رسیپشن میں تین جوان خواتین موجود تھیں ، ان میں سے دو کو تو سورج نے کئی نسلوں سے جلایا ہُوا تھا، لیکن تیسری اپنے حلیہ سے سکینڈینیویا کی لگ رہی تھی۔
تینوں کی آنکھوں میں ہمدردی، اور چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ تھی۔ باصر نے بڑھ کر ایک سے بات کی تو پتہ چلا کہ وہ ہماری منتظر تھیں۔ اُس نے ہمیں ایک بڑے کمرے کا راستہ دکھایا، جہاں ایک لکڑی کی بڑی میز کے گرد تین مجسمے بیٹھے ہوئے تھے۔ اُن میں سے دو اپنی اپنی کُرسی میں بیٹھے ایک ایسی سفید دیوار کی جانب تک رہے تھے جس سے ہر قسم کی سجاوٹ کا سامان ہٹا دیا گیا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اگر ان مجسموں کے پاس کسی قسم کا تخیل موجود ہوتا تو وہ اُس سفید پردہ پر اُن لوگوں کو دیکھ سکتے تھے جنہوں نے اپنے اِن پیاروں کو ایک عرصہ ہُوا بھُلا دیا تھا۔ تیسری کُرسی پر ایک عورت کا مجسمہ بیٹھا کھڑکی سے باہر اُن چیزوں کو دیکھ رہا تھا جو کسی اور کو نظر نہیں آ رہی تھیں۔ہم چاروں – باصر، رفیق، جتوئی اور میں – بالکل ساکن کھڑے سوچ رہے تھے کہ اب کیا کریں۔ میں نے اپنے قریب ترین مردانہ مجسمے کی طرف دیکھا تو لگا کہ وہ آہستہ آہستہ سانس لے رہا ہو۔ اُس کی سانس کی تو کوئی آواز نہیں آ رہی تھی لیکن اُس کی چھاتی کی اوپر نیچے کی حرکت نے مجھے احساس دِلایا کہ وہ مجسمہ زندہ تھا۔
باصر بہت احتیاط سے آگے بڑھا، اور اُس سفید بالوں والے مجسمے سے مخاطب ہُوا، “دیکھو، تمہیں آج کون ملنے آیا ہے۔”
اُن الفاظ سے رشید کے جسم یا تکنے کے انداز میں کوئی تبدیلی نہ آئی؛ وہ اب بھی سفید دیوار کی جانب مسلسل دیکھتا رہا ۔
تب میں نے سویڈش میں کہا، ” دیکھو، یہاں تو نیکر والا آدمی بیٹھا ہُوا ہے۔ ”
مجسمے نے اپنی آنکھیں جھپکیں، دھیرے سے اپنا سر میری طرف گھمایا تو اُس کی نیم بند آنکھوں میں سے ، جہاں اُداسی رچی ہوئی تھی، ایک ہلکی سی مسکراہٹ پھوٹ نِکلی۔ اب بھی اپنی سوچ میں کچھ گمُ ، اُس نے ایک قہقہہ سا لگایا اور بولا، “تم یہاں کیسے آئے؟”
“بس یہاں سے گزر رہا تھا، سوچا درشن کر لوں،” میں نے جواب دیا۔
وہ مسکراہٹ اور پھیل گئی اور رشید بولا، “اچھا کیا آج ٹھہر گئے۔”
پھر رشید نے رفیق اور جتوئی کی طرف دیکھا، اور پھر آہستہ سے اپنی کُرسی سے کھڑا ہو گیا۔ اُن دونوں نے ، باری باری، اُس سے مصافہ کیا اور اس وقت تک رشید کا ہاتھ نہیں چھوڑا جب تک یقین نہ ہوگیا کہ اُس نے اُنہیں پہچان لیا تھا۔
“کیا آج کوئی بڑا تہوار ہے؟”
“نہیں، تمہارا جنم دِن!”
“میرا جنم دِن،” رشید ایسے بولا جیسے یہ الفاظ اُس کے لئے بالکل غیر مانوس تھے۔
اُس ہی لمحے رسیپشن والی عورتوں میں سے دو، ایک پہئے والی میز پر ایک جنم دِن کا کیک اور کافی، با سمیت دوسرے ضروری اشیاء ،نمودار ہوئیں۔ ہم نے جلدی سے کمرے میں موجود کُرسیوں کو ایک گول میز کے گرد نئی ترتیب دی، اور رشید کو ایک کُرسی پر بیٹھایا۔
باصر نے رشید سے پوچھا کہ کیا اُس نے ہم سب کو پہچان لیا تھا، تو اُس نے سر کے اشارہ سے اقرار کیا۔
“خیال سوئے وطن رواں ہے
سمندروں کی ایال تھامے”
جتوئی نے رشید کو فیض کی نظم ،جو اُسے کبھی بہت پسند تھی، کا ایک شعر سُنایا۔
رشید کی آنکھیں چمک اُٹھیں، پھر وہ کچھ وقفہ بعد بولا، “میرے مِلنے والے”، جو کہ اُس نظم کا عنوان تھا۔
میں نے ریختہ پر وہ نظم ڈھونڈ کر سب کو سُنائی۔ اُس کے بعد ہم نے ماضی سے بہت سے واقعات پر باتیں کیں، جہاں رشید نے چند پر تبصرہ بھی کیا۔
ہمیں اُس کے اُس مثبت ردِ عمل سے بہت خوشی ہو رہی تھی، کیونکہ باصر نے ہمیں خبردار کر رکھا تھا کہ شاید رشید، جو کہ چند سالوں سے بھُولاوٹ کا شکار تھا اور آج کل ایک عمر رسیدہ افراد کے گھر میں پچھلے ڈیڑھ سال سے مقیم تھا، ہمیں پہچان نہ پائے۔ باصر کا کہنا تھا کہ رشید کی حالت ہر روز بدلتی رہتی تھی۔ اکثر تو وہ باصر کو، جو کہ رشید کا چھوٹا بھائی تھا، آسانی سے پہچان لیتا تھا، لیکن کبھی کبھی وہ ذہنی طور پر بالکل گُم بھی ہوتا تھا۔ چنانچہ ، باصر نے کہا تھا کہ ہمیں اُس ملاقات سے بہت زیادہ توقعات نہیں رکھنی چاہیں، لیکن لگتا تھا کہ میرے اُس جملے نے ” دیکھو، یہاں تو نیکر والا آدمی بیٹھا ہُوا ہے۔ ” رشید کو اُس کی غیر موجودگی کی حالت سے جگا کر موجودہ صحبت میں پہنچا دیا تھا۔
یہ ، نیکر والا آدمی، کا نام ہم نے رشید کو 1985 میں برطانیہ جاتے وقت دیا تھا۔ ہمارا آٹھ افراد کا وفد ، کاروں اور جہاز کے ذریعے لندن میں منعقد ہونے والے انجمن ترقی پسند کی پچاسویں سالگرہ کے موقع پر اجلاس میں شرکت کے لئے گیا تھا۔ اُن دنوں گرمی خوب زور پر تھی اور اُس پورے سفر میں رشید نے اپنی نیکر پہن کر یہ نام کمایا تھا۔ سال ہا سال بعد میں جب بھی ہم نے اُس سفر کا ذکر کیا تو رشید کو نیکر والا آدمی ہی کہا۔
اور آج رشید نے اُس جُملے کو اپنی مدھم یاداشت کے باوجود پہچان لیا تھا۔
ہم نے اُس دِن نور جہان کے وہ گانے بھی سُنے جو کبھی رشید کو بہت پسند تھے، اور اُس نے بھی خوب مزا لیا۔ ہمارے مختلف سوال کرنے پر اُس کے تقریبا” سب جواب درست تھے، لیکن وہ جواب کچھ تاخیز سے ملتے تھے۔ یوں لگتا تھا کہ اُس کی موجودہ حالت میں اُس کے دماغ کو دی گئی اطلاع کے بعد چند لمحے درکار تھے کہ وہ اُسے سمجھ سکے، اور پھر جواب دینے کے لئے اُسے چند لمحے اور چاہئے تھے۔
رفیق نے رشید کی کیک کاٹنے میں مدد کی، اور پھر ہم سب نے مِل کر روائیتی جنم دِن کے سویڈش میں گانے گائے۔ رشید کو ہماری وہ توجّہ اچھی لگ رہی تھی۔ اُس نے چند قہقہوں کے ساتھ ساتھ ناصر کاظمی اور منیر نیازی کے چند اشعار اور لطیفے بھی سُنائے۔ اگر اُس کے دماغ میں نئی اطلاعات کو رد کرنے کا کوئی عمل تھا ، تو اُس کوئی اظہار نہیں ہُوا۔ لیکن ہم تو وہاں چند گھنٹے ہی ٹھرے تھے!
اس تمام عرصہ میں، جب ہم نے رشید کا جنم دِن منایا تھا، کمرہ میں موجود دونوں مجسمہ نما انسانوں نے کوئی ردِعمل نہیں دکھایا۔
تقریبا” دو گھنٹوں بعد ہم نے مناسب سمجھا کہ اب وہاں سے چلا جائے۔ وہاں موجود عملہ نے ہمیں نہ صرف کافی اور کیک دے کر ہمارے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا تھا، بلکہ ہمیں اتنا وقت بھی وہاں گزارنے دِیا تھا۔
ہمیں جانے کی تیاری کرتے دیکھ کر رشید کھڑا ہو گیا اور بولا، “شب بخیر!”
رفیق نے رشید کو کہا کہ ابھی تو تیسرا پہر تھا، اور سورج بھی چمک رہا تھا۔
رشید نے اپنے چہرے پر ایک نئی مسکراہٹ لئے رفیق سے کہا، “ہاں، لیکن میرے لئے تو یہ رات ہے۔”
وہاں سے رخصت ہوتے وقت جو لفظ میں نے رشید کو کہے وہ یہ تھے، ” باصر نے تو کہا تھا کہ تم اب کچھ نہیں بولتے!”
رشید نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، مگر اُس کی آنکھوں میں اب ایک اور عجیب سی مسکراہٹ نمایاں تھی۔
میں آخری شخص تھا جو اُس کمرے سے باہر نکلا تھا۔ جب ہم باہر جانے لگے تو مجھے پیچھے سے رشید کے وہ الفاظ پہنچے جنہیں سُن کر میرے پاؤں لڑکھڑا گئے –
“میں کس سے بولوں، جب تم میں سے کوئی یہاں نہ ہو!”
اگست 24، 2026
ضمیمہ
یہ بات قابلِ فکر ہے کہ رشید کی بھُولاوٹ کی کچھ وجہ تو وہ مواد تھا جو اُس کے دماغ میں اعصاب کا تعلق توڑ کر گڑبڑ کر رہا تھا، اور ایک بڑی وجہ اُن دوستوں کی عدم موجودگی تھی جو اُس کے ذہن کو محرّک رکھنے کے لئے چاہیے تھے۔


