جدید دور میں خلافت کا قیام: ایک قرآنی، تاریخی اور منطقی جائزہ/زاہد سرفراز

پیش لفظ

اپنی گزشتہ تحریر میں ہم نے خلافت اور جمہوریت کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے یورپ کے تناظر میں رابرٹ ولمر اور جان لاک کے تصورات سے بحث کی تھی اور سیکولرازم کی پیدائش کی تاریخی وجوہات کا تجزیہ کیا تھا۔ اس مضمون میں ہم اس اہم سوال کا جائزہ لیں گے کہ موجودہ دور میں خلافت کا قیام کیونکر ممکن ہے اور اس وقت کون سے شرعی، تاریخی اور منطقی اصول لاگو ہوتے ہیں۔ ہم قرآن مجید کی آیات، ان کے صحیح تراجم اور سیاق و سباق، اور انبیائے کرام علیہم السلام کے تاریخی نمونوں کی روشنی میں ایک بھرپور اور مدلل بحث کریں گے۔ اس بحث کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خلافت براہ راست اللہ کی طرف سے قائم ہوتی تھی، جبکہ ختم نبوت کے بعد خلافت قائم کرنے کی ذمہ داری اہل حل و عقد (فقہی اور اہل علم متقی پرہیزگار افراد) کو منتقل ہو چکی ہے، اور ہر دور میں دین کی احیاء کے لیے ایک مرکزی کردار یعنی خلیفہ کی اتھارٹی ناگزیر ہے۔

موجودہ صورتحال: ہزیمت، سیکولر ریاستیں اور علمی جمود

آج مسلمان علمی اور سیاسی محاذ پر مکمل طور پر ہزیمت کا شکار ہیں۔ مغرب کی اندھی پیروی میں مسلمانوں نے اپنی قومی ریاستیں قائم کر لی ہیں۔ ایران اور افغانستان کو چھوڑ کر باقی تمام مسلم ریاستیں یا تو شخصی آمریت کا شکار ہیں یا جمہوری ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت میں مکمل طور پر سیکولر ہیں، جہاں دین کو سیاسی امور سے الگ کر دیا گیا ہے۔

افغانستان میں ایک سخت گیر مخصوص مذہبی طبقے کی آمریت قائم ہے، جہاں شریعت کے نام پر ایک تنگ نظر اور جبری نظام چلایا جا رہا ہے۔ یہ نظام خلافت کے تصور سے مطابقت نہیں رکھتا، کیونکہ اس میں اہل حل و عقد کی طرف سے ایک عادل اور مدبر خلیفہ کا تقرر اور بیعت کا طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ دوسری طرف ایران میں شریعت نافذ العمل ہے اور وہاں کا نظام خلافت سے قریب تر ہے، البتہ شیعہ فقہاء کے نزدیک آج بھی یہ علمی مغالطہ موجود ہے کہ امام یا خلیفہ کا تقرر براہ راست اللہ کی طرف سے کیا جائے گا، حالانکہ ختم نبوت کے بعد یہ ذمہ داری امت کے اہل حل و عقد پر منتقل ہو چکی ہے۔

اس تاریخی پس منظر میں اسلامی دنیا میں کہیں بھی خلافت کے قیام کی کوئی منظم تحریک موجود نہیں، اور نہ ہی علمی سطح پر اس سمت میں مسلمانوں نے کوئی قابلِ ذکر کام کیا ہے۔ بلکہ زیادہ تر مسلم ریاستوں نے دین کو سیاست سے مکمل طور پر الگ کر کے سیکولرازم اور جمہوریت کو ہی اپنا دین بنا لیا ہے۔ یہ صورتِ حال امت مسلمہ کے لیے انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس طرح وہ اپنی اساس سے ہی کٹ کر رہ گئی ہے۔

ماضی کے ادوار میں احیاء اور موجودہ دور میں فرق

ماضی میں جب جب اسلام کا دوبارہ احیاء ممکن ہوا، انسان کو بعینہ آج ہی کی طرح ملتے جلتے حالات کا سامنا رہا۔ لیکن باقی تمام تاریخی ادوار میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی مسیحا (یعنی نبی یا رسول) بھیجا گیا جس نے رب کے دین کو پھر نئے سرے سے زمین پر قائم کیا۔ مگر اب چونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا خاتمہ فرما دیا ہے (خاتم النبیین)، اس لیے اب زمین پر اللہ کی طرف سے کوئی مسیحا یا نبی نہیں آئے گا اور نہ ہی اس کی طرف سے کوئی خلیفہ یا امام مقرر کیا جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

“مَا کَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِکُمْ وَ لٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ” (الاحزاب: ۴۰)

ترجمہ: “محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول اور نبیوں کے خاتم ہیں۔”

اس لیے اب جو بھی کرنا ہے، بعد کے لوگوں نے اپنے طور پر خود کرنا ہے۔ یہ فریضہ اہل حل و عقد یعنی فقہی اور اہل علم متقی پرہیزگار افراد کو ادا کرنا ہے۔

انبیائے کرام علیہم السلام کے تاریخی نمونے: قرآنی دلائل (ماقبل نبوت کی خلافت)

قرآن مجید میں مختلف انبیاء کی زندگیوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے تاکہ امت مسلمہ کے لیے ان میں نمونہ ہو۔ ان تمام نمونوں میں ایک واضح اصول یہ نظر آتا ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو بھی خلافت یا امامت قائم ہوئی، وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم ہوتی تھی۔ اللہ خود کسی نبی یا صالح بندے کو خلیفہ یا حاکم مقرر کر دیتا تھا، اور امت کو اس میں کوئی اختیار حاصل نہ تھا۔ ہم ان میں سے چند ایک کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں:

1. حضرت داؤد علیہ السلام کی خلافت

اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو براہ راست زمین میں خلیفہ بنایا اور انہیں حکم دیا کہ وہ حق کے ساتھ فیصلہ کریں:

“یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوٰی فَیُضِلَّکَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ” (ص: ۲۶)

ترجمہ: “اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے، سو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کرو اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے بھٹکا دے۔”

یہاں واضح ہے کہ خلافت ایک ایسا منصب ہے جو اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ شرط عدل و حق اور خواہشات سے بچنا ہے۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے نہ صرف فیصلے کیے بلکہ انہیں سلطنت اور قوت بھی دی گئی۔ اللہ نے انہیں زبور بھی عطا کی اور ان کے لیے لوہے کو نرم کیا۔ اس نمونے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خلیفہ کو طاقت اور اختیار حاصل ہو، مگر وہ حق کے ساتھ حکومت کرے اور اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرے۔

2. حضرت سلیمان علیہ السلام کی جانشینی

حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے والد حضرت داؤد علیہ السلام کے جانشین بنے، اور یہ جانشینی بھی اللہ کی طرف سے عطا کردہ تھی:

“وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ ۚ وَقَالَ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّیْرِ وَاُوْتِیْنَا مِنْ کُلِّ شَیْءٍ ۭ اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِیْنُ” (النمل: ۱۶)

ترجمہ: “اور سلیمان داؤد کے وارث (جانشین) ہوئے اور انہوں نے کہا: اے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہمیں ہر چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے، بے شک یہ واضح فضل ہے۔”

اس وراثت سے مراد نبوت، خلافت، حکومت اور علم تھا۔ انہیں پرندوں اور جنات پر بھی اختیار دیا گیا، اور اللہ نے ہوا کو ان کے تابع کر دیا۔ یہ نمونہ بتاتا ہے کہ خلیفہ کے بعد اس کا جانشین اسی اصول پر مقرر ہوتا ہے، لیکن یہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ مگر موجودہ دور میں جب نبوت ختم ہو چکی ہے، تو جانشینی کا یہ الٰہی طریقہ کار بھی ختم ہو گیا۔ اب ہمارے ہاں اہل حل و عقد کے ذریعے جانشینی ہوتی ہے، جیسا کہ سقیفہ کے واقعے میں ہوا۔

3. حضرت یوسف علیہ السلام کا سیاسی منصب (ایک خاص صورت حال)

حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ہمارے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ اللہ کس طرح ایک غیر مسلم اور غیر شرعی بادشاہ کے ذریعے اپنے نیک بندے کو اقتدار میں لا سکتا ہے، اور وہاں سے پھر اسلامی نظام کا قیام عمل میں آتا ہے۔ قرآن مجید میں تفصیل ملتی ہے:

جب بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے خواب کی تعبیر سنائی، تو یوسف علیہ السلام نے پہلے قحط کے سالوں کی تیاری کی طرف توجہ دلائی۔ پھر انہوں نے بادشاہ سے عرض کیا:

“اِجْعَلْنِیْ عَلٰی خَزَآىِٕنِ الْاَرْضِ ۭ اِنِّیْ حَفِیْظٌ عَلِیْمٌ” (یوسف: ۵۵)

ترجمہ: “مجھے مصر کے خزانوں پر مقرر کر دیجیے، میں اس کی حفاظت کرنے والا اور نہایت باخبر ہوں۔”

بادشاہ نے یوسف علیہ السلام کو یہ منصب دے دیا۔ ظاہری اعتبار سے یہ تقرر ایک غیر شرعی اور کافر بادشاہ کی طرف سے تھا، اور اس وقت مصر میں اسلامی نظام موجود نہیں تھا۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ نے خود اس انتظام کو اپنی تدبیر کا حصہ بنایا۔ قرآن میں پہلے ہی یہ بتا دیا گیا تھا:

“وَکَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوْسُفَ فِی الْاَرْضِ یَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَآءُ” (یوسف: ۲۱)

ترجمہ: “اور اسی طرح ہم نے یوسف کو زمین میں تمکنت دی کہ وہ جہاں چاہے اپنا مقام بنا لے۔”

یہ واضح ہے کہ بادشاہ کا تقرر ظاہری سبب تھا، لیکن حقیقی کارفرما اللہ تھا۔ پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے سات سال کی قحط سالی میں انتظامی کمال دکھایا، اور بتدریج پورا نظام اسلامی اصولوں پر چلنے لگا۔ جب ان کے والد اور بھائی مصر آئے، تو یوسف علیہ السلام نے انہیں عزت دی اور آخر کار پورا خاندان مصر میں آباد ہوا، اور وہاں اللہ کی شریعت نافذ ہونے لگی۔

اس واقعے سے ہمیں کئی اہم سبق ملتے ہیں:

· اللہ کسی بھی ذریعے (خواہ وہ کافر بادشاہ ہی کیوں نہ ہو) اپنے نیک بندے کو اقتدار میں لا سکتا ہے۔
· قحط اور معاشی بحران جیسے حالات اللہ کے اپنے بندوں کے لیے راہیں کھولنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
· ایک صالح انسان غیر اسلامی ماحول میں بھی اپنی امانتداری اور علم کے ذریعے اثرورسوخ حاصل کر سکتا ہے، اور پھر آہستہ آہستہ نظام بدل سکتا ہے۔
· یہ نمونہ موجودہ دور کے لیے بھی مشعلِ راہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ ہم جہاں بھی ہوں، اپنی امانتداری اور علمی صلاحیتوں سے کام لیں، اور جب موقع ملے تو شرعی نظام قائم کریں۔

البتہ یہاں ایک فرق یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام خود ایک نبی تھے، اور ان کے پاس اللہ کی طرف سے وحی آتی تھی۔ موجودہ دور میں ہمارے پاس وحی نہیں، صرف کتاب و سنت ہے۔ اس لیے ہمیں اہل حل و عقد کی اجتماعی کوشش سے کام لینا ہے۔

4. حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تحریک

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے استحصالی نظام کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ ابتدا میں انہیں مشکلات کا سامنا رہا، پھر اللہ نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا:

“وَاصْطَنَعْتُکَ لِنَفْسِی” (طه: ۴۱) ترجمہ: “اور میں نے تجھے اپنے لیے تیار کیا۔”

اور فرعون کے پاس جانے کا حکم دیا:

“اِذْهَبْ اِلٰی فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰی” (طه: ۲۴)

ترجمہ: “فرعون کے پاس جا، بے شک وہ سرکش ہو گیا ہے۔”

انہوں نے اپنی قوم کو منظم کیا، تعلیم دی، اور بالآخر بنی اسرائیل کو نجات ملی اور ان کی اپنی حکومت قائم ہوئی۔ یہ نمونہ ہمیں بتاتا ہے کہ کسی ظالم نظام کے خلاف جدوجہد کے لیے پہلے کسی مرکزی اتھارٹی کی موجودگی میں ایک جماعت (گروہ) کی تشکیل ضروری ہے، پھر تربیت، پھر مزاحمت، اور پھر نظام کی تبدیلی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ان کے بھائی ہارون علیہ السلام بھی تھے، اور ان کی قوم میں سے بارہ نقیب (کمانڈر) مقرر کیے گئے۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ اجتماعی قیادت اور مرکزی اتھارٹی کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔

5. حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا معاملہ

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے حکمت اور دانائی کے ساتھ نبوت و رسالت کی اتھارٹی عطا کی تھی، مگر ان کی قوم نے انہیں قبول نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا:

“اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُکَ مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا” (آل عمران: ۵۵)

ترجمہ: “بے شک میں تجھے پورا کرنے والا اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔”

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر کوئی نبی یا خلیفہ اپنا کام انجام نہ دے پائے اور اس کی قوم اسے قبول نہ کرے تو اللہ اس کی اتھارٹی اٹھا لیتا ہے۔ موجودہ دور میں بھی جب مسلمانوں نے جہالت اور گمراہی کی راہ اختیار کی تو بالآخر ۱۹۲۴ میں انہوں نے اپنے ہی ہاتھوں خلافت کا خاتمہ کر دیا، اور اس طرح اللہ نے اپنی اتھارٹی اٹھا لی، جس کے باعث آج وہ شدید معاشی، سیاسی اور سماجی ابتری کا شکار ہیں۔

6. حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا مکمل نمونہ

سب سے اہم اور مکمل نمونہ ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے۔ آپ نے مکہ میں ۱۳ سال دعوت اور تربیت کا مرحلہ طے کیا۔ اس دوران آپ نے ایک چھوٹی جماعت (اصحاب) تیار کی۔ پھر مدینہ میں ہجرت کی اور وہاں ایک ریاست قائم کی۔ آپ نے مدینہ کے دستور (میثاق مدینہ) کے تحت ایک کثیر القومی معاشرے میں عدل قائم کیا۔ پھر غزوات کے ذریعے دشمنوں کو زیر کیا اور آخر کار فتح مکہ کے بعد پورے جزیرہ نما عرب پر اسلامی نظام نافذ کر دیا۔

قرآن میں اس سلسلے کی ہدایت دی گئی ہے:

“لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَۃٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰهَ کَثِیْرًا” (الاحزاب: ۲۱)

ترجمہ: “بے شک تمہارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بکثرت یاد کرتا ہو۔”

یہی وہ نمونہ ہے جسے موجودہ دور میں اپلائی کیا جانا چاہیے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ نبی کی وفات کے بعد صحابہ نے نبی کے نمونے کے ابتدائی مرحلے (مکہ) کو نہیں، بلکہ مدینے کے بعد والے مرحلے کو کیوں اپلائی کیا؟ دراصل انہوں نے نبوت کے خاتمے کے بعد خلافت کو براہِ راست قائم کیا، کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ اب اللہ کی طرف سے کوئی نیا نبی یا خلیفہ نہیں آئے گا، اس لیے انہیں خود ہی اقدام کرنا ہے۔

نبوت کے خاتمے کے بعد: خلافت کی ضرورت اور طریقہ کار (اہل حل و عقد کی ذمہ داری)

نبوت کے خاتمے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمین پر کوئی مسیحا نہیں آئے گا اور نہ ہی کوئی معصوم امام یا خلیفہ مقرر کیا جائے گا۔ اب جو کچھ کرنا ہے، بعد کے لوگوں اور اہل حل و عقد کو اپنے طور پر کرنا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت ہمارے سامنے ایک واضح نظریہ عمل رکھتی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صحابہ کرام نے سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہو کر اپنے باہمی مشورے سے حضرت ابوبکر کو خلیفہ منتخب کیا۔ اس موقع پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر بیعت کی، اور پھر باقی صحابہ نے بھی بیعت کی۔ یہ واقعہ ہمیں ایک مستقل اصول فراہم کرتا ہے:

جب نبوت ختم ہو چکی ہو، تو امت خود اپنے لیے ایک خلیفہ کا تقرر اہل حل و عقد کے ذریعے کرے گی۔

اہل حل و عقد سے مراد وہ فقہی اور اہل علم متقی پرہیزگار افراد ہیں جو کتاب و سنت کو سمجھتے ہوں، عدل اور بصیرت رکھتے ہوں، اور امت کے معاملات طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہ افراد ہی اس بات کے اہل ہیں کہ وہ امت کے لیے خلیفہ کا انتخاب کریں۔

قرآن مجید میں بیعت (عہد و وفا) کا تصور موجود ہے:

“اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللّٰهَ ۭ یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ” (الفتح: ۱۰)

ترجمہ: “بے شک جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ سے بیعت کرتے ہیں۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔”

یہ آیت اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نازل ہوئی، لیکن اس کا مفہوم عام ہے کہ کسی خلیفہ یا امام سے بیعت کرنا اللہ سے بیعت کرنے کے مترادف ہے، بشرطیکہ وہ صحیح راہ پر ہو۔ اسی طرح حدیث میں ہے: “جو شخص مر گیا اور اس کی گردن میں بیعت نہ تھی، تو وہ جاہلیت کی موت مرا” (صحیح مسلم)۔

لہٰذا موجودہ دور میں بیعت کا طریقہ کار یہ ہے: مسلمانوں کا ایک گروہ (جو اہل حل و عقد کے زمرے میں آتا ہو) کسی صالح، عالم، عادل اور مدبر شخص کو خلیفہ نامزد کرے گا، پھر اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گا، اور پھر مرحلہ وار جدوجہد کے ذریعے اس کی خلافت کو عام کرے گا۔

ہر دور میں مرکزی اتھارٹی (خلیفہ) کی ضرورت: ایک قرآنی اور تاریخی حقیقت

تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں جب بھی دین کی احیاء ممکن ہوئی، ایک مرکزی کردار (نبی یا خلیفہ) کی اتھارٹی موجود رہی۔ اس اتھارٹی کے بغیر دین کی حقیقی احیاء ممکن نہیں۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک امام (قائد) کی اطاعت کریں:

“یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ” (النساء: ۵۹)

ترجمہ: “اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والوں (امراء، حکام، خلفاء) کی۔”

اس آیت میں “اولی الامر” سے مراد وہ لوگ ہیں جنہیں مسلمانوں نے اپنا حاکم یا خلیفہ مقرر کیا ہو۔ یہ بات واضح ہے کہ اللہ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ایک مرکزی قائد کی اطاعت کریں۔ اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد ہے:

“وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا” (آل عمران: ۱۰۳)

ترجمہ: “اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”

اس تفرقے سے بچنے اور اتحاد قائم رکھنے کے لیے ایک مرکزی اتھارٹی کا ہونا ضروری ہے۔ جب مسلمانوں کے پاس کوئی خلیفہ نہیں ہوتا، تو وہ خود بخود گروہوں میں بٹ جاتے ہیں اور ان میں تفرقہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلافت کے خاتمے کے بعد مسلم دنیا میں درجنوں چھوٹی چھوٹی ریاستیں بن گئیں، اور وہ کمزور ہو کر رہ گئی۔

موجودہ علمی مباحث: علامہ اقبال، مودودی، ڈاکٹر اسرار، غامدی

موجودہ تاریخی پس منظر میں اگر علامہ اقبال، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، ڈاکٹر اسرار احمد اور جاوید احمد غامدی کے علمی مباحث کا مطالعہ کیا جائے تو غامدی صاحب کو چھوڑ کر باقی سب سیاسی اسلام اور مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔

· علامہ اقبال نے اپنے خطبات اور شاعری میں بار بار خلافت اور اجتہاد کے دروازے کھولنے پر زور دیا، مگر وہ زیادہ تر نظریاتی سطح پر رہے۔ ان کا تصور “مردِ مومن” اور “خودی” اگرچہ انقلابی تھا، لیکن انہوں نے خلافت کے قیام کا کوئی عملی راستہ نہیں بتایا۔
· مولانا مودودی نے “خلافت و ملوکیت” میں فرق کو اجاگر کیا اور “اسلامی ریاست” کا تصور پیش کیا، مگر ان کا طریقہ کار سیاسی جماعت (جماعت اسلامی) کی تشکیل پر مبنی تھا، جسے وہ خلافت کا متبادل سمجھتے تھے، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک جمہوری جماعت تھی۔ انہوں نے خلیفہ کی تقرر کے بجائے پارلیمانی نظام کو اپنانے کی طرف توجہ دی، جو کہ خلافت کے تصور سے ہٹ کر ہے۔
· ڈاکٹر اسرار احمد نے “تنظیم اسلامی” کے ذریعے عملی جدوجہد کی اور خلافت کے قیام کے لیے ایک منظم راستہ تجویز کیا، مگر وہ بھی آئیڈیل ازم کا شکار رہے۔ انہوں نے ایک مرکزی خلیفہ کے تقرر کی بجائے ایک “تحریک” کے ذریعے نظام تبدیل کرنے پر زور دیا، جو کہ تاریخی اعتبار سے درست نہیں ہے کیونکہ نبی کی وفات کے بعد صحابہ نے کوئی تحریک نہیں چلائی بلکہ فوراً ایک خلیفہ مقرر کر دیا تھا۔

ان تمام احباب کا ایک مشترکہ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کو مدینہ کی ریاست (یعنی نبوت کے بعد والی صورتحال) میں پنہاں سمجھتے ہیں، اور براہِ راست “اسلامی حکومت” کے قیام کی بات کرتے ہیں۔ مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں سب سے پہلے نبی کے بعد خلیفہ کا تقرر قائم کرنا ہے، اس کی اتھارٹی بحال کرنی ہے، جو امت کی اصلاح کرے گی، اور اس کے نتیجے میں بعد ازاں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آئے گا۔

یہ وہ نقطہ ہے جہاں غامدی صاحب کے اخلاقی اسلام اور جمہوریت کو اپنے ایمان کا حصہ بنا لینے سے مسلمانوں کا سفر مزید تاریک تر ہو جاتا ہے، کیونکہ جمہوریت میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے جبکہ اسلام میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے، اور خلیفہ اس حاکمیت کا نائب ہوتا ہے جو اس کے احکام کا نفاذ کرتا ہے۔ جمہوریت میں خلیفہ کا کوئی تصور نہیں، بلکہ ووٹروں کی اکثریت ہی فیصلہ کرتی ہے، چاہے وہ کتاب و سنت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

طریقہ کار: کس طرح خلافت قائم ہو؟

یہاں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اب جبکہ نبوت کے خاتمے کے بعد اللہ کی طرف سے کسی اتھارٹی کا مقرر کیا جانا ممکن نہیں، تو پھر ہم کیونکر زمین پر اللہ کے رسول کا جانشین مقرر کر سکتے ہیں؟ چونکہ ہر رسول جہاں اللہ کی ذیلی اتھارٹی اور اس کے پیغام کا سرخیل تھا، وہیں وہ زمین پر انسانوں کا خلیفہ بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا موجودہ دور میں ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہمیں اللہ کے نبی کی وفات کے بعد کی صورتحال کا سامنا ہے، اور اسی کے مطابق ہمیں جدوجہد کی ابتدا کرنی ہے۔

تاریخی اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو نبی کی وفات کے فوراً بعد حضرت ابوبکر کو خلیفہ بنایا گیا، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نبوت کے خاتمے کے بعد اب مسلمان اللہ کی طرف سے زمین پر اس کے رسولوں کی اتھارٹی اور خلافت کا قیام خود سے عمل میں لائیں گے۔ جس کا طریقہ کار تاریخ میں واضح طور پر ہمارے سامنے موجود ہے۔

تفصیلی طریقہ کار درج ذیل ہے:

1. ایک جماعت کا قیام: دنیا میں موجود کسی بھی اسلامی یا غیر اسلامی ریاست میں مسلمانوں کا ایک گروہ جو اہل حل و عقد کی شرائط پر پورا اترتا ہو (عالم، عادل، مدبر، صالح، متقی، پرہیزگار)، وہ کسی ایک شخص کو بطور خلیفہ نامزد کرے گا۔
2. بیعت خاص: اس نامزد خلیفہ کے ہاتھ پر ابتدائی طور پر اسی گروہ کے لوگ بیعت کریں گے، جیسا کہ صحابہ نے سقیفہ میں حضرت ابوبکر کی بیعت کی۔
3. تربیت اور تنظیم: خلیفہ اس جماعت کی تربیت کرے گا، انہیں قرآن و سنت کی تعلیم دے گا، اور ان کے ذریعے دوسرے مسلمانوں تک پیغام پہنچائے گا۔ یہ مکہ کے ابتدائی دور کے مشابہ ہے۔
4. مزاحمت اور جدوجہد: جب جماعت مضبوط ہو جائے گی، تو وہ موجودہ سیکولر اور ظالم نظاموں کے خلاف پرامن یا مسلح جدوجہد شروع کرے گی، جیسا کہ نبی کریم نے ہجرت کے بعد کیا۔
5. بیعت عام: جب خلیفہ کی اتھارٹی کافی علاقے میں پھیل جائے گی، تو بیعت عام کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں مسلمان اپنی مرضی سے اس خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کریں گے۔
6. اسلامی سلطنت کا قیام: اس کے بعد ایک باقاعدہ اسلامی ریاست قائم ہو جائے گی، جس میں اللہ کے احکام نافذ ہوں گے، دنیا کے تمام مسلمان اس کے پیدائشی شہری کہلائیں گے اور یہی خلافت راشدہ کے بعد والی سلطنتوں کی طرح ہوگی۔

منطقی دلیل: محمدی نمونہ ہی کیوں اپلائی کریں؟

سوال یہ ہے کہ ہم انبیاء کے مختلف نمونوں میں سے محمدی نمونے کو کیوں ترجیح دیں؟ اس کی کئی وجوہات ہیں:

1. خاتمیت: چونکہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں، اس لیے ان کی سنت ہی قیامت تک کے لیے حجت ہے۔ قرآن نے ان کے طرز عمل کو “اسوہ حسنہ” قرار دیا۔
2. مکمل دستاویز: دوسرے انبیاء کے حالات تفصیل سے قرآن میں موجود نہیں جتنا کہ ہمارے نبی کے حالات قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔ ان کی جنگوں، معاہدوں، اور سیاسی فیصلوں کا مکمل ریکارڈ ہے۔
3. عالمگیریت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے، جبکہ پچھلے انبیاء اپنی خاص قوموں کے لیے تھے۔ لہٰذا ان کا سیاسی نمونہ بھی عالمگیر ہے۔
4. تکمیل دین: اللہ نے فرمایا: “اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا” (المائدہ: ۳)۔ اس مکمل دین میں سیاسی نظام بھی شامل ہے، اور وہ نبی کے آخری دور میں مکمل ہوا۔
5. خلافت راشدہ کا تسلسل: صحابہ نے نبی کی وفات کے بعد انہی کے طریقے پر خلافت قائم کی، جسے ہم “خلافت راشدہ” کہتے ہیں۔ اگر محمدی نمونہ ہی نہ ہوتا تو پہلے خلیفہ کا تقرر کیسے ہوتا؟

لہٰذا موجودہ دور میں ہمیں نبی کی تحریک کے آغاز (مکہ) اور اس کی فتح (مدینہ اور بعد میں) دونوں مراحل کو ملا کر ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن غلطی یہ ہے کہ ہم سیدھا مدینہ والے مرحلے پر چھلانگ لگا دیتے ہیں، جبکہ ہمارے پاس نہ تربیت یافتہ جماعت ہے، نہ خلیفہ، نہ بیعت۔ اس لیے پہلا قدم یہ ہے کہ اہل حل و عقد کا ایک گروہ تشکیل پائے، پھر وہ ایک خلیفہ منتخب کرے، اور پھر وہ خلیفہ آہستہ آہستہ نظام تعمیر کرے۔

اختتام: مرکزی اتھارٹی کے بغیر کوئی احیاء نہیں

اس مضمون کے اختتام پر ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ موجودہ دور میں خلافت کا قیام نہ صرف ممکن ہے بلکہ یہ ایک شرعی فریضہ ہے۔ تاہم اس کی شرط یہ ہے کہ ہم انبیاء کے تاریخی نمونوں کو سمجھیں، خاص طور پر خاتم النبیین کے نمونے کو، اور اسے ترتیب وار اپلائی کریں۔

ہم نے دیکھا کہ ماقبل نبوت کے دور میں خلافت براہ راست اللہ کی طرف سے قائم ہوتی تھی، جیسا کہ داؤد، سلیمان، اور موسیٰ علیہم السلام کے واقعات سے ظاہر ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ ایک خاص صورت حال پیش کرتا ہے جہاں اللہ نے ایک کافر بادشاہ کے ذریعے اپنے نبی کو اقتدار میں لایا، اور پھر وہاں اسلامی نظام قائم ہوا۔ مگر موجودہ دور میں چونکہ نبوت ختم ہو چکی ہے، اس لیے اب یہ ذمہ داری اہل حل و عقد (فقہی اور اہل علم متقی پرہیزگار افراد) پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایک خلیفہ کا تقرر کریں۔

ہر دور میں ایک مرکزی اتھارٹی (خلیفہ) کی موجودگی ضروری ہے، جیسا کہ قرآن کی آیات “اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم” اور “واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا” سے ثابت ہے۔ اس کے بغیر دین کی حقیقی احیاء ممکن نہیں۔

اگر ہم نے غامدی صاحب کی طرح جمہوریت کو اپنے ایمان کا حصہ بنا لیا، تو ہمارا یہ تاریک سفر مزید تاریک تر ہو جائے گا، کیونکہ جمہوریت میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے، جبکہ اسلام میں حاکمیت صرف اللہ کی ہے۔ خلیفہ اس حاکمیت کا نائب ہوتا ہے، اور اس کی بیعت عوام اس شرط پر کرتے ہیں کہ وہ کتاب و سنت کے مطابق حکومت کرے گا۔

آخر میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ امت مسلمہ کو صحیح راہ دکھائے، اہل حل و عقد کو اس فریضے کے لیے اٹھائے، اور عنقریب ہمیں خلافت راشدہ کی صورت میں امن و عدل کا وہ نظام عطا فرمائے جس کا وعدہ اس نے اپنے نبی سے کیا تھا:

“وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا” (النور: ۵۵)

ترجمہ: “اللہ نے تم میں سے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے کہ وہ انہیں زمین میں خلیفہ ضرور بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو بنایا تھا، اور ان کے لیے ان کے اس دین کو ضرور مضبوطی سے قائم کر دے گا جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے، اور ان کے خوف کے بعد انہیں امن سے بدل دے گا۔”

آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ لکھیں