میں اکیسویں صدی کے دہانے پر بیٹھے سوچ رہا ہوں۔چودہ سو سال قبل سرزمینِ عراق کی کیا حالت ہوگی؟
چشمِ تصور کے سامنے خاکہ در خاکہ بن رہا ہے۔
خلیفہ ثانی حضرت عمر کے عہدِ حکومت میں کوفہ و بصرہ جیسے شہروں کو بسایا گیا۔
بغداد وادی دجلہ کے کنارے کسی عہد میں ایک معمولی بستی تھی۔
عہدِ کسری میں کسری نے ایک بُت پرست غلام کو بخش دیا ۔اس غلام نے اپنے بت “بغ “کے نام پر بغداد نام رکھا یعنی بغ کا بخشا ہوا۔مرورِ زمانہ کے ساتھ دجلہ کے کنارے میں آباد یہ معمولی سی بستی علم و دانش کا مرکز بن گیا۔بڑے بڑے نامور مشاہیر و اساطین علم و دانش نے اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کا مرکز بغداد کو بنایا۔
بڑ ے بڑے علمی مراکز بنتے گئے۔عمارتیں بنتی گئی۔وہ اساطین علم و دانش گزرتے گئے اور انکے مدفن بنتے گئے۔یوں بغداد مسلم تہذیب و ثقافت کا گہوراہ بنتا گیا۔تاریخ بنتی گئی۔
مجھے وارثی کا یہ شعر بار بار ایسے موقعوں پر یاد آتا ہے۔
پینے کو تو پی لوں گا پر شرط ذرا سی ہے
اجمیر کا ساقی ہو بغداد کا میخانہ
یوں عبد القادر جیلانی و معروف کرخی و جنید بغدادی سمیت نہیں معلوم عرفان و تصوف کے کتنے سرخیل کتنے آفتاب وماہتاب اس زمین میں روپوش ہیں۔
مجھے یکم صفر المظفر سے لے کر یکم ریبع الاول تک سرزمین عراق میں رہنے کا موقع ملا۔کہیں کہیں گزر ہوا۔کہیں کہیں رکنے کا موقع ملا۔چلتی ہوئی گاڑی سے جب جب بغداد و بصرہ کا بورڈ لگا ہوا دیکھا ایک عہد اک تاریخ میری نظروں کے سامنے رقصاں ہونے لگی۔
ایک مسلمان ہونے کے ناطے مکہ و مدینہ سے مجھے محبت ہے۔ تو وہاں سرزمین عراق میں آباد ان شہروں سے بھی مجھے محبت ہے۔
میری تہذیب و ثقافت کا آماجگاہ مکہ و مدینہ رہا ہے تو وہاں نجف و کوفہ و بغداد و بصرہ بھی رہا ہے۔
جہاں مکہ و مدینہ کی گلیوں میں مرے آقا و مولا ص کی یادیں ہیں۔وہاں سرزمیں عراق کے شہروں میں خانوادہ رسالت کی یادیں بھی ہیں۔
اب وہ یادیں تاریخ کے صفحوں میں تلخ وشیریں سے پُر ہیں۔
میں لکھنے بیٹھا ہوں تو مرے سامنے حال کی رنگینیاں بھی ہیں۔ماضی کی سیاہ تاریخ بھی۔مجھے ان دونوں کٹھن رستوں سے گزرنا ہے۔میرا مقصود نہ عہدِ رفتہ کی قصیدہ گوئی ہے۔نہ عہدِ حاضر پر نوحہ خوانی ۔
مجھے ایک ماہ کا جو عرصہ عراق میں رہنے کا موقع ملا۔جو دیکھا ،پڑھا ،سنا اُس سے ماضی کے آئینے میں ،سانچے میں ڈھال کر لکھنا ہے۔
اس میں میری احساس کی لطافت ،دید و مشاھدہ کی قوت ،تاریخ کے سیاہ و سفید داستانوں کی شدت سے مل کر اک ملغوبہ اک امتزاج پڑھنے کو ملیں گے۔ساتھ رہے گا۔۔۔
جاری ہے۔۔۔۔


