”اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔ پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا. اور جس نے ذرّہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لےگا”سُورَةُ الزَّلْزَلَةِ
قرآن کی یہ آیت 3 ہا 4 دہائی پہلے کے انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتی تھی کہ کیسے انسان کو روز قیامت دیکھا دیا جائے گا وہ دنیا میں کیا کیا کرتا رہا ہے۔ مگر آج وائرلیس فون، انٹرنیٹ اور ایسی کئی انسانی ایجادات دیکھ کر ہر ذی شعور سوچ سکتا ہے کہ مخلوق ایسا انقلاب لا سکتی ہے تو خالق کیا نہیں کر سکتا۔ آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں مصنوعی ذہانت نے نہ صرف ہماری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا ہے بلکہ یہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو تبدیل کر رہی ہے، از سرنو ترتیب دے رہی ہے۔ تعلیم، صحت، کاروبار، تحقیق، ذرائع ابلاغ اور روزمرہ زندگی کے معمولات بھی اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے آج ایک طالب علم چند لمحوں میں مصنوعی ذہانت سے
ہر طرح کا تحقیقی مواد جمع کر سکتا ہے اور پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کر سکتا ہے۔ اس تیز رفتار تبدیلی نے ایک اہم سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا مصنوعی ذہانت کے دور میں روایتی تعلیم اب بھی ضروری ہے؟
اس سوال کا جواب واضح طور پر ہے ہاں۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ ایک انقلابی تبدیلی ہے، مگر یہ روایتی تعلیم کی جگہ نہیں لے سکتی۔مثال کے طور پر، مصنوعی ذہانت سے قانونی نکات اور دلائل اکٹھے کیےجا سکتےہیں، مگر درست فیصلے پر پہنچنے کے لیے ایک وکیل کی بصیرت ناگزیر ہے۔ یہ بیماریوں کی تشخیص میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، مگر نازک طبی فیصلوں کی ذمہ داری اب بھی ڈاکٹر پر ہی عائد ہوتی ہے نہ کہ مصنوعی ذہانت پر۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت تدریسی مواد تیار کر سکتی ہے، لیکن طلبہ کے ذہن اور کردار کی تعمیر صرف ایک استاد ہی کر سکتا ہے۔ تو مصنوعی ذہانت اور روایتی تعلیم ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ اصل ضرورت دونوں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی ہے۔
روایتی تعلیم صدیوں سے انسانی معاشروں کی بنیاد رہی ہے۔ اسکول، کالج اور جامعات صرف تعلیم فراہم کرنے کے مراکز نہیں بلکہ شخصیت سازی، سماجی تربیت، اخلاقی اقدار، نظم و ضبط اور تنقیدی سوچ پیدا کرنے کی بنیاد بھی ہیں۔ ایک استاد صرف کتابی علم نہیں دیتا بلکہ اپنے تجربے، مشاہدے اور دانائی کے ذریعے طلبہ کی ذہنی اور اخلاقی تربیت بھی کرتا ہے۔
دوسری طرف مصنوعی ذہانت نے علم تک رسائی کو غیر معمولی حد تک آسان بنا دیا ہے۔ اب طلبہ اپنی ضرورت کے مطابق فوری معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی طالب علم ریاضی کے سوال میں مشکل محسوس کر رہا ہو تو مصنوعی ذہانت اسے مرحلہ وار سمجھا سکتی ہے۔ اگر کسی کو زبان سیکھنی ہو تو یہ مسلسل مشق اور فوری رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔ اس طرح سیکھنے کا عمل پہلے سے زیادہ آسان، تیز اور مؤثر ہو گیا ہے۔
لیکن مصنوعی ذہانت کی سب سے بڑی حد یہ ہے کہ یہ معلومات دے سکتی ہے، مگر حکمت نہیں دے سکتی۔ اس کے پاس اعداد و شمار موجود ہیں، مگر انسانی احساس،اور اخلاقی اور سماجی شعور نہیں۔ ایک مشین جنگ کے اسباب بتا سکتی ہے، مگر جنگ کے انسانی المیے کو محسوس نہیں کر سکتی۔ مصنوعی ذہانت موسمیاتی تبدیلی کے اعداد و شمار فراہم کر سکتی ہے، مگر متاثرہ انسانوں کے درد، خوف اور عدم تحفظ کو سمجھنے کی صلاحیت انسان ہی رکھتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تعلیم صرف اعداد وشماریاد کرنے کا نام نہیں۔ اصل تعلیم سوال اٹھانے، دلیل پیدا کرنے، گہرائی سے تجزیہ کرنے اور صحیح و غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کرتی ہے۔ یہ صلاحیتیں آج بھی زیادہ تر روایتی تعلیمی ماحول میں پروان چڑھتی ہیں۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے خصوصاً پاکستان میں تعلیمی نظام ابھی بھی بڑی حد تک رٹنے پر مبنی ہے۔ دوسری طرف دنیا اب اعداد وشماریاد رکھنے یا رٹا مارنے سے بہت آگے جا چکی ہے۔ مگر اس سے بھی بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جیسے معاشروں میں تعلیم کا بنیادی مقصد اکثر علم حاصل کرنا نہیں بلکہ روزگار حاصل کرنا سمجھا جاتا ہے۔ بچپن سے ہی طلبہ پر یہ دباؤ موجود ہوتا ہے کہ وہ ایسے مضامین کا انتخاب کریں جو انہیں اچھی ملازمت، مالی استحکام اور سماجی حیثیت دلا سکیں۔ والدین اور معاشرہ بھی تعلیم کو زیادہ تر معاشی کامیابی کے پیمانے سے دیکھتے ہیں۔ نتیجتاً سیکھنے کا عمل جستجو، تحقیق اور فکری نشوونما کے بجائے صرف امتحان پاس کرنے، ڈگری حاصل کرنے اور نوکری پانے تک محدود ہو جاتا ہے۔
یہ سوچ تعلیم کے اصل مقصد یعنی شعور، بصیرت اور علم سے حقیقی آشنائی کو پس پشت ڈال دیتی ہے ۔ اگر تعلیم صرف روزگار کے حصول تک محدود رہی تو مشینیں بہت سے روایتی کام سنبھال لیں گی۔ ایسے میں انسان کی اصل طاقت محض سند میں نہیں بلکہ سوچنے، سمجھنے، سوال اٹھانے اور نئے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی صلاحیت میں ہوگی کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو مصنوعی ذہانت نہیں کر سکتی۔
مستقبل کی تعلیم میں صرف کتابی علم کافی نہیں ہوگا۔ طلبہ کو مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت، تخلیقی سوچ، مؤثر ابلاغ، جذباتی فہم اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کی مہارت بھی سیکھنی ہوگی۔ جو افراد مصنوعی ذہانت کو سمجھ کر اس کے ساتھ مؤثر انداز میں کام کریں گے، وہی مستقبل میں زیادہ کامیاب ہوں گے۔
لہٰذا اصل بحث مصنوعی ذہانت بمقابلہ روایتی تعلیم کی نہیں ہونی چاہیے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم دونوں کو ملا کر بہتر تعلیمی نظام کیسے تشکیل دے سکتے ہیں۔ایک ایسا نظام جہاں استاد طلبہ کو سوچنا سکھائے، جبکہ مصنوعی ذہانت انہیں تیز، جدید اور وسیع معلومات فراہم کرے۔ جہاں درسگاہ رابطے، مکالمے اور کردار سازی کا مرکز ہو، جبکہ مصنوعی ذہانت تحقیق، مشق اور سیکھنے کے عمل کو آسان بنائے۔
مختصراً، مصنوعی ذہانت تعلیم کا مستقبل ضرور بدل رہی ہے، مگر روایتی تعلیم کی اہمیت ختم نہیں کر رہی۔ مصنوعی ذہانت رفتار دیتی ہے، روایتی تعلیم سمجھ اور مشاہدہ دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت معلومات دیتی ہے، روایتی تعلیم بصیرت دیتی ہے۔ مصنوعی ذہانت سہولت فراہم کرتی ہے، جبکہ استاد انسان بناتا ہے۔مستقبل انہی معاشروں کا ہوگا جو مصنوعی ذہانت کو اپنانے کے ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی نظام کو بھی جدید، متوازن اور انسان دوست بنائیں گے۔ کیونکہ بہترین علم وہی ہے جس میں ٹیکنالوجی کی طاقت اور انسانی فہم دونوں شامل ہوں۔ یاد رکھیں نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا استعمال روبوٹس کو نہیں دیا جا سکتا۔


