کبھی کبھی مجھے لگتا ہے کہ ہم دوسروں کو دیکھتے کم ہیں، ان کے بارے میں اپنی بنائی ہوئی تصویر کو زیادہ دیکھتے ہیں۔ سامنے والا کچھ کہہ رہا ہوتا ہے اور ہم سننے کے بجائے اپنے ذہن میں اس کا جواب تیار کر رہے ہوتے ہیں۔ وہ خاموش ہوتا ہے تو ہم اس خاموشی کا مطلب نکال لیتے ہیں۔ وہ کچھ فاصلے پر چلا جائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ شاید اس کے دل میں بھی کوئی فاصلہ آ گیا ہے۔ ہم دوسرے کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اکثر اپنے ہی خیال کے ساتھ رہتے ہیں۔ شاید اسی لیے کسی کو واقعی سننا اتنا مشکل ہے۔
چند دن پہلے سیمون وائل کو پڑھتے ہوئے ایک لفظ پر نظر ٹھہر گئی اور وہ تھا “توجہ”- لفظ معمولی ہے، روزمرہ کا ہے، مگر وائل کے ہاں اس کے معنی کچھ دیر بعد کھلتے ہیں۔ جیسے اپنے آپ کو تھوڑی دیر کے لیے پیچھے کر دینا۔ اپنی رائے کو، اپنی جلدی کو، اپنے فیصلے کو۔ تاکہ سامنے والی چیز اپنی جگہ پر دکھائی دے۔ یہ بات پڑھتے ہوئے مجھے ناصر عباس نیر یاد آئے۔ تنقید میں بھی شاید یہی مشکل ہے کہ ہم متن کو اپنے پہلے سے بنے ہوئے خیال سے الگ ہو کر نہیں دیکھ پاتے۔ ہمیں پہلے ہی معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔ پھر متن ہمارے سامنے کم اور ہماری اپنی رائے زیادہ رہ جاتی ہے۔
شاید اچھی قرأت میں اتنی گنجائش ضرور ہونی چاہیے کہ متن کچھ دیر ہماری رائے سے باہر بھی رہ سکے۔ اور پھر مجھے رلکے یاد آتا ہے۔ اس کی تنہائی شاید محض اکیلے رہنے کا نام نہیں۔ اس میں دوسرے کے لیے جگہ بنانے کی کوئی بات بھی ہے۔ اگر میرے اندر ہر وقت میری اپنی آواز ہی رہتی ہو تو دوسرے کی آواز کہاں آئے گی؟
محبت میں شاید ہم سب سے زیادہ یہی غلطی کرتے ہیں۔ ہم دوسرے کو دیکھنے سے پہلے اس کے بارے میں کچھ طے کر لیتے ہیں۔
وہ کیسا ہے۔ اسے کیسا ہونا چاہیے۔ وہ ہمیں کتنا چاہتا ہے۔ اسے ہماری خاموشی سمجھنی چاہیے یا نہیں۔ اسے ہمارے قریب کب آنا چاہیے اور کب دور رہنا چاہیے۔ پھر کبھی وہ ہماری توقع کے مطابق نہیں ہوتا۔ اور ہم کہتے ہیں، وہ بدل گیا ہے۔ ممکن ہے وہ نہ بدلا ہو۔
ممکن ہے پہلی بار ہماری نظر بدلی ہو۔ یہ خیال مجھے کچھ دیر تک پریشان کرتا رہا۔
کیونکہ اگر ایسا ہے تو محبت میں مسئلہ ہمیشہ دوسرے کا نہیں ہوتا۔ کبھی ہماری اپنی خواہش درمیان میں کھڑی ہوتی ہے۔ ہم کسی انسان کو اس کی اپنی صورت میں دیکھنے کے بجائے اس صورت میں دیکھتے ہیں جس میں ہم اسے دیکھنا چاہتے ہیں۔ شاید توجہ کا مطلب اتنا ہی ہے کہ اس خواہش کو کچھ دیر کے لیے خاموش کر دیا جائے۔
ہم کسی دوست سے ملتے ہیں تو اس کی بات سنتے ہوئے بھی اپنی باری کا انتظار کرتے ہیں۔ کسی اپنے سے اختلاف ہو جائے تو اس کے لفظوں میں وہ بات بھی سن لیتے ہیں جو اس نے کہی ہی نہیں۔ کسی کے بارے میں ایک رائے بن جائے تو پھر اس کے بعد کی ہر بات اسی رائے کے اندر سے گزرتی ہے۔ ہم لوگوں کو ایک بار پڑھ کر ان کے بارے میں فیصلہ کر لیتے ہیں۔ پھر انہیں دوبارہ پڑھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ حالانکہ آدمی پڑھ کر ختم نہیں ہو جاتا۔ وہ بدلتا رہتا ہے۔ کبھی اپنے لفظ بدلتا ہے، کبھی خاموشیاں۔ کبھی وہ خود بھی نہیں جانتا کہ اس کے اندر کیا بدل رہا ہے۔
تو پھر دوسرے انسان کو سمجھنے کا دعویٰ شاید محبت کی سب سے بڑی یقین دہانی نہیں، اس کی ایک بڑی غلط فہمی بھی ہو سکتا ہے۔ شاید کسی کو چاہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہم اسے پوری طرح جان لیں۔ شاید یہ بھی ہے کہ ہم اسے اپنی سمجھ سے کچھ باہر رہنے دیں۔
سیمون وائل کی طرف دوبارہ لوٹتا ہوں تو توجہ مجھے اب صرف دیکھنے کا عمل نہیں لگتی۔ شاید یہ اپنی ذات کی ایک خاموشی ہے؛ اتنی کہ سامنے والے کی موجودگی سنائی دینے لگے۔ اس خیال کے ساتھ ایک عجیب سی بے چینی بھی ہے۔ کیونکہ اگر میں واقعی دوسرے کو اس کی اپنی جگہ پر دیکھوں تو ممکن ہے وہ میری خواہش کے مطابق نہ ہو۔
ممکن ہے میں اسے کم پسند کرنے لگوں۔ ممکن ہے وہ مجھ سے دور ہو جائے۔ ممکن ہے مجھے یہ بھی معلوم ہو کہ جس چیز کو میں محبت سمجھتا رہا، اس میں میری اپنی ضرورت کا حصہ کہیں زیادہ تھا۔ پھر بھی شاید دیکھنا ضروری ہے۔ ورنہ ہم محبت تو کرتے رہیں گے، مگر جس انسان سے محبت کا دعویٰ ہے، وہ ہماری نظر سے غائب رہے گا۔
رات گہری ہو چکی ہے- میں باہر صحن میں لیٹا اسی خاموشی کو سن رہا ہوں جو ایک رات پہلے تھی۔ چاند آج بھی ہے۔میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ اس بار میں اس کا کوئی مطلب تلاش نہیں کر رہا- بس سوچ رہا ہوں کہ اگر محبت میں دوسرے کے لیے جگہ چھوڑنی ہے، تو اپنے اندر کتنی جگہ خالی رکھنی پڑے گی؟
چاند اپنی جگہ ہے۔
رات گزر رہی ہے۔
سوال باقی ہے۔


