تاریخ کو 1979 سے شروع کرنا ایک سیاسی غلط فہمی ہے۔ افغانستان کی گزشتہ نصف صدی کی تاریخ میں ایک ایسا مفروضہ بار بار دہرایا جاتا ہے کہ دسمبر 1979 میں سوویت فوجوں کے افغانستان داخل ہونے کے ساتھ ہی افغان جنگ شروع ہوئی، امریکہ نے مجاہدین کی مدد شروع کی اور پاکستان اس جنگ میں محض ایک اتحادی یا سہولت کار بن کر شامل ہوا۔ لیکن امریکی انٹیلی جنس کے محفوظ شدہ ریکارڈ اس سادہ کہانی کو چیلنج کرتے ہیں۔
سی آئی اے کے اپنے آرکائیوز سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان میں مسلح اسلامی سیاست، پاکستان کی مداخلت اور واشنگٹن کی سرد جنگی حکمت عملی کا ملاپ سوویت فوجی مداخلت سے کئی برس پہلے شروع ہو چکا تھا۔ یہ فرق محض تاریخی تاریخوں کا نہیں، بلکہ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ افغان جنگ کس نے شروع کی، کس مقصد کے لیے مختلف ریاستوں نے اسے استعمال کیا، اور آخر اس جنگ کی قیمت کس نے ادا کی؟ یہ سوالات آج بھی اسی طرح متعلقہ ہیں جیسے چار دہائیاں قبل تھے۔
1973: جب بھٹو حکومت نے افغانستان کو “مسئلہ” سمجھنا شروع کیا
سی آئی اے کے ریڈنگ روم میں محفوظ ایک 1981 کی دستاویز، جس کا عنوان “COUNTERSPY: EL SALVADOR WHITE PAPER?” ہے، افغانستان کے بارے میں ایک غیر معمولی تفصیل فراہم کرتی ہے۔ اس کے مطابق 1973 میں محمد داؤد خان نے افغانستان میں بادشاہت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے افغانستان کے خلاف ایک “forward policy” اختیار کی۔ بھٹو حکومت کو خدشہ تھا کہ داؤد خان دوبارہ پشتونستان کے مسئلے کو اٹھا سکتے ہیں اور پاکستان کی مغربی سرحد پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
سی آئی اے کے متن کے مطابق پاکستان نے تقریباً 5,000 افغان باغیوں کو خفیہ کیمپوں میں تربیت اور مسلح کیا۔ اس دستاویز میں ایک امریکی کردار کا بھی ذکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ سی آئی اے نے پاکستان کی مدد کی؛ ایک تربیتی کیمپ اٹک میں بتایا گیا ہے۔ بعد میں سی آئی اے نے اس تعاون کو محدود کر دیا، مگر یہ فورس پاکستانی کنٹرول میں رہی اور گل بدین حکمت یار اس کے نمایاں رہنما بن کر ابھرے۔
یہاں تاریخ کا پہلا اہم سبق سامنے آتا ہے: افغانستان میں مسلح اسلامی مزاحمت کو بیرونی طاقتوں سے جوڑنے کا عمل سوویت فوج کے آنے کے بعد ایجاد نہیں ہوا تھا۔ اس کی بنیاد پہلے ہی پڑ چکی تھی۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قدامت پسند حلقے اور مغربی میڈیا دونوں نظر انداز کرتے ہیں، کیونکہ یہ اس روایت کو توڑتی ہے کہ افغان “مجاہد” محض سوویت جارحیت کے خلاف اٹھے۔
حکمت یار: مجاہد سے پہلے کا کردار
آج حکمت یار کو عموماً سوویت مخالف مجاہدین کے ایک بڑے رہنما کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ لیکن سی آئی اے کا ریکارڈ اس کی کہانی 1979 سے پہلے شروع کرتا ہے۔ 1973 کے بعد پاکستانی سرپرستی میں قائم ہونے والے اس نیٹ ورک میں حکمت یار اہم مقام حاصل کرتا ہے۔ 1975 میں اس کے زیر کمان تقریباً 5,000 افراد کو پنجشیر میں افغان حکومت کے خلاف کارروائی کے لیے داخل کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ سی آئی اے کے متن کے مطابق پاکستان نے اس وقت براہِ راست مداخلت سے انکار کیا، لیکن بعد میں بھٹو حکومت کے سابق اعلیٰ عہدیداروں نے اس میں پاکستانی کردار تسلیم کیا۔
یہ واقعہ انتہائی اہم ہے کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افغانستان میں مسلح اسلام پسند گروہوں کو پاکستان کی ریاستی سرپرستی دسمبر 1979 کے بعد شروع نہیں ہوئی تھی، بلکہ سوویت حملے سے تقریباً چار سال پہلے ہی ایک منظم تجربہ کیا جا چکا تھا۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر بعد میں آپریشن سائیکلون کو استوار کیا گیا۔
جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ ایک عام تاریخی تصور یہ ہے کہ ضیاء نے افغانستان کی پالیسی کو سوویت حملے کے بعد تبدیل کیا، لیکن سی آئی اے کے ریکارڈ اس کے برعکس ایک تسلسل دکھاتے ہیں۔ دستاویز کے مطابق: “Even after Bhutto was overthrown by General Zia ul-Haq in July 1977, Pakistan continued to supply Hekmatyar with training facilities…” یعنی بھٹو گیا، ضیاء آیا، مگر افغان اسلامی مزاحمت کے لیے پاکستانی ریاستی ڈھانچے کا کردار ختم نہیں ہوا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب اس پالیسی کے ساتھ ضیاء کی اپنی نظریاتی اور مذہبی سیاست بھی جڑ گئی۔ سی آئی اے کے اسی ریکارڈ میں وارسک کے ایک تربیتی کیمپ کا ذکر ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں پاکستان کی افغان پالیسی کو صرف “امریکی سازش” کہہ کر ختم کرنے کے بجائے زیادہ پیچیدہ حقیقت دیکھنا پڑتی ہے۔ پاکستانی ریاست کے اپنے مفادات تھے، امریکہ کے اپنے، سعودی عرب کے اپنے، اور افغان اسلام پسند تنظیموں کے اپنے عزائم۔ ان تمام مفادات کا ایک خاص تاریخی مرحلے پر ملاپ ہوا، اور یہی ملاپ آج کے افغان بحران کی جڑ ہے۔
1979: سوویت فوج ابھی نہیں آئی تھی
یہاں سب سے اہم سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پاکستان افغان باغیوں کی مدد سوویت حملے کے بعد کرنے لگا؟ سی آئی اے کی ایک ہم عصر انٹیلی جنس رپورٹ اس کا جواب دیتی ہے۔ 1979 کی سی آئی اے رپورٹ میں لکھا گیا کہ: “The Pakistanis have begun to provide small arms to Afghan rebels…” یعنی پاکستان نے افغان باغیوں کو چھوٹے ہتھیار فراہم کرنا شروع کر دیے تھے۔ یہ رپورٹ سوویت فوج کے افغانستان میں داخل ہونے سے پہلے کی ہے۔
یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا ضروری ہے۔ آپریشن سائیکلون کو اگر ہم یوں سمجھیں کہ امریکہ نے صفر سے افغان مجاہدین پیدا کیے تو تاریخ غلط سمجھ میں آتی ہے۔ زیادہ درست تصویر یہ ہے کہ پاکستان نے پہلے ہی افغان اسلام پسند مزاحمتی نیٹ ورک تیار کیا تھا، اور سوویت مداخلت کے بعد امریکہ نے اس موجودہ ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر عالمی سرد جنگ کی حکمت عملی میں شامل کیا۔ 1980 کی سی آئی اے رپورٹ میں افغان باغیوں کو برطانوی، چینی، مصری اور امریکی ساخت کے ہتھیار ملنے کا ذکر ہے۔ یعنی افغانستان ایک ایسی جنگ گاہ بن گیا جہاں مقامی جنگ، پاکستانی سلامتی، امریکی سرد جنگ، سعودی مذہبی سیاست اور سوویت عالمی طاقت ایک دوسرے سے مل گئے۔
لیکن پاکستان صرف امریکہ کا “مہرہ” نہیں تھا
یہاں بائیں بازو کی سیاست کے لیے بھی ایک اہم احتیاط ضروری ہے۔ پاکستان کو صرف واشنگٹن کی کٹھ پتلی قرار دینا اتنا ہی سادہ تجزیہ ہے جتنا یہ کہنا کہ پاکستان مکمل طور پر آزادانہ طور پر کام کر رہا تھا۔ ضیاء کی اپنی ریاستی منطق تھی۔ پاکستانی فوج کے لیے افغانستان کا مسئلہ تین سطحوں پر اہم تھا: اول: بھارت کے مقابلے میں مغربی سرحد کو محفوظ رکھنا۔ دوم: کابل میں ایسی حکومت کو روکنا جو پشتونستان یا پاکستان مخالف قوم پرستی کو تقویت دے سکتی تھی۔ سوم: سوویت یونین کو پاکستان کی سرحدوں سے دور رکھنا۔ بعد میں مذہبی نظریہ اس ریاستی حکمت عملی کے ساتھ جڑ گیا، اور یہی وہ امتزاج تھا جس نے ضیاء کی افغان پالیسی کو طاقت دی۔
سی آئی اے کے بعد کے تجزیوں میں ضیاء کو محض امریکی ایجنٹ کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس، امریکی انٹیلی جنس نے یہ سمجھنے کی کوشش کی کہ ضیاء خود افغانستان کو کیسے دیکھتا تھا۔ اس کے لیے افغان مزاحمت محض سرد جنگ کا اثاثہ نہیں تھی، بلکہ اس میں مذہبی ذمہ داری، پاکستانی قومی سلامتی اور فوجی اقتدار کے تحفظ کے عناصر بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ضیاء کو سمجھنے کے لیے “امریکی کٹھ پتلی” کی اصطلاح ناکافی ہے۔ وہ امریکہ سے فائدہ اٹھا رہا تھا، مگر امریکہ بھی ضیاء سے فائدہ اٹھا رہا تھا۔ یہ ایک باہمی مفاد کا سودا تھا، نہ کہ یک طرفہ غلبہ۔
پاکستانی عوام کہاں کھڑے تھے؟
یہ سوال شاید سب سے زیادہ اہم ہے۔ ریاست ایک طرف تھی، لیکن عوام ریاست نہیں ہوتے۔ سی آئی اے کے اپنے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں ضیاء مخالف سیاسی قوتیں موجود تھیں، خصوصاً پاکستان پیپلز پارٹی اور بعد میں تحریک بحالی جمہوریت۔ پاکستانی معاشرہ افغان جنگ کے بارے میں بھی یکساں نہیں تھا۔ مذہبی حلقوں، فوجی اسٹیبلشمنٹ اور مختلف قدامت پسند طبقات میں افغان مزاحمت کے لیے ہمدردی تھی، لیکن دوسری طرف ضیاء کی آمریت، سیاسی جماعتوں پر پابندی، پھانسیوں، امریکی تعلقات اور اسلامائزیشن کے خلاف شدید سیاسی مخالفت بھی موجود تھی۔ 1980 کی دہائی کی سی آئی اے رپورٹس میں پی پی پی کو پاکستان کی اہم ترین اپوزیشن قوتوں میں شمار کیا گیا۔
یہی تضاد اہم ہے: ایک شخص ضیاء کا مخالف ہو سکتا تھا اور پھر بھی سوویت فوج کے افغانستان میں ہونے کو جارحیت سمجھ سکتا تھا۔ اس لیے “افغان جہاد کے حق میں” اور “ضیاء کے حق میں” کو ایک ہی چیز سمجھنا تاریخی غلطی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے آج کے مروجہ بیانیے میں مسخ کر دیا گیا ہے۔ امریکہ آیا تو جنگ کا پیمانہ بدل گیا.
سوویت مداخلت کے بعد واشنگٹن کے لیے افغانستان محض پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا، بلکہ یہ سرد جنگ کا مرکزی میدان بن گیا۔ ریگن انتظامیہ نے مزاحمت کی مدد کو وسیع کیا۔ سعودی عرب مالی معاون بن گیا۔ چین نے ہتھیار فراہم کیے۔ مصر نے سوویت ساخت کے ہتھیاروں اور تربیت کے ذریعے کردار ادا کیا۔ پاکستان نے اس پورے نیٹ ورک کو اپنی سرزمین، سرحد، انٹیلی جنس اور تنظیمی ڈھانچے کے ذریعے چلنے کی جگہ دی۔ سی آئی اے کی بعد کی رپورٹنگ میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستانی جرنیل اسلحے کی تقسیم پر سخت کنٹرول رکھتے تھے، اور ایک پاکستانی سفارت کار کے حوالے سے یہ جملہ بھی محفوظ ہے کہ: “Certainly we control the tap…” یعنی مجاہدین تک پہنچنے والے وسائل کی نلکی اسلام آباد کے ہاتھ میں تھی۔ یہ پاکستان کے کردار کی اصل طاقت تھی۔ پاکستان صرف ٹرانزٹ کنٹری نہیں تھا، وہ گیٹ کیپر تھا۔ اور یہی تضاد بعد میں پاکستان کے لیے زہر بن گیا. افغان جنگ نے پاکستان کو عالمی اہمیت دی، لیکن اسی جنگ نے پاکستان کے اندر بھی ایک نیا سماجی اور سیاسی ڈھانچہ پیدا کیا۔ لاکھوں افغان مہاجرین آئے، ہتھیار پھیلے، مذہبی عسکری نیٹ ورک مضبوط ہوئے، سرحدی علاقوں میں جنگی معیشت پیدا ہوئی، منشیات اور اسلحے کے نیٹ ورک بڑھے، مذہبی سیاست نے ریاستی سرپرستی حاصل کی، اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کی طاقت مزید بڑھ گئی۔ یوں جو پالیسی ابتدا میں پاکستان کی سلامتی کے نام پر بنائی گئی تھی، اس کے اثرات خود پاکستانی معاشرے پر پڑنے لگے۔
یہاں تاریخ کا سب سے بڑا طنز سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان میں بیرونی اثر و رسوخ روکنے کے لیے اسلام پسند گروہوں کو استعمال کیا۔ امریکہ نے سوویت یونین کو شکست دینے کے لیے اسی نیٹ ورک کو مالی اور عسکری طاقت دی۔ سعودی عرب نے اپنے مذہبی اور جغرافیائی مفادات کے لیے اسے سہارا دیا۔ چین نے سوویت طاقت کو روکنے کے لیے اسلحہ دیا۔ افغان گروہوں نے اپنے اپنے سیاسی اقتدار کے لیے اس امداد کو استعمال کیا۔ اور عام افغان عوام نے اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت ادا کی۔ یہ کوئی ایک سازش نہیں تھی، بلکہ مختلف ریاستی اور طبقاتی مفادات کا تاریخی اتحاد تھا۔
سوویت فوج چلی گئی، مسئلہ ختم نہیں ہوا
1989 میں سوویت فوج افغانستان سے نکل گئی۔ واشنگٹن کا بنیادی سرد جنگی مقصد حاصل ہو چکا تھا، لیکن افغانستان میں جنگ ختم نہیں ہوئی۔ کیونکہ جس چیز کے خلاف تمام قوتیں متحد تھیں سوویت فوج وہ میدان سے نکل چکی تھی۔ اب سوال تھا: افغانستان پر حکومت کون کرے گا؟ حکمت یار؟ ربانی؟ مسعود؟ سیاف؟ کابل کا نجیب اللہ؟ یا کوئی اور؟ جو گروہ سوویت مخالف جنگ میں متحد بھی نہیں تھے، اب ایک دوسرے کے خلاف لڑنے لگے۔ 1992 میں نجیب اللہ حکومت کا خاتمہ ہوا، اور افغانستان ایک نئی خانہ جنگی میں داخل ہو گیا۔
یہاں ایک اور تاریخی مغالطہ دور کرنا ضروری ہے۔ آپریشن سائیکلون کے زمانے میں طالبان موجود نہیں تھے۔ طالبان 1994 میں ابھرے۔ البتہ ان کے ابھرنے کے لیے جس سماجی اور عسکری ماحول کی ضرورت تھی، اس میں افغان مہاجر کیمپ، مدارس، سابق مجاہدین، پاکستانی سرحدی نیٹ ورک، خانہ جنگی اور ریاستی سرپرستی شامل تھے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ: آپریشن سائیکلون نے طالبان کو براہ راست پیدا نہیں کیا، لیکن اس نے ایسے علاقائی اور عسکری حالات پیدا کرنے میں کردار ادا کیا جن میں بعد کی طالبان تحریک پروان چڑھ سکتی تھی۔ یہ فرق تاریخ اور پروپیگنڈے کے درمیان فرق ہے۔
اگر ہم صرف یہ کہیں کہ امریکہ نے افغان جہاد کو استعمال کیا تو بات ادھوری رہ جائے گی۔ اصل سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی ریاست نے ایسا کیوں کیا؟ جواب صرف “امریکی حکم” نہیں۔ اس کے پیچھے پاکستان کی اپنی ریاستی سلامتی کی سوچ تھی: افغانستان میں اثر و رسوخ، پشتونستان کا خوف، بھارت کا مسئلہ، فوجی اقتدار کا تحفظ، اسلامائزیشن، اور پھر امریکی و سعودی وسائل۔ یہ سب ایک دوسرے سے جڑ گئے۔
سی آئی اے کا اپنا آرکائیو ریکارڈ اس تاریخی تسلسل کو سمجھنے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ 1979 میں سوویت فوج افغانستان میں داخل ہوئی، مگر افغان جنگ میں بیرونی مداخلت اس سے کئی سال پہلے شروع ہو چکی تھی۔ اور شاید یہی اس پوری تاریخ کا سب سے اہم سبق ہے: جنگیں اکثر اس دن شروع نہیں ہوتیں جب دنیا انہیں پہلی مرتبہ دیکھتی ہے۔ افغانستان میں 1979 کا دھماکا دراصل ان پالیسیوں کا نتیجہ تھا جن کے بیج 1970 کی دہائی کے آغاز میں بوئے جا چکے تھے۔ آج جب افغانستان ایک نئے بحران سے دوچار ہے، تو یہ سبق پہلے سے کہیں زیادہ متعلقہ ہے۔
اہم بنیادی حوالہ جات:
سی آئی اے ریڈنگ روم میں محفوظ CounterSpy: El Salvador White Paper?، مئی,جولائی 1981، جس میں 1973 کی بھٹو حکومت کی افغان پالیسی، 1975 کی حکمت یار کارروائی، 1977 کے بعد ضیاء حکومت کی تربیتی سہولتیں اور پاکستانی سرپرستی کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ 1979 کی سی آئی اے Monthly Warning Assessment: Near East and South Asia میں براہِ راست درج ہے کہ پاکستانیوں نے افغان باغیوں کو چھوٹے ہتھیار فراہم کرنا شروع کیے تھے۔
[حوالہ جات] [1]: https://www.cia.gov/readingroom/document/cia-rdp90-00845r000100140007-5 “COUNTERSPY: EL SALVADOR WHITE PAPER? | CIA FOIA (foia.cia.gov)” [2]: https://www.cia.gov/readingroom/document/cia-rdp83b01027r000300110030-3 “MONTHLY WARNING ASSESSMENT: NEAR EAST AND SOUTH ASIA | CIA FOIA (foia.cia.gov)” [3]: https://www.cia.gov/readingroom/document/cia-rdp96r01136r002605290031-2 “AFGHANISTAN | CIA FOIA (foia.cia.gov)” [4]: https://www.cia.gov/readingroom/document/cia-rdp90-00965r000807210001-6 “INSURGENCIES: TWO OF A KIND | CIA FOIA (foia.cia.gov)”


