ایران قدیم اور جدید / اقتدار جاوید

ز شیرِ شتر خوردن و سوسمار
عرب را بہ جائے رسیده‌ست کار
که تاج ِکیانی کند آرزو
تفو بر تو اے چرخِ گردوں تفو
یہ سارا قطعہ ہمارے ہاں اتنا مشہور نہیں ہے البتہ اس کا آخری مصرع زبان زد عام بھی ہے اور موقع کی مناسبت سے استعمال بھی بہت کیا جاتا ہے۔ عمومی طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ اشعار شاہنامہ فردوسی کے ہیں مگر اب سارے محققین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ اشعار فردوسی کے مزاج کے ہی نہیں ہیں۔وہ ہر قسم کے تعصب سے پاک تھا۔ویسے عرب عجم کی آویزش کوئی نئی نہیں ہے بلکہ عرب کسی غیر عرب کو عجم بمعنی گونگا ہی سمجھتے ہیں۔شاید اسی لیے فرض کر لیا گیا کہ قطعہ شاہنامے سے ہی لیا گیا ہے۔شاہنامہ تینتیس سال میں لکھا گیا تھا اور اس میں کم وبیش پچاس ہزار اشعار ہیں۔جب یہ شاہنامہ لکھا جا رہا تھا اس وقت ایران میں ساسانی حکومت تھی اور سپہ سالار رستم فرخ زاد کے کسی خط کا حصہ ہیں مگر فردوسی کے اسلوب کو سمجھنے والے ان کو اس کی تخلیق نہیں مانتے۔ان اشعار کا شعوبیہ تحریک سے تعلق ضرور بنتا ہے کہ ساسانی حکومت کا چل چلاؤ تھا اور عرب مخالف جذبات عروج پر تھے۔ان اشعار کا مطلب کچھ یوں ہے
جو قوم کبھی اونٹنی کا دودھ پیتی اور سوسمار کھاتی تھی
وہ آج اس مقام تک جا پہنچی ہے
کہ ایران کے شاہی تاج و تخت کی خواہش کرنے لگی ہے۔
اے گردش کرنے والے آسمان تجھ پر افسوس ہے۔یہ جو آخری لفظ تفو ہے یہ وہی تھو تھو ہے جو ہم استعمال کرتے ہیں جیسے
بھوکے ہیں اہلِ علم گدھے کھا رہے ہیں کھیر
تھو تھو ترے نظامِ حکومت پہ آخ تھو
یہ تفو وہی آخ تھو ہے۔ایران میں اسلام کی آمد کے بعد ایرانیوں نے اپنے نام تبدیل نہیں کیے مثلاً جمشید، بہرام، رستم، خسرو، فرخ، فیروز، اردشیر اور نوشیرواں جیسے نام اب بھی رکھے جاتے ہیں۔اسی طرح خواتین کے پروین، فرح، تہمینہ، گلناز، پری ناز، ناہید اور نگار جیسے نام بھی برقرار رہے۔اس کے ساتھ ہی محمد علی، حسن، حسین اور جعفر جیسے نام بھی ایرانی معاشرے میں جذب ہوتے چلے گئے۔خواتین کے ناموں میں بھی زینب، فاطمہ، معصومہ، سکینہ، خدیجہ اور مریم کے ناموں کو قبولِ عام کا درجہ حاصل ہوا۔اس کے برعکس ہمارے ہاں ان تمام پرانے ناموں کو یکسر مسترد کر دیا گیا اور قبل از اسلام کے ناموں کو ہمارے ہاں ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔یہاں ایک نئی اسلامی ہند تہذیب کا آغاز ہوا اور ہمارےہیروز اور ولن تبدیل ہو گئے۔حیرت کی بات ہے ایران میں ایسا نہیں ہوا۔ایران میں ایرانی اسلامی تہذیب کا آغاز ہوا مگر انہوں نے کیخسرو، منوچہر، رستم اور کوروش اعظم کی عظمت کو کم نہ ہونے دیا بلکہ ولن افراسیاب کا نام بھی قومی حافظے سے گم نہیں ہونے دیا۔انہوں نے ظالم بادشاہ ضحاک کے مقابلے میں فریدون کو بھی کبھی بھولنے نہیں دیا۔
ایران اور عرب کی فکری آویزش نسبتاً جدید فنومنا ہے۔ہمارے ہاں بہت سارے لوگ ایران کی موجودہ روش کو پسند نہیں کرتے بالخصوص اس کی موجودہ پچاس سالوں کی ذہنی تحریک اور رویے کے خلاف ہیں۔بلکہ بعض کوتاہ فکر ایران کی فلسطین اور لبنان وغیرہ سے متعلق حکمت عملی کو سخت ناپسند کرتے ہیں اور بعض تو اسرائیل کی حق میں بھی ہیں۔ایران اور سعودی عرب کی آپس میں ناموافقت کی وجہ سے عالمِ اسلام بھی عملاً دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا ہے۔سعودی عرب ایران کو اپنا حریف سمجھتا ہے اور بالخصوص اس کے جوہری پروگرام کے متعلق اس کے بہت سارے خدشات ہیں۔ان دونوں کے مسلکی اختلافات بھی بہت گہرے ہیں۔موجودہ امریکا ایران چپکلش میں تمام عالمِ اسلام کی ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہونے کی وجہ سے عرب ممالک میں کچھ بے چینی بھی ہے۔یہ زمانہ فکری شفٹ کا ہے عین ممکن ہے آج کل ہی میں کوئی نیا منظر نامہ تشکیل جائے۔پاکستان کے دونوں ممالک سے برادرانہ تعلقات ہیں مگر پاکستان کا زیادہ جھکاؤ عرب ممالک کی طرف ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان باقاعدہ معاہدے کی رو سے ایران سے بجلی درآمد کرتا ہے۔ایران سے تقریبا سو میگاواٹ بجلی گوادر اور سرحدی علاقوں تفتان اور ماشکیل میں استعمال ہوتی ہے۔اس بجلی کی فی یونٹ قیمت تیس سے چالیس روپے ہے اور یہاں پاکستان میں فی یونٹ ساٹھ ستر روپیہ فی یونٹ ہے۔اس طرح پاکستان کو ایران سے باقاعدہ معاہدوں کے تحت ترسیل ہونے والی بجلی کم پیسوں میں پڑتی ہے۔ایران کے پاس تیل کے وافر ذخائر موجود ہیں۔اس وقت بلوچستان صوبے کی تیل کی کل کھپت پندرہ سے بیس پچیس لاکھ لیٹر کے درمیان ہے۔ایران سے تیل کی در آمد کو قانون کے تحت لایا جائے تو نہ صرف بلوچستان کی تیل کی ضروت پوری ہو بلکہ ملکِ عزیز کے باقی حصوں میں بھی اس کو پہنچایا جا سکتا ہے۔اس وقت غیر قانونی اور غیر تصدیق شدہ اطلاعات کی رو سے ایران سے پچاس سے نوے لاکھ لیٹر تیل روزانہ آتا ہے۔ابھی ایران پر بہت ساری پابندیاں ہیں جس کی وجہ سے آزاد تجارت پر بہت ساری مشکلات ہیں۔ایران پر امریکا اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے پابندیاں ان کے خبثِ باطن کا اظہار ہیں ورنہ دنیا میں کتنے ممالک ہیں جہاں بنیادی حقوق میسر نہیں ہیں مگر ان کو اس قسم کی پابندیوں کا سامنا نہیں ہے۔موجودہ امریکا ایران جنگ کے بعد ایک فکری تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ایران نے اپنے آپ کو ایک باوقار ملک کے روپ میں پیش کیا ہے اور کسی قسم کی دھونس کو ماننے سے انکار کیا ہے اور آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول قائم کیا ہے۔پابندیوں کے باوجود ایران پاکستان، عراق اور افغانستان کو قانونی طریقے سے بجلی فراہم کرتا ہے کہ اس کے پاس کچھ فاضل بجلی کے ذخائر ہیں اور وہاں ہماری طرح کے آئی پی پی بھی نہیں ہیں۔شیند ہے کہ عالمی طاقتیں بحرِ منجمد کی طرف کوچ کرنے والی ہیں۔چین نے اسی راستے کو پولر سلک روٹ کا نام دیا ہے۔اس کے ذریعے چین کو مغرب کی منڈی تک پہنچنے کے لیے نہر سویز کے رستے بیس ہزار کلومیٹر طے کرنا پڑتا ہے پولر سلک روٹ کے ذریعے یہ فاصلہ چودہ ہزار کلومیٹر رہ جاتا ہے۔امریکا بھی مڈل ایسٹ سے ہمیشہ کے لیے اسی ارکٹک اوشن کی جانب نکلنا چاہتا ہے تو یہ سہرا بھی ایران کے سر ہی سجتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں