صدائے اجل / پروفیسر عامر زریں

اگست 2026ء کے آخری دنوں میں دُنیا دو ایسے سانحات سے دوچار ہوئی جنہیں شاید کبھی نہ بھلایا جاسکے۔ ایک سانحہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں پیش آیا، جہاں زندگی کی پہلی سانس لینے والے ننھے وجود آگ کے شعلوں میں گھر گئے۔ دوسرا سانحہ نیپال کے بلند ہمالیہ کا تھا، جہاں برف، چٹان، مٹی اور پانی کا ایک دیوہیکل ریلا پہاڑوں سے اُتر کر انسانی بستیوں، سڑکوں، پلوں اور انسانوں کو روندتا ہوا اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ یہ دونوں سانحات بظاہر ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ ایک انسانی بنائی ہوئی عمارت کے اندر پیش آیا اور دوسرا قدرت کے بے قابو جغرافیہ میں۔ مگر دونوں نے ایک ہی سوال ہمارے سامنے لا کھڑا کیا:”انسان زندگی کی حفاظت کے لیے آخر کتنا تیار ہے؟“

26 اگست کی صبح اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، (PIMS)، کے گائنی اورنوزائیدہ بچوں کے یونٹ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ اُس وقت وہاں نوزائیدہ بچے زیرِ علاج تھے۔ ابتدائی اطلاعات میں شارٹ سرکٹ یا ایئر کنڈیشننگ نظام کی خرابی کو ممکنہ سبب بتایا گیا۔ بعد میں حکام اور عینی شاہدین کے بیانات میں آگ کے پھیلاؤ، ہنگامی راستوں اور ریسکیو کے طریقہ ء کار کے حوالے سے مختلف سوالات بھی سامنے آئے۔سب سے المناک حقیقت یہ تھی کہ 14 نوزائیدہ بچے جان سے گئے اور صرف ایک بچے کو زندہ نکالا جا سکا۔ UNICEF نے بھی ان معصوم جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

ذرا اس منظر کا تصور کیجیے۔ایک طرف وہ مائیں تھیں جنہوں نے ابھی ابھی اپنے بچوں کو جنم دیا تھا۔ کسی نے شاید اس ننھے وجود کا چہرہ پہلی بار دیکھا تھا، کسی نے اس کا نام سوچ رکھا تھا، کسی نے مستقبل کے خواب بُنے تھے۔ دوسری طرف وہ بچے تھے جو ابھی دُنیا کو دیکھنے، اپنی ماں کی آواز پہچاننے اور باپ کی انگلی تھامنے کے مرحلے تک بھی نہیں پہنچے تھے۔…………پھر اچانک دھواں اُٹھا……آگ آئی۔اور ایک ایسی جگہ جسے انتہائی نگہداشت کا یونٹ کہا جاتا تھا، چند لمحوں کے لیے موت کا گھر بن گیا۔

اس سانحے کے بعد سب سے اہم سوال صرف یہ نہیں کہ آگ کس وجہ سے لگی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک انتہائی حساس نیونٹل یونٹ میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات کتنے مؤثر تھے؟ ہنگامی راستے قابلِ استعمال تھے یا نہیں؟ عملہ کس رفتار سے حرکت میں آیا؟ اور کیا اس نوعیت کے سانحے کی باقاعدہ مشق کبھی کی گئی تھی؟…………ان سوالات کے جواب کسی ایک فرد کو موردِ الزام ٹھہرانے کے لیے نہیں بلکہ مستقبل میں ایک اور PIMS کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔ وزیراعظم کی جانب سے تحقیقات کا حکم اور متعلقہ حکام کی طرف سے انکوائریاں اسی لیے اہم ہیں۔

مگر اسلام آباد کے اس المیے سے ہزاروں میل دور، اُسی دِن، ہمالیہ نے بھی ایک اور زبان میں موت کی خبر تحریر کی۔نیپال اور تبت کی سرحد کے قریب ایک دیو ہیکل گلیشئیر کے ٹوٹنے اور برف و چٹان کے بڑے تودے نے دریائی نظام کو اچانک ایک تباہ کن سیلاب میں بدل دیا۔ ابتدائی اطلاعات میں زلزلے کا شبہ ظاہر کیا گیا، مگر بعد کے سائنسی جائزوں میں یہ بات سامنے آئی کہ جسے زلزلہ سمجھا گیا تھا وہ دراصل برف، چٹان اور ملبے کے بڑے پیمانے پر گرنے سے پیدا ہونے والی ایک seismic activity تھی۔

پہاڑ کی بلندی سے تقریباً 1,200 میٹر نیچے آنے والے برف اور چٹان کے اس دیوہیکل تودے نے پانی اور ملبے کو ایسی قوت عطا کی کہ دریائی سطح بعض مقامات پر صرف تیس منٹ میں تقریباً نو میٹر بلند ہوگئی۔پھر جو کچھ ہوا، اسے صرف ”سیلاب“ کہنا شاید اس شدید تباہی کو بیان کرنے کے لئے ناکافی لفظ ہوں گے۔یہ پانی کے ساتھ برف کا سیلاب تھا،……چٹانوں کا سیلاب تھا۔……مٹی، درختوں، گاڑیوں، گھروں اور انسانی زندگیوں کا ایک بے رحم آمیزہ تھا۔

27 اگست تک نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ چکی تھی اور تبت سمیت مجموعی طور پر 390 سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور 1,400 سے زیادہ افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاعات سامنے آچکی تھیں۔ مختلف اداروں کے اعداد میں فرق اس لیے بھی تھا کہ کئی علاقوں کے رابطے ٹوٹ چکے تھے اور ریسکیو ٹیمیں ابھی وہاں تک پہنچ نہیں پائی تھیں۔لاپتہ ہونے والوں میں مقامی باشندوں کے علاوہ غیر ملکی سیاح، زائرین اور مختلف ممالک کے شہری بھی شامل تھے۔ بہت سے لوگ مقدس کیلاش مانسروور کے سفر پر تھے۔ کسی نے شاید گھر سے نکلتے وقت یہ سوچا بھی نہ ہوگا کہ واپسی کی خبر ایک موبائل فون، ایک سرکاری فہرست یا ایک لاش کی شناخت کے ذریعے آئے گی۔یہاں بھی انسان کے سامنے وہی سوال تھا جو اسلام آباد میں تھا:”ہم نے خطرے کو کتنا سمجھا تھا؟“

ہمالیہ میں گلیشیئر پگھل رہے ہیں۔ بلند پہاڑی علاقوں کا ماحولیاتی توازن بدل رہا ہے۔ برف اور چٹانوں کے درمیان وہ قدرتی رشتے متاثر ہو رہے ہیں جنہوں نے صدیوں سے پہاڑوں کو مستحکم رکھا تھا۔ سائنس دان مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ بڑھتا ہوا درجہء حرارت گلیشیائی علاقوں میں landslides، rockfalls اور اچانک سیلابوں کے خطرے کو بڑھا رہا ہے۔ نیپال گزشتہ تقریباً تین دہائیوں میں اپنے گلیشیائی برف کے ذخیرے کا تقریباً ایک تہائی کھو چکا ہے۔

لیکن ان دونوں سانحا ت کو صرف ”قدرتی آفت“ اور ”بدقسمتی“ کہہ کر گزر جانا بھی شاید ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوگا۔پمز کا واقعہ ہمیں انسانی غفلت، حفاظتی نظام اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ جبکہ …………نیپال کا واقعہ ہمیں ماحولیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کی نگرانی، ابتدائی انتباہی نظام اور پہاڑی علاقوں کی منصوبہ بندی پر نظرثانی کا مطالبہ کرتا ہے۔

ایک حادثہ عمارت کے اندر ہوا، دوسرا پہاڑ کے دامن میں۔ایک میں آگ نے بچوں کو نگل لیا، دوسرے میں پانی اور ملبے نے بستیوں کو۔ایک میں والدین اپنے نومولود بچوں کے تابوت دیکھنے پر مجبور ہوئے، دوسرے میں خاندان اپنے لاپتا عزیزوں کی فہرستیں دیکھتے رہے۔اور شاید یہی ان دونوں سانحات کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہے:”موت ہمیشہ بڑی تعداد سے نہیں پہچانی جاتی؛ کبھی ایک بچے کی موت بھی پوری کائنات اجاڑ دیتی ہے۔“14 نومولودوں کے والدین کے لیے دنیا میں 14 اموات نہیں ہوئیں۔ چودہ دنیا ئیں ختم ہوئیں۔

نیپال کے ان خاندانوں کے لیے جو اپنے پیاروں کا انتظار کر رہے ہیں، ”سینکڑوں لاپتا“ ایک شماریاتی عدد نہیں۔ ہر نام کے پیچھے ایک گھر ہے، ایک ماں ہے، ایک باپ ہے، ایک بچہ ہے، ایک ادھورا خواب ہے۔اگست کے یہ آخری دن ہمیں اسی لیے یاد رہنے چاہئیں کہ انہوں نے ہمیں دو مختلف آئینوں میں ایک ہی چہرہ دکھایا۔ایک آئینے میں انسان اپنی بنائی ہوئی عمارت کے اندر زندگی کو محفوظ نہ رکھ سکا۔…………دوسرے میں انسان نے بدلتی ہوئی زمین اور پگھلتے ہوئے پہاڑوں کے سامنے اپنی کم مائیگی دیکھی۔

اب سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کس کی غلطی تھی؟پہلا سوال یہ ہونا چاہیے:”ہم نے اس سے کیا سیکھا؟“اگر پمز کی آگ کے بعد ہر نیونٹل یونٹ کا حفاظتی آڈٹ ہوتا ہے، ہر ہسپتال میں قابلِ استعمال ہنگامی راستے یقینی بنائے جاتے ہیں اور عملے کو باقاعدہ آگ سے بچاؤ کی تربیت دی جاتی ہے، تو ان معصوم بچوں کی قربانی شاید آنے والی زندگیوں کو بچا سکے۔…………اور اگر نیپال کے بعد ہمالیہ کے گلیشیئرز، برفانی جھیلوں، پہاڑی ملبے اور دریاؤں کی حقیقی وقت میں نگرانی، مؤثر warning systemsاور سرحد پار تعاون کو ترجیح دی جاتی ہے تو شاید آنے والی کسی وادی میں خطرے کی گھنٹی وقت پر بج جائے۔

موت ایک اٹل حقیقت ہے، جسے روکنا ممکن نہیں۔مگر قابلِ پیش بینی موت کو کم کیا جا سکتا ہے۔اور یہی شاید اگست 2026ء کے ان دو دل دہلا دینے والے واقعات کا سب سے بڑا سبق ہے۔اسلام آباد کے ننھے تابوت اور نیپال کی ملبے میں دبی بستیاں ہم سے ایک ہی سوال کر رہی ہیں:”کیا ہم اگلے سانحے کا انتظار کریں گے، یا آج ہی کچھ بدلیں گے؟“

اپنا تبصرہ لکھیں