کرتے ہیں۔ یہ صرف افراد نہیں، پورا کلچر ہے۔ ایسا کلچر جہاں مخالف کو غلط ثابت کرنا کافی نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ذلیل کرنا ضروری تصور کیا جاتا ہے۔

پنجاب حکومت کے گرد موجود خواتین ترجمانوں اور وزیروں کی ٹیم بھی اسی سیاسی میڈیا وار کا حصہ دکھائی دیتی ہے۔ مریم نواز کے قریبی حلقے میں شامل عظمیٰ بخاری، مریم اورنگزیب اور حنا پرویز بٹ جیسے چہرے اکثر جارحانہ پریس کانفرنسوں اور سخت بیانیوں کے ذریعے پی ٹی آئی یا خیبر پختونخوا سرکار کو ہدف بناتے نظر آتے ہیں۔ ادھر پشاور کی پراپیگنڈا سیاست بھی کم رنگین نہیں۔ وہاں بھی سہیل آفریدی، شاہد خٹک، مینا خان اور شفیع جان جیسے کھلنڈرے سپاہی موجود ہیں۔سوشل میڈیا کے آنے سے سیاسی شعبدہ بازوں کو ہر شخص سے توقع ہے کہ وہ یا تو تالیاں بجائے یا گالیاں دے۔ درمیان کی کوئی جگہ باقی نہیں چھوڑی گئی۔اختلاف رائے اب دشمنی سمجھا جاتا ہے اور اس ماحول میں سچ سب سے زیادہ زخمی ہوتا ہے۔

جنریشن زی سوشل میڈیا فیڈ پر پلی ہے۔ فیڈنگ میں پراپیگنڈا بطور ٹول استعمال ہوا ہے۔ معلومات تک رسائی اور ان کو کراس چیک یا پرکھنے کا تکلف نہیں برتا گیا ۔ جو اپنی من پسند پارٹی یا اینکر یا انفلیونسر نے بتا دیا اسی کو مکمل سچ مانا جاتا ہے۔ بیانئیے کی دوڑ میں جعلی تصاویر، اے آئی سے بنیں تصاویر، جعلی ویڈیوز اور آڈیوز کی یلغار ہے۔ کوئی چیک نہیں کوئی تفتیش نہیں۔ جو دل کرے پھیلا دو۔ جو دل کرے بنا دو۔ لوگ اسی کو لے کر چل پڑتے ہیں۔ جھوٹ کی عمارت بلآخر ڈھہ تو جاتی ہے لیکن تب تک وہ اپنا کام کر چکی ہوتی ہے۔ ذہن سازی ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر لوگ سامنے آتے تلخ حقائق کو بھی مسترد کر دیتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں