خیبر پختون خوا میں عوامی مزاحمت اور بدلتا ہوا سیاسی منظرنامہ/اسلم اعوان

خیبر پختون خوا میں امن و امان کا مسئلہ محض ایک انتظامی یا پولیسنگ کا معاملہ نہیں بلکہ یہ خطے کے شہریوں کی روزمرہ زندگی، سماجی آزادی، معاشی سرگرمی اور ریاست کے ساتھ ان کے تعلق کا بنیادی سوال ہے۔ پچھلے 33 سالوں سے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ، اغوا اور بم دھماکوں کے سائے میں زندگی گزارنے والی کم و بیش چار کروڑ سے زائد آبادی کے لیے امن کا مطلب صرف سڑکوں پر خاموشی نہیں بلکہ یہ احساس بھی ہے کہ وہ اپنے گھروں، بازاروں، تعلیمی اداروں اور کاروباری مراکز میں خوف کے بغیر زندگی بسر کر سکتے ہیں۔

اسی تناظر میں بنوں اور لکی مروت میں قائم پولیس امن کمیٹیوں کا کردار ایک اہم عوامی اور سماجی بحث کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مقامی حلقوں کے مطابق ان کمیٹیوں کی سرگرمیوں اور مقامی سطح پر مزاحمت کے نتیجے میں پولیس اور ایف سی اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ اور اغوا کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ بم دھماکوں کا سلسلہ بھی ماضی کی نسبت تقریباً ختم ہونے کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ ان دعوؤں کی مکمل تصدیق کے لیے سرکاری اور آزاد اعداد و شمار ضروری ہیں، تاہم مقامی آبادی میں پیدا ہونے والا تحفظ کا احساس بذاتِ خود ایک اہم سیاسی اور سماجی حقیقت ہے۔

کچھ حلقے اس صورتِ حال کو محض پولیس کی ’’چین آف کمانڈ‘‘ سے انحراف کے تناظر میں دیکھتے ہیں، لیکن معاملہ اس سے کہیں زیادہ گہرا ہے۔ یہ صرف پولیس کے نظم و ضبط کا مسئلہ نہیں بلکہ پولیس فورس اور معاشرے کی بقا اور تحفظ سے جڑا ہوا سوال ہے۔

جب ریاستی اتھارٹی اور سرکاری فورسز شہریوں کی جان، مال اور عزت کے تحفظ میں مؤثر طور پر ناکام ہو جائیں تو انسانی معاشروں میں اپنی بقا اور اجتماعی دفاع کے لیے مزاحمت کا رجحان پیدا ہونا فطری امر ہے۔ کوئی بھی معاشرہ طویل عرصے تک مکمل بے بسی اور عدم تحفظ کی کیفیت میں زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسان اپنی اور اپنے معاشرے کی بقا کے لیے راستے تلاش کرتا ہے، اجتماعی طور پر منظم ہوتا ہے اور اپنے تحفظ کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ریاستی ناکامی کسی فرد یا گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں کرتی اور ہر قسم کی مزاحمت کو ازخود قانونی یا جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن ریاستی تحفظ کے خلا سے پیدا ہونے والے عوامی ردِعمل کو محض نظم و ضبط کی خلاف ورزی یا چین آف کمانڈ کا مسئلہ سمجھنا بھی زمینی حقیقت کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ وہ حالات پیدا ہی کیوں ہوئے جن میں ریاست کے اپنے اہلکار اور شہری اپنے تحفظ کے لیے متبادل اجتماعی راستے تلاش کرنے پر مجبور ہوئے ہیں؟

چین آف کمانڈ اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب اس کے اوپر موجود ریاستی نظام اپنے اہلکاروں کو واضح پالیسی، مؤثر اختیار، وسائل اور تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اگر ایک پولیس اہلکار یہ محسوس کرے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے، اس کے علاقے کے شہری غیر محفوظ ہیں، دہشت گرد عناصر کارروائیاں کر رہے ہیں اور ادارہ جاتی فیصلے زمینی ضرورت کے مطابق نافذ نہیں ہو رہے تو محض اسے نظم و ضبط کا پابند بنانے سے بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

صوبے بھر کے عام پولیس اہلکار اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ ان کے آر پی اوز اور ڈی پی اوز بھی کئی معاملات میں بے بس اور مجبور ہیں، تاہم مصلحتاً خاموش رہتے ہیں۔ ایسے میں نچلی سطح کے اہلکاروں کا اپنی اور اپنے معاشرے کی بقا کے لیے مصلحت کی خاموشی ترک کرنا اسی وسیع تر بحران کا اظہار ہے۔

انہوں نے شاید کھلے عام وہ بات کہہ دی ہے جو آئی جی پی، آر پی اوز اور ڈی پی اوز بند کمروں میں ایک دوسرے سے کرتے ہیں، مگر اعلانیہ اظہار سے گریز کرتے ہیں۔ اگر زمینی حقائق کو زیادہ دیر تک تسلیم کرنے سے انکار کیا گیا تو یہ خاموشی اعلیٰ پولیس قیادت کے لیے بھی برقرار رکھنا مشکل ہو گا تاہم آج بھی اگر پولیس کمانڈ کو اپنے اختیار استعمال کرنے کا موقعہ فراہم کیا جائے تو صورت حال بدل سکتی ہے۔

اس لیے اس معاملے کو صرف نظم و ضبط یا چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کرنا ہوگا کہ جب ریاستی نظام اپنے اہلکاروں اور شہریوں کو مؤثر تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تو ان کے سامنے اپنی بقا کے لیے کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟

دہشت گردی سے متاثرہ معاشروں میں عوام صرف سرکاری بیانات یا پیشہ ور صحافیوں کی رپورٹس پر انحصار نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے اردگرد کے حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ جب مرکزی شاہراہیں، تفریحی مقامات اور بازار کھلے رہیں، بچے نسبتاً اطمینان کے ساتھ اسکول جائیں، کاروباری سرگرمیاں بحال ہوں اور لوگوں کو محسوس ہو کہ مسلح عناصر کا خوف پہلے کی طرح ان کی زندگیوں پر حاوی نہیں تو یہ کیفیت عوامی اعتماد کو جنم دیتی ہے۔

بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹیوں کے حوالے سے بھی یہی تاثر سامنے آ رہا ہے کہ مقامی آبادی کے ایک بڑے حصے نے ان کے کردار کو اپنے تحفظ کے ساتھ جوڑنا شروع کر دیا ہے۔

کسی بھی ریاست کے لیے امن و امان کا قیام صرف طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں ہوتا۔ ریاستی اداروں کی طاقت اپنی جگہ اہم ہے، مگر پائیدار امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب ریاست اور مقامی آبادی کے درمیان اعتماد کا رشتہ موجود ہو۔ جن علاقوں میں دہشت گردی نے طویل عرصے تک جڑیں مضبوط کی ہوں، وہاں مقامی آبادی کی شرکت کے بغیر امن کی کوششیں اکثر محدود نتائج تک رہ جاتی ہیں۔

بنوں اور لکی مروت کی پولیس امن کمیٹیاں اسی مقامی شمولیت کی ایک ماڈل کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ مقامی افراد اپنے علاقوں کے جغرافیے، سماجی روابط اور زمینی حقائق سے بہتر واقف ہوتے ہیں، اس لیے وہ دہشت گردی کے خلاف ریاستی اداروں کی کوششوں میں معاون کردار ادا کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ان کمیٹیوں کے طریقۂ کار، قانونی حیثیت، نگرانی اور اختیارات پر سوالات بھی اپنی جگہ اہم ہیں۔ کسی بھی عوامی یا حفاظتی ڈھانچے کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے اختیارات واضح، قانونی نگرانی مؤثر اور سرگرمیاں آئینی دائرے میں ہوں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں ریاستی حکمتِ عملی کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ اگر کسی ایسے ڈھانچے کو، جسے مقامی آبادی کا بڑا حصہ اپنے تحفظ کی علامت سمجھتا ہو، محض طاقت کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو مسئلہ انتظامی دائرے سے نکل کر سیاسی اور سماجی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

بنوں اور لکی مروت میں امن کمیٹیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی پالیسی کے ممکنہ نتائج پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔ اگر ان کمیٹیوں کو واقعی عوامی حمایت حاصل ہے تو انہیں ختم کرنے کے لیے طاقت کا استعمال ریاستی اداروں اور مقامی آبادی کے ایک حصے کے درمیان بداعتمادی پیدا کر سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں پولیس اور عوام کے درمیان تعاون کا وہ رشتہ بھی متاثر ہو سکتا ہے جو دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی کی بنیاد بنتا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست اپنے قانونی اختیار سے دستبردار ہو جائے۔ ریاست کو قانون کی بالادستی برقرار رکھتے ہوئے یہ طے کرنا ہوگا کہ امن کمیٹیوں کے کردار، اختیارات، ذمہ داریوں اور نگرانی کا ایک واضح قانونی فریم ورک کیا ہو۔ جو سرگرمی قانون کے دائرے میں ہے اسے ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے مضبوط کیا جا سکتا ہے، جبکہ غیر قانونی سرگرمی کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی بھی ضروری ہے۔

یہاں بنیادی سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کون طاقتور ہے، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ کون سا راستہ عوام کو زیادہ محفوظ، ریاست کو زیادہ مضبوط اور معاشرے کو زیادہ پُرامن بنا سکتا ہے۔ اگر طاقت کا استعمال مسئلے کو ختم کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ کرتا ہو تو دانشمندانہ حکمتِ عملی یہی ہوگی کہ طاقت کو آخری آپشن کے طور پر رکھا جائے اور سیاسی و سماجی مکالمے کو ترجیح دی جائے۔

اس پورے منظرنامے کا ایک اہم پہلو سیاسی جماعتوں کا رویہ ہے۔ جمعیت، پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے امن کمیٹیوں کے خلاف آنے والے بیانات نے جنوبی اضلاع میں ان جماعتوں کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے سوالات پیدا کیے ہیں۔

اگر مقامی آبادی کا ایک بڑا حصہ ان کمیٹیوں کو اپنے تحفظ کے ساتھ جوڑ رہا ہے تو سیاسی جماعتوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس عوامی احساس کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔

سیاسی جماعتیں محض اقتدار حاصل کرنے کے لیے نہیں ہوتیں؛ ان کی بنیادی ذمہ داری عوام کے مسائل کی ترجمانی، ریاستی پالیسیوں پر تنقید اور کمزور طبقات کی آواز بننا بھی ہے۔ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں یہ ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ وہاں کے عوام کے لیے یہ بات غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ان کی سیاسی قیادت مشکل وقت میں ان کے ساتھ کھڑی دکھائی دے۔

اگر سیاسی قیادت عوام کے خوف، معاشی مشکلات اور عدم تحفظ کو نظرانداز کرکے صرف طاقتور حلقوں کی ترجمانی کرتی دکھائی دے تو عوامی اعتماد متاثر ہونا بعید از قیاس نہیں۔ سیاست میں سب سے قیمتی سرمایہ عوام کا اعتماد ہے، اور یہ اعتماد انتخابی نعروں سے نہیں بلکہ مشکل وقت میں عوام کے درمیان کھڑے ہونے سے بنتا ہے۔

اس تناظر میں تحریک انصاف کا امن کمیٹیوں کے حوالے سے نسبتاً مختلف مؤقف بھی سیاسی بحث کا موضوع بن رہا ہے۔ جنوبی اضلاع میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی نے مقامی سطح پر امن کمیٹیوں کی افادیت اور عوامی حمایت کو دوسری جماعتوں کے مقابلے میں زیادہ قریب سے سمجھا ہے۔

اگرچہ کسی بھی سیاسی جماعت کی مقبولیت کو صرف ایک عامل سے منسوب کرنا درست نہیں، تاہم امن و امان، مقامی شناخت، ریاستی پالیسیوں اور عوامی تحفظ کا احساس انتخابی رویوں پر اثرانداز ہونے والے اہم عوامل ضرور ہو سکتے ہیں۔

صوبے میں گورننس، معاشی مشکلات اور انتظامی مسائل اپنی جگہ موجود ہیں، لیکن جنوبی اضلاع میں سیاست کا ایک بڑا سوال اب بھی امن و امان سے جڑا ہوا ہے۔ جس سیاسی جماعت کے بارے میں عوام یہ محسوس کریں کہ وہ ان کے خوف کو سمجھتی ہے اور ان کے تحفظ کے مطالبے کی ترجمانی کرتی ہے، اسے سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا ہے۔

دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے محض پی ٹی آئی پر تنقید کافی نہیں ہوگی۔ انہیں اپنے لیے بھی یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ وہ دہشت گردی سے متاثرہ عوام کے مسائل کے بارے میں کیا متبادل پیش کر رہی ہیں اور مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے ان کی عملی حکمتِ عملی کیا ہے۔

قیادت کا اصل مفہوم یہ ہے کہ رہنما عوام کے دکھ، غم اور مشکلات میں شریک ہو، خطرات کا سامنا کرے اور اپنی قوم کو تحفظ، سکون اور باعزت زندگی کا ماحول فراہم کرنے کے لیے عملی کردار ادا کرے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی منظرنامے میں اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ بعض سیاسی رہنما عوام کی مشکلات سے خود کو محفوظ رکھتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں تک محدود ہو جاتے ہیں۔

عوام کو مہنگائی، بے روزگاری، افلاس اور دہشت گردی جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہو اور سیاسی قیادت ان مشکلات سے فاصلے پر دکھائی دے تو عوامی اعتماد کا کمزور ہونا فطری امر ہے۔ یہی وہ عوام ہیں جن کے ووٹوں کے ذریعے سیاسی رہنما اقتدار تک پہنچتے اور حکمرانی کے ثمرات سے مستفید ہوتے ہیں۔ اس لیے سیاسی قیادت کی ذمہ داری صرف انتخابی موسم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔

قیادت کا حقیقی امتحان اقتدار کے ایوانوں میں نہیں بلکہ مشکل وقت میں عوام کے درمیان کھڑے ہونے سے ہوتا ہے۔ جو رہنما خوف کے ماحول میں عوام کو تنہا چھوڑ دے، اس کی سیاسی نمائندگی کی معنویت پر سوال اٹھنا فطری ہے۔

شاید یہی وہ بنیادی فرق ہے جس نے لکی مروت پولیس امن کمیٹی کے صدر خالد خان اور بنوں پولیس امن کمیٹی کے عمر خان کو مقامی سطح پر عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ان کے حامیوں کے مطابق دونوں رہنما خوف کے ماحول میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف جرات اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

کسی بھی رہنما کی عوامی مقبولیت کا اصل پیمانہ یہی ہوتا ہے کہ مشکل وقت میں عوام اسے اپنے درمیان موجود پائیں۔ اگر کوئی شخص خطرات کے باوجود اپنے علاقے کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہو تو اس کے بارے میں عوام کے اندر اعتماد پیدا ہونا فطری امر ہے۔ اسی عملی وابستگی نے خالد خان اور عمر خان کو اپنے اپنے علاقوں میں محض انتظامی یا سیاسی شخصیات کے بجائے تحفظ، حوصلے اور مزاحمت کی علامت بنا دیا ہے۔

تاہم اس کردار کو پائیدار بنانے کے لیے ضروری ہے کہ امن کے نام پر کام کرنے والے ہر ڈھانچے کو قانون، آئین اور شفاف نگرانی کے اصولوں کا پابند رکھا جائے۔ عوامی حمایت اہم ہے، لیکن ریاستی نظم و نسق میں قانونی جواز، جواب دہی اور بنیادی حقوق بھی اتنی ہی اہمیت رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں