میں محرم الحرام کی چھٹیوں کے باعث اپنے گھر آیا ہوا ہوں۔ آجکل میں ریسٹ موڈ پر ہوں تو گوجرہ کے دوستوں سے بھی ملنا مشکل لگ رہا ہے۔ آج یوم عاشورہ کی مناسبت سے ہمارے گھر صبح سے محرم کی نیاز کے مختلف قسم کے کھانے آ رہے ہیں ۔
میں صبح اٹھا،پتا چلا کہ ہمسائے نے حلیم بھیجا ہے، اس سے ناشتہ کیا ،لسی پی اور میں پھر سو گیا۔ جمعہ پڑھ کر آیا تو دوسرے ہمسائے نے چکن پلاؤ بھجوایا، وہ کھایا ۔ ابھی وہ کھا کر ہٹا تو تیسرے ہمسائے نے متنجن بھجوائی ۔ وہ کھائی ۔ یہ کھاتے کھاتے عصر ہو گئی ۔ عصر پڑھی، تو ساتھ والی گلی کے ایک جاننے والے نے گرما گرم جلیبیاں،نمک پارے اور بادانہ بھجوایا، چائے کیساتھ وہ کھایا اور پھر بس۔
جب میں ساتویں کلاس میں تھا،تو میں بلکل بھی نہیں پڑھتا تھا ، تو مجھے گھر والوں نے ایک اکیڈمی بھیجنا شروع کیا، اس ٹیوٹر کا کام صرف مجھے سکول کا ہوم ورک کروانا ہوتا تھا۔ ایسے ہی محرم کے دن تھے، تو میرے وہ استاد بولے کہ ” محرم کی نیاز اور کوئی بھی نیاز ہو،ختم ہو کھانا جائز ہے البتہ بنانا / بانٹنا ناجائز ہے” آج مجھے محسوس ہوتا ہے کہ وہ غلط تھے۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ نیاز بانٹنا مباح ہے یعنی کہ اگر کرو تو ثواب ملے گا نہیں کرو گے تو کوئی گناہ نہیں ۔ خیر لمبی بحث ہے۔
ایسے ہی شہر مرید کے کی ایک کالعدم جماعت کے پُرجوش حمایتی تھے اور میرے جاننے والے تھے،پوری مسجد میں وہ اونچی امین کہتے تھے،کبھی کبھار میں بھی اونچی امین کہہ دیتا تھا۔ وہ اپنے عقیدے کے کٹر تھے ۔ نیاز کی بات چلی تو بولے جب کوئی نیاز دینے آئے، اول تو لیں مت،اگر لے لی تو کھائیں مت بلکہ پھینک دیں ۔ بھلا میں کہاں چپ رہنے والا تھا،سوال داغ دیا کہ ایسے تو کھانے کی بے حرمتی نہیں ہو گی کیا؟ رزق کی توہین نہیں ہو گی؟ اگر کوئی آپ کے گھر کھانے کی چیز لے کر آئے اور آپ آگے سے ریسو نا کریں تو اسکی جو دل آزاری ہو گی اسکا کیا؟ آگے سے وہ آئیں بائیں شائیں! وہ تسلی بخش جواب نا دے سکے اور نا ہی انکے پیروکار۔
میرا اتنا موقف ہے بس، اگر کوئی محرم یا ریبع الاول کی مناسبت سے،اللہ کی راہ میں،رسول پاک اور اہل بیت کی محبت میں نیاز دیتا ہے،اور ہر کسی کو بلاتفریق کھانے کو دیتا ہے تو اس میں کیا غلط ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں اگر کسی بھی ضرورت مند کو دس پندرہ دن کھانا مفت کھانے کو مل رہا ہے تو اس میں غلط کیا ہے؟ کیا ہم اپنے فتوے اپنے تک محدود نہیں رکھ سکتے؟ میری عقل یہ بات ماننے کو تیار ہی نہیں کہ میرے گھر کھانے کی کوئی چیز آئے اور میں پہلے اسے نا لیکر لانے والے کی دل آزاری کروں اور وہ سوغات لے کر پھینک کر کھانے کو ضائع کر دوں،میری عقل تو اس کی اجازت نہیں دیتی ۔ میرے نزدیک انسانیت اور محبت فرقہ واریت اور اپنے عقیدے کی اندھا دھند تقلید سے زیادہ اہم ہے۔باقی رہے نام اللہ کا۔
ہمیشہ کہ طرح ہماری کالونی کی گلی میں ہمارا گھر واحد گھر تھا،جس میں آج بھی کوئی نیاز نہیں بنی، لیکن محلے والوں کی محبت میں آج اتنا کھا لیا ہے کہ اب کل کچھ بنوا کر پوری گلی میں بانٹ کر ہی واپس لاہور کی رہ لوں گا۔ محبت بانٹیے،فتوے نہیں ۔


